پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 71

مصنف: علی رستمی

ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2026-8-12


اورامانات میں سیاسی اور عسکری تحریکوں کا آغاز(پہلا حصہ)

اورامانات کی سرحدوں اور کُردستان کے محتلف علاقوں سے افسوسناک خبریں ہم تک پہنچ رہی تھیں۔ شمالی کُردستان میں ملٹری بیس اور ہیڈکوارٹروں کو غیر مسلح کیے جانے کی خبریں ہمارے لیے بہت تکلیف دہ اور ناگوار تھیں، لیکن سچ تھیں۔ آہستہ آہستہ مریوان میں مسلح تصادم کی خبریں ہماری روح کو تڑپاتی جارہی تھیں۔ جو پارٹی قوم کے ثقافتی اور قومی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی تھی، وہ ہتھیار اٹھا کر اپنی ہی ملک کی فوج کے مد مقابل آکھڑی ہوئی تھی۔ ہم روزانہ دونوں طرف کے لوگوں کو مرتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ اگرچہ مختلف کُرد علاقوں میں ایک تجربہ کار اور آگاہ گروہ، خیرخواہی کرتے ہوئے انہیں، ان پرتشدد کاروائیوں سے روک رہا تھا، لیکن کوئی بھی یہ نصیحتیں سننے کو تیار نہیں تھا اور ملک کے دشمن باآسانی ان سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے تھے۔ عراقی بعث پارٹی کے ایجنٹس، ساواکی اور شاہ پرست ان کی صفوں میں شامل ہوچکے تھے اور انہیں بربادی کی طرف لے جانے میں مصروف عمل تھے۔ اب بہت دیر ہوچکی تھی اور کسی میں بھی عوام اور نوجوانوں کے جذبات کو قابو کرنے کی طاقت نہیں تھی۔

5 جولائی 1979 کو شاہ پرستوں، بائیں بازو کے گروہوں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنوں پر مشتمل ایک گروہ نے پہلے سے منصوبہ بندی کرکے، سریاس کے مشرقی علاقے میں اپنے حامیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔ کئی سو لوگوں پر مشتمل اس اجتماع میں، بہت سے ممتاز شاہ پرست اور بائیں بازو کی مشہور شخصیات شریک تھیں۔ اشتعال انگیز تقریروں کے بعد ایک قرارداد کے ضمن میں انہوں نے کُرد قوم کے حقوق کے حصول تک، مزاحمت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ سرکاری طور پر یہ اعلان کیا تھا کہ صرف وہی لوگ، اورامانات کی عوام کے حقیقی نمائندے ہیں اور بالواسطہ طور پر انہوں نے جمعیت طرفداران حکومت قرآن پاوہ کے کُردوں کے حقیقی نمائندہ ہونے کا انکار کردیا تھا اور انہوں نے مرکزی حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کُرد قوم کے قومی حقوق کے حوالے سے ان لوگوں سے مذاکرات نہ کیے جائیں۔

سریاس کی قرارداد کی اشاعت کے بعد، ’’انجمن اسلامی طلبائے پاوہ‘‘[i] کے نام سے کچھ یونیورسٹی طلباء نے کسی مخصوص سیاسی وابستگی سے ہٹ کر اور ایک تجزیاتی بیانیہ جاری کرتے ہوئے، سریاس کے اجتماع کو ڈیموکریٹک پارٹی کی اکٹھا کی ہوئی بھیڑ قرار دیا اور انہیں ان کی اکثر عوام کی نمائندگی کو مسترد کیا یہاں تک کہ انہیں کُرد قوم کی اقلیت قرار دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں یہ اعلان کیا کہ اس اجتماع کے منتظمین اور قرارداد پیش کرنے والوں کی جہالت، چیخ چیخ کر یہ کہہ رہی ہے کہ ’’تاریخ فقط صدای غرش غالب و ضجۂ مغلوب است / تاریخ صرف غالب کی دہاڑ اور مغلوب کے کراہنے کی آواز ہے‘‘۔’’خدا اور خلق کے نام سے‘‘ کی عبارت سے شروع ہونے والے اس تجزیاتی بیانیے کے آخری پیراگراف میں ہمدردی اور اتمام حجت کی غرض سے ظلم سے لڑنے کا سابقہ رکھنے والی ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں سے یہ کہا گیا تھا کہ ’’خطے میں اپنی پارٹی اور گروہ پر بندوق کو راج نہ کرنے دینا‘‘۔ بدقسمتی سے، کچھ وقت نہیں گزرا تھا کہ غیرملکی دشمنوں کی اشتعال انگیزی اور علاقے میں قوم پرست اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے نمائندوں کی سادگی کے باعث، بندوق ان کے قلم اور دماغ پر راج کرنے لگی؛ اس طرح سے کہ ملٹری بیسز سے لوٹی گئیں یا عراق سے درآمد شدہ بندوقیں، کُردستان کے شہروں کے بازاروں میں ٹافیوں کی طرح بیچی اور خریدی جا رہی تھیں اور خطے کی عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کا ایک خطرناک ذریعہ بن چکی تھیں۔

14 جولائی 1979 کو مریوان کے سپاہ(بیس) پر اسلامی جمہوریہ کے مخالفین نے قبضہ کرلیا تھا اور اس دوران مریوان کے 24 پاسداران، شہید اور قریب 40 پاسداران زخمی ہوئے تھے۔ ہم جانتے تھے کہ ان کا اگلا حملہ، پاوہ شہر پر ہوگا۔

جولائی 1979 کے وسط میں، ایک دن ملا احمد بہرامی صاحب، جو ان دنوں باینگان ضلع میں زردوئی گاؤں کے امام جماعت اور امام جمعہ تھے، ہمارے گھر آئے، ان کے پاس بارڈر سے متعلق تشویشناک خبریں تھیں۔ انہوں نے کہا: ’’میرے پاس پکی خبر ہے کہ بارڈر کی دونوں جانب ایک گروہ، پاوہ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور میں پریشان ہوں کہ جو کچھ مریوان میں ہوا، کہیں وہ پاوہ میں بھی نہ ہوجائے۔‘‘

میں ملا احمد کے ساتھ ہلال احمر پہاڑی(فوجی پہاڑی) پر گیا اور ہم نے پاوہ کی سپاہ کے کمانڈر ذوالفقاری صاحب کے ساتھ ایک گھنٹے کی میٹنگ کے دوران اپنی پریشانی کو بیان کیا۔ بدقسمتی سے وہ بروقت احتیاطی تدابیر اپنانے کے لیے ہماری مستند خبروں کو اپنے اعلیٰ افسران تک پہنچانے پر تیار نہیں ہوئے اور نہ ہی اس نے واقعے کے رونما ہونے سے پہلے اس کی روک تھام کے لیے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی۔ اس نے ہماری تمام تر پریشانیوں پر اطمینان سے کہا: ’’انہیں پاوہ پر حملہ کرنے دیں۔ کچھ لوگ اس طرف کے اور کچھ لوگ اس طرف کے مارے جائیں گے، پھر تہران سے کوئی صلح کمیٹی آئے گی اور جیسا کہ سنندج میں ڈاکٹر بہشتی[ii] اور ڈاکٹر بنی صدر[iii] نے آکر تنازعات کو حل کردیا تھا، کوئی گروہ پاوہ آئے گا اور تنازعات حل ہوجائیں گے۔‘‘

ہم پاوہ کے مدرسۂ قرآن میں اسلامی افکار اور ثقافت کی تعلیم اور اشاعت میں مصروف تھے اور پوری طرح سے ثقافتی راستے پر چل رہے تھے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے برخلاف ہمارا ماننا تھا کہ اسلامی حکومت میں مُسلم کُرد عوام کو ان کے تمام حقوق دیے جائیں گے اور اس کے لیے اسلحے یا جنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بدقسمتی سے ہماری باتیں کسی کو بھا نہیں رہی تھیں اور اکثر لوگ جھوٹے جذبات کے ساتھ جنگ لڑنا چاہ رہے تھے اور ان سخت خیالات اور پرتشدد کاموں کے باعث، پاوہ اور اورامانات کے حالات خراب ہوچکے تھے اور عوام کے جذبات کا غلط فائدہ اٹھائے جانے کی وجہ سے خطہ ایک جدید بحران کی جانب بڑھ رہا تھا۔

 


[i]  پاوہ کاؤنٹی میں مذہبی یونیورسٹی طلباء پر مشتمل ایک انقلابی تنظیم، جن میں شوکت سابقی، باقر ضیائی، حبیب اللہ مستوفی، سیف الدین سیف الدینی، معصوم صفیعی، محمد نظیف پیرمغان اور محمد رحیم امینی جیسے طلباء شامل تھے۔

[ii]  سید محمد حسینی بہشتی سن 1928 میں اصفہان میں پیدا ہوئے، آپ ایک سیاستدان، ایک فقیہ، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد ملک کے پہلے چیف جسٹس، اسلامی جمہوریہ پارٹی کے پہلے سیکریٹری جنرل اور مجلس آئینی ماہرین(آئین کے حتمی جائزے کی اسمبلی) کے پہلے نائب صدر تھے۔ آیت اللہ بہشتی کو منافقین نے 28 جون 1981 کو اسلامی جمہوریہ پارٹی کے دفتر میں بم دھماکہ کرکے شہید کردیا تھا۔

[iii]  سید ابوالحسن بنی صدر، سن 1933 میں ہمدان میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک سیاستدان اور ماہر اقتصادیات تھے جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ایک سال بعد پہلے صدر منتخب ہوئے۔ شروع میں انہیں امام خمینی کی حمایت حاصل تھی اور وہ چیف آف آرمی اسٹاف اور انقلاب اسلامی کونسل کے صدر کے عہدوں تک پہنچے۔ جون 1981 کے وسط میں اسلامی مجلس شوریٰ کے نمائندوں کی ووٹنگ کے نتیجے میں انہیں سیاسی طور پر نااہل قرار دے دیا گیا اور دو ماہ بعد وہ فرانس فرار ہوگئے۔



 
صارفین کی تعداد: 4


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (6 + 2) :
 

محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں سے ایک اقتباس

کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔