11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یادشت

ہیلٹی -1

شهید مرتضی ساده‌میری
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2021-07-29


اس ہفتے سے ، کتاب "ہیلٹی" جو کہ 11 امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت پر مشتمل ہے؛ اسکا ترجمہ پیش خدمت ہے۔ 

ہیلٹی کو پہلی بار 1993 میں صغریٰ پبلی کیشنز نے زینب گودرزی کی ترتیب کے ساتھ شائع کیا تھا اور اس کے  علمی پرنٹنگ ہاؤس نے اسے چھپوایا اور جلد بندی کی۔

یہ ادب اور ھنرمقاومت کے دفتر میں شائع ہونے والی ایک سوچھیانوی اور ایران-عراق جنگ کی یادداشتوں کی شکل میں 58ویں کتاب ہے۔ میرا اور "مرتضی ساده‌میری" کا سفرلکی قبیلے شوھان سے تعلق ہے، مرتضی ساده‌میری، ایلام کے رہائشی اور 11 ویں امیر المومنین ڈویژن ، 502 ویں امام حسین بٹالین کے ایک سرکاری رکن ہیں۔

ہم  پانچ بھائی تھے، ان میں سے ایک مجھ سے بڑا تھا اور دوسرے چھوٹے تھے۔  میرے والد نے ہمارے لئے ایک جرنل  اسٹور فراہم کیا تھا۔ اپنے فارغ وقت میں ، میں اور میرے بڑے بھائی اپنے بیمار والد کی مدد کے لئے اس میں بیٹھاکرتے تھے۔


ہم اسکول جاتے تھے۔ ہمارے ابتدائی اور مڈل اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، میں نے والد صاحب کااسٹور سنبھال لیا۔ کیونکہ والد کی معذوری اور کہن سالگی انہیں اس کام کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ معاشی دباو باپ کی تکلیف نے مجھے اس بات پر آمادہ کیاکہ میں اسکول چھوڑوں اور دوکان کے علاوہ کوٸی اور کام کروں جسکی وجہ سے میں تہران آگیا۔ تاکہ میرے دوسرے بھائی اپنی تعلیم جاری رکھیں۔  میرے بڑے بھائی نے ڈپلومہ  کیا اور انقلاب کے بعد انہوں نے "مہران" جہاد کے سربراہ کی حیثیت سے جہاد سازندگی میں کام کیا۔  آہستہ آہستہ ہمارے کنبہ کی مالی حالت بہتر ہوئی اور میرے بھائی کی شادی ہوگئی اور مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے بعد، وہ ایلام چلے گئے اور رسد کی ذمہ داری کے ساتھ مرکزی جہاد کونسل کا ممبر مقرر ہوٸے۔ ہم نے کئی سال ایک ساتھ اچھی زندگی گذاری۔  1982 میں، میرا بھائی مکہ چلا گیا۔  واپسی پر، اس نے تہران میں منعقدہ قومی جہاد سیمینار میں حصہ لیا، اور واپسی پر، قم تہران روڈ پراسلام کے متعدد دشمنوں میں سے نامعلوم افراد نے  اسے  شہید کردیا۔   


اہل خانہ کو بہت دکھ ہوا۔ میرا شہید بھاٸی جس جگہ کام کرتاتھا ،میں بھی بھاٸی کی محبت کہ جسکا غم میں نابھلا سکا، میں بھی وہیں چلاگیااور وہاں کام کرتارہا پھر میں جہادسازندگی کے بھاٸیوں کے اصرار پر اس ادارے میں چلاگیااور پھر اپنے ہی شوق سے امیرالمومنین  کے 114 ویں بریگیڈ کا آفیشل ممبر بن گیا امیر المومنین بریگیڈ۔ جس نے بعد میں 11 ویں ڈویژن کی شکل اختیار کرلی۔ میں نے  پلاٹون رہنما کی حیثیت سے 503 ویں شہید بہشتی بٹالین سے اپنی خدمت کا آغاز کیا۔

 پہلی شناخت 
 گشت کے پہلے دن، ہم اپنے تین فوجی بھائیوں کے ساتھ عراق میں پکی روڈ "بدریہ باقیسا" (بیگسایہ) پر واقع "سہ دہنیہ پُل" کی نشاندہی کرنے نکلے، جو خان کشتہ چنگلولہ فری زون کے نچلے حصے میں واقع ہے۔ جب ہم دشمن افواج کے قریب پہنچے، فلیٹ سرفیز میں ، ہم نہروں اور گھاتوں کے پار پہنچے۔ ہم ایک جھاڑی کے پیچھے رکے اور خندقیں دیکھتے رہے ، اچانک ایک گارڈ نہر سے اٹھ کر آرام گاہ  کی طرف بڑھا۔ جہانگیر مومینی، جو واقعی محاذ اور جنگ کا ایک ہیرو ہے اور بہت ہی عمدہ جذبہ رکھتا ہے، نے کہا: "بھائی، مرتضی ساده‌میری کہیں ہمیں دیکھا ناجارہاہو۔"


 میں نے کہا ، "فکر نہ کرو ، ہمارے پاس بھی بندوقیں اور گولیاں ہیں۔ "اگر ضرورت پڑی تو، ہم مقابلہ کریں گے جب تک ہمارے دوسرے جوان ہماری مدد کو آجاٸیں گے


 گارڈ واپس آیا اور بیٹھ گیا۔ ہم نے اس بات کا  یقین کرلیا کہ کسی نے ہمیں نہیں دیکھا۔  میں نے "شوہانی" اور "مالکی" نامی دو جوانوں کو بطور سیکیورٹی چھوڑ دیا اور ہم نے پل کی طرف اپنی نقل و حرکت جاری رکھی۔  پل پر پہنچنے سے پہلے، ہم نے پل کی طرف بڑھتے ہوئے سڑک پر عراقی فورسز سے بھرا ایک ٹرک دیکھا۔ کام سست ہوگیا؛  ہم پل پر پہنچے، ہم میں سے ہر ایک  منہ موڑ کر کھڑا تھا۔ لیکن چونکہ خدا نے ان کو اندھا کردیا تھا، اس لئے انہوں نے پل کو عبور کیا اور ہمیں نہیں دیکھا۔  وہ لوگ جنہوں نے چانگولہ میں کام کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ گرمی کا موسم کتنا گرم ہے،جسکی وجہ سےعراقی تھک گٸے اور پکی سڑک کے پیچھے اپنی دفاعی خندق میں سو گئے، جس سے علاقے میں کوئی رسک نہیں رہا ، سوائے اس محافظ کے جو ڈیوٹی پر تھا۔ ہم ان کے آرام گاہ کے پاس گئے۔ وہاں ہم نے دیکھا کہ کچھ کپڑے خشک ہونے کے لئے رسی پر لٹکاٸیں ہوئے ہیں۔ ہم نے کپڑے جمع کیے، ان کی خندقوں کا ٹیلیفون کنکشن کاٹا، اور واپس آئے۔ یہ ابتدائی کام تھا، ہم شناساٸی  کے معاملات سے زیادہ واقف نہیں تھے۔  ہمیں یہ احساس نہیں تھا کہ آپریشنل ایریا کو بعد کے مراحل میں ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔

 جاری ہے



 
صارفین کی تعداد: 1120


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔