شہید کلانتری اندیمشک کے  رضا کار صغریٰ بستاک کی زندگی کی کہانی

کتاب  ’’نعمت جان‘‘ کا اجمالی تعارف


تدوین: فریدون حیدری ملک میان
ترجمہ: صائب جعفری

2022-02-08


کتاب ’’نعمت جان‘‘ کی  تحقیق و تدوین کا کام سمانہ نیکدل نے انجام دیا۔ اس کتاب کی پہلی اشاعت سن ۲۰۲۰ میں انتشارات راہ یار کے توسط ہی انجام پائی۔ یہ اشاعت ۲۰۸ صفحات پر مشتمل تھی اور اس کی ایک ہزار کاپیاں شائع ہوئیں جن کی قیمت فی کاپی ۲۵ ہزار تومان تھی۔

کچھ کتاب کے بارے میں۔

’’نعمت جان‘‘  صغری بستاک کی  من چاہی تحریر سے شروع ہوتی ہے۔ یہاں وہ تاریخ شفاہی کے دفتر شہید جواد زیوداری اندیمشک کی محنتوں کا شکریہ ادا کرتی ہیں اور پھر اس کتاب کو تمام شہیدوں اور جاں بازوں کی زوجات کے نام منتسب کر تی ہیں۔ اس کے بعد ناشر کی پیش گفتار اور پھر مدون و محقق کا مقدمہ کتاب کی زینت بنتا ہے۔ اس مقدمہ میں انٹرویوز اور تحقیق و تدوین کے کام  کی کیفیت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ انٹرویوز کے آغاز سے تحقیق و تدوین کے کام کی تکمیل کا عرصہ فروری ۲۰۱۵ سے فروری ۲۰۲۰  بیان کیا گیا ہے۔

یہ کتاب آٹھ حصوں  پر مشتمل ہے۔ ہر حصہ کو حروف اور اعداد کے ذریعہ نمایاں کیا گیا ہے ۔ عموماً ان دو میں سے ایک طریقہ استعمال کیا جاتا ہے مگر اس کتاب میں دونوں طریقوں کو بیک وقت استعمال کیا کیا ہے۔

صفحات کی ایک قابل ذکر تعداد دستاویزات اور تصاویر کے ساتھ خاص ہے جن کے ذریعہ   اس کہانی کی عبارت دستاویز  ی اور مصوری کی  صورت میں مکمل ہوجاتی ہے۔

 

ایک زندگی ایک کہانی

کتاب کی پیش گفتار میں بیان کیا جاتا ہے کہ ثقافتی سرگرمیوں کے احیا کے لئے بنے والی تنظیموں نے ، انقلاب کے ابتدائی برسوں میں، انقلاب کے اہداف کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ در حقیقت مساجد، دینی مدارس، مجالس عزاء، اسلامی انجمنیں اور قرآن کے جلسات ، یہ سب انقلاب برپا ہونے کے اصلی عوامل تھے۔  یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ عوام کا مظاہروں اور احتجاجوں میں اتنی بڑی تعداد میں شریک ہونا  انہی انجمنوں اور تنظیموں کی سرگرمیوں کا  ثمر تھا۔ عوام کی یہ شمولیت انقلاب کی کامیابی کے بعد اور دفاع مقدس کے زمانے میں اور زیادہ نمایاں ہوگیا تھا۔  جہالت سے مقابلے کے لئے تعلیمی تحریک،  ظلم اور غربت کے خاتمہ کے لئے تعمیراتی تحریکیں، اسکولوں اور حتی مورچوں میں آئندہ نسل کی تربیت کرنا بلاشبہ یہ سب جنگ کے میدان کی پشت پر دفاع مقدس کی مدد کے جلوے تھے۔

اسی طرح محقق و مدون کتاب نے مقدمہ میں بیان کیا کہ خوزستان  دفاع مقدس کی پشت پناہی سے زیادہ، آپریشن کے محل و مقام کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ شاید اسی وجہ سے اس خطہ کے لوگوں کی جانفشانی اور مزاحمت کی داستانیں کما حقہ دنیا تک نہیں پہنچی اور انقلاب اور  جنگ کے سلسلے میں اس خطہ کے لوگوں کی خدمات فراموشی کی نظر ہوگئیں۔

ہر چند اس پر کام شروع ہوچکا ہے اور بعض داستانیں  ضبط تحریر میں آئیں ہیں اور چھپ کر راہی بازار ہو چکی ہیں جیسے کتاب ’’نعمت جان‘‘۔

یہ کتاب  خوزستان کی ایک انقلابی خاتون کی زندگی کی کہانی ہے  جن کی  انقلابی سرگرمیوں کاآغاز انقلاب برپا ہونے سے قبل ہوتا ہے اور انقلاب کے بعد بھی  یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ خاتون انقلابی اداروں  جیسے انجمن مستضعفین،تعلیمی تحریک، کمیتہ امداد  وغیرہ میں سرگرم کارکن طور پر مسلسل کام میں مصروف رہتی ہیں اور انصار المجاہدین میں عہدیدار کی حیثیت سے مصروف عمل نظر آتی ہیں۔

صغری بستاک اپنی زندگی کی کہانی اپنے بچپن سے شروع کرتی ہیں۔ ان کے والد محرم کی شبوں میں گھر والوں کے ہمراہ بیٹھ کر  اکثر امام حسین کی مصیبت بیان کرتے تھے  اور خوب خوب گریہ ہوتا تھا۔ خانم بستاک کے والد اندیمشک  کے  پانی اور بجلی کے محکمہ میں ملازم تھے اور وہاں کے اسٹور کے انچارج تھے۔ اپنی مصروفیت کے باوجود ہر سال محرم کی آمد کے ساتھ ہی وہ اپنے ہمسایوں اور اپنے چچاؤں کے ساتھ مل کر گھر کے پورے صحن کے گرد کالی چادر لپیٹ دیتے تھے اور سیاہ پرچم آویزاں کر دیتے تھے۔ ان کے گھر میں سات آٹھ بڑے کمرے تھے جن کی دیواریں کچی مٹی کی تھیں اور دروازے لکڑی کے۔ ان کے چچا خلیل اور رحیم اپنے خاندان کے ہمراہ اسی گھر میں رہتے تھے۔ خانم بستاک کا گھر نویں محرم سے قبل ہی مہمانوں سے پر ہوجاتا تھا۔ بہت سے لوگ آجاتے تھے تاکہ محرم کی نذر پکانے میں مدد کریں۔یہ وہ ماحول ہے جس میں خانم بستاک اپنے بہن بھائیوں کے ہمراہ پروان چڑھتی ہیں۔ اس کے بعد وہ زمانہ بھی آجاتا ہے کہ انقلاب کے نغمے آہستہ آہستہ ذہنوں میں گونجنا شروع ہوجاتے ہیں اور لوگ احتجاجی ریلیاں نکالتے ہیں اور شہنشاہی کے خلاف مظاہرات شروع ہوجاتے ہیں۔ خانم صغریٰ بستاک بھی انقلابیوں کے اس بھپرے سمندر کا حصہ بن جاتی ہیں۔

انقلاب کامیاب ہوجاتا ہے اور صغری  بھی انقلاب کی خدمت کے لئے کمر کس لیتی ہیں۔ ابھی انقلاب کو دو تین ماہ ہی گذرے تھے کہ ایک روز صبح صبح وہ چادر اور مقنعہ سر پر ڈال کر مستضعفین کی انجمن  کے دفتر جا پہنچتی ہیں۔ یہ انجمن حال ہی میں اندیشمک میں بنی ہوتی ہے۔ وہ یہاں پہلی خاتون ہوتی ہیں جو رضا کارانہ کام کے لئے حامی بھرتی ہیں اور ان کی اس درخواست کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہاں ان کا کام  محلوں اور آس پاس کے دیہاتوں میں غریب و نادار گھرانوں کی تلاش طے پاتا ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی اور خواتین بھی اس ادارے اور انجمن کا حصہ بن جاتی ہیں۔

خانم بستاک کو چونکہ استاد بنے کا شوق بھی تھا سو وہ تعلیمی تحریک میں بھی اپنا نام لکھوا دیتی ہیں۔ دس روزہ تربیت اتالیق کیمپ میں شرکت کرتی ہیں  اور نئے تعلیمی سال یعنی خزاں کے  شش ماہی میقات سے تدریس  کے لئے منتخب ہوجاتی ہیں۔

 ابھی تعلیمی سال شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا کہ جنگ کے نقارے بجنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہاں وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ اپنی دوسری ساتھی خواتین اور کچھ  مردوں کے ہمراہ  جنگی مشقوں میں شریک ہوں  اور تربیت حاصل کرکے دو کوہہ  کے  میدان جنگ کی جانب سفر کریں۔ یہ تربیتی منصوبہ بہت مختصر مدت کے تھے سو یہاں آرام کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ ہر وقت آمادہ رہنا ہوتا تھا۔ برقعہ اور اسکارف پہنے پہنے ہی سونا ہوتا تھا۔ جوتے بھی پیروں کے پاس ہی رکھے ہوتے تھے۔  یہ خواتین رات کو وحشتناک آواز سن کر گھبرا کر اٹھتیں جوتے پہن کر خیمہ سے باہر نکلتیں۔ دو افراد ہوائی فائرنگ کر رہے  ہوتے تھے۔ ایک جوان خیمہ کے در پر کھڑا ہوتا تھا  اور جو بھی باہر آتا اس کو اسلحہ تھما دیتا۔ سب جلدی جلدی قطاریں بنا لیتے ۔ خانم صغری کہتی ہیں کہ اس وقت ان پاؤں لرز رہے ہوتے تھے کیونکہ وہ عموما کچی نیند سے اور گھبرا کر اٹھتی تھیں سو دل قابو میں نہ ہوتا تھا۔ ایسے میں دستور صادر ہوتا کہ  اطراف کی پہاڑیوں کی جانب نکل جائیں۔ خانم صغری بھی دوسروں کے ہمراہ نکل کھڑی ہوتیں اور فرضی دشمن پر گولیاں برسانے لگتیں۔  ایسے میں وہ اس فکر میں ڈوب جاتیں کہ اگر واقعی جنگ ہوئی تو کیا ہوگا۔ کیا واقعی عراقی اندیمشک تک پہنچ جائیں گے اور وہ مجبور ہونگی کہ اسلحہ اٹھا کر انسانوں کو قتل کریں۔ ایک انسان کو ماردینے کا سوچ کر ہی وہ آشفتہ خاطر ہوجاتیں۔ وہ خود سے پوچھتیں: آخر جنگ ہی کیوں؟آخر کیوں لوگ ایک دوسرے کو مارتے ہیں؟ کیا عراقی مسلمان نہیں ہیں؟ وہ ہم سے کیوں جنگ کرنا چاہتے ہیں؟ یہ سب کچھ صدام منحوس کا کیا کرایا ہے۔ جس وقت وہ بندوق ہاتھ میں لئے  گولیاں برسا  رہی ہوتی تھیں  ان کا خیال یہ ہوتا تھا کہ اگر ان کے سامنے ایک جیتا جاگتا انسان ہو تو وہ ہرگز بندوق کا گھوڑا نہ دبا سکیں گی۔ وہ اپنے دل میں یہی دعا کرتی رہتیں کہ اے کاش جنگ نہ ہو۔

لیکن خزاں کے آغاز کے ساتھ ہی جنگ کا آغاز بھی ہوگیا۔ زمینی اور فضائی جنگ۔ صغریٰ کی دوست سیما کا ابھی چند روز قبل ہی نکاح ہوا تھا جنگ شروع ہونے کے دوروز بعد ہی اس کے شوہر کی شہادت کی اطلاع آگئی اور یوں سیما کی سب آروزئیں خاک میں مل گئیں۔ جنگ کے تیسرے روز محترم علی اکبری صاحب نے سب سے معافی طلب کی اور خدا حافظ کہہ کر اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہوکر دو کوہہ کی جانب نکل گئے تاکہ خود کو میدان جنگ میں پہنچا سکیں۔ ان کے جانے کے بعد بہت عرصہ نہ گذرا کہ اندیمشک پر بمباری کی گئی اور علی اکبری بھی شہید ہوگئے۔  اس موقع پر ایسا لگتا تھا کہ صغری نے اپنے بھائی کو کھویا ہے ان کی آنکھوں سے بے اختیار اشکوں کی لڑی بہہ رہی تھی۔ انہیں احساس تھا کہ علی اکبری صاحب تمام خواتین کے معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری طرح نبھا رہے تھے۔ وہ علی اکبری صاحب سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں سوچنے لگیں۔۔۔۔ ظہر کا وقت تھا کہ علی اکبری صاحب نے انہیں  بلایا ہمیشہ کی طرح علی  اکبری سر جھکائے بات کر رہے تھے کہتے تھے: اگر انہی چند دنوں میں اگر آپ کے رشتہ کی بات ہو تو ان کو جواب دینے سے قبل مجھے ضرور مطلع کیجئے گا۔ صغری شرم سے پانی پانی ہوگئی اور کہا: ابھی تو ایسا کچھ نہیں ہے اگر ہوگا تو ضرور بتاؤں گی۔ بس اتنا کہا اور تیزی سے ان کے کمرے سے نکل آئی۔

لگتا تھا جنگ اور زندگی آپس میں مقابلہ کر رہے ہی۔ عین اس وقت جب اندیمشک میں عراق کی جانب سے جنگ کا بازار گرم تھا مہدی صناعی صاحب جو صغریٰ کے ہمراہ کمیتہ امداد[1] میں کام کیا کرتے تھے،  نے صغری کے بہنوئی  توسط سے صغریٰ  کا ہاتھ مانگا۔ اس وقت صغری کو شہید علی اکبری ی شدت سے یاد آئی اور وہ سمجھ گئی کہ یقیناً مہدی صناعی نے اس بارے میں شہید سے کوئی بات کی ہوگی۔ بہر حال طے یہ پایا کہ صناعی صاحب ہفتہ کے آخر میں، رشتہ لے کر صغریٰ کے گھر آئیں۔ مدتوں رشتہ کی صرف بات ہی چلتی رہی رشتہ پکا نہ ہوا یہاں تک کہ جمعہ ۲۲ مئی ۱۹۸۱ کو مہدی صناعی صاحب بھی خرم شہر میں شہید ہوگئے۔

جنگی حالات حساس موڑ پر تھے۔ تمام دوسرے لوگوں کی طرح صغریٰ کا من بھی یہی تھا کہ جہاں تک ممکن ہو جانباز سپاہیوں کے لئے کچھ نہ کچھ کیاجائے۔ جب اس کو خبر ملتی ہے کہ  فوج کے مرکز امداد کو مدد کی ضرورت ہے تو بلا تاخیر اپنی ایک دوست کے ساتھ  وہاں امداد کے لئے چلی جاتی ہے۔

جنگ نے لوگوں کا امن و سکون چھین لیا تھا لیکن سب کے دلوں کو قریب کر دیا تھا۔ کمیتہ امداد والے صغری کو فون کرتےہیں  کہ وہ ایک منی بس اس کو دیں گے تاکہ وہ کچھ خواتین کے ہمراہ شہید کلانتر ی اسپتال چلی جائے۔ وہاں جنگجوؤں  اور زخمیوں کے لباس دھونے تھے۔ اس کے بعد یہ ان کا روز کا معمول بن جاتا ہے۔

مہدی صناعی کی شہادت کے بعد صغری کسی سے بھی شادی کو تیار نہ تھیں حتی کہ رشتہ کی بات کرنے والوں کو بھی گھر آنے کی اجازت نہ تھی۔ کچھ مدت بعد جب ان کی نفسیاتی حالت کچھ بہتر ہوتی ہے  تو وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ کسی ایسے جانباز سے شادی کریں گی جس کی ریڑھ کی ہڈی  جنگ میں ٹوٹ گئی ہو۔  انہیں احساس تھا کہ مہدی صناعی کا ایک قرض ان کی گردن پر ہے اس کی ادائیگی یونہی ممکن ہے کہ وہ ایک معذور سپاہی کی تیمارداری میں زندگی گذاریں۔

صغری کے گھر والے کئی بار اس کی شادی کی راہ  میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اب کی بار وہ ان کو اس کی اجازت دینا نہیں چاہتی۔  اسی تو اپنی بات کرنی ہے۔ وہ روز روز مرنا نہیں چاہتی۔ وہ نہیں چاہتی کہ اب پشیمانی کی زندگی گذارے۔ مہدی صناعی اور دوسرے جانبازوں کے رشتوں  کے سلسلے میں گھر والوں کی ٹال مٹول اور انکار کے سبب اس بار اس نے پکا ارادہ کرلیا تھا۔ اب وہ فیصلہ کر ہی چکی تھی۔ اس نے خوب خوب تحقیق و تفحص کر لیا تھا وہ تما سختیوں سے آگاہ تھی۔ اب کوئی بھی چیز اس کی رائے کو بدل نہیں سکتی تھی۔ وہ صرف اور صرف رضائے الہی کے لئے یہ قدم اٹھا رہی تھی۔

اس کی کئی اک دوستوں نے بھی ایسے ہی معذور جنگجوؤں سے شادی کی تھی۔ اسے جب بھی وقت ملتا وہ اپنی ان دوستوں سے ضرور بات کرتی تھی۔ سب کے تجربات اور نظریات تقریباً ایک سے تھے۔ ’’ تمہیں اس کو خود اٹھانا بٹھانا ہوگا اور کروٹ لینے میں بھی اس کی مدد کرنی ہوگی۔ اسے  ناسور پلنگ[2] بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کے گردے بھی خراب ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تم کبھی ماں نہ بن سکو۔ اگر ریڑھ کی ہڈی ٹوٹے  فوجی سے شادی کرو گی تو  تمہارے سماجی روابط بہت محدود ہو جائیں گے۔ تم ہر  ہر جگہ نہیں جا سکو گی۔  یہ کام بہت مشکل ہے ہوسکتا ہے تم اس  سے  عہدہ برآں نہ ہو سکو۔‘‘

صغری کا ان کو ایک ہی جواب ہوتا: ’’ نہیں بھئی۔ ان شاءاللہ میں اس کام کو بحسن و خوبی انجام دوں گی۔ میں نے نیت کر لی ہے۔ اگر خدا نے چاہا تو میں یہ کام کر گذروں گی۔‘‘

ہوا بھی ایسا ہی جیسا اس نے کہا تھا۔ خدا کا لطف و کرم اس کے شامل حال ہوا اور خدا نے محسن عابدی نام کے ایک ریڑھ کی ہڈی ٹوٹے ہوئے جانباز سپاہی کو اس کےنصیب میں لکھ دیا۔ وہ آپس میں بات چیت کے بعد رضا مندی کا اظہار کرتے ہیں اور شادی کر لیتے ہیں۔ خدا ان کو ایک بیٹا بھی عنایت کر دیتا ہے۔

کچھ دن قبل محسن صاحب  کو الٹیاں اور جاڑا چڑھ جاتا ہے۔ صغری ان کو لے کر ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے تو پتا چلتا ہے ان کے گردے میں بڑی  بارہ سنگھا پتھری ہے۔ دوا دارو کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا ان کا علاج یہاں ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کو جرمنی لے جانا پڑے گا۔ تمام کام انجام پا جاتے ہیں اور محسن صاحب اکیلے جرمنی سفر کر جاتے ہیں۔ شادی کے بعد پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ یہ دونوں جدا ہوتے ہیں اور اتنے عرصہ کے لئے ان میں دوری پیدا ہوجاتی ہے۔ کوئی دس دن کے بعد، گو کہ یہ دس دن صغری کے لئے دس سال سے زیادہ بھاری تھے، محسن صاحب کا خط صغری کو ملتا ہے۔ مارے خوشی کے وہ آبدیدہ ہوجاتی ہے۔ وہ گھر میں جاکر لفافہ چاک کرتی ہے اور خظ پڑھتی ہے ۔ خط میں محسن صاحب نے اپنی گھبراہٹوں اور علاج کے کاموں کا ذکر کیا تھا ۔ خط کے آخر میں لکھا تھا: ’’ نعمت جان سے ملاقات کے امید کے ساتھ۔‘‘

پہلی بار تھا کہ محسن  نے اس کو یوں مخاطب کیا تھا۔ اسے یہ بہت اچھا لگا۔ محسن صاحب سفر سے واپس آئے تو صغریٰ سے کہا: ’’میں نے جرمنی میں جانا کہ تمہارا وجود سراسر نعمت ہے۔ میں نے وہاں ہر لحظہ تمہاری کمی محسوس کی۔‘‘

 

 


[1] ایک خیراتی ۔ امدادی کمیٹی کا نام

[2] Bedsores



 
صارفین کی تعداد: 1058


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

ایران میں ایک جاپانی ماں کی داستان

اسے ابھی گئے ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بسیجیوں کی جانب سے ایک خط مجھے موصول ہوا۔ لفافے پر محمد کے دستخط دیکھ کر دل کو سکون ملا۔ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: " پہلے میں مغربی جنگی محاذوں پر، جو پہاڑی علاقوں میں ہیں، مصروف تھا۔ لیکن اب جنوبی علاقے کی طرف آگیا ہوں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔