پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 68
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
2026-7-1
بانی انقلاب سے ملاقات
ثقافتی سرگرمیوں میں ہمارے دو اہداف ہوتے تھے؛ ایک تو پاوہ میں ثقافتی اور سیاسی مزاحمت اور دوسرا، کرمانشاہ اور تہران کے حکام کو پاوہ کے حالات سے آگاہ کرنا اور سرحدوں اور آمد و رفت کی خبریں ان تک پہنچانا۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے 29 مئی 1979 کو پاوہ، جوانرود اور روانسر سے دو سو افراد پر مشتمل، جمعیت طرفدان حکومت قرآن کا ایک گروپ، انقلاب کے سربراہ سے ملاقات کے لیے قم روانہ ہوا۔ اس قدر نازک صورتحال تھی کہ اس سفر کا اشتیاق رکھنے والے بہت سے افراد، بشمول حقیر، اس سفر میں شرکت نہیں کر پائے تھے۔ یہ گروپ، اسلامی جمہوریہ کے بانی کی خدمت میں پہنچ گیا اور ملا ناصر سبحانی نے انجمن کی نمائندگی کرتے ہوئے، ایک بہت اچھی تقریر کی تھی۔ ان دنوں کُردستان کے واقعات کے علاوہ، آیت اللہ مطہری اور لیفٹیننٹ جنرل قرنی[i] جیسی انقلابی شخصیات کے قتل کے واقعات بھی رونما ہورہے تھے، اور ہاشمی رفسنجانی صاحب کے اقدام قتل میں دہشتگردوں کو ناکامی ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے دوران، ملا ناصر صاحب نے پاوہ اور اورامانات کی عوام کی جانب سے ان اقدامات کی مذمت کی تھی اور اس کے بعد، اسلامی جمہوریہ کے بانی کی خدمت میں ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ پھر امام خمینی نے ایک مختصر سی تقریر میں، کچھ نکات بیان فرمائے تھے۔ پاوہ اور اورامانات کے باسیوں اور مدرسۂ قرآن پاوہ کے اراکین کے درمیان امام خمینی کی مختصر سی تقریر سے ملک اور بالخصوص پاوہ اور اورامانات کے علاقوں پر بہت اچھا اثر پڑا۔
[i] محمد ولی قرنی، اسلامی جمہوریہ ایران کے پہلے چیف آف آرمی اسٹاف تھے، آپ سن 1913 میں تہران میں پیدا ہوئے اور اپریل 1979 میں عسکریت پسند گروپ فرقان نے آپ کو شہید کردیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل قرنی نے مذہبی رجحان اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث، اپنی زندگی کے قریب چار سال پہلوی جیلوں میں گزارے۔
صارفین کی تعداد: 1
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
جیل میں کتاب، شہید سید اسد اللہ لاجوردی کی زبانی
کچھ ایسی کتابیں جو درمیانی درجہ کی تھیں، جیسے انجینئر بازرگان کی کتب، ان کے مطالعے کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر کبھی کوئی ایسی کتاب پڑھنی ہوتی تو وہ پہلے سے طے کر دیتے کہ فلاں صفحے سے فلاں صفحے تک پڑھنا ہے۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
