ایران کی سرزمین کو امریکی مفادات کا ٹھکانہ بنانے کی مخالفت


2017-09-26


 

۳۰ اپریل ۱۹۶۲ء کو جب محمد رضا پہلوی اپنی بیگم کے ساتھ لندن میں قائم  پہلوی حکومت کے سفارت خانہ کے لئے روانہ ہوا،اور وہ جب وہاں پہنچا تو اسے حکومت مخالف جوان طالب علموں کا سامنا کرنا پڑا جو جو سفارت کو گھیرے میں لئے ہوئے مظاہرہ کر رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ درحقیقت وہ سب پہلوی حکومت کی طرف سے ایران کو امریکی مفادات کا اڈا بنانے کے مخالف تھے اور اسی بات پر اعتراض کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ ایران میں ڈکٹیٹر شپ (فوجی حکومت) کا وجود، پارلیمنٹ کی تعطیل اور ایک عوامی حکومت کے خلاف سازش، یہ سب وہ امور تھے جن پر مظاہرین نالاں تھے اور شاہ کو سر زنش کر رہے تھے۔ ان سخت مظاہروں کے نتیجے میں ایرانی سفارت نے طلاب کے نمائندوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ان کے لئے اپنے دروازے بند کردیئے۔



 
صارفین کی تعداد: 508


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں