کتاب کا تعارف: خون بہتا رہا (خون می‌گذشت)

محیا حافظی
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-8-16


کتاب "خون بہتا رہا" (خون می‌گذشت) حاج محمد آقا رسول زادہ کی زندگی پر مبنی ایک دستاویزی سوانح حیات ہے، جسے ہادی لطفی نے تحریر کیا ہے۔ یہ سوانح حیات مصنف کے توسط سے ساٹھ افراد کے ساتھ کیے گئے انٹرویوز، مستند دستاویزات کے جائزے اور کئی گھنٹوں کی گہری تحقیق کا نچوڑ ہے۔

رسول زادہ کاشان کے ان ممتاز مجاہدین میں سے تھے جنہوں نے انقلاب کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ جنابِ نواب صفوی سے شناسائی کے بعد انہوں نے کاشان میں "فدائیانِ اسلام" کی شاخ قائم کی۔ انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر فعال کردار ادا کیا اور حکومتِ پہلوی کے خلاف جدوجہد میں امام خمینی (رح) کی تحریک کے ساتھ منسلک رہے۔ ان کی شخصیت کا اثر ایسا تھا کہ امام (رح) کاشان جانے والے طلبہ سے فرمایا کرتے تھے: "اگر تمہیں علماء سے جواب نہ ملے، تو بازار جا کر رسول زادہ سے ملو۔"

رسول زادہ ۱۹۱۳ میں کاشان میں پیدا ہوئے اور ۱۹۸۸ میں رمضان کے وسط میں داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ کتاب کی داستان ۱۹۲۴ کے موسم گرما سے شروع ہوتی ہے جب حاج محمد آقا محض گیارہ برس کے تھے، اور داستان ان کی وفات تک جاری رہتی ہے۔

یہ کتاب روایتی طرز کے برعکس کسی مقدمہ یا پیش لفظ سے آغاز نہیں کرتی، بلکہ شناختی صفحہ اور فہرست کے بعد براہِ راست پہلے باب میں داخل ہوتی ہے۔ کتاب کی تحریر بیس ابواب پر مشتمل ہے، جس کے بعد ایک خصوصی باب "اور... اختتام" شامل ہے۔ کتاب کے آخر میں "اور اس کے بعد" کے عنوان سے ایک حصہ ہے جس میں مصنف نے کام کرنے کے طریقے اور یادیں بیان کرنے والوں کی تصاویر کے بارے میں وضاحت کی ہے۔

کتاب کے بہت سے ابواب کے آغاز میں کاشان کے مختلف مقامات کی تصاویر دی گئی ہیں جو متن کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ ہر باب کے عنوان کے اوپر کوئی قول یا قرآن کریم کی آیات کا ترجمہ (بغیر کسی حوالے کے) درج ہے، جو تحریر میں روحانیت کا رنگ بھرتا ہے۔

کتاب کی کہانی پہلے باب "خون تک" سے شروع ہوتی ہے، جس میں حاج محمد آقا کے والد 'امام رسول' کی زبانی کاشان کے 'باغِ فین' میں امیر کبیر کے قتل کا افسوسناک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد محمد آقا کی پیدائش اور بچپن کے واقعات، بشمول ان کی والدہ کی وفات، کو کہانی کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔

دوسرے سے بیسویں باب کے عنوانات اور ان کے زمانے کی ترتیب کچھ اس طرح ہے:

"باغی شاہ" (۱۹۲۵)، "باپ کے نقشِ قدم پر"(۱۹۴۱)، "جاسوس برجیس"(۱۹۴۵)، "اپنائیت سے عاری خون"(۱۹۴۹)، "زنجیروں میں شیر"(۱۹۵۰)، "سبوحٌ قدوس" (۱۹۵۲)، "تحریک کی بوچھاڑ!" (۱۹۵۵)، "مرجعیت کی تدفین" (۱۹۵۶)، "بنی الزہرا" (۱۹۶۳)، "شہر میں شورش" (۱۹۶۳)، "موسیٰ اور فرعون" (۱۹۶۴)، "شیعہ شاہ کا قتل!" (۱۹۶۵)، "قلم بیچنے والا بوڑھا"(۱۹۶۶)، "مٹھی اور جھنڈا" (۱۹۷۰)، "بازار کے حکم پر شہر" (۱۹۷۷)، "حکومتِ اللہ"(۱۹۷۸)، "جنگ کا بگل" (۱۹۸۰)، "جان کی قربانی" (۱۹۸۲)، "سرخ آسمان" (۱۹۸۵)، اور آخر میں "گلاب کے سیب کی خوشبو" (۱۹۸۸) جو رسول زادہ کی وفات کی روداد ہے۔

مصنف کے مطابق، کتاب میں ذکر کی گئی تمام شخصیات حقیقی ہیں اور صرف چار جگہوں پر فرضی نام استعمال کیے گئے ہیں۔ متن کے درمیان جگہ جگہ اس موضوع سے متعلق مختلف اخبارات کی تراشے ہوئے ٹکڑے اور دستاویزات بھی شامل کی گئی ہیں۔

کتاب کے سرورق پر ایک سرخ رنگ کا اسٹول (چوپایہ) نظر آتا ہے جس پر خون کے نشانات ہیں جو پیچھے کی جلد تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کتاب کے پچھلے حصے پر ایک اقتباس کچھ یوں ہے:

"بنی الزہرا کے سوگ کا دستہ بازار میں داخل ہوا۔ ساتھ چلنے والا ہجوم ایک مشہور تنظیم کی پہچان رکھتا تھا۔ بازار کے وسط میں حاج محمد آقا اسٹول پر کھڑے ہوئے تھے۔ تمام دکاندار اور راہگیر جمع ہو گئے۔

وہاں انہوں نے کہا: 'جب نواب (صفوی) کو جب گولی ماری کر شہید کیا جا رہا تھا، تو انہوں نے اپنی آنکھیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی۔ کیا آپ کو ان کے الفاظ "سبوحٌ قدوس" یاد ہیں؟ کیا آپ کو یاد ہے کہ وہ کہتے تھے کہ اب ہم جاگ چکے ہیں، کہیں ہم دوبارہ نیند کی وادی میں نہ چلے جائیں!'"

کتاب "خون بہتا رہا" کا پہلا ایڈیشن ۲۰۲۲ (۱۴۰۱) میں 'انتشاراتِ راہ یار' نے شائع کیا، جو ۲۸۰ صفحات پر مشتمل ہے، جس کی تعداد ۱۰۰۰ نسخے اور قیمت ۸۰ ہزار تومان مقرر کی گئی ہے۔



 
صارفین کی تعداد: 10


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (1 + 5) :
 

محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں سے ایک اقتباس

کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔