یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں
جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔جیل میں کتاب، شہید سید اسد اللہ لاجوردی کی زبانی
کچھ ایسی کتابیں جو درمیانی درجہ کی تھیں، جیسے انجینئر بازرگان کی کتب، ان کے مطالعے کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر کبھی کوئی ایسی کتاب پڑھنی ہوتی تو وہ پہلے سے طے کر دیتے کہ فلاں صفحے سے فلاں صفحے تک پڑھنا ہے۔علی بن ابی طالب (ع) ڈویژن کی 'کربلا بٹالین' کے کمانڈر علی اصغر خانی کے واقعات
(شہید مہدی زین الدین کے بارے میں)
سیجی جوان بہادری سے لڑ رہے تھے اور مظلومیت کے ساتھ گولیاں اور زخم کھا رہے تھے۔ شہیدوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ ہم پر شدید دباؤ تھا، لیکن نہ مدد آئی اور نہ اسلحہ۔(شعبان کے مہینے میں اٹھنے والی تحریک) علی تحیری کی زبانی
انتفاضہ شعبانیہ
میں نے عراقی وزارتِ اطلاعات کے اہلکاروں کی نظروں سے بچ کر جب عام لوگوں سے گفتگو کی، تو مجھ پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ وہ صدام حکومت کے ظلم و ستم سے شدید تنگ آ چکے ہیں۔ بغداد، کاظمین، نجف، کوفہ اور سامرا کے گلی کوچوں میں جب لوگوں کو معلوم ہوتا کہ ہم ایرانی صحافی ہیں، تو وہ گرمجوشی سے ہمارا خیرمقدم کرتے اور اہلکاروں کی نظریں بچا کر صدام کے اقدامات اور موجودہ صورتحال پر اپنی گہری ناراضگی کا اظہار کرتےایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی
شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔"شاہ بے دینی کو رواج دینا چاہتا ہے
اب عاشورہ کی شام ہے... جب میں کبھی عاشورہ کے واقعات پر غور کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر بنی امیہ اور یزید بن معاویہ کا نظام صرف حسین (ع) سے جنگ کر رہا تھا، تو وہ وحشیانہ اور غیر انسانی رویہ کیا تھا جو انہوں نے عاشورہ کے دن بے سہارا خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ کیا؟محترمہ عفت مرعشی کی یادوں سے اقتباس
دردِ فراق
ملاقات ختم ہونے کے بعد، آقا شریفی نے شہربانی کے قریب چوراہے پر جا کر وہ ٹیکسی ڈھونڈ لی اور سوار ہو گئے۔ انہوں نے پتہ دیا اور کیسٹ ڈھونڈنے لگے تو ڈرائیور بھانپ گیا اور بولا: "جس چیز کو تم ڈھونڈ رہے ہو، انشاء اللہ وہیں پہنچ جائے گی جہاں پہنچنی چاہیے۔" پتا چلا کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی تحریکی ساتھیوں میں سے تھا۔شہید سید مرتضیٰ آوینی کی زندگی کے آخری چند واقعات
راوی کا آخری سفر
نو اپریل، شہید سید مرتضیٰ آوینی کی برسی کا دن ہے؛ وہ مستند ساز اور آٹھ سالہ عراق-ایران جنگ کے وہ نامور راوی، جن کا سفرِ عشق بالآخر "فکہ" کے تپتے صحراؤں میں شہدائے کربلا کے قافلے سے جا ملا۔ کتاب "شہیدِ فرہنگ؛ شہید سید مرتضیٰ آوینی در آیینہ خاطرات" ان کی زندگی کے مختلف ادوار اور سرگرمیوں پر محیط مختلف یادوں کا مجموعہ ہےعباس دوزدوزانی کے واقعات سے ایک اقتباس
"انقلابی حلقوں سے لے کر اسلامی حکومت کے عسکری بازو تک"
ہم نے اسی جملے کو " امام کا حکم" سمجھا اور وہاں سے رخصت ہوئے۔ تہران واپسی پر اکیس اپریل ۱۹۷۹ کو ایک اعلامیہ جاری کیا جسے لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی۔ ہم نے وہ متن اخبارات کو دیا جو اگلے دن شائع ہوا"رہبر معظم، انقلاب کی راہ میں"
وہ شخصیت، جو اسلامی انقلاب کی جدوجہد اور دفاعِ مقدس (جنگ) کے ایام کی تاریخ نویسی اور اس انقلاب کے پرچار کو ایک تاریخی ضرورت اور مذہبی و قومی فریضہ سمجھتی تھی، اپنے چاہنے والوں کو ان شیریں یادوں کے ساتھ تنہا چھوڑ کر معبودِ حقیقی سے ملنے کے لیے اپنے ابدی اور عرفانی سفر پر روانہ ہوگئی: "ارجعی الی ربک راضیة مرضیه، فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی"1
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں
جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
