یادوں بھری رات کا ۳۱۰ واں پروگرام – دوسرا حصہ

قاسم سلیمانی کا ثقافتی پہلو

رپورٹ: مریم رجبی

مترجم : محسن ناصری

2020-08-09


ایرانی تاریخ کی بیانگر ویب سائٹ کے مطابق دفاع مقدس کی داستان کا تین سو دسواں پروگرام جمعرات ۲۳ جنوری ۲۰۱۸ آرٹس کونسل ھال میں منعقد کیا گیا۔اس پروگرام میں حجت السلام و المسلمین علی شیرازی، مرتضی سرھنگی اور مجید یوسف‌زاده نے سردار شہید حاج قاسم سلیمانی اور شام کے دفاع  کے دوران کی یادگار واقعات بیان کیے۔

ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۱۰  واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۳ جنوری ۲۰۲۰ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں حجت الاسلام و المسلمین علی شیرازی، مرتضی سرہنگی اور مجید یوسف زادہ نے اپنے واقعات بیان کرتے ہوئے حاج قاسم سلیمانی اور شام میں دفاع کے بارے میں بتایا۔

پروگرام کی دوسرے راوی، مرتضی سرھنگی نے کہا :" ۱۹۹۴ – ۱۹۹۵ کی بات ہے کہ شہید حاج قاسم سلیمانی اور لشکر ثاراللہ کے کچھ سربراہان آرٹس کونسل تشریف لائے۔ قرار پایا تھا کہ شہید سرداران نامی کانفرنس کو کرمان میں منعقد کیا جائے گا، وہ آرٹس کونسل آئے تھے تاکہ کتاب کو منتشر کیا جا سکے ہمارے درمیان گفتگو ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس کام کو انجام دیا جائے۔ میں نے سردار قاسم سلیمانی سے کہا کہ میں کتاب کو پڑھوں گا اگر ردّ کرنے کے قابل ہوئی تو خود ہی ردّ کردوں گا اور جو کچھ شائع کیے جانے کے قابل ہوا وہ آپ کو لکھ بھیجوں گا۔ میں نے کہا آپ مہربانی فرما کر ان واقعات کا مطالعہ کریں  اور آپ جس کو بھی  ردّ کردیں گے، ہم اُسے شائع نہیں کریں گے۔ اگر شائع کرنا قرار پائے تو آپ ہم سے کہہ دیں کہ یہ کتاب اچھی ہے، اسے چھپنا چاہیے۔ بس اسی آسان طریقے سے۔  اس کام میں تقریبا دو سال کا عرصہ لگا۔ بعض اوقات میں کتاب کے ایک جانب کے کور کو قاسم سلیمانی کو دیکھانے کے لیے ہوائی جہاز میں سوار ہوکر کرمان جایا کرتا تھا اور ان کو دکھایا کرتا تھا۔ کتاب کے کور کے ایک ڈیزائن کو منتخب کر کے واپس بائی ائیر واپس آجایا کرتا تھا۔ اس کتاب کے کور کے ڈیزائن پر قاسم سلیمانی سے گفتگو ہوا کرتی تھی کبھی وہ پسند کیا کرتے تھے اور کبھی منع کردیا کرتے تھے اور میں اس کور کو فولڈ کرکے اپنی جیب میں رکھ لیا کرتا تھا اور تہران واپس آجایا کرتا تھا۔ کتاب کے ایک کور کے لیے ان کی دقت عجیب تھی اور شاید ان کی زندگی کا یہ ثقافتی پہلو پوشیدہ رہا۔ کرمان کی کانگریس سے ۵۰ کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور ان کی نئی پبلشنگ ابھی تک جاری ہے۔ یہاں پر قاسم سلیمانی نے خود کام کو اپنے ہاتھوں میں لیا کیوں کہ اپنے کمانڈرز کو انھون نے ہی تربیت دی تھی۔ میں ان سے کہا کرتا تھا " آپ نے ان کی تربیت کی ہے اور آپ ہی جانے ممکن ہے یہ افراد واقعات کے بیان میں غلطی کربیٹھے یا جغرافیائی بیان حالات کو غلط بیان کریں ، تمام تر تصحیحات کو آپ خود ہی انجام دیں"۔ حاج قاسم سلیمانی خود ہی ان تصحیح کیا کرتے تھے۔ میرے اور ان کے سوا کوئی ان کتابوں کے سلسلے میں مداخلت نہیں کرتا تھا۔ ہ کتابیں منتشر ہوئی اور آج ہر کتاب اپنے اندر ایک شاہکار ثابت ہوئی ہے۔ تقریباً ۱۰-۱۲ سال پہلے کرمان میں انجام دیے جانے والی تحریوں کی جمع آوری کی ہے۔ سردار قاسم سلیمانی کے لکھے گئے نوٹس اٹھائے جس پر انہوں نے لکھا تھا " یہ کتاب اچھی ہے اسے شائع کیا جائے"۔ ان سب کو جمع کیا اور صمدزادہ جو کہ اس کتاب خانے کے سربراہ ہیں ان کے حوالے کی تاکہ شائع کی جاسکے۔ میں نے ان سے کہا: " یہ سب سردار قاسم سلیمانی کی تحریریں ہیں ان کو کتاب خانے کے ریکارڈ میں محفوظ کر لیں"۔ ہم ابھی اس عمارت تک نہیں آئیں تھے رشت روڈ پرہی تھے۔ یہاں یہ بات آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا اگر قاسم سلیمانی وصیت کرتے کہ مجھے مرزا حسین یوسف الٰہی کے پاس دفن کیا جائے، مرزا حسین یوسف الٰہی کی کتاب پر لکھی گئی تحریر کے مطابق تقریباً یہی مضمون ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں " اگر کوئی اس کتاب کو پڑھے اور مرزا حسین یوسف الٰہی  سے مجھ سے زیادہ محبت کرے تو میں غم زدہ ہوجاوں گا"۔ اس کے بعد پلٹ آتے ہیں اور دیگر شہیدوں کو بھی ہمیں روشناس کرواتے ہیں۔ ہم اب مرزا حسین یوسف الٰہی  کو پہچانتے ہیں، یہ کون تھے کہ قاسم سلیمانی نے چاہا کہ ان کے نزدیک دفن ہوں۔ ہم نے شوق، تدبیر اور عقلمندی سے ۵۰ عنوان پر مشتمل کتابیں شائع کردیں۔ان کتابوں کی اشاعت سے ہم مطمئن ہیں اور ان کتابوں کو خود قاسم سلیمانی نے پڑھا ہے۔ یہاں تک کہ کرمان کے ایک دو دوستوں نے مجھ سے کہا : "ہم نے دیکھا کہ قاسم سلیمانی کہیں غائب ہیں اور ان کا کچھ پتہ نہیں ہے تو ان کے کمرے میں گئے دیکھا کہ قاسم سلیمانی اپنے کمرے میں سوئے ہوئے ہیں اور ان کتابوں میں سے ایک کتاب کو پڑھ  بھی چکے ہیں"۔ بعض اوقات ان کتابوں کو پڑھ کر اس قدررویا کرتے تھے کہ ان کی حالت خراب ہوجایا کرتی تھی اور میز کے سامنے ایک کمبل بچھا کر لیٹ جایا کرتے تھے۔" یہ وہ باتیں ہیں جو کرمان کے دوستوں نے ہمیں بتائی ہیں۔

اس سال ہمیں جناب مومنی اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے ایک شادی میں دعوت دی گئی۔ ہم محفل میں سردار قاسم سلیمانی کے ساتھ ہی داخل ہوئے تھے۔ وہ بھی شادی میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ یہاں ایک خاتون نے حاج قاسم سلیمانی سے کہا: " حاج قاسم آپ اس مرتبہ شام جائیں گے تو حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کے مرقد پر میری دو بیٹیوں کے لیے دعا کیجیے گا"۔ حاج قاسم نے کہا: " آپ خود جائیں اور دعا کریں"۔ خاتون کے کہا " میں تو نہیں جاسکتی"۔ حاج قاسم نے کہا " تو بس میں آپ کی جانب سے زیارت کرلوں گا"۔  میں اور میری بیوی ہم دو عام سے لوگ تھے جن کے حق میں قاسم سلیمانی نے یہ لطف انجام دیا۔

داود صالِحی جو اس پروگرام کے میزبان ہیں  کہتے ہیں : " خزاں کے پچاس سال" نامی کتاب مریم جمالی کی یادوں کی داستان ہے جو کہ ایک شہید، محمد جمالی کی زوجہ ہیں اس داستان کو فاطمہ بھبودی نے قلم بند کیا ہے۔ میں کتاب کی داستان کی فکر میں تھا کیا دیکھا کہ قاسم سلیمانی اس شہید کی تدفین میں شرکت کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ سردار قاسم سلیمانی کے پاس دو انگوٹھیاں تھی جن میں سے ایک انھوں نے شہید کے منہ میں رکھی اور دوسری شہید کے ہاتھ میں رکھ دی اور جب تدفین کے بعد قبر سے باہر آئے تو شہید کہ ماں سے کہنے لگے: " حاج خانم! آپ کا بیٹا پچیس سال پہلے جنگ میں شہید ہوگیا تھا، اس کی روح پچیس سال پہلے ہی اس کے شہید دوستوں کے ساتھ تھی مگر اس کا جسم ہمارے ساتھ تھا جس کو آج ہم نے سپرد خاک کردیا"۔

اس پروگرام میں محسن مومنی شریف آرٹس کونسل کے سربراہ ، حجت السلام و المسلمین علی شیرازی، مرتضی سرھنگی، شہید محمد جمالی کی زوجہ مریم جمالی  کی موجودگی میں کتاب " خزاں کے پچاس سال" کی نمائش ہوئی۔ یہ وہی  کتاب ہے جو بقول جناب سرھنگی اور سردار سلیمانی نے اس پر کافی تاکید کی ہے۔

 

 



 
صارفین کی تعداد: 146


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
موسم گرما کے واقعات

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - پینتیسویں قسط

سن 1981ء کا موسم گرما جیسے ہماری بریگیڈ کے ٹھکانے پر ایرانی فورسز کے آرام کرنے کا موسم تھا۔ جنگ کی اہم سرگرمیاں ایک دوسرے پر فائرنگ، جنگی-جاسوسی گشتی آپریشنز اور گھات لگانے کے عمل تک محدود تھیں۔ اس کے باوجود کہ ایرانی فورسز سست پڑ گئی تھیں اور تھکن محسوس کر رہی تھیں لیکن ہماری فورسز تمام دفاعی تدابیر اپنانے کے بعد مکمل طور پر الرٹ رہتی تھیں۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔