عبداللہ صادقی کی یادداشتوں سے اقتباس

انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ
تلخیص و ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2022-05-25


ستمبر ۱۹۸۰ میں خرمشہر کے طالقانی محلہ میں ہم عراقی بکتر بند گاڑیوں سے نبرد آزما تھا۔ اس کام میں تیز رفتاری بہت اہم تھی۔ دیر سے عمل کرتے تو بکتر بند گاڑیوں پر نصب توپیں ہمیں نشانہ بناتیں۔ بعض اوقات گلیوں کے موڑ پر کمین لگا کر بیٹھ جاتا تاکہ عراقیوں کو سرپرائز دے سکوں۔ اسی طرح کی ایک کمین گاہ میں، گاڑی بند کر کے اس بات کا انتظار کررہا تھا کہ کہیں سے کوئی ٹینک آتا دکھائی دے۔ پاس ہی کی ایک گلی سے رونے کی آواز سنائی دی۔ ابھی تک شہر کے بعض رہائشی گھر چھوڑ کر نہیں گئے تھے۔ گاڑی اسٹارٹ کر کے آہستہ آہستہ گلی کے کونے پر آیا۔ وہ ایک بند گلی تھی۔ گاڑی ریورس کرکے گیا تاکہ کہیں ایسا نہ ہو مجھے ہی کوئی سرپرائز مل جائے۔ گھر کے پاس پہنچا۔ابھی میں گاڑی سے اتر کر گھر کا دروازہ بجانے ہی لگا تھا کہ گلی کے کونے سے بکتر بند گاڑی کے آنے کی آواز سنائی دی۔ میں گاڑی کی طرف بھاگا۔ اب فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ کیونکہ بند گلی تھی اور مجھے پہلے ہی راکٹ سے بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنانا تھا۔ گلی کے کونے پر بکتر بند گاڑی پہنچ چکی تھی۔ گھر میں سے لوگوں کے چیخنے چلانے کی آواز مزید بلند ہوئی۔ بکتر بند کی آواز انہوں نے سن لی تھی اور اب انہیں پہلے سے زیادہ ڈر لگ رہا تھا۔ مجھے نہیں معلوم بکتر بند میں موجود سپاہیوں نے ان کی آواز سن لی تھی یا مجھے دیکھ لیا تھا۔ بکتر بند گلی کے اندر داخل ہوئی۔ میں نے " یا ابوالفضل" کا نعرہ لگایا اور راکٹ چلا دیا۔ راکٹ بکتر بند پر جا کر لگا اور بکتر بند تباہ ہوگئی۔ اس میں سوار دو سپاہی آگ کی لپیٹ میں آکر کر پہلے تو بکتر بند سے باہر نکل کر کچھ قدم بھاگے پھر زمین پر گر گئے۔

اب یہ جگہ رکنے کے قابل نہیں تھی۔ یہ بکتر بند گاڑی دراصل عراقی ٹینکوں کی پٹرولنگ پر مامور تھی اور کچھ ہی دیر میں ٹینک پہنچنے والے تھے۔ گھر میں جو لوگ تھے مجھے ان کو جلد از جلد گھر سے نکالنا تھا۔ بوڑھے مرد اور وعرت تھے جن کے ساتھ انکا پوتا بھی تھا۔ میں نے کہا:

          ۔ اب رکنے کا بالکل وقت نہیں ہے، ہمیں چلنا چاہئیے۔

          ۔ہمارے پاس کوئی وسیلہ نہیں ہے، ورنہ ہم اب تک یہاں سے جا چکے ہوتے

          ۔ آپ لوگ سوار ہوں تاکہ میں خود آپ لوگوں کو پہنچا سکوں

ہم وہاں سے خرم شہر کے پل کی طرف نکلے۔ میں بہت تیز گاڑی چلا رہا تھا۔ ہمارے دونوں طرف لوگوں کی بڑی تعداد زمین پر گر رہی تھی۔ جو گولی بھی زمین پر آکر لگتی، عورتیں اور بچے چلانے لگ جاتے۔ پل کے پاس پہنچے۔ ہم سے آگے ایک گاڑی چل رہی تھی۔ ہمارا فاصلہ کم تھا اور میں گاڑی کے اندر دیکھ سکتا تھا۔ ایک فیملی تھی۔ پل پر اتنی گولیاں لگی تھیں جس کی وجہ سے سڑک پر گہرے گڑھے پڑ گئے تھے۔ اس لئے تیز نہیں چل سکتے تھے۔ اسی حالت میں گاڑی تیز رفتاری سے پل عبور کر گئی۔ ہمارے درمیان فاصلہ بڑھ گیا۔ میں زیر لب ذکر پڑھ رہا تھا تاکہ پل عبور کرکے اپنے مسافروں کو صحیح سالم پہنچا سکوں۔ اس طرف دیکھا اسی گاڑی میں آگ لگی ہوئی تھی۔ شاید کوئی راکٹ آکر لگا تھا۔ لوگ جل گئے تھے اور انکے لے کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اگر میں رکتا تو میری جان کو بھی خطرہ تھا۔ میں نے اسپیڈ بڑھائی اور آگے بڑھ گیا۔ یہاں نسبتا امن تھا۔ اترتے وقت بوڑھی خاتون اصرار کررہی تھیں کہ میرے ہاتھ چوم لیں۔ میں نے خداحافظ کہا اور امیونیشن کے ٹرک کی جانب بڑھا۔ توپ کے گولے گاڑی میں بھر کر شہر کی جانب چل پڑا۔

بیرک واپس پہنچ کر ایک ساتھی کو تلاش کرنے لگا۔ افرادی وقت کم تھی ۔ جو لوگ تھے وہ ایک ساتھ کئی کام انجام دے رہے تھے۔ میں اکیلا ہی تھا۔ کسی نے پوچھا: "حاج رضوی کو اپنے ساتھ کیوں نہیں لے جاتے؟" میں انہیں پہچانتا نہیں تھا۔ عالم دین تھے۔ خرمشہر آئے تھے تاکہ مدد کرسکیں۔ لیکن انہیں ٹینک اور اسلحہ چلانا نہیں آتا تھا۔ ڈر رہا تھا کہ کہیں حاج آقائے اراکی جیسا ماجرا نہ ہوجائے۔ اس لئے مجھے ڈر لگ رہا تھا۔ بہرحال ایک آدمی کا سات ہونا ضروری تھا۔ انہیں ڈھونڈا۔ عبا عمامہ نہیں اتارا میں نے پوچھا:

          ۔ آپ اسی لباس میں چل سکتے ہیں؟

          ۔ ہاں آرام دہ ہے

          ۔ بس عمامہ اتار دیں۔ سفید ہے۔ دور سے آسانی سے نظر آجائے گا تو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ پھر نہ آپ بچیں گے نہ میں نہ یہ یہ ٹینک۔ میری بات مان لی عمامہ اتار کر اپنے بیگ میں رکھ لیا۔

شہرک طالقانی کی سڑکوں پر ہم عراقیوں سے نبرد آزما تھے۔ سو میٹر کے فاصلے پر ایک مرسڈیز بنز ٹرک کھڑا تھا۔ اور ٹرک کے مالک کے گھر والے اس میں جلدی جلدی سامان بھر رہے تھے۔ وہ گھر کا سارا سامان بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔ بہت خطرناک تھا۔ لیکن انکا حق بنتا تھا۔ ہم اس طرف کھڑے عراقیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اتنی دیر میں ان لوگوں نے ترک پر سامان بھر لیا اور سوار ہوگئے۔ جیسے ہی ڈرائیور نے ٹرک اسٹارٹ کیا ایک راکٹ سیدھا آکر اس پر لگا اور ٹرک میں دیکھتے ہی دیکھتے آگ بھڑک اٹھی۔ ہم اس کی طرف بھاگے۔ ٹرک کے دروازے دھماکے کی وجہ پھنس گئے تھے اور کھل نہیں رہے تھے۔ ٹرک سامان اور مسافروں سمیت آگ میں جل رہا تھا۔ ہم ان کے چیخنے کی آواز سن رہے تھے، لیکن کچھ نہیں کر پائے۔

عراقی گھروں میں اور فلیٹوں میں گھس کر سامان چرا رہے تھے۔ جو چیز بھی اٹھا پارہے تھے اسے سروں پر رکھ کر خوشی سے نیچے لے کر آتے اور ٹینکوں میں رکھتے جاتے تھے۔ مجھ سے دیکھا نہیں گیا اور میں نے توپ سیٹ کر کے داغ دی۔ جب چند گولے داغے تو انہوں نے چوری کرنا چھوڑ دی۔ کچھ گھنٹوں بعد اہواز کی آرمرڈ بریگیڈ پہنچ گئی۔ ہم اسکے بعد عراقیوں کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوگئے۔

ا



 
صارفین کی تعداد: 339


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔