تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – آٹھویں قسط

مجتبیٰ الحسینی

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2019-11-07


اس کے باوجود کہ ایک واقعہ کے بعد دوسرا واقعہ رونما ہوتا تھا، لیکن اسلامی جمہوریہ نے یہ کوشش نہیں کی کہ وہ حکومت بغداد کی اس آگ بھڑکانے اور اشتعال بپا کرنے پر فوجی کاروائی کے ذریعے جواب دے۔ خوش فہمی میں مبتلا رہنے والے لوگ بھی کہہ رہے تھے کہ یہ مسئلہ اس حد سے آگے نہیں بڑھے گا اور عراقی حکومت کا اپنے علاقوں کو واپس لینے کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہیں ہے۔ حتی خود صدام نے فوجی اعلان میں جو ۴ ستمبر ۱۹۸۰ کے بعد منتشر ہوا تھا اس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا۔ کسی کے ذہن میں بھی نہیں تھا کہ صدام ایک دن ایران پر اتنا وسیع حملہ کردے گا۔

میں غمگین دل اور افسردہ روح کے ساتھ ان تمام واقعات کا جائزہ لے رہا تھا اور میرے ذہن میں مسلسل وہ بات آرہی تھے جسے میرے دوست نے چند مہینے قبل بہمن ہسپتال میں بتائی تھی۔ دو ہفتہ بعد، ہم چھاؤنی کے کیمپ میں جمع ہوئے اور ہمیں ٹریننگ دینے والے افسر نے حکم دیا کہ ہم فوراً عراقی فوج کے یونٹوں میں تقسیم ہوجائیں ایسا اس حال میں تھا کہ ہم نے اپنی ٹریننگ کا عرصہ مکمل نہیں کیا تھا۔

۱۹ ستمبر سن ۱۹۸۰ کو رات ۱۱ بجے ہم لائن لگا کر کھڑے ہوگئے اور ان ۳۱ ڈاکٹروں کا نام پکارا گیا جنہوں نے عراق کے جنوب میں واقع شہر ناصریہ کے شہر میں مستقر تیسری سپاہ میں منتقل ہونا تھا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا۔ میں اسی دن اپنے گھر گیا، میں نے اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک تھکا دینے والی اور غمگین رات گزاری۔ اگلے دن شام کے وقت ڈاکٹروں کے گروپ کے ساتھ ہم ناصریہ کی طرف گئے۔ ۲۰ ستمبر کو رات ۱۱ بجے ہم اپنی ڈیوٹی کی جگہ پہنچے جہاں پر ناصریہ میں رہنے والے مصر کے دس کاریگروں نے ہمارا استقبال کیا۔ وہ شہر میں سڑکیں بنانے میں مصروف تھے۔ بہت زیادہ کوشش کے بعد ہم شہر کے ایک خراب سے ہوٹل میں ٹھہرنے کی جگہ ڈھونڈ سکے اور صبح تک وہیں رہے۔ اگلے دن رات کو ہم شہر میں تیسری سپاہ کے ہیڈ کوارٹر گئے۔ اس ہیڈ کوارٹر میں ٹھہرنے کی جگہ برطانیہ کی پرانی عمارت تھی کہ جہاں سے ایسی بو آرہی تھی کہ جس سے ابکائی آرہی تھی۔ اس کی بناوٹ انسان کی روح کو تکلیف پہنچا رہی تھی۔

دوبارہ تقسیم ہونے کیلئے ہمیں حکم نامہ لینے کیلئے دوپہر ۱۲ بجے تک انتظارکرنا پڑا، حکم ملنے کے بعد ہمیں دوسرے سات ڈاکٹروں کے ساتھ بصرہ میں مستقر پانچویں ڈویژن میں بھیجا گیا۔ ہم اس دن بصرہ کی طرف روانہ ہوئے اور شام ۵ بجے وہاں پہنچ گئے۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ میں بصرہ – عراق کی پہلی بندرگاہ اور دار الخلافہ کے بعد دوسرا شہر – کا سفر کر رہا تھا۔ اس کے باوجود کہ اس شہر کی سڑکیں گندھی تھیں اور غیر ملکی افراد، خاص طور سے مصری، اُس میں رفت و آمد کر رہے تھے، لیکن وہاں کے رہنے والے لوگ بہت ہی ملنسار اور مہربان تھے۔ ہر نئے آنے والے کا خندہ پیشانی اور کھلے دل سے استبقال کرتے تھے۔ ہم نے ’’العشار‘‘ نامی علاقے میں ایک خوبصورت اور پرمسرت رات گزاری۔ اگلے دن صبح پانچویں ڈویژن کے ہیڈکوارٹر گئے جو ’’شعیبہ‘‘ نامی علاقے کے قریب تھا اور ہم اس ڈویژن کی بٹالین میں تقسیم ہوگئے۔ مجھے ۱۱ نمبر کے فیلڈ میڈیکل یونٹ میں بھیجا گیا جو ۲۰ویں مکانیزم بریگیڈ سے وابستہ تھا۔

مجھے ایک فوجی جیب کے ذریعے، دانتوں کے ڈاکٹر کیپٹن ’’صباح المراباتی‘‘ کے ہمراہ ’’الدریھمیہ‘‘ (زبیر نامی شہر کے نواح میں ایک علاقہ) کے علاقہ میں موجود ہیڈ کوارٹر کے یونٹ میں بھیجا گیا۔ یونٹ  کے تمام لوگ بیسیویں بریگیڈ کے افراد کے ساتھ سرحدی علاقے ’’نشوہ‘‘ کی طرف گئے ہوئے تھے۔

۲۲ ستمبر سن ۱۹۸۰ والے دن، دوپہر  سوا بارے بجے ۱۳ عراقی طیارروں نے شعبیہ چھاؤنی سے، جو ہمارے یونٹ کے برابر میں تھی، ایرانی سرحدوں کی طرف پرواز کی اور وہ تمام طیارے ایک گھنٹے بعد اپنی چھاؤنی میں واپس آگئے۔ پہلے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یہ پرواز صرف ایک ٹریننگ کے طور پر ہے۔ لیکن اچانک دوپہر ۳ بجے ریڈٰیو پر ایک منحوس اعلان نشر ہوا جو انقلاب اسلامی کے خلاف جنگ شروع ہونے کی خبر دے رہا تھا۔ جنگ شروع کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ’’ایرانیوں‘‘ کے تجاوز کا جواب دیا گیا ہے اور ایران کی طرف سے عراق پر ہونے والے حملے کے خطرہ کا دفاع کرنا ہے! یہ خبر سنتے ہی میرے ذہن میں میرے شہید دوست ’’عبد الغنی سمیسم‘‘ کی بات آگئی جس نے چند مہینے پہلے، صدام کے جنگ شروع کرنے کے ارادے کے بارے میں مجھ سے بات کی تھی۔ میں نے وہ رات شدید پریشانی اور نفسیاتی تشنج کے عالم میں گزاری۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ اگلے دن کیا ہونے والا ہے!

۲۳ ستمبر کی صبح ۶ بجے میں انڈا روٹی کھانے میں مصروف تھا۔ ابھی میں نے اپنا تیسرا لقمہ نہیں اٹھایا تھا کہ دھماکے کی خطرناک آواز سنائی دی۔ میں دیوانوں کی طرح باہر کی طرف دوڑا۔ چند ایرانی لڑاکا طیارے جو بہت ہی نچلی سطح پر پرواز کر رہے تھے، وہ نمودار ہوئے اور انھوں نے شعبیہ کے ایئر بیس، کیمیائی سیمنٹ بنانے والے کارخانے اور ’’سام‘‘ میزائلوں کے اسٹور پر بمباری کردی۔

ہم نے وہ دن یونٹ کے اطراف میں اسی طرح کے دن کیلئے بنائی گئی پناہ گاہوں میں گذارا۔ بصرہ کے آسمان پر فضائی جنگ جاری تھی اور ایرانی خلابانوں نے شہر میں موجود فوجی اور اقتصادی تنصیبات کو تباہ کرنے میں اپنے اعلیٰ تجربہ اور مہارت کا مظاہرہ کیا۔ جیسے ہی رات کی تاریکی چھائی، ہم آرام کرنے کیلئے عمارت میں واپس چلے گئے۔ بغداد کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینل فوجی نغمے اور جنگی مناظر کی لمحہ بہ لمحہ عکاسی کر رہے تھے اور محاذ پر عراقی فوج کی کارکردگی دکھا رہے تھے۔

۲۴ ستمبر کو حکم ملا کہ ’’نشوہ‘‘ نامی علاقے میں جو میڈیکل کیمپ لگے ہوئے ہیں ان سے ملحق ہونے کیلئے حرکت کی جائے۔ نکلنے سے پہلے، ایک پیادہ سپاہی کا جنگی سامان میرے اختیار میں دیا گیا۔ میں نے اس بات پر اعتراض کیا اور کہا: ’’میں ڈاکٹر ہوں نہ کہ پیادہ سپاہی۔‘‘

کیپٹن ’’زیدان‘‘ نے کہا: ’’بریگیڈیئر کمانڈر کی طرف سے نوٹس آنے سے پہلے، اسے پکڑ لو!‘‘

مجھے یہ بات سن کر تعجب ہوا۔ مشیت الٰہی پر سر تسلیم خم تھا۔ میں نے اسلحہ کو تھاما اور ایک فوجی جیپ میں بیٹھ کر شہر بصرہ کی پریشان اور پر آشوب  سڑکوں سے عبور کیا۔ نشوہ کی طرف حرکت کرتے وقت، شلمچہ کے علاقے میں موجود ایرانی سرحد کی طرف سے توپوں کے فائر کی آواز کانوں میں پڑ رہی تھی۔ ہم دو گھنٹے بعد نشوہ گاؤں میں موجود شط العرب (اروند نہر) کے ساحل پر پہنچ گئے۔ یہ گاؤں (نشوہ) ایران کی سرحدوں سے ۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر، طلائیہ اور کوشک نامی علاقوں کے سامنے ہے۔ ۱۱ واں فیلڈ میڈیکل یونٹ اس گاؤں کے میڈیکل سینٹر میں ٹھہرا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد، یونٹ کے افراد نے مجھے بتایا کہ ہماری افواج نے ۲۲ ستمبر والے دن شام کو پانچ بجے طلائیہ اور کوشک نامی علاقوں پر حملہ کیا ہے۔ اس کے باوجود کہ اس حملہ کو شروع ہوئے ابھی ۲۴ گھنٹے گزرے تھے، بہت کم سپاہیوں کو سطحی سی چوٹیں لگی تھیں۔ اس چیز سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی خاص فوجی جھڑپ نہیں ہوئی ہے۔ ڈاکٹر ’’صباح الربیعی‘‘ نے مجھے اطلاع دی کہ آرمی انٹیلیجنس یونٹ نے حملہ ہونے سے پہلے ایرانی فوجوں کی ہماری فوجوں کے سامنے صف آرائی کی افواہ پھیلا دی تاکہ اُن لوگوں میں جنگ کرنے کا جذبہ پیدا ہوا، لیکن اس افواہ کے نتیجہ میں بہت سے افراد ڈر اور پریشانی کی وجہ سے دست اور پیچیش کی بیماری میں مبتلا ہوگئے۔

کچھ گھنٹوں بعد میں نے کچھ ایسے سپاہیوں سے ملاقات کی جو محاذ سے واپس آرہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ عراقی فوجیوں نے ’’کوشک‘‘، ’’اسیود‘‘، ’’غزیل‘‘ اور ’’شہابی‘‘ چھاؤنیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ پہلے تو میں نے ان کی بات پر یقین نہیں کیا پھر میں ۲۴ ستمبر کو ظہر کے وقت ایک اسیر ہونے والی ایرانی سارجنٹ سے ملا جس کی گھنی داڑھی تھی۔ بیسویں بریگیڈ کی تیسری بٹالین کے لیفٹیننٹ ’’عبد السلام‘‘اس ایرانی قیدی کو پیچھے ہاتھ باندھ کر ہمارے پاس علاج کیلئے لائے۔ ظاہراً اس کے سر پر کہیں چوٹ لگی تھی۔ میں نے اُس افسر سے اس کے ہاتھ کھولنے کیلئے کہا؛ اُس نے جواب میں کہا: ’’ڈاکٹر بہت ہوشیار رہنا!  اس نے اسیود چھاؤنی کے قریب ہمارے تین افراد کا قتل  کیا ہے اور کچھ لوگوں کو زخمی بھی کیا ہے۔‘‘

لیفٹیننٹ نے اس کے ہاتھ کھولے اور کہا: ’’جب یہ شخص قیدی بنا، کپٹن ’’محمد الصحاف‘‘ نے بندوق کے بٹ سے اس کے سر پر کچھ چوٹیں ماریں۔‘‘

میں نے اس سے کہا: ’’فی الحال تو زخمی اور قیدی ہے، اس کے علاج ہونا چاہیے۔‘‘

جب اس قیدی کا علاج ہوگیا تو اس نے اپنی زبان سے کچھ فارسی جملے ادا کئے جو میری سمجھ سے بالاتر تھے۔ اس کے بعد اس نے اپنے ہاتھوں کو تکبیرۃ الاحرام کی حالت میں اوپر کیا۔ میں سمجھ  گیا کہ وہ ظہر کی نماز پڑھنا چاہتا ہے۔ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اور میں بہت خوش ہوا۔ اس اسیر کو میجر ’’درید کشمولہ‘‘ کے پاس بھیج دیا گیا اور اس نے بہت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ اس اسیر کی نماز کے مقدمات فراہم کئے۔

رات کے وقت کچھ فوجی گاڑیاں پہنچیں جن میں ایرانی قیدی بھرے ہوئے تھے۔ میں ان قیدیوں سے بات چیت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، لیکن زخمیوں، قتل ہونے والوں اور قیدیوں  کی تعداد سے نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ جھڑپیں دو فوجوں کے درمیان نہیں ہوئی تھیں بلکہ دانتوں تک مسلح حملہ کرنے والی افواج اور ایران کے سرحدی سپاہیوں کے مابین ہوئی ہے جن کے پاس معمولی اسلحہ تھا اور یہ جنگ برابری کی جنگ نہیں تھی۔ اس نا برابری نے عراقی فوجیوں کیلئے اس بات کا امکان فراہم کیا کہ وہ کم سے کم ممکنہ وقت میں ایرانی سرحدی پٹی پر قبضہ کرلیں اور ایرانی سرزمین کے اندر نفوذ کرجائیں۔

جاری ہے ۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 53


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

دعا کیجئے کہ یہ ہوائی جہاز صحیح و سالم اتر جائے
میری آواز بیٹھ گئی تھی ، جتنا بھی گرم پانی پئوں سود مند نہ تھا۔میرا ہمیشہ کا دستور یہی تھا کہ ہر احتجاج میں اس طرح نعرے لگایا کرتی تھی کہ میرے علاوہ کوئی اور احتجاج میں شریک ہی نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔