11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 9

 شہید مرتضیٰ سادہ میری
ترجمہ: ابوزہرا

2021-09-21


 پہلے دن  جب تین ہیلی کاپٹر زخمیوں کو پہنچانے کے لیے پہنچے ، بدقسمتی سے پائلٹوں کو لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی گٸی۔  ہم نے ان سے جوکچھ کہا، پر انہوں نے اترنے کی جگہ پر توجہ نہیں دی اور لائن عبور کی اور عراقیوں کے سروں پرپہنچ گئے۔  ان کو دیکھتے ہی عراقیوں نے  میزائلوں سے فائرنگ شروع کر دی جس کی وجہ سے ایک ہیلی کاپٹر گر گیا۔   اوردوسرا عراقی سرزمین پر باحفاظت اترا ، لیکن بظاہر مارا گیا اور واپس نہیں آ سکا۔  تیسرا ہیلی کاپٹر جائے وقوعہ سے نکلنے میں کامیاب رہا۔  ہم فوری طور پر اپنی ہی لائن سے عراقیوں کی طرف چلے گئے تاکہ دونوں ہیلی کاپٹروں کے پائلٹوں کی مدد کرسکیں۔


 اس علاقے میں ہمارے پائلٹوں کو ڈھونڈنے کے لیے چار عراقی ہیلی کاپٹروں نے اڑان بھرنے میں کچھ دیر نہیں کی تھی۔  ہم دو پتھروں کے نیچے چھپ گئے۔  وہ شناخت کرنے میں ناکام رہے اور واپس چلےگئے۔  ہم بھی واپس آگئے۔  اس رات ، دو ہیلی کاپٹر پائلٹ جو زمین پر بیٹھے تھے اپنی اپنی لائن تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ، لیکن دو دیگر پائلٹ جن کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا تھا شہید ہوگئے۔

 

 کاش میں زخمی جسم کے ساتھ نہ لوٹتا۔

 آپریشن نصر 4 کے دوران ، جس میں ہمارا یونٹ "جڑواں" اونچائی پر کام کرتا تھا ، آپریشن کے چند روز بعد ہمیں ہماری بٹالین نے دفاعی مشن دیا۔  ہمارے پیچھے اونچائی جو کہ اس بلندی کا حصہ تھی ، "مسلم ابن عقیل" بریگیڈ کےجوانوں کے ہاتھوں میں تھی۔  جڑواں پہاڑ  عراق کے لیے زیادہ حساسیت کی وجہ سے اہم تھے ، جس کی وجہ سے گامو ہائٹس سپلائی روٹ کو شدید خطرہ لاحق تھا۔  عراقیوں کی مسلسل فاٸرنگ  اور توپ خانے کے دباؤ نے ہمارے جانی نقصان کو بڑھا دیا تھا ، لیکن حکام کی رائے اور قدم کو برقرار رکھتے ہوئے ، ہم اگلی پلانگ کی جانب گٸےجو کہ  ایک سنگین خطرہ  گامو تھی۔  مزید برآں ، قریبی بیرکس، عراقی پوزیشن  کے زد میں تھی۔  جیسا کہ میں نے ایک دن دیکھا ، ایک نگہبان  نے "قشن" کی بلندی پر جانے والی سڑک پر فائرنگ کی اور 106 توپ کے ٹرک کو نشانہ بنایا۔  اس کی تباہی کے نتیجے میں اس کی گولوں کے پھٹنے سے چار دیگر گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔

 "جڑواں پہاڑ" عراقی لاشوں سے بھرے ہوئے تھے جو اس اونچائی کو دوبارہ حاصل کرنے میں مر گئے تھے۔  ان لاشوں کی بدبو نے جوانوں کو پریشان کررکھا تھا۔  ہر کوئی اپنی چپہ سے سر لپیٹ کر خندقوں کی حفاظت کر رہا تھا۔  دوسری طرف ، زمین کی شکل مناسب نہیں تھی اور بھاری توپوں کی فاٸرنگ نے مورچے بنانے کی اجازت نہیں دی۔سامان کی رسد بہت کم تھی جس نے مساٸل میں اضافہ کردیاتھا۔  پانی اور خوراک ہمارے پاس ہر 24 گھنٹے بعد آتا۔  چھ لوگوں کو 24 گھنٹوں کے لیے ایک "بالٹی" پانی ملااور ایسے ہی کھانا  تھا۔

 ایک شام تقریبا چھ بجے ، بٹالین کمانڈ اور دیگر کمپنیوں کے بہت سے جوان ، بشمول حاج قادری کے بھائی ، بٹالین کمانڈر ، ولی زادہ اور بیگی ، اکٹھے ہوئے۔  کسی خاص وجہ سے میں نے یہ نہیں سوچا کہ ہم سب کا یہاں اکٹھا ہونا درست ہے۔  میں نے کہا ، "آپ میں سے ایک کو اوپر والے جوانوں کے ہمراہ میرے ساتھ آنے دو۔"

 وہ ہم سے تقریبا 200 /200 میٹر دور تھے۔  عزیز راشدی کے بھائی اور میں کمپنی کے ریڈیو آپریٹر عزیز کوخائی کے ساتھ اونچائی پر چلے گئے۔  فضا مکمل طور پر تاریک تھی۔  وہاں پہنچ کر ہم نے چٹان پر آرام کیا۔  میں چند مارٹر گولوں کے پھٹنے کی آواز سے بیدار ہوا۔  میں نے دیکھا کہ تمام بلندیاں بھاری توپ خانے اور مارٹر فائر کی زد میں تھیں۔  میں نے کہا ، "لوگو ، یہ آگ آپریشن سے پہلے تیار کی گٸی ہے!"

 ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ ایک گروپ کے نائب صیدی کا بھائی آیا اور کہا کہ عراقیوں نے اسپاٸنر بیٹھاٸے ہوٸے ہیں اور بہت سے جوان مارے کچھ نے اپنی بیرکوں سے ہاتھ دھوڈالےوہ اب عراقیوں کے قبضے میں ہیں اور    "میں بھی موجی ہوگیا"

 جاری ہے



 
صارفین کی تعداد: 182


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 10

ہمیں اس کا احساس اس وقت ہوا جب عراقی "رسام"  گولی ہم پر تقریبا  چھ بجے پیچھے سے چلائی گئی۔  یعنی ہم مکمل محاصرے میں تھے

جیل میں حصول علم

اسی اثنا میں ایک اور قیدی جو چوری کے جرم میں گرفتار تھا اس نے اپنی گردن کے پاس سے سوئی نکالی جو شاید ہمیشہ ہی اس کے پاس رہتی تھی اور میری ہتھکڑیاں کھول دیں اور میں نے امتحان دینا شروع کردیا۔ جب وہ سپاہی چابی لے کر واپس لوٹا تب تک میں آدھا امتحان دے چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔