عباس دوزدوزانی کی یادوں کا ایک ٹکڑا

انقلابی حلقوں سے اسلامی حکومت کے فوجی بازو تک

انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2026-9-13


ان دنوں ایسے اداروں کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی تھی جو جلد از جلد وجود میں آئیں اور نوجوان نسل کی ذہنی کیفیت، توقعات اور دلی آرزوؤں کے مطابق ہوں۔ وہ نوجوان جو انقلاب سے پہلے متحرک تھے اور بعض واقعات میں رژیم کے ایجنٹوں، ساواک، مشترکہ انسدادِ تخریب کاری فورس، شہری انٹیلیجنس اور دیگر پولیس فورسز کے ساتھ گرفتاریوں، قید اور تشدد کا سامنا کر چکے تھے۔ اس گروہ نے اس وقت ایران کے مسائل اور حساس صورتحال کو سمجھتے ہوئے یہ محسوس کیا تھا کہ ایک صالح اور قابل عوامی قوت تشکیل دی جانی چاہیے جو انقلاب کے مرکزی محور اور اقدار کی حفاظت کرے۔ یہ عوامی قوت درحقیقت وہی فوجی بازو تھا جو سیاسی اور اطلاعاتی شعبوں میں انقلاب اور ایرانی معاشرے کی اقدار کی نگہبانی کرتا۔

اگر انقلابیوں کے حلقے کو قدرے چھوٹا کریں تو ایک گروہ تھا جو تحریک اور مختلف مبارز گروپوں کی قیادت کر رہا تھا۔ شاید انہیں خود اپنی قیادت کا احساس بھی تھا۔ ایک اور گروہ تھا جو قیام کے عملی میدانوں میں موجود تھا اور سابقہ نظام کے ساتھ جھڑپوں میں مبتلا رہا اور اس دور میں قید بھی ہوا۔ ان سب کے پاس رژیم کے خلاف جدوجہد کے مختلف انداز میں تجربات تھے اور فطری تھا کہ ان میں سے ہر ایک کے ذہن میں کچھ نہ کچھ بنیادیں پہلے سے موجود تھیں۔ اس کے علاوہ، اس وقت فوج کمزور پڑ چکی تھی اور مزید کام نہیں کر سکتی تھی، اور جن لوگوں کا مقصد حالات کو منظم کرنا تھا، ان کے ذہنوں میں یہ خیال تھا کہ ایک تیار اور تربیت یافتہ قوت بنائی جائے جو ضرورت پڑنے پر میدان میں آ سکے اور ایک عہد کی پابند فوجی بازو کے طور پر کام کر سکے۔ اسی طرح اس انضمام کے لیے ابتدائی مرکز کے طور پر رفاہ اسکول کی عمارت کا انتخاب کیا گیا۔ جس رات اعلان ہوا کہ انقلاب کامیاب ہو گیا ہے، ہم فوری طور پر رفاہ اسکول کی عمارت میں پہنچ گئے۔

اس قسم کے فوجی ادارے کے قیام پر کئی گروہوں کی نگاہیں تھیں۔ ایک طرف عارضی حکومت تھی جو اس سلسلے کو آگے بڑھانا چاہتی تھی اور اس کی دلیل یہ تھی کہ پیسہ اور اسلحہ حکومت کے پاس ہے اور اس گروہ کو اسی راستے سے تقویت ملنی چاہیے۔ دوسری طرف انقلاب سے پہلے کے قیدی تھے جن کے ذہنوں میں اسلامی حکومت کے نفاذ کے خواب تھے اور ان کا ماننا تھا کہ چونکہ وہ برسوں سے ملکی سیاسی اور مبارزاتی معاملات میں شامل رہے ہیں، اس لیے اس طرح کے ادارے کے قیام میں ان کا حق زیادہ ہے۔ ایک اور طرف وہ گروہ تھے جو ملک سے فرار ہو کر باہر چلے گئے تھے اور اکثر اندرونِ ملک عناصر سے رابطے میں تھے، جیسے شہید شیخ محمد منتظری (اعلیٰ اللہ مقامہ) جنہوں نے شہید موسیٰ نامجو اور شہید یوسف کلاهدوز جیسے بزرگوں کے ساتھ ایک تنظیم بنائی تھی۔ ایک اور طرف اعتقادی اور اسلامی گروہ تھے جن میں سات گروہ شامل تھے جنہوں نے انقلاب کے بعد سازمان مجاہدین انقلاب اسلامی کی تشکیل کی۔ چاروں گروہوں میں سے ہر ایک نے اپنے تین نمائندے سپاہ کی تشکیل کے مرکزی مرکز میں رکھے اور اس طرح بارہ رکنی گروہ وجود میں آیا۔

البته اس وقت امام خمینی رح نے ابھی تک سپاہ پاسداران کے قیام کا واضح حکم جاری نہیں کیا تھا، لیکن یہ مرکز امام خمینی رح سے مربوط تھا اور ان کے نقطہ نظر کی مکمل پیروی کرتا تھا۔ ہم اس وقت مانتے تھے کہ امام خمینی رح اس بات کے مکمل حامی ہیں کہ اس طرح کا ادارہ جلد از جلد تشکیل پائے تاکہ معاملات انقلاب کے متن میں رہیں۔ انقلابی شوریٰ کی طرف سے بھی، افراد کے اس شوریٰ سے تعلقات کی وجہ سے، کچھ لوگ اس بارہ رکنی گروہ میں شامل کیے گئے، جن میں آقائے موسوی اردبیلی اور آقائے ہاشمی رفسنجانی شامل تھے۔

عارضی حکومت کی طرف سے اس شورا میں شامل تین افراد یہ تھے: حاج محسن رفیق‌دوست، آقائے علی‌محمد بشارتی اور آقائے علی دانش‌منفرد۔ کبھی کبھی کچھ اراکین ایک دوسرے کی جگہ اس شورا میں شرکت کرتے تھے۔ مثلاً کبھی ڈاکٹر جلیل ضرابی عارضی حکومت کے تین نمائندوں میں سے کسی ایک کی جگہ شوریٰ میں شریک ہوتے تھے۔ شوریٰ کے اراکین میں سے، جو لوگ عارضی حکومت کی طرف سے آتے تھے، ان کے موقف دوسرے اراکین کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھے اور ان کا ماننا تھا کہ حکومت کے پاس اختیار اور وسائل ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے برسوں قید میں گزارے۔ ابو شریف، جواد منصوری، میں اور کبھی کبھی آقای ابراہیم حاجی محمدزادہ بھی شوریٰ میں ہوتے تھے۔ شہید محمد منتظری کے گروپ سے شہید محمد منتظری، شہید نامجو اور شہید کلاهدوز تھے جو بعد میں تینوں ہی شہید ہوگئے۔ سازمان مجاہدین انقلاب اسلامی کی تشکیل کرنے والے گروہوں سے شہید محمد بروجردی اور محسن رضائی تھے۔ اس گروہ کا تیسرا رکن کبھی آقائے مرتضی الویری اور کبھی آقائے محسن سازگار ہوتے تھے۔ یہ بارہ افراد تقریباً شوریٰ کے مستقل اراکین تھے جو اتفاقاً آپس میں بہت بے تکلف ہو چکے تھے۔ یہ بارہ رکنی مرکز بالآخر جنرل کونسل کے ایک رکن سے منسلک ہوتا تھا جو اس وقت آقائے موسوی اردبیلی تھے۔

جلسات عام طور پر جمشیدیہ ہیڈکوارٹر کی گلی میں منعقد ہوتے تھے، جو اس وقت فوج کے کچھ افسروں کی رہائش گاہ تھی۔ کبھی کبھی عمارت کیا میں بھی جلسے منعقد ہوتے تھے جو کسی زمانے میں سازمان مجاہدین خلق کا مرکز تھا۔ اس بارہ رکنی گروہ کے ساتھ انقلابی شورا کے نمائندے کو ملا کر وہ تیرہ افراد بن جاتے تھے اور فروردین ۱۳۵۸ کے اواخر تک ان کے جلسے ضرورت کے مطابق وقت کے ساتھ منعقد ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ فروردین کے آخری دن فیصلہ ہوا کہ یہ بارہ افراد اپنے میں سے تین کو منتخب کریں اور قم میں امام کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے سپاہ کے قیام کا حکم لیں۔

بالآخر محسن رفیق‌دوست، محسن رضائی اور میں امام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رات کو امام مصروف تھے، اس لیے ہم نے قم میں ایک بزرگ کے گھر رات گزاری اور صبح سویرے امام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس جلسے میں جو ہم امام کی خدمت میں تھے، سلام اور احوالپرسی اور دست بوسی کے بعد سپاہ کی تشکیل کا موضوع آیا۔ گویا امام کو پہلے سے ہی معاملات کی مکمل آگاہی تھی اور وہ جانتے تھے کہ کیا مراحل طے ہوئے ہیں اور بات کہاں پہنچی ہے۔ اس دن، میں امام کے پہلو میں بیٹھا تھا اور "آقائے محسن" ان کے سامنے بیٹھے تھے۔ وہیں میں نے امام سے عرض کیا کہ دوستوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آپ سے عرض کریں کہ عارضی حکومت اور ڈاکٹر ابراہیم یزدی، انقلاب کے امور میں مشیر اور وزیر، مانتے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ اس ادارے کو حکومت کو اپنے ہاتھوں سے تشکیل دینا چاہیے۔ جیسے ہی میں نے یہ بات اٹھائی، امام نے صراحتاً مخالفت کی اور فرمایا: "تم خود جاؤ اور سپاہ تشکیل دو۔"

ہم نے اسی جملے کو "امام کا حکم" سمجھا اور ان کی خدمت سے رخصت ہوئے۔ جب ہم تہران واپس آئے تو 22 اپریل 1979 کو ایک بیانیہ لکھا۔ جس کا متن لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی اور اخبارات کو دیا جو اگلے روز شائع ہوا۔ یہ بیانیہ بطورِ خاص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے وجود کا پہلا اعلان تھا۔

بنیادی طور پر سپاہ کے قیام کے لیے کوئی تحریری حکم موجود نہیں تھا۔ امام نے اس کی تشکیل کے لیے ایک زبانی حکم جاری کیا اور 23 اپریل 1979 کو سپاہ نے میری زیرِ نگرانی کام شروع کیا۔ اس کے قیام کی خبر صرف اطلاعات اخبار میں شائع ہوئی۔ دیگر اخبارات یا تو ضدانقلاب کے پیروکار تھے یا بنی‌صدر کے حامی۔ ابتدائی طور پر سپاہ کا کام لوگوں کے پاس موجود اسلحہ جمع کرنا اور اسے اپنی تربیت یافتہ افواج میں تقسیم کرنا تھا، اور پھر ایسے افراد کی تربیت کرنا جو اطلاعاتی، پاسداری، نگہبانی اور حفاظتی امور کو آگے بڑھا سکیں۔

اس دوران آقائے لاهوتی جو عارضی حکومت کی تشکیل کردہ سپاہ میں تھے، امام کی طرف سے نمائندگی اور نگرانی کا کام کر رہے تھے، لیکن امام، خود آقائے لاهوتی اور ہم سب جانتے تھے کہ سپاہ کا قیام عارضی حکومت کا کام نہیں ہے، بلکہ یہ تشکیل ایک عوامی ادارہ ہے اور تمام وہ لوگ جو اس قسم کی ذمہ داریوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس کے ذمہ دار ہونے چاہییں، اور آخر کار ایسا ہی ہوا۔ آخر کار محمد منتظری یا آقائے لاهوتی اور ان جیسے بقیہ گروہ اس ادارے کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ شہید منتظری ہمارے ساتھ اسی بارہ رکنی مرکز کے رکن تھے۔

ابتدائی مرحلے میں، پہلی تنظیم اور افواج کا انضمام مدرسہ رفاہ سے شروع ہوا۔ وہ سب حزب ملل کے اراکین تھے اور دوسرے گروہوں کے اراکین بھی۔ حزب ملل کے اراکین میں اس وقت ہر ایک کی عمر تقریباً چالیس یا اس کے قریب تھی۔ اس مدرسے کی کئی خصوصیات تھیں؛ جن میں یہ بھی تھا کہ یہ اسلحہ جمع کرنے کی جگہ ہونے کے ساتھ ساتھ اہم قیدی بھی یہاں رکھے جاتے تھے۔ پھر اسی مرکز میں افواج کی تربیت کا آغاز ہوا۔ ابتدائی طور پر ہم نے دو ہفتہ وار تربیتی کورسز کا اہتمام کیا؛ اس طرح کہ سپاہ میں رکنیت کے خواہشمندوں کے لیے ایک تقریر ہوتی جس سے انہیں جوش اور جذبہ ملتا اور پھر تربیتی کورس میں نظریاتی اور سیاسی تعلیمات شامل ہوتیں۔ افراد کو رات میں انفرادی طور پر تربیت دی جاتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ فوجی تربیت بھی ہوتی تھی۔ جو لوگ سپاہ کی تشکیل میں شامل ہوتے تھے وہ تمام گروہوں اور پیشوں سے تھے؛ یہاں تک کہ ڈاکٹروں اور دانتوں کے ڈاکٹروں میں سے بھی کچھ نے رضاکارانہ طور پر شمولیت اختیار کی۔ یہ افراد دو ہفتوں میں تربیت حاصل کرتے اور پھر ان کی خصوصیات کے مطابق مناسب جگہوں پر تعینات کر دیے جاتے۔

اس نئے قائم ہونے والے ادارے کی سرگرمیوں کے سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ سپاہ کے لیے چھ ماہ کا عارضی کمانڈر منتخب کیا جائے۔ ہمارا ارادہ تھا کہ آقائے جواد منصوری کو اس کام کے لیے منتخب کریں، کیونکہ وہ قید کے تجربے سے آشنا تھے اور ہم سب ان کے لیے خصوصی احترام رکھتے تھے۔ انہیں چھ ماہ کے لیے منتخب کیا گیا۔ چھ ماہ بعد یہ ذمہ داری میرے سپرد کی گئی۔ میں نے بھی چونکہ یہ شرعی فریضہ تھا، اسے قبول کر لیا۔[1]


[1] ماخذ: حاجی‌محمدی، زہرا، شوق ایمان، خاطرات عباس دوزدوزانی، تہران، انتشارات سوره مہر، ص ۱۸۳۔



 
صارفین کی تعداد: 22


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (5 + 7) :
 
عباس دوزدوزانی کی یادوں کا ایک ٹکڑا

انقلابی حلقوں سے اسلامی حکومت کے فوجی بازو تک

ہم نے اسی جملے کو "امام کا حکم" سمجھا اور ان کی خدمت سے رخصت ہوئے۔ جب ہم تہران واپس آئے تو 22 اپریل 1979 کو ایک بیانیہ لکھا۔ جس کا متن لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی اور اخبارات کو دیا جو اگلے روز شائع ہوا۔ یہ بیانیہ بطورِ خاص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے وجود کا پہلا اعلان تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔