سیرجان میں گرفتاری

ترجمہ: ابو زہرا علوی

2022-02-21


۱۹۴۸ میں ایک دن ساواکی ہمارےگھرمیں داخل ہوگئے۔  میرےگھروالےحوض پرکپڑےدھونےمیں مشغول تھے۔  جب اچانک یہ لوگ گھرمیں داخل ہوئےاورگھروالی نےانہیں دیکھا توفوراً گھبرا کر وہ اندرورنی کمرےکی طرف بھاگیں اور انکا پاؤں پھسل گیا جس سے وہ زمین پر گر گئیں اور انکا ہاتھ  ٹوٹ گیا۔  اہلکاراندرداخل ہوچکےتھےمجھے پکڑااورساراسامان بکھیرڈالاوہ ممنوعہ  مجلےکی تلاش میں تھے جوانھوں نےپالیاتھا۔  انکے لیےسوال تھاکہ میں اسےکہاں سے شائع کرتاہوں۔جسکی مجھےخبرناتھی۔

مجھےپکڑکرتھانےلےگئے۔   وہاں انٹیلجنس کاایک فرد کہ جس کانام  <<مکی آبادی>>  تھا۔  وہ مجھے تھانیدارکےپاس لےگیا۔  وہ کارندے جوہمارےگھرمیں اچانک داخل ہوئےتھےاورمجھےگرفتارکیاتھا۔  وہ کمرےمیں داخل ہوئے۔  ایک خوبصورت جوان  تھا۔  میں نےاسےدیکھتے بلندآوازمیں اپنااعتراض کیاکہ یہی ہمارےگھرمیں داخل ہواتھااورمیرےگھروالوں کےساتھ بدسلوکی  کی۔  سربراہ نے اس جوان سے کہا:  "شیخ صاحب ابھی غصےمیں ہیں تم ابھی باہرجاؤ!"

اس کےبعداس نےجومیں جانتاتھااسےلکھناشروع کردیااورمیراکیس تیارکیا۔  میں نےکن انکھیوں سے دیکھاکہ یہ لکھ رہاہےاورخوشبختنانہ میری نظراس جملےپرپڑگئی  "سیدقریشی نےخبردی کہ  یہ شیخ گھرمیں شہشاہ کےخلاف کام کررہاہےاورکیسٹس اورپمفیلٹ تقسیم کررہاہے۔"

اسکےبعدمیراکیس مکمل کرکے،اسےسربہ مہرکیا۔  جناب مکی ابادی کےحوالےکیااسکےبعدچنداہلکاروں کے ہمراہ مجھےکرمان بھجوادیاگیا۔  اس وقت،  وہاں ساوک کاسربراہ <<آرشام>>تھا کہ جو شاہ کے خاص مہروں میں شمارہواکرتاتھااور وہاں کےلوگ اس سے ڈراکرتےتھےکیوں کہ وہ ایک بدمعاش قسم کا آدمی تھا۔

کرمان جانے سے قبل میں نے کہاکہ میں تمہاری گاڑی میں نہیں بیٹھوں گاگاڑی میری مرضی کی ہوگی۔  آخرمیں جناب تفضلی کہ جو ایک نمازی اورانقلابی تھے ان کی گاڑی میں میں کرمان گیا۔

جب میں کرمان پہنچاتومجھے ایک کمرےمیں بندکردیاگیا ہرتھوڑی دیرکےبعدایک کارندہ آتا اورکچھ گالیاں دیتااورچلاجاتا۔  میں بھی خاموش رہتا۔  کےاتنےمیں ایک کارندہ داخل ہوااوراس نےاتےہی امام خُمینی کی اہانت کرناشروع کردی۔  اب مجھ سےنارہاگیااسکو جواب دیناشروع  کیا۔  اسنےجومیری حالت دیکھی،  تووہ کمرے سے باہرچلاگیا۔

اسکےبعدمجھے<<آرشام>>کےپاس  لیجایاگیا۔  کرمان کےساوک کاسربراہ میزکےپیچھے بیٹھاتھااورمیں اسکےروبروکھڑاتھا۔  اس نےکہا:  "سیرجان جاتےہوسیسٹم کےخلاف کام کرتےہو؟ تمہاراجرم بہت بڑاہےتیراحساب چکتاکرناپڑےگا"  میں نےکہا:  جناب آرشام! یہ کیس جعلی ہے"  اس نےکہا:  "کیسے؟"  میں نے  کہا:"یہ سیدقریشی کہ جسکانام اس میں  لکھاہے،  اس نےمجھ سے پیسے مانگے تھے،  کیونکہ یہ مستحق نہیں تھا،  میں نےاسےرقم نہیں دی۔  اسی وجہ سےاس نےمیری جھوٹی شکایت کی ہے"  اس نےمیرےکیس کےکاغذات پرنظردوڑائی اور سمجھ گیاکےمیں سچ بول رہاہوں۔  اس نےجوکارندہ کاغذات لےکرآیاتھااس کے منہ پرکاغذات مارے۔  اورکہا:  "یہ کیساکیس بناکرلائےہو؟"  میں نےبھولی سی صورت بنالی۔  آرشام نےکہا:  "تم کیاکہتےہو؟"  میں بولا:  "میں صرف خُمینی صاحب کی تقلیدکرتاہوں اوربس"  اسکےعلاوہ میں کچھ بھی نابولا۔  اسکےبعداشارتاً میں نےکہاکہ:  "آپکے لوگ پھانس کابانس بناتےہیں،  بس سنےوالاعاقل ہونا چاہیےہربات پرکان نہیں دھرناچاہیے"  اس نےکہا:  "تم مولوی مرتضیٰ علی کی بلی کی طرح ہوجسے جتنااچھالواتناہی وہ اپنے پنجےگاڑتی ہے۔  شاھنشاہ اریامہر نےدوافرادکےلئےتسلیت کاپیغام دیاتم لوگوں نےتیسرےفردکوبعنوان مرجع منتخب کرلیا!"  پھرکہا:  "ٹھیک ہےاب جاو!"۔

میں کمرےسےباہرنکلا۔  تھانیدارکودیکھاکہ جومقدسات کی توہین کررہاہے۔  میں نے بھی شاہ اور اس کےہواداروں کوبُرابھلاکہناشروع کردیا۔  مجھے دوبارہ گرفتارکرلیاگیااورجیل بھیج دیاگیا  تین دن تک مجھے پکڑےرکھا۔  اسکےبعد،  سیرجان کےچند معتبرافرادکے توسط سے مجھے آزادی ملی  انھوں نے مجھ سے تعہدلیناچاہا،  کے آئیندہ میں ایساکوئی کام ناکرونگا۔  میں نے کہا:  "یہ درست ہے کہ مجھ پرممبرپرجانےکی پابندی ہے،  مگرمیں خاموش نہیں بیٹھوں گا"  انھوں نے کہا:  "تم یہاں سے چلےجاو"  میں نےکہا:  "مجھے سیری جان میں کچھ کام ہے۔"

بہرحال مجھے شہربدرکرکےقم بھیج دیاگیا؛  لیکن یہ حکم نامہ چارسال بعدمیرےہاتھ آیا۔  اس بناپراس مدت میں میں سیرجان اورکرمان میں رہااور اپناکام جاری رکھا۔  اتوارکی راتوں میں شہرکےجوان جمع ہوجاتےتھےمیں انہیں درس دیتاتھا۔

 

منبع: امامی، جواد، خاطرات آیت‌الله مسعودی خمینی، تهران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 1381، ص 332 – 333



 
صارفین کی تعداد: 587


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔