نیرہ السادات احتشام رضوی کی ڈائری سے

محترم نواب صاحب کی دوبارہ گرفتاری اور قید (جون، جولائی ۱۹۵۱)

انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: صائب جعفری

2021-11-11


۱۹۵۱؁ء میں آقا نواب صاحب کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ ان دنوں میں  میرا قیام آقا اکبری کے یہاں تھا۔ جس دن نواب صاحب کو گرفتار کیا گیا اس دن اخبارات کی شہ سرخی یہ  تھی:’’ نواب صفوی کو گرفتار کر لیا گیا۔‘‘  نواب صفوی کی گرفتاری کے ساتھ ہی، انجمن فدائیان اسلام کے ۱۲۔۱۳ اور بھی اراکین کو قید  کرکے  شہر کے زندان میں رکھا گیا تھا۔ ان لوگوں کے گھر والے تقریباً روز ہی ان قیدیوں سے ملنے آیا کرتے تھے۔ ایک دن ہم ملاقات کے لئے گئے تو شیخ مہدی حق پناہ(۱)  نے زندان کے گراؤنڈ میں حکومت کے خلاف تقریر کی۔ وہاں موجود لوگوں نے (قیدیوں اور ملاقاتیوں نے) جن کی تعداد دوہزار کے لگ بھگ ہوگی ، حکومت کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دی۔ اس دن فدائیان اسلام کے بعض مہم اراکین جیسے امیر عبداللہ کرباسچیان (۲)، ابوالقاسم رفیعی، اکبری، یوسفی اور سید عبدالحسین واحدی صاحبان بھی ملاقاتیوں کی فہرست میں موجود تھے۔ جب مرد حضرات چلے گئے تو پولیس والوں نے کہا کہ خواتین الگ ہو جائیں کیوں کہ ان کو ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ اس وقت ہماری فاطمہ ۱۰۔۱۱ مہینے  کی تھی؛ میں نے اسے ایک خاتوں کے سپرد کیا اور بات کرنے کی ٹھانی : ’’ تم لوگوں نے اسلام کے شیروں کو زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے اور فدائیان اسلام کے قائد کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ہے ، اب ڈر کے مارے پہلے مردوں  کو تتر بتر کرتے ہو پھر ان  سے ملاقات کے لئے آنے والی ان کی بیگمات کو ملنے سے روکتے ہو۔ خدا کی قسم اگر دس بھی ہمیں اس ظلم کدہ میں کھڑا ہونا پڑا تب بھی ہم اپنے عزیزوں سے ملے بغیر جانے والے نہیں۔‘‘

اس دوران پولیس ہماری طرف اسلحہ تانے ہمارا محاصرہ کر چکی تھی ، مگر میں نے اپنی بات جاری رکھی: ’’ اگر ممکن ہوا تو ہم لکڑیوں پتھروں سے تم ظالموں کا سر پھوڑ دیں گے مگر یہاں سے ہلیں گے نہیں۔‘‘ پولیس والوں نے مائیک پر اعلان کیا  کہ یہ خاتون جو اس قدر چلا رہی ہیں ان کو ملاقات کی اجازت دے دو۔ میں نے کہا: ’’ جب تک تمام خواتین کو ملاقات کی اجازت نہیں ملے گی میں یوں ہی تقریر کرتی رہوں گی۔‘‘ آخر کار وہ ہار مان گئے  اور خواتین  کو ملاقات کی اجازت مل گئی۔ جب ہم اندر داخل ہوئے تو پولیس والوں نے دوبارہ اس بات کی کوشش کی ملاقات میں مخل ہوں مگر میں پھر بول پڑی  اور میری مداخلت سےوہ ملاقات کی اجازت دینے پر مجبور ہوگئے۔  یوں میں  نے نورانی  چہرہ والے ، سبز پوش اور بڑے ہی رکھ رکھاؤ  سے  گفتگو کرنے والے نواب صفوی سے ملاقات کی ۔

وہاں فدائیان اسلام کے کئی ایک اراکین قید تھے، بعض خواتین نے  فرط جذبات سے زندان میں رونا بھی شروع کردیا تھا، لیکن میں نے بغیر کسی اظہار افسوس اور رونے دھونے کے نواب صاحب سے ملاقات کی۔ اس وقت میں اس بات بہت خوش تھی کہ میں نے نے بغیر کسی زحمت کے نواب صفوی  سے ملاقات کرلی اور ان کے ساتھ وقت گذارا۔(۳)

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔شیخ مہدی  حق پناہ المعروف بہ دولابی، غلام رضا صاحب کے فرزند تھے۔ 1915-16 میں تہران میں پیدا ہوئے ۔ ساواک کی رپورٹ مورخہ  ۴ اگست ۱۹۶۴ کے مطابق شیخ مہدی فدائیان اسلام کے سابق رکن تھے۔ ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے عرصہ میں دوبار ، فدائیان اسلام کی مدد کے جرم میں گرفتار ہوئے ، ایک بار ایک ماہ قید رہے اور ایک بار تقریباً  ایک ہفتہ قید  وہ کر آزاد ہوئے۔  پولیس  کی گذارش کے مطابق شیخ مہدی فدائیان اسلام کا سرگرم رکن نامزد ہے اور  ۱۹۵۱؁ء میں عدالتی محل کے سامنے تقاریر کر چکا ہے۔  مشار الیہ ۶ جون ۱۹۶۳؁ء کو  تقریباً ایک ہزار افراد کو لے کر ’دروازۂ دولاب‘ پر آیا اور سب نے مل کر شراب کی دکانوں کے شیشے توڑ ڈالے۔  شیخ مہدی حق پناہ ، دولابی جو کہ  دولاب کی مسجد انصار کا پیش امام تھا ، ۱۲ مئی ۱۹۶۴؁ء کو عوام کو مشتعل کرنے کے جرم میں گرفتار ہوا  اور اسی سال ۵ اگست کو تہران کی عدالت کے حکم پر آزاد ہوا.

(یاران امام، ساواک کی رپورٹوں کی روشنی میں ، شہید مہدی عراقی،  تاریخی اسناد کی تحقیق کا مرکز، وزارت اطلاعات، 1998-99، صفحہ ۹)

۲۔ فدائیان اسلام کے ایک رکن جو روزنامہ نبرد کے مدیر  تھے اور بعد میں فدائیان اسلام سے علیحدہ ہوگئے تھے۔

۳۔ طاہری، حجۃ اللہ، نیرہ السادات احتشام رضوی کی یادیں، شہید نواب صفوی کی زوجہ، تہران، انقلاب اسلامی کی اسناد کا مرکز، صفحہ ۸۴۔

 

 

۲۔



 
صارفین کی تعداد: 756


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، بیسواں حصہ

ہندوستان میں گذارے ہوئے آخری سالوں میں ہمیں کئی ایک تلخ تجربات ہوئے  جیسے جنگ بندی کی قرارداد اور اس پر امام  خمینی کا ناخوش ہونا، خود امام خمینی کی رحلت اور ۱۳۶۹ میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تعینات ایرانی  سفیر شہید گنجی کی لاہور میں شہادت۔

سردار سید رحیم صفوی صاحب کی ڈائری سے اقتباس

ہم جس پل سے بھی گزرے، اسے تباہ کردیا تا کہ واپسی کا کوئی رستہ باقی نہ بچے۔ یوں اس معرکے کے لئے وہی فرد آگے بڑھ سکتا تھا جو جان ہتھیلی پہ رکھ کر پیش قدمی کرنا جانتا ہو۔ البتہ ہمارے لیے اس وحشتناک منظر میں صرف اور صرف ایک ہی چیز سکون کا باعث تھی اور وہ تھی اہل بیت علیھم السلام سے توسل اور اللہ کی عنایت۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔