سید مجتبی ہاشمی

ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2021-09-22


سید مجتبی ہاشمی قندی تہران کی انقلاب اسلامی کمیٹی اور ایران عراق جنگ میں فدائیان اسلام گروہ کے پہلے انچارج تھے۔ انہیں ۱۸ مئی ۱۹۸۵ کو تہران کی معروف وحدت اسلامی اسٹریٹ پر مجاہدین خلق کے دہشتگردوں نے شہید کردیا تھا۔

سید مجتبی ہاشمی ۴ نومبر ۱۹۴۰ کو تہران کے علاقے وحدت اسلامی جسے اس زمانے میں شاہپور کا علاقہ کہا جاتا تھا پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا سید ہاشم ہاشمی قندی تہران کے متدین اور علم دوست شخصیت تھے جن کا تہران میں شکر کا کاروبار تھا۔

سید مجتبی ہاشمی اپنی جسامت اور چابک دستی کی وجہ سے شاہی ہری ٹوپی والی اسپیشل فورسز میں شامل ہوگئے لیکن تھوڑے ہی عرصے میں فوجی کی داخلی صورتحال اور پہلوی حکومت کی حقیقت سے آگہی حاصل ہونے کے بعد شاہی فوج سے باہر نکل آئے اور اپنا ذاتی کام شروع کردیا۔ انکے والد کی بازار میں چند دکانیں تھیں جن میں سے ایک دکان میں سید مجتبی نے اپنے والد جو عطر فروشی کا کام کرتے تھے، بلور کے سامان کی فروخت کا کام شروع کردیا۔

۵ جون ۱۹۸۳ کو اپنے چند دوستوں کے ساتھ امام خمینی رح کی تحریک کا حصہ بنے۔ انہوں نے تصوبہ تہران کے چھوٹے بڑے شہروں میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ وہ امام خمینی رح کی تصویریں، تقریروں کی کیسیٹیں اور اعلانات آمادہ کرتے اور لوگوں میں تقسیم کیا کرتے۔ اپنی دکان کو یوٹیلیٹی اسٹور میں بدل کر لوگوں کو سستا سامان مہیا کرنے لگے۔

امام خمینی رح کی وطن واپسی کے موقع پر سید مجتبی امام خمینی رح کی استقابلی کمیٹی کے رکن تھے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد انہوں نے شاہی حکومت کے باقی ماندہ عناصر سے مقابلہ جاری رکھا اور مجرموں کی گرفتاری اور مفرورین کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزائیں دلوانے کے لئے انتھک محنت کی جس کی وجہ سے انکے علاقے میں امن و امان کی صورتحال قدرے بہتر ہوگئی۔ سید مجتبی اپنے علاقے کے عوام میں کافی معتبر جانے جاتے تھے، انہوں نے انقلابی افراد کو جمع کرکے تہران میں ایک انتہائی مضبوط انقلابی کمیٹی کی داغ بیل ڈالی۔

کردستان میں شورش کے آغاز سے ہی امام خمینی رح کے حکم پر عمومی بسیج کا قیام عمل میں لایا گیا اور سید مجتبی اپنے چند دوستوں کے ساتھ ملک کے مغربی علاقوں کی جانب روانہ ہوگئے۔ ابھی انہیں وہاں گئے چند دن ہی گذرے تھے کہ سید مجتبی ملک کے جنوبی علاقوں کی جانب چلے گئے اور آبادن میں واقع فدائیان اسلام نامی اسکول میں پڑاو ڈالا۔ اس طرح عراقی حملوں سے نمٹنے کے لئے پہلی گوریلا فورس کا قیام عمل میں جسے فدائیان اسلام کے نام سے شہرت ملی۔

مقام معظم رہبری اس وقت امام خمینی رح کے نمائندے اور تہران کے امام جمعہ تھے۔ جب آپ فرنٹ لائن کا معائنہ کرنے آبادن تشریف لے گئے تو فدائیان اسلام فورس کے کیمپ میں بھی تشریف لے گئے۔ آپ نے وہاں اپنی تقریر میں فرمایا کہ: ہم نے ابھی تک مختلف جگہوں پر بارہا فدائیان اسلام کا نام سنا تھا اور آُ لوگوں کی تعریف کی تھی لیکن یہاں آکر یہ محسوس کیا کہ آپ لوگ اس سے کہیں زیادہ پر نشاط ہیں جتنا آپ کی تعریف کی گئی ہے، عازم، جازم، پر تحرک اور عشق رکھنے والے افراد ہیں۔ آپ کا نام اسم آُ کے چہروں سے عیاں ہے اسلام کے فدائی۔ سید مجتبی نے بھی کہا کہ فدائیان اسلام کے تمام مورچوں میں حضرت آقائے خامنہ ای کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اور ہم اپنے اس عشق کے ساتھ انکی حمایت کرتے ہیں۔ جس پر رہبر معظم نے فرمایا کہ اگر آپ کے مورچوں میں ہماری تصویریں ہیں تو ہمارے دل جو خدا کا مورچہ ہے انشاء اللہ آپ سب کی تصویریں موجود ہیں۔

مجاہدین خلق نے سید مجتبی کو بارہا قتل کرنے کی کوشش کی، لیکن چونکہ مسلح رہتے تھے اس لئے اپنا دفاع کرلیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انکے گھر کے تالے میں تارکول ڈال دیا تاکہ وہ دروازہ نہ کھول سکیں اور سید مجتبی کی چابی تالے میں پھنس گئی۔ منافقین نے ان پر فائرنگ کردی۔ لیکن سید مجتبی برساتی نالے میں اتر گئے اور انہوں نے حملہ آوروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ ایک مرتبہ انکی اہلیہ کو یرغمال بنا لیا گیا لیکن چونکہ انکی اہلیہ ٹریننگ یافتہ تھیں انہوں نے حملہ آواروں سے اسلحہ چھین لیا۔

سید ہاشمی مختلف طریقوں سے عوام کی خدمت کیا کرتے تھے۔ عشرہ فجر کے موقع پر اپنی دکان میں لباس، اور نایاب اور قیمتی اشیاء کو کم قیمت میں فروخت کیا کرتے تھے۔ اپنی دکان کا نام بھی وحدت اسلامی یوٹیلیٹی اسٹور رکھ دیا تھا جس سے ضرورتمند افراد بچوں کے یونی فارم، اسکارف جوتے اور دیگر چیزیں کم اور مناسب قیمت پر خریدا کرتے تھے۔

شہادت کے روز آپ اپنی دکان بند کررہے تھے، کہ کچھ افراد آئے اور انہوں نے اصرار کیا کہ ہم اسکارف اور کوٹ خریدنے بہت دور سے آئے ہیں۔ سید اس دن مسلح نہیں تھے، انہوں نے دکان کا شٹر اوپر اٹھایا اور دروازہ کھول کر اندر چلے گئے۔ منافقین نے پیچھے سے ان پر گولیاں چلا دیں جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

سید مجتبی ہاشمی ماہ مبارک رمضان میں ۱۸ مئی ۱۹۸۵ کو مجاہدین خلق کے دہشتگردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے۔

سید مجتبی ہاشمی

سید مجتبی ہاشمی قندی تہران کی انقلاب اسلامی کمیٹی اور ایران عراق جنگ میں فدائیان اسلام گروہ کے پہلے انچارج تھے۔ انہیں ۱۸ مئی ۱۹۸۵ کو تہران کی معروف وحدت اسلامی اسٹریٹ پر مجاہدین خلق کے دہشتگردوں نے شہید کردیا تھا۔

سید مجتبی ہاشمی ۴ نومبر ۱۹۴۰ کو تہران کے علاقے وحدت اسلامی جسے اس زمانے میں شاہپور کا علاقہ کہا جاتا تھا پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا سید ہاشم ہاشمی قندی تہران کے متدین اور علم دوست شخصیت تھے جن کا تہران میں شکر کا کاروبار تھا۔

سید مجتبی ہاشمی اپنی جسامت اور چابک دستی کی وجہ سے شاہی ہری ٹوپی والی اسپیشل فورسز میں شامل ہوگئے لیکن تھوڑے ہی عرصے میں فوجی کی داخلی صورتحال اور پہلوی حکومت کی حقیقت سے آگہی حاصل ہونے کے بعد شاہی فوج سے باہر نکل آئے اور اپنا ذاتی کام شروع کردیا۔ انکے والد کی بازار میں چند دکانیں تھیں جن میں سے ایک دکان میں سید مجتبی نے اپنے والد جو عطر فروشی کا کام کرتے تھے، بلور کے سامان کی فروخت کا کام شروع کردیا۔

۵ جون ۱۹۸۳ کو اپنے چند دوستوں کے ساتھ امام خمینی رح کی تحریک کا حصہ بنے۔ انہوں نے تصوبہ تہران کے چھوٹے بڑے شہروں میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ وہ امام خمینی رح کی تصویریں، تقریروں کی کیسیٹیں اور اعلانات آمادہ کرتے اور لوگوں میں تقسیم کیا کرتے۔ اپنی دکان کو یوٹیلیٹی اسٹور میں بدل کر لوگوں کو سستا سامان مہیا کرنے لگے۔

امام خمینی رح کی وطن واپسی کے موقع پر سید مجتبی امام خمینی رح کی استقابلی کمیٹی کے رکن تھے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد انہوں نے شاہی حکومت کے باقی ماندہ عناصر سے مقابلہ جاری رکھا اور مجرموں کی گرفتاری اور مفرورین کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزائیں دلوانے کے لئے انتھک محنت کی جس کی وجہ سے انکے علاقے میں امن و امان کی صورتحال قدرے بہتر ہوگئی۔ سید مجتبی اپنے علاقے کے عوام میں کافی معتبر جانے جاتے تھے، انہوں نے انقلابی افراد کو جمع کرکے تہران میں ایک انتہائی مضبوط انقلابی کمیٹی کی داغ بیل ڈالی۔

کردستان میں شورش کے آغاز سے ہی امام خمینی رح کے حکم پر عمومی بسیج کا قیام عمل میں لایا گیا اور سید مجتبی اپنے چند دوستوں کے ساتھ ملک کے مغربی علاقوں کی جانب روانہ ہوگئے۔ ابھی انہیں وہاں گئے چند دن ہی گذرے تھے کہ سید مجتبی ملک کے جنوبی علاقوں کی جانب چلے گئے اور آبادن میں واقع فدائیان اسلام نامی اسکول میں پڑاو ڈالا۔ اس طرح عراقی حملوں سے نمٹنے کے لئے پہلی گوریلا فورس کا قیام عمل میں جسے فدائیان اسلام کے نام سے شہرت ملی۔

مقام معظم رہبری اس وقت امام خمینی رح کے نمائندے اور تہران کے امام جمعہ تھے۔ جب آپ فرنٹ لائن کا معائنہ کرنے آبادن تشریف لے گئے تو فدائیان اسلام فورس کے کیمپ میں بھی تشریف لے گئے۔ آپ نے وہاں اپنی تقریر میں فرمایا کہ: ہم نے ابھی تک مختلف جگہوں پر بارہا فدائیان اسلام کا نام سنا تھا اور آُ لوگوں کی تعریف کی تھی لیکن یہاں آکر یہ محسوس کیا کہ آپ لوگ اس سے کہیں زیادہ پر نشاط ہیں جتنا آپ کی تعریف کی گئی ہے، عازم، جازم، پر تحرک اور عشق رکھنے والے افراد ہیں۔ آپ کا نام اسم آُ کے چہروں سے عیاں ہے اسلام کے فدائی۔ سید مجتبی نے بھی کہا کہ فدائیان اسلام کے تمام مورچوں میں حضرت آقائے خامنہ ای کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اور ہم اپنے اس عشق کے ساتھ انکی حمایت کرتے ہیں۔ جس پر رہبر معظم نے فرمایا کہ اگر آپ کے مورچوں میں ہماری تصویریں ہیں تو ہمارے دل جو خدا کا مورچہ ہے انشاء اللہ آپ سب کی تصویریں موجود ہیں۔

مجاہدین خلق نے سید مجتبی کو بارہا قتل کرنے کی کوشش کی، لیکن چونکہ مسلح رہتے تھے اس لئے اپنا دفاع کرلیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انکے گھر کے تالے میں تارکول ڈال دیا تاکہ وہ دروازہ نہ کھول سکیں اور سید مجتبی کی چابی تالے میں پھنس گئی۔ منافقین نے ان پر فائرنگ کردی۔ لیکن سید مجتبی برساتی نالے میں اتر گئے اور انہوں نے حملہ آوروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ ایک مرتبہ انکی اہلیہ کو یرغمال بنا لیا گیا لیکن چونکہ انکی اہلیہ ٹریننگ یافتہ تھیں انہوں نے حملہ آواروں سے اسلحہ چھین لیا۔

سید ہاشمی مختلف طریقوں سے عوام کی خدمت کیا کرتے تھے۔ عشرہ فجر کے موقع پر اپنی دکان میں لباس، اور نایاب اور قیمتی اشیاء کو کم قیمت میں فروخت کیا کرتے تھے۔ اپنی دکان کا نام بھی وحدت اسلامی یوٹیلیٹی اسٹور رکھ دیا تھا جس سے ضرورتمند افراد بچوں کے یونی فارم، اسکارف جوتے اور دیگر چیزیں کم اور مناسب قیمت پر خریدا کرتے تھے۔

شہادت کے روز آپ اپنی دکان بند کررہے تھے، کہ کچھ افراد آئے اور انہوں نے اصرار کیا کہ ہم اسکارف اور کوٹ خریدنے بہت دور سے آئے ہیں۔ سید اس دن مسلح نہیں تھے، انہوں نے دکان کا شٹر اوپر اٹھایا اور دروازہ کھول کر اندر چلے گئے۔ منافقین نے پیچھے سے ان پر گولیاں چلا دیں جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

سید مجتبی ہاشمی ماہ مبارک رمضان میں ۱۸ مئی ۱۹۸۵ کو مجاہدین خلق کے دہشتگردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے۔

 



 
صارفین کی تعداد: 210


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 10

ہمیں اس کا احساس اس وقت ہوا جب عراقی "رسام"  گولی ہم پر تقریبا  چھ بجے پیچھے سے چلائی گئی۔  یعنی ہم مکمل محاصرے میں تھے

جیل میں حصول علم

اسی اثنا میں ایک اور قیدی جو چوری کے جرم میں گرفتار تھا اس نے اپنی گردن کے پاس سے سوئی نکالی جو شاید ہمیشہ ہی اس کے پاس رہتی تھی اور میری ہتھکڑیاں کھول دیں اور میں نے امتحان دینا شروع کردیا۔ جب وہ سپاہی چابی لے کر واپس لوٹا تب تک میں آدھا امتحان دے چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔