تصویر کی زبانی

دو کتابیں

محمد علی فاطمی

مترجم: سید مبارک حسنین زیدی

2019-06-18


 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ: سن ۲۰۱۹ میں انقلاب اسلامی کی چالیسویں سالگرہ  کے موقع پر، انقلاب اسلامی  کے مطالعاتی مرکز کے دو محققین اور مولفین کی کاوشوں اور کارکردگیوں کو سراہا گیا۔

۵ فروری ۲۰۱۹ والے دن اور اسلامی جمہوری ایران میں انتخاب ہونے والی کتابوں کے ۳۶ ویں دورے کی پایانی تقریب میں، "الف لام خمینی؛ آیت اللہ روح اللہ موسوی خمینی کی زندگی پر مشتمل کتاب" کے مولف ہدایت اللہ بہبودی کا تاریخ اور جغرافیہ میں بہترین عنوان سے تعارف کروایا گیا۔ انھوں نے اپنا انعام وزیر اعظم حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر حسن روحانی کے ہاتھوں دریافت کیا۔ آپ ہدایت اللہ بہبودی کی حالیہ کتاب اور اُن کے نظریات کے بارے میں کچھ مطالب کا، ایرانی زبانی تاریخ کی سائٹ پر مطالعہ کریں:

 

تاریخ کو بیان کرنا ممکن ہے

ڈاکومنٹریاں ایک جنس سے نہیں ہیں

واقعات بیان کرنے اور واقعات لکھنے کو سراہا جانا دراصل آزادی کو چاہنا ہے

"نقاشی قہوہ خانہ: کاظم دارابی کے واقعات؛ میکونوس عدالت کا ملزم" نامی کتاب، جسے محسن کاظمی نے لکھا ، اس کتاب کی پریس کانفرنس بھی  ۴ فروری ۲۰۱۹ کو آرٹ شعبے میں منعقد ہوئی۔ اس نشست میں کتاب کے بارے میں ان نکات کو بیان کیا گیا:

سورہ مہر پبلیکیشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر عبد الحمید قرہ داغی: یہ کتاب آرٹ شعبے کی اہم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔

مزاحمتی ادب و ثقافت  کے تحقیقاتی مرکز کے بانی مرتضی سرہنگی: آج کسی واقعہ کی روایت کرنے کیلئے کوئی کسی بڑے حادثہ کا منتظر نہیں رہتا اور جناب دارابی نے بھی اپنے بارے میں سوچا اور انھوں نے محسن کاظمی سے بات کی اور اپنے واقعات کو چھپوانے کا آغاز کیا۔ جناب دارابی اور جنگ کے سپاہی وغیرہ عین شاہدین میں سے ہیں اور زبانی تاریخ کے دائرہ کار میں اعتبار کے لحاظ سے پہلے درجہ پر فائز ہیں۔

"نقاشی قہوہ خانہ" نامی کتاب کے لکھاری محسن کاظمی: میں جناب دارابی کا شکریہ کرتا ہوں انھوں نے دس سال (اس کتاب کے لکھنے اور تیار ہونے کی مدت)صبر و تحمل سے کام لیا، جس طرح انھوں نے ۱۵ سال اور دو مہینے تک جرمنی کے زندانوں میں صبر و تحمل کیا؛ اسی طرح میں سورہ مہر کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے اس طرح کا ماحول فراہم کیا  کہ ہم دس سال تک ایک کتاب پر تمرکز قائم رکھ سکیں۔

"نقاشی قہوہ خانہ" نامی کتاب کے راوی کاظم دارابی: آرٹ شعبے کے عہدیداروں نے وعدہ کیا ہے کہ بہت جلد اس کتاب کا ترجمہ منظر عام پر آئے گا۔

زبانی تاریخ میں انقلاب اسلامی  کے مطالعاتی مرکز کے شعبے کے انچارج حجت الاسلام سعید فخر زادہ: مغربیوں نے انقلاب اسلامی پر بہت سارے الزامات لگائے ہیں۔ "نقاشی قہوہ خانہ" نامی کتاب کی اشاعت انقلاب اسلامی پر لگے داغوں کو دھونے کیلئے ایک چھوٹے سے عنوان کے طور پر مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کو دنیا کے لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہیں رکھا جاسکتا۔



 
صارفین کی تعداد: 205


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پانچویں قسط

عراق کی بعثی حکومت نے سن ۱۹۸۰ء میں عراقی ہزاروں گھرانوں کو اس بہانے سے کہ اُن کی اصلیت ایرانی ہے اور وہ عراق میں ہونے والی متعدد تخریب کاریوں میں ملوث ہیں، ایران جلا وطن کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔