مشہد کی حیثیت و اہمیت

پروفیسر لطفی کے انٹرویو سے چند اقتباسات

رحیم روح بخش
مترجم: سیدہ افشین زہرا

2015-09-15


تعارف:

پروفیسر نقی لطفی،مشہد کی فردوسی یونیورسٹی کے تاریخ کے ڈیپارٹمنٹ کے سابق پروفیسر ہیں، سال 1393 کے آذر مہینے میں،تاریخ شفاہی کے 186 اور 187 ہفتہ نامہ کیلئے دیئے گئے انٹرویو میں اسطرح بیان کرتے ہیں ؛میں مشہد کی درسگاہوں کو بہت اہمیت دیتا ہوں اور اپنے نقطہ نظر کے مطابق یہ کہہ سکتا ہوں کہ شریعتی نے مشہد سے آغاز کیا،تہران گئے اور ملک میں اپنا مقام بنا کر انقلاب کا نظریہ پیش کرنے والوں میں شامل ہوگئے۔

یہی وجہ کہ میں کہتاہوں کہ اس طرح فکر کا آغاز مشہد سے ہوا اور یقیناَ خراسان ماضی میں بھی اہمیت کا حامل تھا، پروفیسر نے اسی حوالے سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا: انقلاب کا آغاز مشہد سے ہوا کہ میں وہ ولولہ اور سوچ جو اس وقت مشہد میں تھی کسی دوسرے شہر میں ملاحظہ نہیں کرتا ہوں۔ البتہ قم جو کہ مذہبی حوالے اور مراجع عظام کی موجودگی کے باعث  ایک اتھارٹی تھا۔ لیکن پھر بھی حکومت کو بدلنے اور نئی حکومت کے قیام کا خیال مشہد سے ہی ابھرا، جس کے بعد کچھ گوریلا تنظیمیں بھی ابھریں آپ جب اس شہر پر تحقیق کرتے ہیں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حقائق کو پھیلانے کا کام استاد محمد تقی شریعتی (جوکہ ڈاکٹر شریعتی کے والد نہیں ہیں) کے توسط سے صرف مشہد میں ہی شروع ہوا ہے جس کے بعد انقلابی اور بنیاد پرست تنظیموں کی تشکیل بھی صرف مشہد ہی میں نظر آئی کہ انہی تنظیموں میں سے کچھ گوریلا گروپس بنے لہذا اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ سیاسی تبدیلی کی سوچ اور انقلاب کی کوشش شہر مشہد سے شروع ہوئیں اور استاد شریعتی کے توسط سے تشیع،صفوی اور اسلامی حکومت کے بارے میں دئے گئے لیکچرز باعث بنے کہ لوگوں کے ذہنوں میں شعور اجاگر ہوا کیونکہ ابتداء میں پہلے فکر اور سوچ جنم لیتی ہے اس کے بعد ہی انقلاب اور آئیڈیالوجی کا قیام عمل میں آتا ہے۔ بالکل اسی طرح شریعتی نے اسلامی حکومت کی سوچ پیدا کی اور موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو آئیڈیالوجی میں تبدیل کردیا۔ دراصل یہ عمل مشہد کی اکیڈمیوں اور مراکز سے شروع ہوا اور اطراف سےشہروں میں پھیل گیا۔اس طرح کہ تہران،تبریز اور دوسرے شہروں میں بھی یہ موضوع ، عام ہوگیا اور مارکسیزم اور حکومت اسلامی کا موازنہ کیا جانے لگا۔

مندرجہ ذیل بیان میں، ایران کی موجودہ تاریخ میں،خراسان کا مذہبی قوتوں کے قیام میں کردار،کو واضح کرنا چاہوں گا کہ دراصل یہ اس سوال کا جواب بھی ہے کہ شہر مشہد،کس طرح اور کن صلاحیتوں کی بنیاد پر،انقلاب اسلامی ایران کی تحریک میں ایک اہم اور قائدانہ کردار ادا کرسکا؟

 

مقدمہ:

مذہبی قوتوں نے ہمیشہ،ایران کے سیاسی توازن کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایران کی اس انقلابی تحریک اور سیاسی جنگ میں شاید ہی کوئی حصہ یا واقعہ، ہو جہاں یہ قوت کم رنگ نظر آئے۔ انقلاب ایران، نجف کے مراجع، اور تہران اور ایران کے مختلف شہروں میں موجود علماء کی رہبری میں آگے بڑھ رہا تھا،مرجعیت کا وجود اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے تاکہ عوام کیلئے اسلامی شریعت کے عین مطابق،راستے کو معین کرسکے۔

اس بنیاد پر اس مقالے میں ایران کی بالخصوص مشہد(خراسان) کی مذہبی طاقت کی صلاحیتوں پر مختصراَ اشارہ کیا جارہا ہے ۔کہ اس طاقت پر تحقیق اس کے کردار،تنوع،صلاحیتوں اور مشہد میں اسکی حیثیت کا جائزہ دراصل اس کے احیاء کے مترادف ہوگا۔

 

سماجی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مذہبی قوتوں کا کردار:

اگرچہ کئی سالوں کے بعد بھی ۲۰ شہریور،اتحادیوں کی وجہ سے عوام کیلئے ایک مشکل سال تھا، لیکن محمد رضا شاہ کی حکومت کے شروع کے سالوں نے سیاسی طور پر حالات کو بہت حد تک نارمل کردیا تھا کہ جس کے باعث یہ موقع فراہم ہوگیا کہ مختلف عناصر خصوصا مذہبی قوتیں سیاسی میدان میں قدم رکھیں اور منظم سرگرمیوں کا آغاز کریں یہ سرگرمیاں، عام طور پر اسکولوں کا دوبارہ کھلنا، مذہبی گروہوں کی تشکیل،طباعت ،مذہبی مواد کی نشرواشاعت اور سب سے بڑھ کر وسیع مذہبی اور سیاسی نیٹ ورک کی تشکیل وغیرہ تھیں۔ یہ اقدامات آہستہ آہستہ شاہ کی سوچ اور حکومت کے مقابل آن کھڑے ہوئے اور اسی طرح کمیونزم، خرافات ،بہایت ،پسماندہ سوچ اور اس سے ملتے جلتے فرقوں سے آن ٹکرائے۔ جبکہ نچلی سطح پر، خواتین کی بے پردگی کے خلاف جدوجہد، شراب خوری، جوا اور اسی طرح کے دوسرے اقدامات بھی انجام پائے، جبکہ یہ اقدامات ہی باعث بنے کہ بنیادی قانون کے اجراء کی اسمبلی میں، پانچ مجتھدین کی موجودگی کی درخواست دائر کردی گئی جوکہ مذہبی تنظیموں کے اتحاد کا سبب بنا اور اسکی صلاحیتوں اور کارکردگی سے فائدہ اٹھانا اور بھی آسان ہوگیا، کہ ان صلاحیتوں اور کارکردگی کا اندازہ مندرجہ ذیل نکات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

 

1.نفاذ شریعت۔ مذہبی قوتوں کی اولین ترجیح :

اس قوت کی سب سے اہم اور جداگانہ خصوصیت جو اس کو تمام گروہوں سے جدا کرتی ہے وہ اسلامی احکام کے اجراء کے لئے کوشش کرنا، جس کے لئے اس تنظیم نے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لایا کیونکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب بہت سارے اسلامی شعائر اور رسومات کو خرافات اور پرانی رسومات کہا جارہا تھا۔ اور بہت ساری اسلامی رسومات جیسے عزاداری مجالس مصائب حرم (روضے) اور جلوسوں پر پابندی لگائی جارہی تھی اس صورتحال سے نپٹنے کیلئے اس مذہبی قوت نے ردعمل کے طور پر تقاریر،انٹرویوز، اعلانات اور اطلاعات کا سہارا لیا اور پابندی کی صورت میں خفیہ کتابچے تقسیم کئے، اور اس حملے کا بھرپور جواب دینے کیلئے مذہبی فورسز کا قیام عمل میں لایا گیا اور صاف ظاہر ہے کہ یہ عمل اس مذہبی قوت کو معاشرے کے مختلف شعبوں جیسے، اجتماعی، ثقافتی، سیاسی حتٰی اقتصادی شعبوں میں مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔

 

2.اثرورسوخ:

ان تنظیموں اور فورسز کے بہت سے دستے، اتنے اثرو رسوخ کے مالک تھے کہ سیاسی بحران اور حکومت کے عروج و زوال کے موقعوں پر بھی نہ لرزے اور مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنا اور زاہدی کی حکومت کا قیام بھی ان پر کوئی اثر نہ ڈال سکا بلکہ ان تمام حالات میں ان مذہبی قوتوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو کم کرکے، ثقافتی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دی۔ اور یہ امر باعث بنا کہ جب تیسری دہائی حتی 28 مرداد 32 کی بغاوت کے باوجود، یہ قوت آگے بڑھی اور 40 کی دہائی میں علماء کی تحریک کا حصہ بن گئی۔

 

3.سرگرمیوں کا جغرافیائی دائرہ کار:

ایران کی تاریخ کی 20 سے 30 دہائیوں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ مشہد تہران اور دوسرے شہروں میں دسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں مذہبی گروہوں کی تشکیل ہوئی جس نے معاشرے کے اجتماعی سیاسی اور ثقافتی ڈھنگ کو بدل کر رکھ دیا لیکن اس دور میں بہائیوں اور کمیونزم کی تحریکوں نے بھی زور پکڑا اور مغرب پسندانہ سوچ نے پھر سر اٹھایا۔ ۔ ۔ بے حجابی ،شراب خوری، شراب بنانے والی فیکٹریوں کا قیام اور سب سے بڑھ کر ملک کے مختلف حصوں میں ان کا نفوذ اور مہم کا آغاز، ایسے عوام تھے جو نظرانداز نہیں کئے جاسکتے، مگر ان مذہبی قوتوں نے ان تمام عوام کے باوجود ملک کے مختلف شہروں میں اپنے مراکز قائم کئے جیسا کہ تہران میں بھی برجستہ شخصیات اور اہم لوگوں کے ساتھ مل کر ایک نیٹ ورک بنایا جیسے تہران میں شیخ عباس علی معروف مبلغ اور جامعہ تعلیمات اسلامی کے بانی، عطاءاللہ شہاب پور مجلہ نور دانش کے مدیر اور انجمن تبلیغات اسلامی کے بانی، نور ربانی ھفتہ نامہ آیین اسلام کے مدیر حاج سراج انصاری اتحاد مسلمین کے رکن اور دیگر لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ جس کے باعث مسجدوں مجلوں، دینی مدرسوں حتٰی کہ تہران کے بازاروں میں بھی ایک ہی پیغام نشر ہوا اور اس طرح ان کے حامیوں اور عوامی طاقت میں اضافہ ہوا ایسی ہی سرگرمیاں مختلف شہروں جیسے اصفہان، کاسان کرمانشاہ وغیرہ میں بھی اسلام کی سیاسی اور اجتماعی فکر کو اجاگر کیا گیا۔

 

پیغام رسانی کا نیٹ ورک:

جب ان سرگرمیوں پر نظر ڈالو تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ایک مضبوط پیغام رسانی کا نیٹ ورک بھی قائم تھا۔ اور کسی غیر معمولی واقعے یا سازش جیسے بے حجابی یا شراب کے واقع کے رونما ہونے پر پورے ملک میں اس کا ردعمل ظاہر ہوتا تھا اور یہ سب بالک ان چھوٹی ندیوں کی مانند تھا جو مختلف راستوں سے تو گزرتی ہیں مگر ایک جگہ اور ایک ہی دریا میں آن گرتی ہیں بالکل اسی طرح یہ سرگرمیان مقامی، علاقائی اور جغرافیائی اعتبار سے انجام پائیں مگر پیغام ایک ہی ہوتا ہے۔

اس زمانے میں کہ جب اخبارات اور میڈیا حکومت کے زیردست تھا، مذہبی نشرواشاعت جیسے آئین اسلام، پر چم اسلام اسلامی دنیا نوردانش حتی اطلاعاتی اخبار، اس گروہ کا سب سے وسیع نیٹ ورک سمجھے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ مختلف ریلیوں، اجتماعات اعتراضات، اعلانات اور بیانات کیلئے ٹیگراف استعمال کیا جاتا تھا۔

 

مشہد کی مذہبی قوتوں کی سرگرمیاں

ان تمام باتوں کو بیان کرنے کے بعد بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مشہد، شہر اپنی سماجی کارکردگی کی وجہ سے خاص اہمیت کا حامل تھا درحقیقت چاروں مذکورہ قابلیتوں کو مشہد کی مذہبی قوت کی سرگرمیوں کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے دوسرے شہروں کی طرح، شہریور 1320 میں رضا شاہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مشہد میں بھی کئی نئے مذہبی گروہوں نے جنم لیا۔ مسجد گوہر شاد کی بغاوت 1314، کیوجہ سے مشہد کے علمی مدارس کو کئی نقصانات اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا اور اسکے اساتیذ یا تو خانہ نشین ہوگئے یا ملک بدر کردئے گئے، اور دینی مدارس حکومت کے حوالے کردئے گئے، جس کے بعد شہر مشہد کافی عرصے تک اپنا مقام حاصل نہ کرسکا اور نہ ہی ان مذہبی گروہوں کی قیادت کے قابل بن سکا، مدارس یونیورسٹی سیاسی گروپس، مذہبی مفکرین میں سے ہر ایک نے اس شہر پر اپنا تاثر چھوڑا انہی میں سے ایک ؛اسلامی حقائق کی نشرواشاعت؛ کی تنظیم بھی ہے مگر یہ بات اہم ہے کہ ان گروہوں کی تشکیل اور سرگرمیوں کا آغاز مشہد سے ہی ہوا جبکہ ۲۰ کی دہائی کے آغاز میں بھی طاقتور ترین رجحان کمیونزم ہی تھا جسکی وجہ یہ تھی کہ خراسان کے اردگر کے علاقے بھی کمیونزم کے حامی تھے اور اسکی ترویج میں معاون بھی تھے۔ جسکے باعث شروع چند سالوں میں اس نظریے نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف مائل کرلیا جیسا کہ نقل کیا جاتا ہے کہ 1322 آخر میں مشہد میں ان کا نفوذ اس حد تک تھا کہ آیت اللہ حاج حسین قمی نے مسجد گوہر شاد کی بغاوت کے بعد ہی دوبارہ عراق روانہ ہوگئے۔

مشہد کی مذہبی قوتوں کے حوالے سے چند سرگرمیاں درج ذیل ہیں۔

 

1.مشہد کی مذہبی قوت کی تحریک کا سبب،مختلف تنظیموں کا وجود:

بغور مطالعہ کریں تو معلوم چلتا ہے کہ مختلف تنظیموں کا وجود اور ان کی ترجیحات نہ صرف مشہد کی مذہبی طاقت کیلئے بلکہ حکومتی اداروں کیلئے بھی مشکل سازتھا،یہ وجہ باعث بنی کہ انہوں نے اسکے سدباب کیلئے مشہد کے علمی مدارس کو دوبارہ کھولنا شروع کردیا وہ مدارس جو گوہرشاد بغاوت کے بعد بند کردئے گئے تھے آیت اللہ مرزااحمدکفائی کی تدبیر سے دوبارہ آباد ہونا شروع ہوگئے مگر یہ ناکافی تھا اور ضروری تھا کہ اب یہ مدارس سیاست کے میدان میں قدم رکھیں تاکہ ان تنظیموں کا مقابلہ کرسکیں اسکے لئے حکومت کی حمایت سے دسیوں بلکہ سینکڑوں مذہبی جماعتوں کا وجود قیام عمل میں لایا گیا۔ جسکے نتیجے میں یہ دونوں عناصر کئی ریلیوں، احتجاجوں اور جلسوں میں ایک دوسرے کےمقابل ہوئے۔ جسکا فائدہ حکومت کوتو ہوا مگر مذہبی گروہوں کو اسکے نتیجے میں استحکام مل گیا۔

لیکن یہ ساتھ زیادہ خوش آئند ثابت نہ ہو کیونکہ اسطرح مدرسوں کی آزادی سلب ہوگئی اور کچھ عرصے میں ایجنسیوں اور دوسرے عوامل رخنہ اندازی کے باعث ان تنظیموں کی باہمی ہم آہنگی آہستہ آہستہ کم ہوگئی۔ یہاں تک کہ ان کے قائدوں نے تاریخ کے اہم موڑ پر جب 28 مرداد 32 اور 15 خرداد 42 کا واقعہ رونما ہوا۔یہ سیکورٹی اور انتظامی امور میں دباؤ کاباعث بنیں۔

 

اسلامی حقائق کی نشرواشاعت، مذہبی قوتوں کا نیا نقطہ نظر:

ان حالات میں کچھ ترقی پسند مذہبی قوتوں نے آزاد اداروں کے قیام پر زور دیا پروفیسر محمد تقی شریعتی کو اس نقطہ نظرکا علمبردار سمجھا جاتا ہے گرچہ پروفیسر کی ترجیحات میں سے ایک، تنظیموں سے نبرد آزما ہونا تھا مگر حقائق اسلامی کی نشرواشاعت کی تشکیل بھی دوسرے مذہبی واقعات کی طرح ایک سنگ میل ثابت ہوئی کہ تیل کی آمدنی ملک میں استعمال ہونے کا،بغاوت میں ملت کے تحفظ اور بعد میں ایران کی آزادی کی تحریک کا حصہ بن گئی اسکے ساتھ اس نے خرافات کا بھی مقابلہ کیا اور مشہد میں پروفیسر کے فرمان کے مطابق جلوس میں یونیورسٹی کے طلباء نے سیاسی نعروں اور امام حسیؑن کے سیاسی فرمودات پر مبنی بینرز اور پوسٹرز کو اٹھایا(1)اور ساتھ ساتھ آرٹیکل شائع کیا گیا جسکا پیغام تھا اسلام توحید پرست مذہب، مذہب اخلاق، مذہب کامل اور ایک اجتماعی مذہب ہے جو ہر طرح کے شرک اور بت پرستی، نفاق جاہ طلبی اور بے مقصدیت کے خلاف ہے۔

اس طرح کے ایک اور اشاعت میں بھی واضح کیا گیا کہ دین سے بیس سال غافل رہنے کے بعد،ہر مذہبی عقیدے و دستورات اسلامی سے غافل(شاہ کے دور میں) رہنے اور دشمن کی چوٹ کھانے کے بعد ہم اپنے ملک اور اپنی قوم کو اسلامی تمدن کی یاد دلائیں گے اور اسکو اپنے اسلامی تمدن کی طرف واپس پلٹانا ہی ہمارا مشن ہے۔

 

مشہد،عالمی نظریات کی آماجگاہ:

یہ ایک فطری بات ہے کہ مشہد ایک زیارتی شہرہونے کیوجہ سے سیاسی پابندیوں کی عدم موجودگی میں، جلد ہی مذہبی گروہوں کا مرکز بن سکتا ہے۔

حرم امام رضاؑ، آستانہ رضوی کا قیام، علمی مدارس، سکھانے کی محافل و مراکز، سراجع تقلید، علماء کے خاندان، اردگرد کے لوگوں کی دلچسپی دین کے بارے میں جدید فکر، اور دیگر دسیوں عامل باعث بنے کہ مشہد مذہبی قوتوں کی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن گیا جیسا کہ بتایاجاتا ہے کہ 1327 میں مشہد میں 80 مذہبی انجمن فعال تھیں اور غالباَ جدوجہد کے مشترک مقاصد کیوجہ سے ایک دوسرے کی حامی تھیں

البتہ کچھ لوگ جیسے مرزامہدی اصفہانی کہ ان کے شاگرد آیت اللہ شیخ مجتبی قزوینی اور اس طرح کے دیگر فلسفی ،آیت اللہ میلانی کے نئے نقطہ نظر کے مقابلے میں کھڑے بھی ہوئے۔ مگراسکے ساتھ ساتھ طاہراحمد زادہ اور اسکی اولادوں کی کوششوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کا کردار 40 کی دہائی میں بہت اہم تھا اسکے علاوہ مختلف دیگر فکری واقعات جیسے ڈاکٹرعلی شریعتی اوران کے شاگردوں کی کوششیں اور دیگر گروہ بھی مشہد میں ہی وجود میں آئے جنکی قیادت امام خمینی کے منتخب کردہ مبلغین اور علماء ہی کررہے تھے۔

دوسرے پہلوی کی حکومت کے زمانے میں بھی بعض دوسرے اہم گروہوں کی سرگرمیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ انجمن پیروان قرآن نے اہم کردار ادا کیا اوراپنے بیانات اور اعلانات کے ذریعے علماء کی تائید کی جو کہ 1323 میں مرحوم حاج علی اصغرچراغچی نے جو کہ عابد زادہ کے نام سے معروف تھے بنائی تھی کہ اگر ان کا مختصر تعارف پیش کردیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ ایک دین دار انسان، زاہد، مذہبی مبلغ، دین کی ترویج کے داعی، پرعزم ہمت والے اور اپنے ارادوں میں پکے انسان تھے ان کے آثار کے طور پر مھدیہ بہت اہمیت کا حامل ہے اسکے علاوہ انہوں نے مشہد کی کئی تعمیرات کیں اور ان کو آئمہ اطہارؑ کے ناموں سے بھی منسوب کیا جیسے سلفی سڑک پر عسکریہ، امام رضاؑ کی سڑک پر نقویہ، خیابان طبرسی میں جوادیہ علہیا پر کاظمیہ،سفلی پر جعفریہ، امام رضا سڑک پر باقریہ،خواجہ ربیع پر سجادیہ، سراب کے بس اڈے پر حسینیہ، خیابان سفلی میں فاطمیہ، جنوبی خیابان مطھری میں علویہ اور دوار تعمیرات محمدیہ، رضویہ کے نام سے شروع کروائیں جوکہ ساواک کی پابندیوں کے باعث مکمل نہ ہوسکا۔ ان کا انداز یہ تھا کہ ہر معصوم کی ولادت و شہادت کو اس معصوم سے منسوب عمارت میں منعقد کرواتے ،ان کی تعمیرات میں سے مھدیہ زیادہ مشہور ہوااور آیت اللہ کاشانی کا مرکز بھی بنا۔ لہذا عابدزادہ۔ محمد تقی شریعتی اور دیگر قائدین تھے جنہوں نے مشہد سے مختلف مذہبی گروہوں اور بنیادوں کو استوار کیا اور سترہویں پارلیمانی انتخابات میں اتحاد کرکے؛اسلامی اتحادی تنظیم؛ بنانے میں کامیاب ہوئے۔

ان تمام متضاد، متنوع اور مختلاف سوچوں کی عکاسی کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس حوالے سے مشہد،کا مقابلہ ایران کا کوئی دوسرا شہر نہیں کرسکتا اور یہ دعوٰی بھی درست ہے کہ تمام فکری تحریکوں کا آغاز مشہد سے ہوا اور مشہد ہی ان کا مرکز اور بنیاد رہا جبکہ وہیں سے یہ تمام افکار ملک کے دوسرے شہروں تک گئے اورپورے ملک ایران میں پھیلے۔

        



 
صارفین کی تعداد: 1900


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔