محمد بلوری کی یادیں
محمد بلوری، دفاع مقدس کے جانباز اور کتاب "تاکسی سرویسی برای فاو" کے مصنف، شب خاطرہ کے دو سو اناسیویں پروگرام (اسفند 1396) کے مہمان تھے۔ انہوں نے نہر جاسم کے بارے میں اپنی یادیں بیان کیں۔زبانی تاریخ اور سوانح عمری لکھنے کا تعلق
سوانح عمری نہ صرف فرد کو پہچاننے اور انفرادی و سماجی پہلوؤں میں شخصیت کی تشکیل و نشوونما کے عمل سے آشنائی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے، بلکہ مخاطب کو افکار و جذبات اور اعمال کی ایسی تہوں سے بھی آشنا کر سکتی ہے جن پر کم توجہ دی گئی ہے۔ بنیادی طور پر سوانح عمریوں کے ذریعے بہت سے رویوں کی علت اور کیفیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔علی فدایی کی یادداشتیں
دفاع مقدس کے مجاہد علی فدایی، شبِ خاطرہ کی 289ویں پروگرام کے مہمان تھے۔ انہوں نے محاذ جنگ پر عوام کے تحائف کے بارے میں واقعات بیان کئے، جس میں ایک بچے کا اپنے شہید باپ کے نام لکھا ہوا نوٹ اور ایک مزاحیہ واقعہ شامل ہے۔داوؤد مولائی کی یادیں
محترم داوود مولایی نے اپنے بھائی کی شہادت، والدہ کے فاطمی صبر اور محاذ پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ یادگار لمحات کے واقعات بیان کیے، اور بتایا کہ کس طرح ماؤں کے ایثار اور امام حسین علیہ السلام کے لئے ذکر مصائب نے اس نسل کو دنیا کے حمایت یافتہ دشمن کے مقابلے میں کھڑا کیا۔راوی کا آخری سفر
بہشت زہرا (س) میں اُن کے والد کے گرد گھیرا تھا، وہ پرسکون اور مطمئن تھے، بالکل خود آقا مرتضی کی طرح، جب غسل خانے کے شیشے کے پیچھے سے اُنہیں اُس کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ دیکھا۔ ایک عورت آئی تھی جس کی آنکھیں رونے سے سرخ تھیں، لگتا تھا کسی شہید کی ماں ہے، کہنے لگی: «برسوں سے اس آواز پر روئی چلی آئی ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آپ کے صاحب زادے ہیں۔ وہ ہم سب کا بیٹا ہے، خوش نصیب ہیں آپ لوگ۔»عباس دوزدوزانی کی یادوں کا ایک ٹکڑا
انقلابی حلقوں سے اسلامی حکومت کے فوجی بازو تک
ہم نے اسی جملے کو "امام کا حکم" سمجھا اور ان کی خدمت سے رخصت ہوئے۔ جب ہم تہران واپس آئے تو 22 اپریل 1979 کو ایک بیانیہ لکھا۔ جس کا متن لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی اور اخبارات کو دیا جو اگلے روز شائع ہوا۔ یہ بیانیہ بطورِ خاص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے وجود کا پہلا اعلان تھا۔جنگ کے بعد شہر مشہد ایک زائر کی نگاہ سے
میں نے مشہد کو اس حال میں ترک کیا کہ میرا دل بابالجواد کے قریب، حرم اور مسجد ملاحیدر کے قریب پر سکون اجتماعات کے درمیان ہی رہ گیا۔ وہاں جہاں حماسی نعروں کی آواز اتنی بلند ہے کہ اس کی گونج حرم تک اور ہمارے شہید رہبر کی شہادت کے ماتم کے اصل مالک تک پہنچتی ہے۔محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں سے ایک اقتباس
کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں
جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔جیل میں کتاب، شہید سید اسد اللہ لاجوردی کی زبانی
کچھ ایسی کتابیں جو درمیانی درجہ کی تھیں، جیسے انجینئر بازرگان کی کتب، ان کے مطالعے کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر کبھی کوئی ایسی کتاب پڑھنی ہوتی تو وہ پہلے سے طے کر دیتے کہ فلاں صفحے سے فلاں صفحے تک پڑھنا ہے۔1
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
محمد بلوری کی یادیں
محمد بلوری، دفاع مقدس کے جانباز اور کتاب "تاکسی سرویسی برای فاو" کے مصنف، شب خاطرہ کے دو سو اناسیویں پروگرام (اسفند 1396) کے مہمان تھے۔ انہوں نے نہر جاسم کے بارے میں اپنی یادیں بیان کیں۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
