راوی کا آخری سفر

بہشت زہرا (س) میں اُن کے والد کے گرد گھیرا تھا، وہ پرسکون اور مطمئن تھے، بالکل خود آقا مرتضی کی طرح، جب غسل خانے کے شیشے کے پیچھے سے اُنہیں اُس کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ دیکھا۔ ایک عورت آئی تھی جس کی آنکھیں رونے سے سرخ تھیں، لگتا تھا کسی شہید کی ماں ہے، کہنے لگی: «برسوں سے اس آواز پر روئی چلی آئی ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آپ کے صاحب زادے ہیں۔ وہ ہم سب کا بیٹا ہے، خوش نصیب ہیں آپ لوگ۔»

عباس دوزدوزانی کی یادوں کا ایک ٹکڑا

انقلابی حلقوں سے اسلامی حکومت کے فوجی بازو تک

ہم نے اسی جملے کو "امام کا حکم" سمجھا اور ان کی خدمت سے رخصت ہوئے۔ جب ہم تہران واپس آئے تو 22 اپریل 1979 کو ایک بیانیہ لکھا۔ جس کا متن لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی اور اخبارات کو دیا جو اگلے روز شائع ہوا۔ یہ بیانیہ بطورِ خاص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے وجود کا پہلا اعلان تھا۔

جنگ کے بعد شہر مشہد ایک زائر کی نگاہ سے

میں نے مشہد کو اس حال میں ترک کیا کہ میرا دل باب‌الجواد کے قریب، حرم اور مسجد ملاحیدر کے قریب پر سکون اجتماعات کے درمیان ہی رہ گیا۔ وہاں جہاں حماسی نعروں کی آواز اتنی بلند ہے کہ اس کی گونج حرم تک اور ہمارے شہید رہبر کی شہادت کے ماتم کے اصل مالک تک پہنچتی ہے۔

محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں سے ایک اقتباس

کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔

یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں

جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔

جیل میں کتاب، شہید سید اسد اللہ لاجوردی کی زبانی

کچھ ایسی کتابیں جو درمیانی درجہ کی تھیں، جیسے انجینئر بازرگان کی کتب، ان کے مطالعے کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر کبھی کوئی ایسی کتاب پڑھنی ہوتی تو وہ پہلے سے طے کر دیتے کہ فلاں صفحے سے فلاں صفحے تک پڑھنا ہے۔

علی بن ابی طالب (ع) ڈویژن کی 'کربلا بٹالین' کے کمانڈر علی اصغر خانی کے واقعات

(شہید مہدی زین الدین کے بارے میں)

سیجی جوان بہادری سے لڑ رہے تھے اور مظلومیت کے ساتھ گولیاں اور زخم کھا رہے تھے۔ شہیدوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ ہم پر شدید دباؤ تھا، لیکن نہ مدد آئی اور نہ اسلحہ۔

(شعبان کے مہینے میں اٹھنے والی تحریک) علی تحیری کی زبانی

انتفاضہ شعبانیہ

میں نے عراقی وزارتِ اطلاعات کے اہلکاروں کی نظروں سے بچ کر جب عام لوگوں سے گفتگو کی، تو مجھ پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ وہ صدام حکومت کے ظلم و ستم سے شدید تنگ آ چکے ہیں۔ بغداد، کاظمین، نجف، کوفہ اور سامرا کے گلی کوچوں میں جب لوگوں کو معلوم ہوتا کہ ہم ایرانی صحافی ہیں، تو وہ گرمجوشی سے ہمارا خیرمقدم کرتے اور اہلکاروں کی نظریں بچا کر صدام کے اقدامات اور موجودہ صورتحال پر اپنی گہری ناراضگی کا اظہار کرتے

ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی

شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔"

شاہ بے دینی کو رواج دینا چاہتا ہے

اب عاشورہ کی شام ہے... جب میں کبھی عاشورہ کے واقعات پر غور کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر بنی امیہ اور یزید بن معاویہ کا نظام صرف حسین (ع) سے جنگ کر رہا تھا، تو وہ وحشیانہ اور غیر انسانی رویہ کیا تھا جو انہوں نے عاشورہ کے دن بے سہارا خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ کیا؟
1
...
 

راوی کا آخری سفر

بہشت زہرا (س) میں اُن کے والد کے گرد گھیرا تھا، وہ پرسکون اور مطمئن تھے، بالکل خود آقا مرتضی کی طرح، جب غسل خانے کے شیشے کے پیچھے سے اُنہیں اُس کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ دیکھا۔ ایک عورت آئی تھی جس کی آنکھیں رونے سے سرخ تھیں، لگتا تھا کسی شہید کی ماں ہے، کہنے لگی: «برسوں سے اس آواز پر روئی چلی آئی ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آپ کے صاحب زادے ہیں۔ وہ ہم سب کا بیٹا ہے، خوش نصیب ہیں آپ لوگ۔»
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔