پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 69
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-7-12
پاوہ میں سپاہ کی تأسیس
جون 1979 میں، محمد علی ذوالفقاری صاحب کی کمانڈ میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا اعلان ہوا۔ ذوالفقاری صاحب کا تعلق شیراز سے تھا، وہ فوج کی پیراٹروپر بریگیڈ سے تھے اور ڈاکٹر بنی صدر کے قریبی تھے۔ ایک عرصے تک انہیں کرمانشاہ کے مفرور گورنر پالیزبان کا ڈھونڈنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور پھر انہوں نے تہران کے حکام کے فرمان پر اور انقلاب اور علاقے کے مفاد میں، پاوہ کی سپاہ کی بنیاد رکھی اور سرکاری اور غیر سرکاری طور پر پاوہ کے مذہبی نوجوانوں اور یونیورسٹی طلباء کو سپاہ آرگنائزیشن میں شمولیت کی دعوت دی۔
ساواک کے سابقہ دفتر میں، سپاہ پاسداران کے قیام کے بعد، ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنان شہر میں بہت کم ہی مسلح ہو کر باہر نکلتے تھے، لیکن حسب سابق وہ شہر اور دیہاتوں کے کچھ مقامات پر اپنی ثقافتی اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی عمارت اور سپاہ پاسداران کا ہیڈکوارٹر ایک دوسرے سے زیادہ دور نہیں تھا اور کسی بھی مزاحمت کے بغیر، ان میں سے ہر ایک اپنا اپنا کام انجام دے رہا تھا اور سپاہ پاسداران کے ساتھ ساتھ جینڈرمیری کے بھی کچھ اہلکار، شہر کے مختلف مقامات پر تعینات تھے، جیسے شہر کا موجودہ پولیس اسٹیشن اور ہلال احمر کی عمارت۔
صارفین کی تعداد: 1
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
جیل میں کتاب، شہید سید اسد اللہ لاجوردی کی زبانی
کچھ ایسی کتابیں جو درمیانی درجہ کی تھیں، جیسے انجینئر بازرگان کی کتب، ان کے مطالعے کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر کبھی کوئی ایسی کتاب پڑھنی ہوتی تو وہ پہلے سے طے کر دیتے کہ فلاں صفحے سے فلاں صفحے تک پڑھنا ہے۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
