محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں سے ایک اقتباس
انتخاب: فاءزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ
2026-7-1
ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، میں نے انٹری ٹیسٹ میں شرکت کی اور تہران پولی ٹیکنک یونیورسٹی (موجودہ امیر کبیر یونیورسٹی) میں کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل انجینئرنگ کے شعبے میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔
کالج میں 'جورڈن' نامی ایک عمارت تھی جہاں متدین طلبہ نے ایک چھوٹے سے کمرے کو نماز خانے کی شکل دے رکھی تھی اور وہاں ظہر و عصر کی نماز ادا کی جاتی تھی۔ اس چھوٹے سے نماز خانے میں نئے آنے والے مذہبی طلبہ کا سینیئر طلبہ سے تعارف ہوتا اور ان کے درمیان ایک روحانی رشتہ قائم ہو جاتا تھا۔
مجھے یاد ہے کہ طاغوت (شاہی نظام) کے دور میں، ایرانی حکومت کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ انتہائی مضبوط اور منظم تعلقات تھے، یہاں تک کہ شاہ کی حکومت خلیج فارس اور خطے میں 'امریکی تھانیدار' (Gendarme) کے طور پر جانی جاتی تھی اور ملک میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی مشیر موجود تھے۔ اس سب کے باوجود، ایرانی قوم کے دلوں میں مظلوم فلسطینی عوام کے لیے ہمدردی اور اسرائیل کی غاصب و مجرم حکومت کے خلاف نفرت اور دشمنی کا جذبہ موجود تھا؛ ایسی حکومت جس نے فلسطینیوں کے قتل عام، انہیں بے گھر کرنے اور امریکہ، یورپ و دیگر ممالک سے یہودیوں کی فلسطین منتقلی کے ذریعے ایک ناجائز اور غاصب ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن شاہ کی امریکہ نواز حکومت نے ایرانی عوام کی امنگوں اور عقائد کے برعکس تہران میں اسرائیلی سفارت خانہ قائم کر رکھا تھا۔ تہران کی 'ویلا اسٹریٹ' (جس کا نام انقلاب کے بعد شہید نجات اللہی اسٹریٹ رکھا گیا) میں اسرائیلی ایئر لائن 'العال' (ELAL) کا دفتر موجود تھا اور صیہونی حکومت اور ایران کے درمیان مختلف سیاسی، اقتصادی، فوجی اور انٹیلی جنس تعلقات خفیہ طور پر پروان چڑھ رہے تھے۔
اس دور کا ایک اہم واقعہ امجدیہ اسٹیڈیم (موجودہ شہید شیرودی اسٹیڈیم) میں ایران اور اسرائیل کی قومی ٹیموں کے درمیان فٹ بال میچ کا انعقاد تھا۔ اس میچ کا مقصد نوجوانوں کی فٹ بال میں دلچسپی سے فائدہ اٹھانا تھا اور شاہی حکومت نے نوجوانوں کے درمیان صیہونیوں کے اثر و رسوخ کے لیے اس مقابلے کا فیصلہ کیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میچ والے دن اسٹیڈیم میں تماشائیوں کے سٹینڈز کے اوپر ایران اور اسرائیل کے بے شمار جھنڈے ایک دوسرے کے قریب لہرا رہے تھے۔
کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔ اس موقع پر مومن طلبہ اور انقلابی نوجوانوں کی قیادت میں عوام نے فلسطینیوں کے حق میں اور صیہونی حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ اسٹیڈیم میں عوام کے جذبات کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اسرائیلی اخبارات نے لکھا کہ 'امجدیہ کے جہنم' میں اسرائیلی فٹ بال ٹیم کو شکست ہوئی۔ میچ کے اختتام پر طلبہ اور انقلابی قوتوں کی رہنمائی میں عوام نے اسٹیڈیم کے گرد لگے ہوئے اسرائیل کے تمام جھنڈے نیچے گرا کر نذرِ آتش کر دیے۔ اس کے بعد اسٹیڈیم کے باہر سے ویلا اسٹریٹ کی طرف فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ راستے میں مختلف مقامات پر انقلابی جوانوں نے فلسطین کے دفاع اور اسرائیل کی مذمت میں انتہائی پرجوش اور ولولہ انگیز تقریریں کیں۔ آخر میں جب ہم ویلا اسٹریٹ میں اسرائیلی ایئر لائن 'العال' کے دفتر پہنچے تو مظاہرین نے اسے پتھروں اور پیٹرول بموں سے آگ لگا دی۔ اسی دوران اچانک ساواک (خفیہ پولیس) اور فورسز نے مظاہرین پر حملہ کر کے کئی افراد کو گرفتار کر لیا، تاہم زیادہ تر لوگ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔[1]
[1] اردبیلی، محمد ہادی، 'جبهه پشت جبهه (یکے بعد از دیگرے محاذ)،قم، نشر معارف، 2023، ص 37۔
صارفین کی تعداد: 1
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
جیل میں کتاب، شہید سید اسد اللہ لاجوردی کی زبانی
کچھ ایسی کتابیں جو درمیانی درجہ کی تھیں، جیسے انجینئر بازرگان کی کتب، ان کے مطالعے کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر کبھی کوئی ایسی کتاب پڑھنی ہوتی تو وہ پہلے سے طے کر دیتے کہ فلاں صفحے سے فلاں صفحے تک پڑھنا ہے۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
