11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہدا کے کمانڈر کی یاداشت

هیلٹی۔ 2

شهید مرتضی ساده‌میری
ترجمہ: ابو زہرا

2021-08-02


شناساٸی کے دوسرے مرحلے  میں فوجی تجربہ

کچھ دن بعد مجھے دو دہنہ پل کی شناخت کے لئے کمانڈ کا حکم ملا،  چونکہ نادانستہ طور پر اس علاقے کی شناخت کا  پہلا مشن مکمل طور پر فاش ہوچکاتھا جسکی وجہ سے ہمیں زیادہ چوکنا رہناتھا۔
 راستے میں، ہم نے قریب دس عراقی دیکھے۔ انہوں نے ہماری طرف توجہ نہیں دی۔ کم از کم ہم نے ایسا ہی سوچا تھا۔  لیکن انہوں نے ہمیں دیکھا ان  کا مقصد صرف ہمیں دھوکہ دینا اور چھاونی تک  کھینچنا تھا۔  اس بار ، ماضی کی طرح ، ہم نے ملکی اور شوہانی کو سیکیورٹی کے طور پر پیچھے چھوڑ دیاتھا ہمارا مقصد دودھنہ پل تھا ہم مقصد کی طرف بڑھتے چلے گئے۔  پل کے قریب، ہم دو عراقیوں سے ملے۔  چھپنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے ہمیں عربی میں روک لیا ، لیکن ہم نے ایسا ظاہر کیا کہ ہم ان کی آواز کو سن نہیں سکتے اور نہ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے ہم پر حملہ کیا۔ دستی بموں اور آرپی جی کے دھماکوں کا ایک سیلاب ہمارے پیچھے پیچھے بارش کی مانند برسا۔ اس جھڑپ کے دوران ، قمر جمزادہ [1] ، جو لائن پر بٹالین کمانڈر تھے ،  اس گروپ کی ایسی  صورتحال مدد کی۔ اور معاون فورس کے ساتھ اس  متنازعہ  علاقے میں پہنچ گٸے  وہ عراقیوں سے بھڑ کر کے محاصرے کو توڑنے میں کامیاب رہے، اور ہم ان کے چنگل سے   مددگار فورسز کے فائرنگ سے فرار کر گٸے۔  جب نگہبان  گروپ محاصرے کو توڑ رہا تھا اور شناساٸی گروپ پیچھے ہٹ رہا  تو ، آرپی جی  کے ذریعہ شوہانی زخمی ہوگیے ، جسے جوان  اسی وقت اٹھالانے میں کامیاب ہوگئے۔

 لڑائی اور اپنی دفاعی لائن کے قریب آنے کے بعد ، ہم  تھکاوٹ دور کرنے کے لئے رک گئے۔ پھرکیاتھا گفتگو، لطیفے اور مسکراہٹیں شروع ہوگئیں۔ ایک بندہ خدا مومن  بھائی ، جو ہمیشہ وقت پر آتا تھا ، اس کے دو تھرماس ہواکرتے تھے. ایک شربت اور دوسرا پانی کا- غلطی سے پانی کے بجائے سر اور چہرے کو شربت سے دھولیا۔ کچھ لمحوں کے بعد، ہم نے محسوس کیا کہ  ہمارے بال ایک ساتھ پھنس کر خشک ہوگئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر جوان  بہت ہنسے۔ اس منظر نے ہمیں محاصرے کی پریشانیوں کو بھلا دیا۔  پہلےمرحلے میں، ہم نے مواصلاتی نظام کو تباہ کیا عراقی فوجی وردیاں لاٸے، اگلامرحلہ یہ تھا کہ ہم ایسا ماحول مہیاکریں کہ ہمیں گرفتارکرلیاجاٸے جبکہ کسی بھی جاسوسی گروہ کی یہ کوشش ہوتی ہے دشمن انکے قوموں کے نشان تک نادیکھ سکے تاکہ آٸیندہ بھی ایسی حکمت اختیار کرسکیں۔

 جاری ہے
 



 
صارفین کی تعداد: 295


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
11 ویں امیر المومنین ڈویژن کے شہید کمانڈر کی یاداشت

ہیلٹی - 10

ہمیں اس کا احساس اس وقت ہوا جب عراقی "رسام"  گولی ہم پر تقریبا  چھ بجے پیچھے سے چلائی گئی۔  یعنی ہم مکمل محاصرے میں تھے

جیل میں حصول علم

اسی اثنا میں ایک اور قیدی جو چوری کے جرم میں گرفتار تھا اس نے اپنی گردن کے پاس سے سوئی نکالی جو شاید ہمیشہ ہی اس کے پاس رہتی تھی اور میری ہتھکڑیاں کھول دیں اور میں نے امتحان دینا شروع کردیا۔ جب وہ سپاہی چابی لے کر واپس لوٹا تب تک میں آدھا امتحان دے چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔