تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - چونتیسویں قسط

مجتبی الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2020-09-28


 کیپٹن "سلام"

 وہ بغداد سے تعلق رکھنے والا ایک کرد آفیسر تھا جو ریجمنٹ کے انٹیلی جنس آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔  درحقیقت محکمہ انٹیلی جنس کا کام حکومت کے فائدے کے لئے فوجی اہلکاروں کی جاسوسی کرنا اور دشمن کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا تھا۔  انٹیلی جنس آفیسرز کی عمومی خصوصیات بے حسی،  تشدد کرنا اور بدسلوکی کرنا ہیں۔  لیکن کیپٹن سلام ان تمام خصوصیات کا حامل ہونے کے علاوہ انتہائی ڈرپوک انسان تھا اور اسے ریجمنٹ کے مشہور بزدلوں میں شمار کیا جاتا تھا۔  اسی وجہ سے وہ ریجمنٹ کے لوگوں کو پریشان کرتا  اور ڈراتا دھمکاتا رہتا تھا۔  میں جب بھی ریجمنٹ بیس جاتا تھا تو دیکھتا تھا کہ وہ اپنے بنکر میں چھپا ہوا ہے۔  میں اپنے آپ سے کہتا تھا: "شاید  اس کا کام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ عام طور پر لوگوں کی نظر میں کم آئے۔  لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے سمجھ آیا کہ وہ تو اپنے سائے سے بھی ڈرتا ہے اور توپ کا پہلا گولا فائر ہوتے ہی یا پہلے مارٹر کی آواز سنتے ہی  چاہے وہ دور سے ہی کیوں نہ آئی ہو،  دوڑتا ہوا اپنے بنکر میں چلا جاتا تھا۔ وہ انٹیلی جنس آفیسر تھا اور ریجمنٹ کے لوگ اس سے ڈرتے تھے  لیکن اس کے باوجود وہ ان بے چارے سپاہیوں کے طنزومزاح اور تمسخر سے محفوظ نہیں تھا جو اپنے افسران کی خصلت سے واقف ہو چکے تھے۔ جب وہ چھٹی پر جاتا تھا تو سپاہی ریجمنٹ بیس میں ہر جگہ سے مارٹر اور توپ کے گولوں کے ٹکڑے جمع کر کے لاتے اور اس کے بنکر کے اردگرد ڈال دیتے تھے  جس سے وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ علاقے پر بہت  شدید فائرنگ ہوئی ہے۔ جب کیپٹن سلام واپس آتا تھا اور اپنے بنکر کے اردگرد ان  مارٹر اور توپ کے گولوں کے ٹکڑوں کو دیکھتا تھا  تو سپاہی اس سے کہتے تھے: "جناب آپ بہت خوش قسمت ہیں!"

وہ پوچھتا تھا: " کیسے؟"

سپاہی اس سے کہتے تھے: "آپ کی غیر موجودگی میں ہماری پوزیشنز پر بہت شدید فائرنگ ہوئی تھی اور اس وقت آپ اس گولہ باری کے اثرات دیکھ رہے ہیں۔"

یہ بیوقوف ڈرپوک بھی یقین کر لیتا تھا۔  وہ اپنے بنکر کے کونے میں پناہ لے لیتا تھا اور پورے دن میں صرف واش روم جانے کے لیے چند مرتبہ باہر آتا تھا۔  اس طرح سے سپاہی اس سے انتقام لیتے تھے اور اس کی سرگرمیوں کو محدود کر دیتے تھے۔  اس آدمی کی پوزیشن اور اس کی شخصیت کو جان لینے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ جتنا ہو سکے اس سے دور رہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے شدید خوف اور زخمی ہو جانے کے ڈر کی وجہ سے ہمیشہ میری ضرورت رہتی تھی اور وہ مجھ سے دوستی کا اظہار کرتا رہتا تھا لیکن مجھے اسے دیکھ کر کراہت محسوس ہوتی تھی۔

 کیپٹن محمد ضیاء الصحاف:

 وہ بعثیوں کے ان اسپیشل کورسز میں فارغ التحصیل تھا جو انہوں نے اپنے منحوس انقلاب کے بعد حزب کے لوگوں کے لیے شروع کیے تھے۔ وہ عراقی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے سابق ڈائریکٹر "محمد سعید الصحاف" کا بھائی تھا۔  اس کے ذمے ہماری ریجمنٹ کی پہلی کمپنی کی کمانڈ تھی  اور اسی طرح سے وہ ریجمنٹ کا تنظیمی ذمہ دار بھی سمجھا جاتا تھا۔  کیپٹن ضیاء کی عمر چالیس سال تھی لیکن اس نے شادی نہیں کی تھی۔  وہ اپنی زندگی برائیوں،  شراب خوری، رشوت خوری اور لوگوں کے اموال میں تجاوز کرنے میں گزار رہا تھا۔

خرم شہر میں تعینات اسپیشل فورسز کی 33 ویں بریگیڈ کے کمانڈر کے ساتھ کیپٹن کے تعلقات تھے۔

اسی بنا پر وه اس شہر کے متواتر دوروں کے دوران خرم شہر کے رہائشیوں کے اموال اور گھروں کا سامان جن میں برقی آلات اور قیمتی اشیاء شامل ہیں،  چوری کر چکا تھا اور ان میں سے بہت سی چیزیں اپنے گھر منتقل کر چکا تھا۔  یہاں تک کہ اس نے ہماری ریجمنٹ کی فورسز میں بھی کچھ ٹیلی ویژن  تقسیم کیے تھے۔  میں ہمیشہ اس سے دور رہتا تھا۔ اس نے کئی مرتبہ میرے قریب آنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔  جب میں لوگوں کی جسمانی حالت جاننے کے لئے فرنٹ لائن کی کمپنیز کی طرف جاتا تھا تو میں کچھ سپاہیوں کو دیکھتا تھا جو فرمانبردار غلاموں کی طرح اس کی خدمت کر رہے ہوتے تھے۔  اس کے بنکر کے پاس ایک چھوٹا پنجرا تھا جس میں کچھ مرغے اور مرغیاں تھیں۔  اس کی ذلالت اور بخل کا یہ عالم تھا کہ وہ سیدھے سادے سپاہیوں کے تحفوں کو بھی نہیں چھوڑتا تھا،  چاہے وہ ایک سگریٹ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور تھیں،  میں یہاں صرف تربوز کے پودے کے قصے کی جانب اشارہ کرتا ہوں، جس پر اس نے اپنا نام لکھا تھا۔

ہماری ریجمنٹ کے سامنے سے گزرنے والی پانی کی نہر گرمیوں کے آخر میں آہستہ آہستہ سوکھ گئی اور چونکہ وہ زرعی علاقہ تھا تو وہاں تربوز کے پودے بڑے ہوگئے اور ان میں پھل نکل آئے۔  سپاہی ہر رات تربوز توڑ کر ریجمنٹ بیس کا حصہ دیتے تھے۔

وہ تربوز بہت ذائقے دار تھے،  اسی لیے کیپٹن محمد ضیاء نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس کی کمپنی کے سامنے موجود تربوز کے پودے پر اس کا نام لکھ دیں تاکہ دوسری کمپنیز کے سپاہی  اسے ہاتھ نہ لگائیں۔  وہ روزانہ اس پودے سے تربوز توڑ کر کھاتا تھا اور اس کی ریجمنٹ کے کسی آدمی میں  اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس پودے سے تربوز توڑلے۔

کیپٹن محمد نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں خرم شہر کے سویلیئن رہائشیوں کا ایک ٹرک چوری کیا  اور اسے چھپانے کے لئے اس پر " نیشنل آئل کمپنی" کا نام لکھ دیا  اور محاذ پر اسے اپنے ذاتی کاموں کے لئے استعمال کرنے لگا۔  ایک دن جب وہ ٹرک بیسویں بریگیڈ کے بیس میں موجود تھا تو پانچویں ڈویژن کے کمانڈر،  بریگیڈئیر جنرل "صلاح قاضی" بریگیڈ کیمپ کا دورہ کرنے آئے اور اچانک انہوں نے وہ پک اپ ٹرک دیکھا۔  تحقیقات کے بعد انہیں پتہ چلا کہ وہ ٹرک عام لوگوں سے چرایا گیا ہے اور ذاتی کاموں کے لئے استعمال  کیا جا رہا ہے  جبکہ اسے فوج کے حوالے کیا جانا چاہیے تھا۔  بریگیڈیئر جنرل نے کیپٹن محمد ضیاء کو طلب کیا اور بہت برے طریقے سے اس کی سرزنش کی۔  انہوں نے کیپٹن کو فوجی عدالت لے جانے کا حکم جاری دیا۔  فوج کے قوائد کے مطابق اسے 11 سال قید کی سزا ہونی  تھی لیکن اس کے بھائی کے اثر و رسوخ اور منصب کی وجہ سے اسے صرف تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی اس نے یہ پورا وقت بصرہ میں ریجمنٹ کیمپ میں واقع اپنے کمرے میں گزارا۔ اگرچہ اس دوران میں کئی مرتبہ بصرہ میں ریجمنٹ کیمپ گیا لیکن میں اس سے ملاقات کرنے نہیں گیا یہاں تک کہ مجھے اس کا سرزنش آمیز پیغام ملا جس میں اس نے پوچھا تھا: " ڈاکٹر، تم مجھ سے ملاقات کرنے کیوں نہیں آئے؟"

ایک دن میں اس ڈر سے کہ کہیں اس کے شر کا نشانہ نہ بن جاؤں، اس سے ملاقات کرنے گیا۔  میں نے دیکھا کہ اس نے اپنے خصوصی کمرے کو ایک نمائشگاہ میں تبدیل کر دیا ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک کمرہ نہیں تھا بلکہ ایک میوزیم تھا جس میں قیمتی اشیاء اور گھر کا سامان موجود تھا اور یہ ساری چیزیں اس نے خرم شہر کے بے گناہ رہائشیوں کے گھروں سے چرائی تھیں۔  سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے اسے 55ویں میکنائزڈ بریگیڈ منتقل کر دیا گیا۔

 کیپٹن ابراہیم:

 وہ اسپیشل کورسز میں فارغ التحصیل ایک افسر تھا اور اسے "حزب بعث" سے نکال دیا گیا تھا۔ وہ ریجمنٹ کیمپ کی کمپنی کا کمانڈر تھا۔  اس کا کام بصرہ میں بیسویں بریگیڈ کی تیسری ریجمنٹ کے مستقل کیمپ کی تعمیر کی نگرانی کرنا تھا۔  اس کی نمایاں خصوصیات ہوشیاری،  فوجی قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرنا،  ڈیوٹی سے مستقل فرار کرنا اور بصرہ کے کچھ تاجروں کے ساتھ لین دین تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً جوڑوں کے درد کے مریض کی حیثیت سے میرے پاس آتا تھا۔  اس طرح سے میں اس سے آشنا ہوا۔

وہ ریجمنٹ کمانڈر کی پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے اپنی خواہشات کو پورا کرتا تھا اور اس کے بدلے میں ریجمنٹ کو کچھ خدمات پیش کرتا تھا۔  اور ریجمنٹ کی ضروریات پوری کرنے کے بہانے سے لمبی لمبی چھٹیاں لیتا تھا۔  اس نے خاص ہوشیاری کے ساتھ بصرہ بلدیہ سے ایک واٹر ٹینکر اور اپنے جاننے والے بغداد کے ہائی رینک آفیسرز سے چار جیپیں ریجمنٹ کے لیے مہیا کیں۔  یہاں اس کےمتعلق دو باتوں کی جانب اشارہ کرتا ہوں۔  ایک دن میں ضرورت کی کچھ چیزیں لینے کے لیے مستقل کیمپ گیا۔  ریجمنٹ کمانڈر نے مجھ سے ریجمنٹ میں موجود لوگوں کے نام لکھنے کو کہا۔  مردم شماری کرتے وقت مجھے خیال آیا کہ ایک سپاہی غائب ہے۔  اگلے مورچوں پر واپس آتے ہوئے میں کچھ دیر آرام کرنے کے لئے ریجمنٹ کے ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوا۔  اسی وقت کیپٹن ابراہیم بھی وہاں پہنچا اور گرم جوشی سے میرا استقبال کیا۔  اس کے بعد اس نے مردم شماری کے بارے میں پوچھا اور مجھ سے کہا کی میرے ریجمنٹ کمانڈر سے اس سپاہی کی غیر موجودگی کا ذکر نہ کروں۔  میں نے اس سے کہا: " اگر تم نے مجھے نہیں بتایا کہ کیا ماجرا ہے تو میں ریجمنٹ کمانڈر کو بتا دوں گا۔"

میرے بہت زیادہ اصرار کے بعد اس نے مجھے بتایا:  "اس سپاہی کے پاس ایک پک اپ ٹرک ہے جس کے ذریعے وہ پچھلی گیریژن کی تعمیر کے لئے روڑی اور بجری لے کر آتا ہے  اور میں فوج کی طرف سے نمائندہ کے طور پر پروجیکٹ کے ٹھیکیدار کے ساتھ تعاون کرتا ہوں۔"  میں سمجھ گیا کہ یہ سپاہی چھٹی لینے کے بدلے میں یہ سامان مفت میں فوج کے لئے مہیا کرتا ہے اور کیپٹن ابراہیم اسے فوج کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے اور ماہانہ سینکڑوں دینار اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے۔

ایک دن جب وہ چھٹی منانے کے لیے نجف اشرف جا رہا تھا تو اس نے مجھ سے ساتھ چلنے کو کہا۔  ہم بصرہ سے نجف کے لئے روانہ ہوئے۔  راستے میں ہم رات کا کھانا کھانے کے لیے ناصریہ شہر کے قریب ایک ہوٹل پر رکے۔

ہوٹل کے مالک نے ہمارا استقبال کیا اور مچھلیوں سے بھری ہوئی دو ڈشیں ہمارے لئے لایا۔  کھانا کھانے کے بعد کیپٹن ابراہیم نے اسے اپنی اسٹائلش گاڑی کے پاس بلایا،  اس کی ڈگی کھولی اور کچھ امپورٹڈ فوجی انڈر گارمنٹس کے ساتھ "روتھ مینس" سگریٹ کا ایک ڈبہ اسے دیا۔

یہ کپڑے درحقیقت ان بدقسمت فوجیوں کا حصہ تھے جو محاذ پر لڑ رہے تھے اور افسران انہیں چوری کر لیتے تھے تاکہ انہیں اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کر سکیں۔

یہ شخص نجف کے بہترین رہائشی علاقے میں ایک عالیشان گھر کا مالک تھا اور مختلف قسم کے لین دین میں حصہ لیتا تھا۔  وہ جو کسی زمانے میں ایک سادہ لوح دیہاتی تھا آج وہ فوج کا ایک افسر شمار کیا جاتا ہے۔

جاری ہے۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 83


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اڑتیسویں قسط

قیدی زمین پر سوتے تھے اور ان کے نیچے کمبل نظر آ رہے تھے جن کا رنگ گندگی کی وجہ سے کمرے کے فرش کی طرح کالا ہو گیا تھا۔ جیسے ہی جیلر نے ہمارے لیے دروازہ کھولا تو پیشاب کی مکروہ بدبو نے ہمیں پریشان کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔