یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

مریم رجبی

مترجم: کنیز طیبہ

2019-02-27


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

۲۹۹ ویں یادوں بھری رات کے پہلے راوی سپاہ پاسدران انقلاب اسلامی کے بانیوں ، پہلوی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والوں ، امام خمینی ؒ کا استقبال کرنے والی مرکزی کمیٹی کے اسٹاف کے اصلی ارکان میں سے ایک اور سن ۱۹۷۸ء میں رفاہ اسکول کے پرنسپل جناب علی دانش منفرد تھے۔ انھوں نے کہا: "اُن دنوں عجیب حالات تھے۔ شاہ کے ساتھ ایسے بین الاقوامی لوگ تھے جو بھرپور طریقے سے اُس کی حمایت کرتے تھے۔ وہ سوچتا تھا کہ میں ہمیشہ کیلئے ہوں۔ شاہ  اپنے گروپس  کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا؛ جیسے فوج، ساواک، اُس کے طرفدار لوگ۔اور وہ آزادی پسندوں، مسلمانوں، مجاہدوں اور علماؤں  کو گرفتار کر رہا تھا۔ اُس سے جہاں تک ہوسکا اُس نے سچے انقلاب کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔ سن ۱۹۶۱ اور ۱۹۶۲ میں اس حقیقت نے حضرت امام کے علی الاعلان سامنے آنے اور شاہ اور اُس کے حواریوں کے برتاؤ  کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دینے سے ایران کے سیاسی چہرے کو تبدیل کردیا۔ میں اُس زمانے میں  تہران یونیورسٹی کا طالب علم اور مسلمان طلباء  کے ساتھ تھا کہ ہم نے وہ ایام گوشہ نشینی میں گزارے تھے۔ کمیونسٹ اور وہ لوگ جو اسلام پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے، وہ دلال اور سہولت کار تھے۔ ہم اور مختلف فیکلٹیوں کے کچھ دوسرے مسلمانوں طالب علم، اسلامی طلباء انجمنیں کی شکل میں کام کرتے اور شاہ کی حکومت سے مقابلہ کرتے تھے۔ امام، گمراہ پہلوی حکومت کے سامنے شجاعت کے ساتھ ڈٹ گئے، وہ اُنہیں تذکر دیتے اور نصیحت کرتے۔ ایرانیوں اور علماؤں  کو خبردار کرتے  کہ اسلام خطرے میں ہے۔ شہنشاہی حکومت کے عوام کو فریب دینے والے منصوبوں سے مقابلہ کرتے  اور انھوں نے لوگوں کو مقابلے کیلئے ایک نئی فضا میں دعوت دی۔ عہد نامہ تسلیم (Capitulation) سے اور ایران میں  امریکیوں کے حضور اور اُن کی  ایران میں مسئولیت سے مقابلہ، یہ وہ مسائل تھے جنہوں نے شاہی حکومت کو بہت غضنباک کردیا تھا۔ امام عظیم سیاست دان تھے۔ سن ۱۹۶۱ اور ۱۹۶۲ میں ابھی بہت سارے لوگ امام کو نہیں پہچانتے تھے، صرف وہ لوگ جو دینی مدارس میں تھے، جن کا علماء اور مراجع سے قریبی رابطہ تھا، وہ لوگ امام کو پہچانتے تھے۔"

تصویروں کی نمائش لگائی گئی اور علی دانش منفرد نے اُس بارے میں کہا: "یہ تصویر حضرت امام کے[فروری ۱۹۷۸ کو ایران میں] آنے کے تیسرے دن  سے مربوط ہے جب وہ مدرسہ علوی آئے اور انھوں نے  مہدی بازرگان کو حکومت کے فعلی سربراہ کے عنوان سے متعارف کرانا چاہا۔ امام جیسے ہی بیٹھے، انھوں نے مہدی بازرگان کے پہلے وزیر اعظم بننے کا اعلان کردیا۔"

انھوں نے مزید کہا: " جیسے بھی ہوا ہم نے [سن ۱۹۸۱ کے آغاز اور جدوجہد کی شروع میں] حضرت امام سے قم میں چند ملاقاتیں کیں۔ انہیں گرفتار کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔ ہم مسلمان طلباء، خاص طور سے حضرت امام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے انہیں دیکھا ہوا نہیں تھا۔ وہ نشست ہمارے لئے بہت ہی عجیب نشست تھی۔ امام اپنی اُس ہیبت اور عظمت کے ساتھ داخل ہوئے۔ ہمارے پاس ایک بیانیہ تھا ہم نے اُسے پڑھا۔ امام نے کچھ بیانات دیئے اور آپ یقین کریں کہ ہم لوگ یونیورسٹی میں دباؤ کا شکار تھے، ہم اُس جلسے سے سر اور گردن اٹھا کر باہر نکلے۔ اُس نشست کے بعد، ہم نے اپنی سرگرمیوں کو زیادہ توانائی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ انجام دیا۔ ہماری سرگرمیاں، پکڑ دھکڑ اور جیلوں میں ڈالنا جاری رہا۔ امام کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے شکنجے دیئے جاتے تھے۔ وہ مولانا حضرات جو منبر پر امام کا نام لیتے تھے، اُن کا تعاقب کرکے اُنہیں فوراًٍ گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ امام نجف سے مستقل بیانات جاری کرتے  اور اسلامی تحریک  کو ہدایات دیتے۔ تحریک زور پکڑ گئی اور لوگ بیدار ہوگئے، امام اور لوگوں کے درمیان نفسیاتی اور عاطفی پیوند  قائم ہوگیا۔ امام ایک ایسے سیاست دان اور رہبر تھے جنہوں نے ہر ایرانی فرد کے دل میں اپنی جگہ بنالی۔ ۱۶ جنوری کو شاہ فرار کر گیا۔ شاہ تحریک  کے رعب و دبدبے  اور  لوگوں کی بیداری اور انقلاب سے  وحشت زدہ ہوگیا اور ایران سے بھاگ گیا۔ جب شاہ چلا گیا تو امام نے پیغام دیا کہ  میں بہت جلد ایران واپس آؤں گا اور آپ کے ساتھ جدوجہد کروں گا، یا تو ہم شہیدوں سے ملحق ہوجائیں گے یا کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔ اس پیغام کو سنتے ہی جو لوگ امام سے رابطے میں تھے، وہ فوراً ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور طے پایا کہ امام کی آمد کے مقدمات کو فراہم کیا جائے۔

ان دنوں میں شورائے انقلاب کے نام سے ایک ادارہ تھا جو مخفی تھا۔ امام نے اُس کے اراکین کی تائید کردی تھی اور وہ لوگ امام سے رابطے میں تھے۔ جب یہ طے پایا کہ امام تشریف لا رہے ہیں تو اب ایک ظاہری ادارہ  بھی تشکیل دیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے ٹھہرنے کی جگہ کو بھی مشورت  کے ذریعے معین ہونا چاہیے تھا۔ مختلف جگہوں کی تجاویز سامنے آئیں۔ شہید مطہری نے جناب احمد خمینی  سے فون پر رابطہ کیا اور امام سے پوچھا کہ اُن کی مدنظر جگہ کون سی ہے؟ امام نے چند معیار مقرر کردیئے۔ اول یہ کہ تہران کے  بیچ میں ہو اور جدوجہد کرنے والی جگہ ہو  اور دوسری بات وہ جگہ کسی کی ذاتی ملکیت  نہ ہو۔ چند جگہوں کے بارے میں بتایا گیا تو امام نے خیابان ایران  کی مستجاب نامی گلی میں واقع رفاہ اسکول میں ٹھہرنے کو قبول کرلیا۔ میں اُس زمانے میں رفاہ اسکول کا منیجر تھا۔ یہ اسکول، ایسا اسکول تھا جسے مسلمان انقلابیوں نے قائم کیا تھا۔ لڑکیوں کا اسکول تھا اور اس کا ہدف، یہ تھا کہ مجاہد، مسلمان اور مذہبی لڑکیوں کو تربیت کرکے معاشرے کے حوالے کریں۔

ایک گھر میں ایک مخفیانہ میٹنگ رکھی گئی اور استقبال کمیٹی کے مرکزی اسٹاف کے ارکان کا انتخاب کیا گیا۔ امام نے کہہ دیا تھا کہ ایسے لوگ استقبال کمیٹی کے مرکزی اسٹاف میں ہونے چاہیے جو انقلاب سے وفادار تحریکوں اور نہضتوں کے نمائندے ہوں۔ مجاہد علماء کی طرف سے شہید محلاتی اور شہید مفتح، قومی محاذ کی طرف سے مرحوم شاہ حسینی، تحریک آزادی کی طرف سے مہند س صباغیان، اسلامی مشاورتی کمیٹی کی طرف سے حاج اسد اللہ بادامچیان، اسلامی ٹیچرز سوسائٹی کی طرف سے بندہ استقبال کمیٹی کے اسٹاف میں شامل تھے۔ شروع میں طے پایا کہ میری جگہ شہید رجائی کو ہونا چاہیے، لیکن میرے پاس وہاں (رفاہ اسکول)  کے منیجر کا عہدہ تھا اور میں وہاں کے حالات سے واقف تھا، اسی وجہ سے انھوں نے قبول نہیں کیا  اور کہا کہ آپ کی واقفیت مددگار ثابت ہوگی۔ مرحوم تہرانچی اور ڈاکٹر کاظم سامی بھی تھے۔ اس مرکزی اسٹاف کی ذمہ داری یہ تھی  امام خمینی کے ائیرپورٹ سے رفاہ اسکول آنے تک کے مقدمات کو فراہم کرے۔  امام کی رائے یہ تھی کہ میں پہلے بہشت زہرا جاؤں گا  اور شہداء سے عہدو پیمان کروں گا ، اُنہیں یاد کروں گا  پھر اُس کے بعد اپنی قیام کی جگہ پر آؤں گا۔ انقلاب کے حساس ترین لمحات تھے۔ ابھی ساواک، فوج اور شاہ کے حواری موجود تھے ۔امنیت کے حوالے سے بہت حساس حالات تھے۔ ہماری ذمہ داری تھی کہ لمحہ بہ لمحہ امام کے ساتھ رہیں۔ اس طرح منصوبہ بندی کریں کہ جب امام آئیں تو کون امام کو ہوائی جہاز سے نیچے لیکر آئے، تمام گروپس کے نمائندے ایئرپورٹ پر موجود ہوں، جو مقالہ امام کے سامنے پڑھا جانا تھا ، اُسے انتخاب کرنا تھا و ۔۔۔ استقبال کمیٹی کے مرکزی اسٹاف میں، شہید مطہری شورائے انقلاب اور اس اسٹاف کے اراکین سے رابطہ کرنے والے تھے۔ انھوں نے ہماری تمام نشستوں میں شرکت کی اور سب سے پہلا انقلابی ادارہ رفاہ اسکول میں تشکیل پایا۔

جب یہ اسٹاف تکمیل ہوگیا، اس کے اداری کام مجھے سونپ دیئے گئے۔ میرے ذمہ لگایا گیا کہ میں ایک چارٹ بناؤں اور انتظامی امور سنبھالنے والے افراد کو معین کروں۔ میں اُس جلسے سے سیدھا مدرسہ گیا اور اپنی ٹیبل پر بیٹھ کر وہ چارٹ بنایا: استقبال کمیٹی کا مرکزی اسٹاف، تبلیغات کمیٹی، اشاعت کمیٹی وغیرہ اور ہمیں ایسے افراد کا بھی انتخاب کرنا تھا کہ جنہیں میں سالوں سے پہچانتا تھا  اور جن پر کوئی شک نہیں تھاتاکہ ایسا نہ ہو کہ ساواک اور بیرونی عوامل نفوذ کرجائیں۔ ہم نے آہستہ آہستہ لوگوں  کواپنے کام پر لگا دیااور کمیٹی نے اپنا کام فروری ۱۹۷۸ سے شروع کردیا۔ آہستہ آہستہ قوم بھی اس موضوع سے آگاہ ہوگئی کہ طے پایا ہے کہ امام رفاہ اسکول میں استقبال کمیٹی کے دفتر میں آئیں گے۔ ہمارے پاس وسائل موجود نہیں تھے، لیکن جب ہم نے اعلان کیا، علاقے کے برق ادارے کی گاڑیاں وارئر لیس کے ساتھ ہمارے اختیار میں آگئیں۔ ہمیں ٹیلی فون کی ضرورت تھی کہ پڑوسی دیدیتے تھے یا ٹیلی فون کمپنی انقلابیوں کے اختیار میں دیدیتی تھی۔  ہم نے تصویر اور وڈیو بنانے کی اجازت نہیں دی تھی، چونکہ ابھی تک پہلوی حکومت حاکم تھی اور بہت کنٹرول کر رہی تھی کہ علماء، مراجع اور انقلابی آتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں۔

بالآخر امام کی پرواز آگئی اور امام ایئرپورٹ میں داخل ہوئے۔ ہم نے شہید مطہری کے توسط سے امام سے درخواست کی کہ وہ بہشت زہرا نہ جائیں، وہاں خطرہ ہے۔ آپ سیدھے اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر آجائیں، لیکن امام خمینی نہیں مانے۔ ہمارے پاس فوجی سہولیات نہیں تھیں، قوم کے پاس بھی نہیں تھیں، بعد میں حکومت سے اسلحہ لیا گیا تھا۔ دنیا میں رونما ہونے والا یہ عظیم انقلاب، فقط ایک عالم دین کی رہبر ی اور ایک  قوم کے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے سے تشکیل پایا کہ جس کے پاس اسلحہ اور فوجی سہولیات نہیں تھیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو ایک قوم تھی، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک۔ امام آئے اور بہشت زہرا گئے۔ ہم نے کوشش کرکے امام کیلئے باڈی گارڈ تیار کر رکھے تھے۔ دس سے پندرہ افراد کہ جنہیں ہم پہچانتے تھے جو انقلابی تھے اور اُن کے پاس اسلحہ تھا، ہم نے انہیں امام کے باڈی گارڈ کے عنوان سے ڈھونڈا تھا۔ یہ افراد لاکھوں لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے صرف چند قدم امام کے ساتھ چل سکے اور جو واقعات رونما ہوئے، امام بہشت زہرا پہنچ گئے۔ ہم اسکول میں منتظر تھے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ کچھ زیادہ وقت لگ گیا، کیونکہ امام نے کہا ہوا تھا کہ  مجھے ہزار بیڈ والے ہسپتال بھی جانا چاہیے اور وہ لوگ جو زخمی ہوگئے تھے اور ہسپتال میں ایڈمٹ تھے، اُن کی عیادت کرنی ہے۔ لوگ بھی اسکول کے دروازے کے پیچھے جمع تھے اور شاہراہ بہارستان پر جمع غفیر لگ گیا تھا۔ جب امام ہزار بیڈ والے ہسپتال گئے، تو یہ بات لوگوں کے کانوں تک پہنچی تو وہ سوچنے لگے کہ شاید امام کےساتھ کوئی حادثہ پیش آگیا ہے ۔ وہ گریہ و زاری اور فریاد کر رہے تھے۔ میں اپنے ڈاکٹروں کی کمیٹی کے پاس گیا اور اُن کے انچارج سے کہا کہ وہ ہسپتال فون کرکے پوچھیں  کہ کیا ہوا ہے۔ ہم موضوع سے آگاہ ہوئے اور لوگوں کو بھی اطلاع دی۔ امام تھک گئے تھے اور وہ وہاں کے بعد اپنے کسی جاننے والے کے گھر چلے گئے  تھے۔

رات کے تقریباً ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔ ہم اور جو بھی استقبال کمیٹی میں تھے،  سب لوگ پریشان ہوگئے تھے کہ بالآخر امام نے گھنٹی بجائی اور اندر داخل ہوئے۔ ہم نے پہلے سے جو کمرہ تیار کیا ہوا تھا ہم امام کو وہاں لے گئے۔ ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ  ہم چاہتے ہیں امام ہمارے ساتھ بات چیت کریں۔ میں نے امام سے درخواست کی اور انھوں نے ہمارے لیے تقریر کی۔ جب امام وہاں ٹھہر گئے تو ہم نے امام سے پوچھا کہ آپ رات کے کھانے میں کیا پسند کریں گے؟ انھوں نے کہا: جو کھانا آپ لوگ کھائیں گے، میں بھی وہی کھاؤں گا۔ ہم نے ملکہ مسور کی دال اور کشمش کا پلاؤ بنایا ہوا تھا ، ہم نے وہی امام کے سامنے رکھ دیا۔ چونکہ میں استقبال کمیٹی  میں منصوبہ بندی کرنے کا انچارج تھا لہذا میرا کمرا امام خمینی کے کمرے کے بالکل سامنے تھا۔ آدھی رات کے وقت، ہم جاگ رہے تھے کہ امام نے وضو کیا اور نماز شب پڑھی اور صبح کو رفاہ اسکول میں امام کی اقتداءمیں پہلی نماز جماعت منعقد ہوئی۔ یہاں پر اب ہر چیز اپنے کمال پر پہنچ چکی تھی اور فضائیہ کے پائلٹ اور فوجی آنا چاہ رہے تھے  تاکہ امام سے بیعت کریں۔ رفاہ اسکول چھوٹا تھا۔ ہم نے اس بارے میں بات کی تو طے پایا اُسی شاہراہ پر موجود علوی اسکول میں امام کو منتقل کردیا جائے۔ شہید مطہری، احمد آقا ، حاج مہدی عراقی اور میرے لیے کسی کو اس مسئلہ کے بارے میں نہیں پتہ تھا۔ ہم نے امام سے بات کی کہ وہ اُس گاڑی کی طرف چلیں جو اُنہیں علوی اسکول تک پہنچانے کیلئے آئی ہے۔ صحن کے کونے میں دینی مدارس کے کچھ طلاب آئے ہوئے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ جناب احمد خمینی کوشش کر رہے تھے کہ وہ امام کو گاڑی کی طرف لے جائیں، لیکن امام نے طلباء کے نعروں کو سنا۔ انھوں نے حاج  احمد کو ایک طرف کیا اور کہا کہ میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ امام گئے اور کچھ منٹوں تک اُن سے بات کی اور کہا کہ ہم یہاں آئے ہیں کہ انشاء اللہ انقلاب اور اسلام کو کامیاب کریں۔ ہم اس لیے آئے ہیں تاکہ اپنی حد تک عدالت اور مساوات کا قائم کریں۔ میں بہت جلدی قم آؤں گا اور آپ لوگوں سے ملحق ہوجاؤں گا۔ اس کے بعد وہ علوی اسکول کی طرف چل پڑے۔

وہ ایام بہت ہی حساس ایام تھے۔ لوگ مسلسل ساواکیوں کو پکڑ پکڑ کر لا رہے تھے اور ہماری تحویل میں دے رہے تھے ، ہم ان لوگوں کو صحن میں رکھ رہے تھے۔ آہستہ آہستہ فوجی سربراہوں کو بھی پکڑنے لگے جنہوں نے لوگوں کو مارا تھا۔ اعلیٰ عہدیداروں کو ایک کلاس،  وزیروں کو ایک کلاس اور ساواکیوں کو صحن میں ڈال رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے ہاتھوں میں قلم پکڑا اور ان لوگوں کے کوائف لکھنے لگے۔ جب لوگ تھانوں کو قبضہ میں لے لیتے تو اسلحہ ہمارے پاس پہنچ جاتا۔  ۴ فروری والے دن امام نے حکومت کو معین کردیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم کا انتخاب ہوا۔  ہم جناب انجینئر بازرگان کو ایک کلاس میں لے گئے اور دروازے کے پیچھے لکھ دیا: "وزیر اعظم کا کمرہ"۔ اس میں ایک بہت ہی سادہ اور معمولی سے میز تھی۔ انھوں نے اپنا کام شروع کردیا اور تین وزیروں کا انتخاب کیا۔ ہم نے ایک کاغذ اٹھا کر اُس پر لکھ دیا: "وزیروں کا کمرہ" اور اسے کسی دوسرے کمرے کے دروازے پر چپکا دیا۔ چند وزراء آئے اور اس کمرے میں بیٹھ گئے۔ آپ دقت کریں کہ ہماری صورت حال ایسی تھی کہ ابھی معلوم نہیں تھا کہ کیا ماجرا پیش آئے گا؟ انقلاب کامیاب ہوگا یا نہیں؟ لیکن امام نے محکم اور اٹل فیصلے کے ساتھ وزیر اعظم کو معین کیا۔ عوام سڑکوں سے بھر بھر کر اسلحہ لاکر ہماری تحویل میں دے رہی تھی۔ آہستہ آہستہ وہ اسکول جو امام کے ٹھہرنے کی جگہ تھی، وہ پہلوی حکومت کے حواریوں کے زندان اور انقلاب کے اسلحہ خانہ میں تبدیل ہوگیا۔ عوام اسی طرح اسلحہ لاکر ایک کے اوپر ایک رکھ رہی تھی، اس طرح سے کہ چھت تک جی تھری ایک کے اوپر ایک انبار لگ گئی؛ زندانی بھی اسی طرح سے۔ ایک دن ہم نے ملاحظہ کیا کہ ہویدا کو ایک چوہے کی طرح پکڑ کر لائے ہیں اور ہماری تحویل میں دیتے ہیں۔ ہویدا تہران کے کسی باغ میں تھا جہاں سے اُسے پکڑ کر لائے تھے۔ چونکہ وہ وزیر اعظم تھا ،  اس لیے ہم اُسے دوسرے زندانیوں کے ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے کہ وہ ایک ساتھ مل کر کوئی سازش کریں۔ اسی وجہ سے ہم نے اُسے ایک الگ کمرے میں رکھا۔ اُس نے ہم سے پوچھا کہ مجھے کس وجہ سے پکڑا ہے؟ میں نے کہا: کیا تمہیں نہیں پتہ؟! انقلاب آگیا ہے۔

آہستہ آہستہ وہاں موجود کمروں میں سے ایک دھماکہ خیز مواد کا کمرہ بن گیا۔ ہمیں نہیں پتہ تھا لیکن بعد میں ایک تجربہ کار  نے آکر بتایا کہ اگر انہیں ایک لات بھی لگ جائے تو یہ پوری عمارت کو ہوا میں اڑا دیں گے۔ لوگوں کو پتہ تھا کہ یہ استقبال کمیٹی اور انقلاب کے مرکز کی جگہ ہے، وہ آتے تھے اور کہتے تھے ہم نے فلاں تھانے کو حاصل کرلیا ہے، آپ ہمیں حکم دیں تاکہ ہم وہاں جاکر اُسے اپنے قبضہ میں لے لیں۔ ہماری پاس لوگوں کو پہچاننے کیلئے کوئی خاص مشینیں نہیں تھیں، اسی وجہ سے ہم کاغذ پر ان کے ناموں کو لکھ کر اُن سے دستخط کروالیتے تھے کہ وہ جاکر اُس تھانے کو اپنے اختیار میں لے لیں۔ وہ امام خمینی کی استقبال کمیٹی کے اس دستور پر جاکر اپنا وظیفہ انجام دیتے تھے۔ استقبال کمیٹی کے انہی دستورات کی وجہ سے تہران کی اکثر جگہیں لوگوں کے اختیار میں آگئیں؛ یہاں تک کہ ۱۱ فروری کو انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا اور وزراء کا وفد وزیر اعظم کے پاس گیا، تمام جیل انقلاب کے اختیار میں آگئے اور تمام اسلحہ فوجی اور نظامی مراکز منتقل ہوگیا۔ انقلاب کے زمانے کا یہ دورہ مخفی رہ گیا ہے، کیونکہ اس کی وڈیو نہیں بنائی جاسکتی تھی۔ اگر مختصر طور پر کوئی وڈیو بنی بھی ہے تو معلوم نہیں کہ وہ کہاں چلی گئی؟ انقلاب اسلامی کے مرکز اسناد نے میرا انٹرویو لیا  تھا اور وہاں پر کچھ اسناد و مدارک ثبت ہوئے ہیں۔ کچھ سندوں کی اشاعت بھی ہوئی ہے، لیکن صرف یہ دورہ انقلاب کا ایک حصہ ہے کہ اس پر اور زیادہ کام ہونا چاہیے۔ میری باتیں ۲۱ جنوری سے لیکر ۲۲ فروری ۱۹۷۹ء تک ہونے والے واقعات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔"

جاری ہے



 
صارفین کی تعداد: 489


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تیسری قسط

میں ان لوگوں کے جہل اور لا علمی کو ثابت کرنے کیلئے ایک مضحکہ خیز واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ صدام نے ایک بند کو معنی کے لحاظ سے برعکس پڑھا۔ اس دفعہ بھی حاضرین نے ایک آواز میں کہا: " جی جناب، ہم متفق ہیں! " البتہ صدام کو ہوش آگیا اور اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کرلی۔

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔