راوی کا آخری سفر
انتخاب: محیا حافظی
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی
2026-9-16
۲۰ فروردین (۹ اپریل)، شہید سید مرتضی آوینی کی شہادت کا دن ہے۔ وہ ڈاکیومنٹری میکر اور جنگ کے سالوں کے معروف راوی جن کا انجام کار فکہ کی ریت میں ہوا اور وہ شہدا کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ کتاب «شہید ثقافت؛ شہید سید مرتضی آوینی خاطرات کے آئنے میں» ان کی زندگی اور سرگرمیوں کے مختلف ادوار سے متعلق متعدد اور متنوع یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود، ان کی شہادت کے ایام کے موقع پر، ہم نے فیصلہ کیا کہ اس تحریر میں صرف ان روایات کو شامل کریں جو آخری ایام کی کیفیات، بے چینیوں اور شہادت کے لمحے کی عکاسی کرتی ہیں۔ جو کچھ آپ ذیل میں پڑھیں گے، وہ ان کی بیوی، دوستوں اور ہمرزمان کی زبانی واضح، صمیمی اور بلاواسطہ روایات ہیں جو ہمیں اس فنکار کی آخری زندگی کے ساتھ ہم سفر کرتی ہیں۔
آخری دن، جب وہ فکہ گئے اور کام ادھورا چھوڑ کر واپس آئے، تو کہا کہ دو تین دن میں دوبارہ فکہ جانا ہے۔ ان چند دنوں میں میں نے انہیں بہت غمگین دیکھا۔ بار بار پوچھتی تھی کہ اتنا پریشان اور ناراض کیوں ہیں؟ لیکن میرے ذہن میں کوئی تعلق نہیں بن پا رہا تھا کہ کوئی واقعہ پیش آیا ہے کہ دوبارہ جا رہے ہیں۔ لیکن اب جب ان چند دنوں کو دیکھتی ہوں، تو مجھے مکمل یقین ہے کہ وہ جانتے تھے۔
آخری گفتگو ان دو دنوں میں مستقبل کے کسی دن کی قرارداد کے بارے میں تھی۔ میں نے کہا کہ یہ کام آپ کی واپسی کے بعد بھی ہو سکتا ہے، ان شاء اللہ۔
لیکن انہوں نے اچانک اپنا سر پھیر لیا اور پھر ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔
اب جب میں ان مناظر کو دیکھتی ہوں، تو مجھے یقین ہے کہ وہ بلا شبہ اپنی شہادت سے آگاہ تھے۔ انہی ایام میں جب میں نے کوئی تجویز پیش کی، تو کہنے لگے: «اس کام کی سرگرمی مناسب نہیں۔ اب انہوں نے میرے لیے اتنی مشکلات پیدا کر دی ہیں کہ اگر کوئی شخص پشت کسی پہاڑ سے لگائے تو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ میں نے کسی اور کا سہارا لیا ہے جس کی وجہ سے کھڑا ہوں۔»
— شہید کی اہلیہ
جب وہ فکہ کے آخری سفر پر گئے، میں نے اُن سے کہا: «آقا مرتضی، اگلی بار میں خود آپ کے ساتھ آؤں گی اور پورا سفر اسٹیڈی کیم سے ریکارڈ کروں گی۔» مرتضی نے کہا: «کیا عمدہ خیال ہے!» دراصل میرا منصوبہ یہ تھا کہ اگلے سفر میں فکہ کو نہیں بلکہ خود آوینی کو فلماؤں۔
بعد میں میں نے اس انداز کے کام کیے۔ اس سے قبل اُن کے ساتھ بوسنیا گیا تھا اور اُنکے اور آقا نصیری کے بارے میں ایک تین حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم بنائی تھی جس کا نام تھا «رویش در آتش»... آخری سفر سے پہلے جب سعید قاسمی کے ساتھ فکہ میں شہدائے والفجر ابتدائی آپریشن کے قتل گاہ کا صحیح مقام ڈھونڈ لیا تھا، طے تھا کہ ساتھ جائیں اور فلم بندی کریں، لیکن تقدیر نے اجازت نہ دی۔
— نادر طالبزاده
ان چھٹیوں میں جب سب اہل خانہ کے ساتھ خوشیوں میں مصروف تھے، وہ محاذ پر آ گئے۔ اپنی جگہ آئے۔ رات کے ۱۰ بجے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی، دیکھا سید ہیں، کہنے لگے: «سید آیا ہوں تمہیں دیکھنے، حوصلہ لینے...» راویت فتح گروپ کے ساتھیوں کے ساتھ آئے تھے... کہنے لگے: «سید، ہم فکہ جانا چاہتے ہیں۔» میں نے کہا: «ارے یار، چھٹیوں میں؟!»
— سید صالح موسوی
ہر روز صبح سے شام تک فکہ جاتے اور انٹرویوز لیتے۔ رات کو برقازہ آتے تاکہ سو سکیں اور آرام کریں۔ بچے عجیب اور خوبصورت یادیں سناتے اور ظاہر تھا کہ حاجی بہت متاثر اور پرامید ہو گئے تھے۔ «انفجار اطلاعات» کا متن بھی وہیں لکھا۔
آخری دن ہم نے کچھ تصاویر بھی یادگار کے طور پر لیں۔ جن میں وہ مشہور تصویر بھی ہے جو حاجی کی بہت زیادہ چھپی ہے، شعبانی نے کچھ گروپ فوٹوز بھی لیں۔ پھر اُن کی طرف متوجہ ہو کر کہا: «آقا مرتضی! ایک انفرادی تصویر بھی لینے دو۔» ہم حاجی کے مزاج سے واقف تھے۔ یا تو انفرادی تصویر لینے کی اجازت نہیں دیتے یا ایسا انداز اپنا لیتے کہ تصویر خراب ہو جاتی، لیکن اس دن وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنے کپڑے جھاڑے اور سیدھے کیے، مسکرائے اور کہا: «شعبانی! حجلے کے لیے لو۔» مرتضی نے دو تصاویر لیں؛ ایک عمودی اور ایک افقی۔ وہی تصاویر جو اُن کے حجلے کے لیے استعمال ہوئیں۔
— رمضانی، راوی فتح گروپ کے فوٹوگرافر اور کیمرا مین
کہتے ہیں شہادت سے پہلے رات میں، آقا مرتضی فکہ گئے تھے، رات جنگ کے زمانے کے بچے ہوئے ایک مورچے میں گزارنی پڑی۔ اُس مورچے میں موجود سپاہی نے صبح اپنے کمانڈر کو بتایا: «یہ عینک والے صاحب کون تھے جو رات بھر سوئے نہیں اور مسلسل دعا پڑھتے اور روتے رہے۔ نماز پڑھی اور گریہ و زاری کرتے رہے۔ قرآن پڑھا اور گریہ کرتے رہے۔»
آقا مرتضی بار بار کہہ رہے تھے: «ہمیں بچوں کی قتل گاہ جانا ہے... ہمیں قتل گاہ جانا ہے...»
— علیرضا قزوه، شاعر اور مصنف
لوگ مجھے ملامت کرتے ہیں کہ سید کو فکہ کیوں لے گئے؟ خدا کی قسم میں نہیں لے گیا۔ خود اُنہوں نے اصرار کیا۔ میں نے کہا: «آقا مرتضی، چلیں کسی اور جگہ چلتے ہیں۔ بازی دراز، کانی مانگا، دوسری جگہیں۔ مہران۔» کہنے لگے: «آخر بے انصافو! تم لوگ یہ کیا کرنا چاہتے تھے؟ انہوں نے ۱۳ کلومیٹر ریت عبور کی ہے۔» کہہ رہے تھے کہ آؤ ان کو دکھائیں، تاکہ لوگوں کو بتائیں کہ ہمارے جوانوں نے استکبار کے سامنے کیسے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ وہ جانتے تھے کہ ایسے دن آئیں گے جب جنگ کی جغرافیہ اور تاریخ دونوں کو تحریف کیا جائے گا، جانتے تھے کہ کیمرہ اٹھانا ہوگا اور ان حقائق کو ریکارڈ کرنا ہوگا۔ اُنہوں نے اصرار کیا اور ہم گئے اور وہ واقعہ پیش آیا۔
— سردار سعید قاسمی
اصغر اُن کے سرہانے آیا – یہ منظر کبھی میرے ذہن سے نہیں جائے گا – کہنے لگا: «سید! ڈرو مت، کچھ نہیں ہوا۔» اب خون بہہ رہا ہے۔ بارودی سرنگ کا ٹکڑا اپنا کام کر چکا ہے۔ کام تمام ہے۔ خدا کو گواہ مانتا ہوں کہ وہ ہنسے اور بولے: «اصغر جان! ہم اسی کے لیے آئے ہیں۔»
آقا سعید یزدانپرست کا بھی یہی حال تھا، ایک ٹکڑا آنکھ کے کونے پر لگا تھا، میں آیا کہ وہ ٹکڑا نکالوں تو کہنے لگے: «رہنے دو۔» وہ اُسے وہیں یادگار رکھنا چاہتے تھے۔ وہ بھی غافل نہیں تھے۔ ایک لبنانی کو اُن کی شہادت کے وقت کی تصاویر دکھائیں، تو کہنے لگا: «یہ کیا عجیب انسان ہے کہ آخری لمحے تک سوچ میں ہے۔ سوچ رہا ہے۔»
— سردار سعید قاسمی
ہم اُنہیں اسٹریچر پر لے کر جا رہے تھے جو قاسم دهقان نے بنایا تھا، سید التماس کر رہے تھے۔ کہہ رہے تھے: «مجھے مت لے جاؤ۔ مجھے یہیں رہنے دو۔ یا فاطمہ! یا فاطمہ!» پکار رہے تھے۔ تین بار پے در پے یہ دعا پڑھی: «اللهم اجعل مماتی شهادة فی سبیلک» اور ایک لمحے سر اٹھایا اور کہا: «خدایا! میرے تمام گناہ بخش دے اور مجھے شہید کر دے۔»
— سردار سعید قاسمی
ہفتہ کی صبح ۶:۳۰ بجے مجھے آوینی کے زخمی ہونے کی خبر دی گئی، لیکن میرے دل کو یقین تھا کہ وہ شہید ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود چند لمحوں کے لیے میں نے عقل کی بات مان لی: «وہ اب بھی سوچ سکتے ہیں اور قلم اٹھا سکتے ہیں، اب بھی اپنی آواز سے، جو گزشتہ چند مہینوں سے بیٹھ گئی تھی ، راویت فتح پڑھ سکتے ہیں، تو کوئی بات نہیں۔» میں نے سوچا: «ایسا کیوں ہوا کہ جتنا علاج کیا، آواز کی مشکل ختم نہیں ہوئی، حالانکہ ڈاکٹر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ گلا جو اسلام کی خدمت میں ہے، بہت جلد شفایاب ہوگا۔» جب شہادت کی خبر سنی تو سمجھ آئی کہ امام خمینی (رح) نے رات کو شاعری کی زبان میں یہ خبر مجھے کیسے دی تھی اور میں نہ سمجھی اور یہ کیا داستان ہے کہ امام خمینی (رح) اُن کے حقیقی دوست کی جانب حتمی سفر کی نوید سنا رہے تھے؟ عادتیں وہ بندشیں ہیں جنہوں نے ہمیں جکڑ رکھا ہے اور یہاں تک کہ جب ایسی نشانیاں ہم پر نازل ہوتی ہیں، تب بھی پردے میں ہیں اور غافل۔
— شہید کی اہلیہ
سید مرتضی کی شہادت کی خبر سن کر میں نے خود بچوں کو یہ خبر دینا چاہی، اسی لیے دوپہر کو اسکول سے واپسی پر اُن سے کہا: «ابا ہیں، ہمیشہ ہیں، بس ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے اور یہ زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔» حقیقی انسان فنا میں ہی حیات پاتا ہے اور دوسروں کو بھی حیات دیتا ہے اور یہ مقدر ہے کہ وہ ظاہری زندگی میں چند اہل دل کے سوا ناشناس رہے، اُن کی تنہائی اور غربت بھی آخری دن تک اس معنی کی تائید کرتی رہی۔
جنازے کے روز اتنے سارے سوگواروں کو دیکھ کر میں لرز اٹھی۔ وہ اپنی تنہائی میں اتنا عشق رکھتے تھے؟ بہت کہا اور سنا کہ وہ شہادت کے لائق تھے۔ شہادت ان کا حق تھی۔ شہادت کا دروازہ اہل لوگوں کے لیے کھلا ہے۔ میں کیسے مان لوں؟
یہ زمانہ شہادت کا زمانہ نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ جاودانگی کے طلبگار تھے۔ موت سے نہیں ڈرتے تھے اور مانتے تھے کہ یہ بدن کیڑے پالنے کی جگہ نہیں، ایک خول ہے جسے تتلی پھاڑ کر نکلتی ہے اور ولایت کے شمع کے گرد طواف کرتی ہے یہاں تک کہ خود شمع بن جاتی ہے اور عشق، کربلا، «هل من ناصر ینصرنی» کی صدا جو تمام ادوار کا حق طلبی کا نعرہ ہے، کی مدح میں لبیک کہتی ہے، اُنہوں نے کربلا کو فکہ میں پایا اور وہیں سے امام حسین (ع) کے یاروں سے جا ملے۔
— شہید کی اہلیہ
بہشت زہرا (س) میں اُن کے والد کے گرد گھیرا تھا، وہ پرسکون اور مطمئن تھے، بالکل خود آقا مرتضی کی طرح، جب غسل خانے کے شیشے کے پیچھے سے اُنہیں اُس کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ دیکھا۔ ایک عورت آئی تھی جس کی آنکھیں رونے سے سرخ تھیں، لگتا تھا کسی شہید کی ماں ہے، کہنے لگی: «برسوں سے اس آواز پر روئی چلی آئی ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آپ کے صاحب زادے ہیں۔ وہ ہم سب کا بیٹا ہے، خوش نصیب ہیں آپ لوگ۔»
— علیرضا قزوه، شاعر و نویسنده
ماخذ: کتاب «شہید ثقافت؛ شہید سید مرتضی آوینی در آینہ خاطرات»، مؤلف: یاسر عسگری، دفتر نشر معارف، ۱۳۹۲، صص ۱۶۵–۱۵۴۔
صارفین کی تعداد: 2
گذشتہ مطالب
- راوی کا آخری سفر
- انقلابی حلقوں سے اسلامی حکومت کے فوجی بازو تک
- جنگ کے بعد شہر مشہد ایک زائر کی نگاہ سے
- کاکِ خاک (خاک کا بھائی)
- دفاع مقدس میں کمانڈروں اور عام مجاہدین کی روایات کا موازنہ
- ماموستا 72
- شہر دامغان کے ۱۱ محرم بمطابق ۱۲ دسمبر ۱۹۷۸ کا واقعہ
- دفاعِ مقدس میں خواتین اور مردوں کی تحریری یادداشتوں کا موازنہ
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
راوی کا آخری سفر
بہشت زہرا (س) میں اُن کے والد کے گرد گھیرا تھا، وہ پرسکون اور مطمئن تھے، بالکل خود آقا مرتضی کی طرح، جب غسل خانے کے شیشے کے پیچھے سے اُنہیں اُس کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ دیکھا۔ ایک عورت آئی تھی جس کی آنکھیں رونے سے سرخ تھیں، لگتا تھا کسی شہید کی ماں ہے، کہنے لگی: «برسوں سے اس آواز پر روئی چلی آئی ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آپ کے صاحب زادے ہیں۔ وہ ہم سب کا بیٹا ہے، خوش نصیب ہیں آپ لوگ۔»"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
