ایران کی سرزمین کو امریکی مفادات کا ٹھکانہ بنانے کی مخالفت


2017-09-26


 

۳۰ اپریل ۱۹۶۲ء کو جب محمد رضا پہلوی اپنی بیگم کے ساتھ لندن میں قائم  پہلوی حکومت کے سفارت خانہ کے لئے روانہ ہوا،اور وہ جب وہاں پہنچا تو اسے حکومت مخالف جوان طالب علموں کا سامنا کرنا پڑا جو جو سفارت کو گھیرے میں لئے ہوئے مظاہرہ کر رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ درحقیقت وہ سب پہلوی حکومت کی طرف سے ایران کو امریکی مفادات کا اڈا بنانے کے مخالف تھے اور اسی بات پر اعتراض کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ ایران میں ڈکٹیٹر شپ (فوجی حکومت) کا وجود، پارلیمنٹ کی تعطیل اور ایک عوامی حکومت کے خلاف سازش، یہ سب وہ امور تھے جن پر مظاہرین نالاں تھے اور شاہ کو سر زنش کر رہے تھے۔ ان سخت مظاہروں کے نتیجے میں ایرانی سفارت نے طلاب کے نمائندوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ان کے لئے اپنے دروازے بند کردیئے۔


15khordad42.ir
 
صارفین کی تعداد: 53


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
جنوبی محاذ پر ہونے والے آپریشنز اور سردار عروج کا

مربیوں کی بٹالین نے گتھیوں کو سلجھا دیا

سردار خسرو عروج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کے سینئر مشیر، جنہوں نے اپنے آبائی شہر میں جنگ کو شروع ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل کیپٹن سعید کیوان شکوہی "شہید صفری" آپریشن کے بارے میں بتاتے ہیں

وہ یادگار لمحات جب رینجرز نے دشمن کے آئل ٹرمینلز کو تباہ کردیا

میں بیٹھا ہوا تھا کہ کانوں میں ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔ فیوز کھینچنے کا کام شروع ہوا۔ ہم ہیلی کاپٹر تک پہنچے۔ ہیلی کاپٹر اُڑنے کے تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا اور یہ قلعہ بھی بھڑک اٹھا۔