دفاع مقدس کے دوران جانشین لشکر بیت المقدس

محمد تقی ابرہیمی

ترجمہ: سید ریاض حیدر

2021-11-29


محمد تقی ابراہیمی ........  صوبہ اصفحان کے شہر قہدریجان میں پیدا ہوئے, ابتدائی تعلیم اسی شہر میں حاصل کی مگر شہر میں کالج نہ ہونے کے سبب شہر فلاورجان گئے کہ کالج میں داخلہ لیں مگر وہاں جنگہ پر ہو چکی تھی, اسکی وجہ سے محمد تقی اور ان کر رفقاء نے خود ایک کالج کی کلاس تشکیل دی اور ہر مرحلہ پر ایک کلاس کا اضافہ ہوتا گیا اور ایک مستقل کالج بنام "جلال کالج" وجود میں آیا , اسطراح آپنے تعلیم مکمل کی اور ڈپلومہ حاصل کیا , آپکے کالج کے آخری سال میں انقلاب اسلامی کی سرگرمیاں بہت زیادہ ہوچکی تھیں, محمد تقی اور انکے دوستوں نے اسی دوران حکومت شاہ کے خلاف احتجاج کیا اور اسکے نتجے میں گرفتار ہوئے اور  گرفتار شدہ لوگوں کو ساواک فولاد شہر لے جایا گیا, تمام اہل شہر نے ان گرفتاریوں کی مزمت میں احتجاج کیے, 
محمد تقی انقلاب کی کامیابی کے بعد انقلابی کمیٹی اور اسکے بعد سپہ پاسداران انقلاب شہر قہدرجان میں شامل ہوئے, 
مجلس خبرگان کی حفاظت کے لیے تہران میں نافز ہوئے, اور امام خمینی رح کے دوکڑوڑ کی فوج بنانے کے حکم سے پہلے واپس شہر قہدریجان آگئے اور بسیجی فوج کی تربیت میں مشغول ہوگئے , 5 مہینے تک "شہید بہیشی ابریشم چھاونی"  کے مسئول رہے, اسکے بعد بیت امام خمینی پر نافز ہوئے اور 6مہینے تک چند محافظوں کے ہمراہ حفاظت کے فرائض انجام دیے, کردستان میں ضد انقلاب سرگرمیوں اور محرکات سے مقابلہ کے لیے وہاں نافز ہوئے. 
 
جنگ شروع ہونے کے بعد بیشتر اوقات جنگ میں مشغول رہے, سال........ میں شادی کی اور اپنی زوجہ کو بھی کردستان لے گئے, آپ ثامن آئمہ جنگی آپریشن میں موجود تھے اور اسکے آخر میں کردستان آگئے اور فوج کی تقرری کے مسئول مقرر ہوئے, اسکے بعد سنندج کی فوج سے ہماہنگی کی مسئولیت ہر فائز ہوئے اور تیں ماہ بعد  سنندج کے مرکز حسین آباد مقرر ہوئے اسی زمان فوج جنداللہ سنندج کی مسئولیت بھی آپکے زمہ رہی, آپ مرکز سنندج شہر میں ایک آپریشن کے دوران ایک گولی کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے, اپکو اسی شہر کے ہسپتال لے جایا گیا اسکے بعد اصفہان منتقل کر دیا گیا, صحتیابی کے بعد آپ کردستان لوٹ گئے اور تشکیل لشکر بیت المقدس کے ساتھ آپریشن میں اسکے معاون اور نائب سپہ سالار مقرر ہوئے, دوسری بار "مریوان" کے علاقہ میں دوران آپریشن زخمی ہوئے اور آپکے الٹے ہاتھ کی دو انگلیاں کٹ گئیں. 
 
محمد تقی نے جنگی تربیت کے دوران تکواندو میں بلیک بیلڈ حاصل کی تھی 
 
آپریشن "والفجر 9" میں علاقہ سے آشنائی کی مسئولیت آپکے حوالے کی گئی تھی آپ حاج اکبر بابایی کے ہمراہ اس علاقہ میں گئے اور 7 اسفند....... کو توپ کا گولا سر میں لگنے کے سبب درجہ شہادت پر فائز ہوئے ,آپکا مزار قبرستان گلزار شہداء شہر قہدریجان میں واقع ہے آپکے بھائی بھی آپکی شہادت سے 15 دن پہلے الفجر 8 کے آپریشن میں شہید ہوئے[1] 
 
 
  
 
[1]. تلخیص مقاله از دایرةالمعارف دفاع مقدس، ج‌1، تهران، مرکز دایرة‌المعارف پژوهشگاه علوم و معارف دفاع مقدس، بآبیآ1390، ص272 و 273. 
 



 
صارفین کی تعداد: 1281


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تم اشارہ کرتے کہ زیادہ نہ ماریں

ہمارے تفتیشی افسر کا نام رحیم خانی تھا، جو بہت عجیب، عمدہ اور ماہرانہ طریقے سے کام کرتا تھا۔ہم میں سے جس سے بھی پوچھ گچھ کرتا ، کہتا تھا،" میں نے سنا ہے کہ تمہیں قید میں مارتے ہیں؟اگر کوئی شکایت  ہے تو بتاوَتاکہ اسکی خبر لگاوَں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔