یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں

فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2026-7-19


1997 کے خزاں کے ایک دن، میں علامہ طباطبائی یونیورسٹی کے شعبہ معاشرتی علوم (فیکلٹی آف سوشل سائنسز) کی طالبات کی اسلامی انجمن اور بسیج کے مشترکہ دفتر میں داخل ہوئی۔ ایک نوجوان لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جسے میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میرے ایک دوست نے اس کا تعارف کرایا: "یہ زہرا حداد عادل ہیں؛ ڈاکٹر حداد عادل صاحب کی بیٹی۔" میں ڈاکٹر حداد عادل کو جانتی تھی؛ وہ یونیورسٹی کے ممتاز اور معروف پروفیسرز میں سے تھے۔

یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ کالج کا صحن اور عمارت چھوٹی تھی اور قدرتی طور پر طلباء ایک دوسرے کو اکثر دیکھتے تھے۔ کبھی کبھی میں زہرا حداد عادل کو کالج کے صحن، نماز خانے یا بسیج کے دفتر میں دیکھتی تھی، لیکن ان کے قریب نہیں جاتی تھی۔ میں ان لوگوں کے رویے کے بارے میں حساس تھی جو اپنی خاندانی حیثیت پر مغرور ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے کچھ عرصہ میں نے دور سے ان کے رویے کا مشاہدہ کیا۔ میں دیکھتی تھی کہ وہ ایک عام طالبہ کی طرح اپنے دوستوں اور ہم جماعتوں کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہیں۔ ان کی قریبی دوستیں بھی صرف حجاب لڑکیاں نہیں تھیں۔ وہ دو لڑکیوں کے ساتھ جو کوٹ اور مقنعہ پہنتی تھیں، دوسروں کی نسبت زیادہ قریبی تھیں۔ ایک بار میں نے انہیں فرہنگ اسکول سے پڑھی ہوئی ایک لڑکی کے ساتھ گفتگو کرتے بھی دیکھا جو ان سے ایک سال چھوٹی تھی۔ وہ بہت آسانی سے گھل مل کر ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔ گویا وہ اس اسکول کے پرنسپل کی بیٹی نہیں تھیں۔ میری سوچ کے برعکس، وہ پرجوش، گرم دل، خوش اخلاق اور بے تکلف تھیں۔ بہت جلد بات چیت شروع کر دیتی تھیں۔ اپنے ساتھ پیش آنے والے دلچسپ واقعات سناتی تھیں۔ ان تمام رویوں نے ان کے بارے میں میری ذہنیت بدل دی۔

چند ماہ بعد، ان کی شادی رہبر انقلاب کے فرزند [آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنه‌ای] سے ہو گئی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ صرف ایک تقریب ہوئی تھی اور سب کچھ انتہائی سادگی سے منعقد ہوا تھا۔

اپنے طالب علمی کے زمانے میں ان سے جو کچھ دیکھا، اس میں سے چند تصاویر میرے ذہن میں سب سے زیادہ منقش ہیں؛ ایسی تصاویر جن میں سے ہر ایک نے ان کی شخصیت کا ایک حصہ میرے لیے مزید واضح کر دیا۔

شادی اور خاندانی حیثیت میں تبدیلی سے ان کی سادگی اور صمیمیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ نہ ان کے دوستوں کے ساتھ تعلقات بدلے اور نہ ہی دوسروں کے ساتھ ان کے برتاؤ میں کوئی فرق نظر آیا۔ وہ ہمیشہ گفتگو میں حصہ لیتیں، مختلف موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کرتیں اور مشکلات کے لیے حل تجویز کرتیں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر میں کبھی شرمندہ نہیں ہوئی، لیکن ساتھ ہی، ان کے رویے میں ایک خاص وقار تھا جو انسان میں احترام پیدا کرتا تھا۔

سادگی صرف ان کے رویے میں نہیں دیکھی؛ ان کے طرزِ زندگی میں بھی ایسا ہی تھا۔ ایک بار ہم خریداری کے بارے میں بات کر رہے تھے اور خود پر تنقید کر رہے تھے کہ کبھی کبھی ضروری اشیاء کے ساتھ وہ چیزیں بھی خرید لیتے ہیں جن کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا: "میرے پاس اس کا ایک حل ہے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے، میں اپنی ضرورت کی اشیاء کی فہرست کاغذ پر لکھ لیتی ہوں۔" یہ سوچ میں نے ان کے دوسرے رویوں میں بھی دیکھی۔ وہ ہمیشہ آراستہ اور مرتب رہتیں، لیکن اسراف سے پرہیز کرتیں۔ اگر ان کی چادر کا کوئی کونا پھٹ جاتا، تو وہ اسے سی کر دوبارہ استعمال کرتیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے رویے ظاہر کرتے تھے کہ وسائل کا صحیح استعمال ان کی طرزِ زندگی کا حصہ تھا۔

ان کی سب سے یادگار یادداشتوں میں سے ایک اس دن کی ہے جب میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک ضرورت مند کی مدد کے لیے پیسے جمع کر رہی تھی۔ اس دن، زہرا اپنی چند ہم جماعتوں کے ساتھ صحن میں گفتگو میں مصروف تھیں۔ جب ہم نے موضوع اٹھایا، تو انہوں نے فوراً اپنا بٹوہ نکالا، اسے کھولا، ہماری طرف بڑھایا اور کہا: "آپ خود جتنا چاہیں لے لیں۔"

آزادی اظہار اور ذمہ داری کا احساس ان کے فیصلوں میں بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ مجلس خبرگان کے انتخابات کے سال، میں کئی امیدواروں کے درمیان تردید کا شکار تھی۔ ایک دن میں نے ان سے پوچھا: "آپ کس کو ووٹ دیں گی"؟ انہوں نے کہا: "میری فہرست ابھی مکمل نہیں ہوئی۔" میں نے حیرت سے کہا: "کیا آپ اپنے شوہر سے نہیں پوچھتیں کہ کن لوگوں کو ووٹ دوں"؟ انہوں نے کہا: "میرے شوہر نے کہا کہ تمہیں خود امیدواروں کا انتخاب کرنا چاہیے۔"

فن سے ان کی دلچسپی بھی ابتدائی سالوں سے ظاہر تھی۔ ۱۹۹۰ کی دہائی میں، کم از کم ہمارے کالج میں، موسیقی بجانا زیادہ رائج نہیں تھا۔ ان دنوں، میں جہاد یونیورسٹی  کے ثقافتی شعبے میں سرگرم تھی۔ ایک دن میں نے علیرضا افتخاری کا نغمہ "امان از جدایی" کیسٹ میں لگایا اور آواز تھوڑی تیز کر دی تاکہ صحن میں بھی سنائی دے۔ چند منٹ بعد، جہاد کا شیشے کا دروازہ کھلا اور زہرا حداد عادل، اپنی ایک ہم جماعت کے ساتھ، مسکراتی ہوئی دفتر میں داخل ہوئیں۔ ہم گھنٹوں ساتھ بیٹھے رہے اور فن کے بارے میں باتیں کیں۔ ان کا ماننا تھا کہ بہت سے سماجی اور ثقافتی مسائل کو فن کی زبان سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ وہ سب سے زیادہ تھیٹر پسند کرتی تھیں اور ہدایت کاری، اسٹیج سیٹنگ اور ڈرامے کے اسلوبِ کارکردگی پر خاص توجہ دیتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ یہ دلچسپی انہیں اپنے شہید چچا [مجید حداد عادل] سے وراثت میں ملی ہے۔

فن اور ثقافتی مسائل کے بارے میں ہماری گفتگو طالب علمی کے اختتام تک جاری رہی۔

پاس آؤٹ ہونے کے بعد بھی ہمارا تعلق برقرار رہا۔ اگرچہ ہماری ملاقاتیں طالب علمی کے زمانے کی طرح مسلسل نہیں تھیں، لیکن مشترکہ ثقافتی اور سماجی دلچسپیاں ہماری ملاقات اور گفتگو کا بہانہ بنتی رہیں۔ ان ملاقاتوں کے علاوہ، میں نے اتفاقیہ طور پر دو بار انہیں دیکھا۔

پہلی بار، ۲۰۰۹ کا یوم القدس تھا۔ ریلی کے بعد، تہران یونیورسٹی کے قریب ایک گلی میں نماز ادا کرنے کی جگہ تلاش کر رہی تھی کہ میں نے انہیں دیکھا۔ نماز کی ایک صف میں، لوگوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ میں بہت خوش ہوئی۔ آگے بڑھی اور سلام دعا کی۔ اگرچہ آخری ملاقات کو کافی عرصہ گزر چکا تھا، لیکن انہوں نے اپنے معمول کے گرم اور مانوس لہجے میں کہا: "اتفاقاً کچھ دنوں پہلے تمہیں یاد کر رہی تھی۔"

آخری بار، ۲۰۱۰ کی دہائی کے آخر کے یوم القدس میں، کورونا وائرس کی وبا سے پہلے، میں نے انہیں دیکھا۔ میں خیابان انقلاب کی طرف جا رہی تھی کہ ریلی میں ان کی موجودگی محسوس ہوئی۔ وہ ایک بچوں کی پرام دھکیل رہی تھیں۔ میں دائیں جانب چل رہی تھی اور وہ سڑک کے بیچ، ہجوم کے درمیان تھیں۔ بسوں کے لیے مخصوص راستے کو نجی گاڑیوں سے الگ کرنے والی ریلنگ کی وجہ سے میں ان تک نہیں پہنچ سکی اور سلام نہیں کر سکی۔ کئی بار ہاتھ سے اشارہ کیا، لیکن انہوں نے دیکھا نہیں۔ ان کا ایک محافظ، جو تھوڑا پیچھے چل رہا تھا، نے مجھے دیکھا۔ اشارے سے میں نے اسے کہا کہ زہرا خانم کو بتائیں کہ میں ان سے ملنا چاہتی ہوں، لیکن چونکہ وہ مجھے نہیں جانتا تھا، اس لیے اس نے میرا پیغام نہیں پہنچایا۔

جب میں اپنے آشنائی کے سالوں کے بارے میں سوچتی ہوں، تو دیکھتی ہوں کہ ان تمام سالوں میں، ان کی سماجی اور سیاسی حیثیت کئی بار بدلی۔ جب میں ان سے ملی، ان کے والد یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسرز میں سے تھے۔ پھر وہ مجلس (پارلیمنٹ) کے رکن بنے، پھر مجلس کے اسپیکر بنے اور کئی سال بعد فارسی زبان و ادب کی اکیڈمی کے سربراہ بھی بنے۔ خود زہرا رہبر انقلاب کی بہو بنیں۔ اس سب کے باوجود، جب بھی میں نے انہیں دیکھا، میں نے ان کے رویے میں وہی سادگی، صمیمیت اور وقار پایا۔ اگر کوئی تبدیلی آئی بھی تھی، تو وہ پہلے سے زیادہ پختہ اور متین ہو گئی تھیں۔

جس دن مجھے ان کی شہادت کی خبر ملی، میری حالت عجیب تھی۔ میرے خاندان، رشتہ داروں اور جاننے والوں میں شہید کم نہیں ہیں، لیکن اس دن تک، میرا کوئی دوست نہیں تھا جو شہید ہوا ہو۔

جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔

ان تمام سالوں میں، ان کی سماجی اور سیاسی حیثیت میں تبدیلی کے باوجود، ہمارے درمیان کوئی فاصلہ نہیں آیا، لیکن اب، ہمارے درمیان ایسا فاصلہ آ گیا ہے جو کسی ملاقات سے ختم نہیں ہو سکتا؛ ایک ایسا فاصلہ جو حسرت اور رشک سے بھرا ہوا ہے!



 
صارفین کی تعداد: 6


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (3 + 1) :
 

یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں

جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔