جوشیلی  گاڑیاں 

تدوین: تاریخ شفاہی کی سائیٹ
ترجمہ: صائب جعفری

2021-11-21


۳۲۶ ویں یادوں کی رات   ۲۹ جولائی ۲۰۲۱ بروز جمعرات حوزہ ہنری کے صحن میں ، داؤود صالحی کی میزبانی میں منعقد ہوئی۔ یہ پروگرام ’’ جنگ میں  شعبہ اشتہارات کے جنگوجوؤں کی روایت‘‘ کے عنوان سے منقعد ہوا۔ اس پروگرام سے سردار محمد علی آسودی، جناب اسماعیل محمودی اور ڈاکٹر محمد قاسمی نے خطاب کیا۔

اس یادوں کی رات کی ابتداء کرتے ہوئے داؤد صالحی نے  شعبہ اشتہارات سے متعلق ایک تحریر پڑھی اور کہا: شعبہ اشتہارات  سے منسلک افراد کے بارے میں اکثریت نے اور خصوصاً ان جوانوں نے جنہوں نے جنگی محاذ کامشاہدہ نہیں کیا، ایسی تصویر بنائی ہوئی ہے کہ ایک نوجوان ہے جو خاک آلود لباس میں ایک مصوری کا برش ہاتھ میں لئے  چھاؤنی کے کسی کونے می بیٹھا تصاویر بنا رہا ہے۔ حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔

عجیب نکتہ یہ ہے کہ اس شعبہ کی اطلاعات لوگوں  کے پاس بہت کم ہیں اور نئی نسل اس سے بے خبر ہے کہ محاذوں پر اشتہاری مہم کس قدر مؤثر ہوتی ہے۔ محاذ جنگ  کے اعلانی و اشتہاری مہم  محاذ کے  کافی فاصلے سے شروع ہوجاتی ہے  تاکہ جوانوں میں جذبہ جہاد کو بیدار کیا جائے اور ساتھ ہی  ساتھ  جنگجوؤں کے خاندانوں کو بھی مجاہدوں کی مدد پر آمادہ کیا جائے۔

شعبہ اشتہارات و اعلانات کے بعض کام تو محاذ پر انجام دینے کے ہی ہوتے ہیں جیسے آپریشن کے دوران  اور آپریشن کے بعد کے کام، مگر بعض کام محاذ جنگ کے باہر سے بھی تعلق رکھتے ہیں  جیسے مجاہدوں کے ایثار و قربانی، شجاعت اور مزاحمت کی خبریں دشمن کے کیمپ تک پہنچانا اور مجاہدین کے کارناموں کو archive کرنا تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رہیں۔ اب ذرا سوچئے کہ شعبہ اشتہارات  و اعلانات کے پاس مجاہدین کے حوصلے بڑھانے کے لئے کس قدر پروگرامز ہونے چاہئیں۔

اس کے بعد صالحی صاحب نے سردار محمد علی آسودی کو واقعات بیان کرنے کی دعوت دی۔

سردار آسودی نے سلام اور عید غدیر کی مبارک  باد دینے کے بعد کہا: جس طرح  پروگرام کے میزبان نے  کہا  واقعی محاذ جنگ کے شعبہ اشتہارات و اعلانات  کی جانب سے غفلت برتی گئی ہے۔ یہ شعبہ جنگ کے ان شعبوں میں سے تھا جس کے تاثیر نہ صرف دوران جنگ تھی بلکہ اس کی اہمیت بعد از جنگ بھی آج تک باقی ہے۔ یہ شعبہ دوران جنگ اعلانات جنگ کے نام سے مشہور تھا اور فوجی دستہ اور بٹالینز ان کو اعلانات کہتے تھے۔ حال ہی میں اس شعبہ کی کارکر دگی  کا جائزہ لیا گیا تو اس مجموعہ کے وہ کام جو محاذ پر، محاذ سے باہر، علاقائی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر تھے، ان کی فہرست مرتب ہوئی۔ تقریباً ۳۵۰ عناوین ہاتھ آئے جو سب اس شعبہ کے کاموں سے متعلق تھے۔

اس کے بعد راوی نے  شہید قاسم سلیمانی کا تذ کرہ کیا اور کہا: وہ ایسے کمانڈرز میں سے تھے جو شعبہ اشتہارات اور اعلانات کی ہمیشہ حمایت کرتے تھے۔  ۲۰۱۲ میں، لشکر ۴۱ ،  ثار اللہ کے شہید مشتہرین کے لئے پہلا میموریل منعقد ہوا  جس کو لوگوں نے بہت سراہا۔ ہر چند کہ سردار سلیمانیؒ قدس بریگیڈ کے کمانڈر تھے اور اس صوبہ میں ان کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی مگر میں نے ان سے  اشتہارات و اعلانات جنگ کے بارے میں تقریر کی گذارش کی۔

میں آپ نے سامنے ان کے انٹرویو کا کچھ حصہ بیان کرتا ہوں جو ان سے ۳۰ اپریل ۲۰۱۲  کو لیا گیا۔ شہید سلیمانی نے کہا:  شعبہ اشتہارات و اعلانات ایک ایسا شعبہ  تھا جو اہمیت کے اعتبار سے تمام  بٹالینز اور شعبہ جات جنگی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ شاید یہ کہنا درست ہوگا کہ اپنی ساخت اور تنظیم کے اعتبار سے یہ سب سے بڑا شعبہ تھا ہر چند افرادی قوت کے اعتبار سے کم تھا۔

اگلے حصہ میں شہید سلیمانی نے کہا : اشتہارات و اعلانات وہ پہلا شعبہ تھا  جو جنگ میں سب سے پہلے مورچہ پر پہنچتا تھا۔ بعض لوگوں  کا خیال ہے کہ  اس شعبہ کا کام صرف چھاؤنی اور کیمپ میں رہنا  تھا جبکہ ایسا نہیں ہے۔ ہمارے کیمرہ مین، فوٹو گرافر، کاتب و خطاط اور ہماری   حوصلہ بخش  گاڑیاں،  اطلاعات(انفارمیشن)  کی فورس کے ہمراہ ہی محاذ پر پہنچ جاتی تھیں۔ اس شعبہ اشتہارات و اعلانات نے دفاع مقدس میں تقریبا ۱۴۰۰ شہید دئیے ہیں۔ یہ شہید علماء اور طلاب کے علاوہ ہیں جن کی تعداد تقریباً ۴ ہزار ہے۔

محاذ جنگ کی فلمیں جو آپ دیکھتے ہیں اس میں ملاحظہ کریں کہ کس طرح سخت گھمسان کے وقت اور سیٹیوں کے شور اور مارٹر گولوں کے پھٹنے کی آوازوں کے درمیان یہ شعبہ مجاہدین کے حوصلہ بلند رکھنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ اس بنیاد پر واضح ہے کہ اس شعبہ کا کام شیعہ عقائد اور دینی معارف کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ مجاہدوں کے حوصلہ بلند رکھنا تھا۔

شہید سلیمانی نے یہ بھی کہا:  شعبہ اشتہارات و اعلانات کا یہی نایاب نقش تھا جس نے اگلے مورچوں کو مساجد میں تبدیل کردیا۔

آسودی صاحب نے شعبہ اشتہارات کی ساخت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: اس شعبہ کا میدان عمل بہت وسیع تھا سو  جنگ کے اعلانات اور خبروں کو جگہ جگہ پہنچانا اسی شعبہ کی ذمہ داری تھی۔   ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے  نیوز رپورٹرز  اور خود سپاہ کے افراد نے مل کر اس شعبہ کو  بنایا تھا۔ مثال کے طور پر حاجی صادق آہنگران اس مجموعہ کے رکن تھے۔ ہم جناب معلمی صاحب جو کہ شاعرتھے اور جناب آہنگران جو نوحہ خواں تھے ، ان کی مد د سے   ہر آپریشن کے مطابق ایک نوحہ انتخاب کرتے اور اس کو ریکارڈ کرتے اور بعد میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی مدد سے اس کو فلماتے۔ اس شعبہ کی خدمات اگر ایک جملہ میں بیان کی جائیں تو کہا جاسکتا ہے کہ جنگ کے بارے میں جو کچھ  دیکھنے، سننے اور پڑھنے کے قابل ہے وہ سب اسی شعبہ کی مرہون منت ہے۔یقین رکھئے کہ اگر اس شعبہ کے جوان نہ ہوتے تو جنگ  سے متعلق ہمارے پاس دیکھنے اور سننے کو کچھ نہ ہوتا۔شہداء کی تشیع جنازہ اور کی تصاویر اور فلمز  سب اسی شعبہ کی زحمتوں کو نتیجہ ہیں۔

راوی نے مزید کہا: ہمارے جملہ امور میں سے ایک یہ کام تھا کہ ہم وزارت امور خارجہ کے تعاون سے پانچوں براعظموں کے نیوز رپورٹرز کو جنگ کی خبریں جمع کرنے کے لئے مدعو کیا کرتے تھے۔ ان کو ہم آپریشن کے بعد مورچوں پر لے جاتے تاکہ وہ ان مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ آپریشن بیت المقدس ، سوم خرداد (۲۴ مئی) صبح نو بجے، خرم شہر کی جامع مسجد کے باہر پہنچنے والا پہلا گروپ ہمارا ہی تھا۔ ہم نے خرم شہر کو فتح کیا اور تقریبا ۱۹ ہزار افراد کو گرفتار کیا۔ یہ مناظر ویڈیوز میں موجود ہیں۔ جس وقت عراقی فوجیں خرم شہر  میں داخل ہوئی تھیں انہوں نے دیواروں پر لکھ دیا تھا  ’’ ہم یہاں رہنے آئے ہیں‘‘۔ صدام خود بھی خرم شہر کے معاملے میں کافی حساس تھا اور  وہ وہاں اپنے قدم کچھ اس طرح جما چکا تھا کہ اس کا کہنا تھا ’’ اگر ایرانی فوج نے خرم شہر کو فتح کر لیا تو میں بغداد کی چابیاں اس کو دے دوں گا۔‘‘ یہ خبر وہاں جنگل میں آگ کی طرح پھیلی ہوئی تھی مگر مجاہدین نے پورے خرم شہر کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ایک عراقی کمانڈر کے مطابق صدام خود خرم شہر میں موجود تھا اور فوجوں کو کمانڈ کر رہا تھا۔ اس کے باوجود کچھ دن بعد دنیا نے صدام کی دیکھا دیکھی یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ایران جھوٹ بک رہا ہے خرم شہر کا انتظام عراقی فوجوں کے ہاتھ ہے کیونکہ صدام یہی کہتا تھا۔

راوی نے مزید دلائل پیش کئے: ہم آقا محسن رضائی صاحب اور شہید صیاد شیرازی کے کیمپ میں گئے اور کہا ہمیں اب کچھ کرنا چاہئے۔ ہرچند کہ ہمارے ریڈیو اور ٹی وی والے اپنا کام بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں مگر دنیا اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ہم نے مشورہ دیا کہ بین الاقوامی نیوز رپورٹرز کو مدعو کیا جائے۔ امن و امان کی کیفیت  کے سبب یہ ایک مشکل کام تھا کیونکہ اکثر نیوز رپورٹرز جاسوس تھے۔  ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنا کام کریں گے اور  حفاظت پر تعینات گروہ اپنا کام انجام دے گا۔ اس طرح پہلی بار ہم نے بین الاقوامی نیوز رپورٹرز کو دعوت دی کہ وہ آکر مناظر کو خود دیکھیں اور اپنی رپورٹس بنا کر دنیا کو حقائق سے آگاہ کریں۔ ہمارے اس کام کے نتیجہ میں تقریبا ۴۰  فی صد مناظر دنیا کے سامنے آئے اور دنیانے ہماری فتح کو تسلیم کیا۔ اس کے بعد ہماری کوشش تھی کہ ہر آپریشن میں ان نیوز رپورٹرز کو لایا جائے مثلاً  آپریشن خیبر  میں ہماری کوشش یہ تھی کہ نیوز رپورٹرز کو سورج طلوع ہونے سے قبل لائیں اور جتنا جلد  ممکن ہو  ان کو واپس لے جائیں۔ ہم نے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ان کو شمالی جزیروں میں پہنچایا جہاں پیٹرولیم کے کنویں تھے۔ انہوں نے جب تک اپنی رپورٹ مکمل کی بمباری شدید ہوگئی۔ ہم ہمیشہ ایک رات پہلے ہی ان سب کو میٹنگ میں خطرات سے آگاہ کر دیا کرتے تھے۔ بالخصوص سردار محرابی جو آج کل آپریشنل انفارمیشن کے عہدہ دار ہیں، ان نیوز رپورٹرز کو بریفنگ دیا کرتے تھے۔ یہ نیوز رپورٹرز بھی رجز خوانی کرتے تھے کہ ہم عالمی جنگوں کے نیوز رپورٹرز ہیں تو ہم بھی کہتے تو پھر خود دیکھئے کہ وہاں میں اور یہاں میں کیا فرق ہے۔  درحقیقت یہ نیوز رپورٹرز اندر سے انتہائی خوفزدہ تھے میں نے خود دیکھا کہ ایک فرانسی نیوز رپورٹر پیٹرولیم کے کنووں کی نگہبانی کے آفس سے لگا ہائے ہائے کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہمیں جلد واپس پہنچا دو۔

راوی نے مزید   بیان کیا: آپریشن والفجر ۸  کے دوران بھی ایسا ہی ہوا۔  ہوائی جہاز آتے تھے اور شدید بمباری کرتے تھے۔ زمین جھولے کی طرح لرزنے لگتی تھی۔  ہم نے انہیں امن کی جگہ اتار دیا ایک توپولف  شہرک البہار میں آگیا اس قدر شدید بمباری ہوئی کہ سب کے سب نیم بے ہوشی کے عالم میں زمین پر گر گئے ہم نے کہا  تمہیں کیا ہوا تم تو عالمی جنگ کے نیوز رپورٹر تھے؟ ہمارے غیرت دلانے پر وہ کھڑے ہوئے مگر ایک نیوز رپورٹر  ہوش میں نہ آیا اس پر شاید خوف زیادہ ہی طاری تھا۔ ہم نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ ہم ان کو لے جارہے ہیں تم اس کو فرسٹ ایڈ دلوا کر لے آنا۔ ہم نمک کے کارخانہ کے پاس ام القصر کے چوراہے پر تمہارے منتظر ہونگے۔  ہم ام القصر میں نیوز رپورٹرز کو ضروری توضیحات دے رہے تھے کہ ہمارا ساتھی پلٹ آیا ہم نے پوچھا کیا ہوا اس نے کہا وہ جرمن نیوز رپورٹر مر گیا ہے۔  ہم نے کہا وہاں تو گولیاں نہیں چل رہی تھیں جو وہ مر گیا ہمارے ساتھی نے بتایا کہ ڈاکٹرز کی رپورٹ کے مطابق خوف کے مارے حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی ہے۔ سو اس طرح سے بین الاقوامی نیوز رپورٹرز کو مختلف ممالک سے جنگ کے میدانوں میں لائے تاکہ وہ آنکھوں دیکھے حال کی رپورٹس بنا سکیں۔

سردار آسودی نے اپنے خطاب کے آخری حصہ میں  جوشیلی  گاڑیوں ((spiritual vehicles کا تذکرہ بھی کیا اور کہا: جس طرح کہ میزبان نے فرمایا تھا ہماری اشتہاری اور اعلاناتی مہم شعبہ حوصلہ کے نام سے مشہور تھی۔ حوصلہ بخشی  اور نعروں کا کام مارچز اور حاجی بخشیوں (۱) کے ذریعے انجام  پاتا تھا۔ یہ سب مجاہدین کا حوصلہ بڑھاتے تھے۔ ہمارے پاس جو شیلی گاڑیاں بھی تھیں ۔ تمام بٹالینز کے پاس ایسی گاڑیاں موجود تھیں۔ یہ اسپرچوئیل گاڑیاں دراصل چھوٹے ٹرک تھے  جن پر  لاؤڈ اسپیکر لگے ہوتے تھے۔  ان لاؤڈ اسپیکرز پر ہم نوحہ اور پہلے سے آمادہ کیسٹس چلایا کرتے تھے۔ یہ کام مجاہدین حوصلے بلند کرنے اور کو پرجوش  رکھنے کے لئے نہایت مؤثر تھے۔جس وقت فوجی مارچ کی آواز بلند ہوتی اور جناب آہنگران  کے نوحے کی آواز فضا میں بکھرتی کئی روز کے تھکے ہوئے مجاہدین بھی تازہ دم ہوجاتے۔

یوں تو ہر بٹالیں کے  پاس ایسی گاڑیاں موجود تھیں  مگر ہم نے اس میں جدت طرازی کی ہوئی تھی۔ مثلا ہم نے ان گاڑیوں کے علاوہ  پرجوش خچر بھی بنائیے ہوئے تھے وہ ایسے کہ ایک خچر پر زنبیل لاد کر اس میں ایملیفائر،  لاوڈاسپیکر ، ہارن وغیرہ لگا دیا اور اس پر ایک آدمی کو سوار  کردیتے تھے تاکہ خچر فرار نہ کر جائے کیونکہ پہلی  بار جب ہم نے بغیر سوار کے خچر کو چھوڑ دیا تھا وہ پہاڑوں پر بھاگ گیا تھا۔ اسی طرح خیبر، بدر اور والفجر ۸ کے آپریشن جو بحری اور بری تھے ، اس میں ہم نے جوشیلی کشتیاں تیار کی تھیں ۔ یہ جوشیلی گاڑیاں، خچر اور کشتیاں مجاہدین کو حوصلہ بخشتی تھی اور پرجوش رکھتی تھیں۔ امام خمینی ؒ نے فرمایا تھا: ہم نے اس جنگ کے ذریعہ  اپنے انقلاب کو پوری دنیا میں بر آمد کیا ہے۔ ہم نے بین الاقوامی مہمانوں کو بھی مدعو کیا تاکہ وہ ان چیزوں کو قریب سے دیکھیں۔ ان میں سے لاس آنجلس کے امام جمعہ اور لبنان کے ماہر حمود (۲) کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے۔

راوی نے مزید کہا : بعض افراد ہم سے پوچھتے ہیں کہ  جنگ میں تمہارے کیا نقوش ہیں؟ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ ہم اگلے مورچوں سے نیویارک اور واشنگٹن اور وہاں سے یورپ تک مصروف عمل تھے۔ یہ تمام کاوشیں اور محنتیں جو رنگ لائی ہیں وہ تمام قوتوں بالخصوص شعبہ اشتہارات و اعلانات کے شہداء کی قربانیوں کی مرہون منت ہیں ۔  یہ حق ہے کہ ہم ان سب لوگوں کو جو یہاں شریک ہیں اور جو لوگ کرونا کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے سب کا شکریہ ادا کیا جائے۔ شعبہ اشتہارات و اعلانات کے جوان مظلوم ترین جوان مگر کارآمد ترین جوان تھے۔ اشتہارات و اعلانات کے شہداء مظلوم ترین شہداء ہیں۔ ہم پچھلے چند سالوں سے اس کوشش میں ہیں کہ ان شہداء کے لئے کانفرنس منعقد کریں مگر ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکے۔ ہمیں امید ہے کہ شہداء ہمارے حق میں دعا کریں گے اور ہم اس کام میں کامیاب ہوجائیں گے۔

سردار آسودی نے آخر میں محترم قدمی صاحب اور حوزہ ہنری کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یادوں بھری رات،  دفاع مقدس اور جنگ کا خالص پرگرام ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ ذبیح اللہ بخشی المعروف بہ حاجی بخشی ایران اور عراق کی جنگ میں بسیجیوں کےمعروف اراکین میں سے تھے۔ وہ ۴۷ سال کی عمر میں محاذ جنگ پر تعینات ہوئے۔ اس جنگ کے خاتمہ تک وہ مسلسل جنگ کے میدانوں میں حاضر رہے اور اشتہارات و اعلانات کی مہم بنیادی کردار نبھاتے رہے۔

۲۔ شیخ ماہر حمود ، لبنان کے اہل سنت علمائ میں سے ایک ہیں۔ آپ علمائے مزاحمت  کے  عالمی اتحاد کے صدر ہیں ہیں اور اسرائیل کے خلاف واضح موقف رکھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 



 
صارفین کی تعداد: 1004


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

ایران میں ایک جاپانی ماں کی داستان

اسے ابھی گئے ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بسیجیوں کی جانب سے ایک خط مجھے موصول ہوا۔ لفافے پر محمد کے دستخط دیکھ کر دل کو سکون ملا۔ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: " پہلے میں مغربی جنگی محاذوں پر، جو پہاڑی علاقوں میں ہیں، مصروف تھا۔ لیکن اب جنوبی علاقے کی طرف آگیا ہوں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔