شاہ بے دینی کو رواج دینا چاہتا ہے
اب عاشورہ کی شام ہے... جب میں کبھی عاشورہ کے واقعات پر غور کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر بنی امیہ اور یزید بن معاویہ کا نظام صرف حسین (ع) سے جنگ کر رہا تھا، تو وہ وحشیانہ اور غیر انسانی رویہ کیا تھا جو انہوں نے عاشورہ کے دن بے سہارا خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ کیا؟محترمہ عفت مرعشی کی یادوں سے اقتباس
دردِ فراق
ملاقات ختم ہونے کے بعد، آقا شریفی نے شہربانی کے قریب چوراہے پر جا کر وہ ٹیکسی ڈھونڈ لی اور سوار ہو گئے۔ انہوں نے پتہ دیا اور کیسٹ ڈھونڈنے لگے تو ڈرائیور بھانپ گیا اور بولا: "جس چیز کو تم ڈھونڈ رہے ہو، انشاء اللہ وہیں پہنچ جائے گی جہاں پہنچنی چاہیے۔" پتا چلا کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی تحریکی ساتھیوں میں سے تھا۔شہید سید مرتضیٰ آوینی کی زندگی کے آخری چند واقعات
راوی کا آخری سفر
نو اپریل، شہید سید مرتضیٰ آوینی کی برسی کا دن ہے؛ وہ مستند ساز اور آٹھ سالہ عراق-ایران جنگ کے وہ نامور راوی، جن کا سفرِ عشق بالآخر "فکہ" کے تپتے صحراؤں میں شہدائے کربلا کے قافلے سے جا ملا۔ کتاب "شہیدِ فرہنگ؛ شہید سید مرتضیٰ آوینی در آیینہ خاطرات" ان کی زندگی کے مختلف ادوار اور سرگرمیوں پر محیط مختلف یادوں کا مجموعہ ہےعباس دوزدوزانی کے واقعات سے ایک اقتباس
"انقلابی حلقوں سے لے کر اسلامی حکومت کے عسکری بازو تک"
ہم نے اسی جملے کو " امام کا حکم" سمجھا اور وہاں سے رخصت ہوئے۔ تہران واپسی پر اکیس اپریل ۱۹۷۹ کو ایک اعلامیہ جاری کیا جسے لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی۔ ہم نے وہ متن اخبارات کو دیا جو اگلے دن شائع ہوا"رہبر معظم، انقلاب کی راہ میں"
وہ شخصیت، جو اسلامی انقلاب کی جدوجہد اور دفاعِ مقدس (جنگ) کے ایام کی تاریخ نویسی اور اس انقلاب کے پرچار کو ایک تاریخی ضرورت اور مذہبی و قومی فریضہ سمجھتی تھی، اپنے چاہنے والوں کو ان شیریں یادوں کے ساتھ تنہا چھوڑ کر معبودِ حقیقی سے ملنے کے لیے اپنے ابدی اور عرفانی سفر پر روانہ ہوگئی: "ارجعی الی ربک راضیة مرضیه، فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی"جنگ کے سائے میں بہار
ان دنوں کی تلخ خبروں کے درمیان کچھ واقعات اتنے سنگین ہیں کہ وہ برسوں تک عوام کے شعور اور حافظے میں نقش رہیں گے۔ رہبرِ انقلاب کی شہادت، میناب میں بچیوں کے پرائمری اسکول پر حملہ، بے گناہ انسانوں کا قتل اور ہسپتالوں و شہری آبادیوں کو پہنچنے والا نقصان؛ یہ وہ واقعات ہیں جو محض میڈیا کی سرسری خبریں نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے ہر واقعہ ایک معاشرے کے جیتے جاگتے تجربات کا حصہ ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہو جاتے ہیں اور بعد میں روایتوں اور یادوں کی صورت میں بیان کیے جائیں گےتکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز
یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"ریفرنڈم کے ایام، بارود کی بدبو سے بھری ہوئی بہاریں
چھاؤنی میں موجود تمام فوجیوں نے "اسلامی جمہوریہ، ہاں" والا پرچہ ڈبے میں ڈالا۔ یہ بات میں نے چھاؤنی کے کھانے کے ہال میں دوسرے ساتھیوں سے سنی۔ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ووٹنگ ختم ہوئی اور ہیلی کاپٹر اُڑ گیا۔جنگ رمضان
جیسے ہی میں چوک میں موجود ہجوم کو دیکھ رہی تھی، میرے ذہن سے گزرا کہ یہ جنگ، میزائل اور بم کی جنگ نہیں ہے، یہ عزم و ارادوں کی جنگ ہے۔ اور ہم برتر ہیں۔ایک متفاوت نوروز کا دسترخوان
سال تحویل سے ایک رات پہلے گھر پہنچی۔ جمعہ کی رات آٹھ بتیس منٹ اور اکتیس سیکنڈ پر سال تحویل ہونا تھا۔ طے ہوا تھا کہ تحویل سال کے وقت سب بڑے بھائی کے کمرے میں جمع ہوں گے۔ ہفت سین کی سفیدری جو بچھائی گئی تھی، بہت سادہ تھی اور اس میں صرف سیب اور سنجد تھا اور شیشے کے برتن میں سرخ مچھلی کا کوئی نشان نہ تھا1
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
شاہ بے دینی کو رواج دینا چاہتا ہے
اب عاشورہ کی شام ہے... جب میں کبھی عاشورہ کے واقعات پر غور کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر بنی امیہ اور یزید بن معاویہ کا نظام صرف حسین (ع) سے جنگ کر رہا تھا، تو وہ وحشیانہ اور غیر انسانی رویہ کیا تھا جو انہوں نے عاشورہ کے دن بے سہارا خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ کیا؟"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
