شہید سید مرتضیٰ آوینی کی زندگی کے آخری چند واقعات

راوی کا آخری سفر

انتخاب: محیا حافظی

ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-6-3


نو اپریل، شہید سید مرتضیٰ آوینی کی برسی کا دن ہے؛ وہ مستند ساز اور آٹھ سالہ عراق-ایران جنگ کے وہ نامور راوی، جن کا سفرِ عشق بالآخر "فکہ" کے تپتے صحراؤں میں شہدائے کربلا کے قافلے سے جا ملا۔ کتاب "شہیدِ فرہنگ؛ شہید سید مرتضیٰ آوینی در آیینہ خاطرات" ان کی زندگی کے مختلف ادوار اور سرگرمیوں پر محیط مختلف یادوں کا مجموعہ ہے۔ تاہم، ان کے یومِ شہادت کی مناسبت سے ہم نے اس تحریر میں محض ان روایتوں کا انتخاب کیا ہے جو ان کے آخری ایام کی کیفیات، عشق شہادت میں ان کی کیفیت اور لمحۂ شہادت کی تصویر کشی کرتی ہیں۔ درج ذیل سطور ان کی شریکِ حیات، دوستوں اور ہم محاذ ساتھیوں کی زبانی وہ روشن، پُرخلوص اور بلاواسطہ مشاہدات ہیں، جو ہمیں اس عظیم شخصیت کی زندگی کے آخری ایام کا ہم سفر بناتے ہیں۔

 

شریکِ حیات کی زبانی

آخری دنوں میں جب وہ "فکہ" گئے اور کام ادھورا چھوڑ کر واپس آئے، تو کہنے لگے کہ دو تین دن بعد مجھے دوبارہ فکہ جانا ہوگا۔ ان چند دنوں میں، مَیں نے انہیں بہت زیادہ ملول اور رنجیدہ پایا۔ میں مسلسل پوچھتی کہ آپ اتنے افسردہ اور اداس کیوں ہیں؟ مگر میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی ایسا واقعہ پیش آنے والا ہے کہ جس کی خاطر وہ دوبارہ لوٹ کر جا رہے ہیں۔ لیکن آج جب میں ان چند دنوں پر نظر دوڑاتی ہوں، تو مجھے پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ (اپنی شہادت سے) باخبر تھے۔

ان آخری ایک دو دنوں میں ہماری آخری گفتگو، آنے والے دنوں کے کسی کام کے بارے میں تھی۔ میں نے کہا: "ان شاء اللہ یہ کام آپ کی واپسی کے بعد بھی ہو سکتا ہے"۔مگر انہوں نے اپنا سر جھکالیا اور پھر ہمارے درمیان کوئی بات نہ ہوئی۔

آج جب میں ان کی تصاویر کو دیکھتی ہوں، تو مجھے اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی عنقریب شہادت سے آگاہ تھے۔ انہی آخری دنوں میں جب میں نے انہیں کوئی مشورہ دیا، تو کہنے لگے: "اس کام میں ابھی مصلحت نہیں ہے۔ اس وقت میرے لیے اتنی مشکلات کھڑی کر دی گئی ہیں کہ اگر میری جگہ کوئی اور مضبوط سے مضبوط اعصاب کا مالک شخص بھی ہوتا تو وہ بھی ہمت ہار جاتا۔ میرا سہارا تو بس اللہ ہی کی ذات ہے جس کے باعث آج بھی کھڑا ہوں"۔

 

نادر طالب زادہ کی زبانی

ان کے فکہ کے آخری سفر کے موقع پر میں نے ان سے کہا تھا: "آقا مرتضیٰ! اگلے سفر میں میں آپ کے ساتھ چلوں گا اور پورے سفر کو "اسٹیڈی کیم" سے محفوظ کروں گا"۔ مرتضیٰ نے کہا: "واہ! بہت اچھا آئیڈیا ہے"۔ درحقیقت میں یہ چاہتا تھا کہ اگلے سفر میں ہمیں فکہ کو نہیں، بلکہ آوینی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنا ہے۔

بعد ازاں، میں نے اسی طرز کے کچھ کام کیے۔ اس سے پہلے ہم ان کے ساتھ بوسنیا گئے تھے، جہاں میں نے ان کے اور آقا نصیری کے بارے میں "آگ میں نمو" (رویش در آتش) کے نام سے تین قسطوں پر مشتمل ایک ڈاکومنٹری بنائی تھی۔ اپنے آخری سفر سے قبل، جہاں سعید قاسمی کے ہمراہ انہوں نے فکہ میں شہدائے "والفجرِ مقدماتی" کے مقتل کی درست جگہ تلاش کر لی تھی، ہمارا ارادہ تھا کہ ساتھ چلیں گے اور فلم بنائیں گے، مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

 

سید صالح موسوی کی زبانی

تعطیلات کے ان ایام میں، جب سب اپنے اہل خانہ کے ساتھ خوشیاں منانے میں مگن تھے، وہ محاذ پر آ گئے۔ وہ وہیں آئے جو ان کی اصل جگہ تھی۔ رات کے دس بجے دروازے پر دستک ہوئی، دیکھا تو سید کھڑے تھے۔ کہنے لگے: "سید! میں تم سے ملنے آیا ہوں تاکہ میرا کچھ حوصلہ بلند ہو..."۔ وہ 'روایتِ فتح' گروہ کے راوی برادران کے ساتھ آئے تھے۔ کہنے لگے: "سید! ہم فکہ جانا چاہتے ہیں"۔ میں نے کہا: "ارے بندۂ خدا! ان چھٹیوں کے دنوں میں؟!"

 

رمضانی (عکاس و فلمبردار) کی زبانی

ہر روز صبح سے شام تک ہم فکہ جاتے اور انٹرویو ریکارڈ کرتے۔ رات کو سونے اور آرام کرنے کے لیے "برقازہ" آ جاتے۔ دوست نہایت عجیب اور خوبصورت یادیں سناتے اور صاف ظاہر تھا کہ حاجی (آوینی) ان سے بہت متاثر اور پرامید ہوئے ہیں۔ "انفجارِ اطلاعات" (معلومات کا دھماکا) نامی مضمون بھی انہوں نے وہیں لکھا۔

آخری دن ہم نے یادگار کے طور پر کچھ تصویریں کھینچیں۔ حاجی کی وہ مشہور تصویر، جو اب کثرت سے دیکھنے کو ملتی ہے، شعبانی نے کھینچی تھی۔ شعبانی چند تصویریں لے رہا تھا جو زیادہ تر گروپ فوٹو تھیں۔ پھر حاجی کی طرف مڑ کر کہنے لگا: "آقا مرتضیٰ! ایک اکیلی تصویر آپ کی بھی لے لوں؟" ہم حاجی کے مزاج سے واقف تھے، وہ یا تو اکیلے تصویر کھنچوانے کی اجازت نہ دیتے یا پھر کوئی ایسی شکل بنا لیتے کہ تصویر خراب ہو جاتی۔ مگر اس دن وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنے کپڑے جھاڑے، انہیں درست کیا، مسکرائے اور کہا: "شعبانی! شہادت والی تصویر کھینچنا"۔ مرتضیٰ (شعبانی) نے دو تصویریں لیں؛ ایک عمودی اور ایک افقی۔ وہی تصویریں ان کی شہادت کے بعد کے لیے استعمال ہوئیں۔

 

علی رضا قزوہ (شاعر و ادیب) کی زبانی

کہتے ہیں کہ شہادت سے ایک رات پہلے، آقا مرتضیٰ فکہ گئے تھے، جہاں رات انہیں جنگ کے زمانے کے بچے کھچے مورچوں میں سے ایک مورچے میں گزارنی پڑی۔ اس مورچے میں موجود سپاہی نے صبح اپنے کمانڈر کو سوالیہ انداز میں بتایا: "یہ عینک والے صاحب کون تھے جو کل رات سے صبح تک سوئے نہیں اور مسلسل روتے ہوئے دعائیں پڑھتے رہے اور روتے ہوئے نماز پڑھتے رہے اور روتے ہوئے قرآن پڑھتے رہے!"۔

آقا مرتضیٰ مسلسل کہے جا رہے تھے: "ہمیں جوانوں کے مقتل میں جانا ہے... ہم مقتل جانا چاہتے ہیں..."

 

جنرل سعید قاسمی کی زبانی

لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ میں سید کو فکہ کیوں لے گیا؟ خدا کی قسم، میں انہیں لے کر نہیں گیا تھا، بلکہ انہوں نے خود اصرار کیا تھا۔ میں نے کہا: "آقا مرتضیٰ! آئیے کسی اور جگہ چلتے ہیں۔ بازی دراز، کانی مانگا یا کسی اور مقام پر چلتے ہیں، مہران چلتے ہیں"۔ انہوں نے (درد بھرے لہجے میں) کہا: "آخر تم بے انصاف لوگ ان سے اور کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے ریت کے تیرہ کلومیٹر کے ٹیلوں کو پار کیا ہے"۔ وہ کہتے تھے: "آؤ چلیں اور یہ سب (دنیا کو) دکھائیں، تاکہ لوگوں کو بتائیں کہ ہمارے جوانوں نے استکبار کے سامنے کیسے سینہ سپر ہو کر مقابلہ کیا"۔ وہ جانتے تھے کہ ہم ایسے دنوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں جنگ کے جغرافیے پر بھی جھوٹ باندھا جائے گا اور جنگ کی تاریخ کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ وہ جانتے تھے کہ اب کیمرہ اٹھانے اور ان حقائق کو ریکارڈ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا، ہم گئے اور پھر وہ واقعہ پیش آگیا۔

 

جنرل سعید قاسمی کی زبانی

اصغر ان کے سرہانے پہنچا — یہ منظر میں کبھی نہیں بھول سکتا — اور کہا: "سید! ڈرو مت، کچھ نہیں ہوا۔" ادھر خون بہہ رہا تھا۔ بارودی سرنگ (لینڈ مائن) کے ٹکڑے اپنا کام کر چکے تھے! کچھ کرنے کی مہلت ہی نہیں تھی ۔ میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ سید مسکرائے اور کہا: "اصغر جان! ہم یہاں آئے ہی اسی مقصد (شہادت) کے لیے تھے۔"

آقا سعید یزدان پرست کا بھی یہی حال تھا۔ بم کا ایک ٹکڑا ان کی آنکھ کے کونے میں لگا تھا۔ میں اسے نکالنے لگا تو کہنے لگے: "اسے رہنے دو۔" وہ وہاں اپنا "پروانہ" (سندِ شہادت) ساتھ رکھنا چاہتے تھے۔ وہ بھی اچانک موت کا شکار نہیں ہوئے تھے۔ میں نے ایک لبنانی شخص کو ان کی شہادت کے وقت کی تصویریں دکھائیں، تو وہ کہنے لگا کہ یہ کیسا عجیب انسان ہے جو آخری لمحے تک سوچ میں ڈوبا ہوا ہے، غور و فکر کر رہا ہے۔

 

جنرل سعید قاسمی کی زبانی

قاسم دہقان کے بنائے ہوئے اسٹریچر پر ہم انہیں پیچھے لا رہے تھے۔ سید التجا کر رہے تھے، کہہ رہے تھے: "مجھے واپس نہ لے جاؤ۔ مجھے یہیں رہنے دو۔" وہ "یا فاطمہ! یا فاطمہ!" پکار رہے تھے۔ انہوں نے لگاتار تین بار یہ دعا مانگی: "اللہم اجعل مماتی شہادة فی سبیلک" (اے اللہ! میری موت کو اپنی راہ میں شہادت قرار دے)۔ اور ایک لمحے کے لیے اپنا سر اٹھایا اور کہا: "خدایا! میرے تمام گناہ معاف کر دے اور مجھے شہادت کی موت عطا کر۔"

 

شریک حیات کی زبانی

ہفتے کی صبح ساڑھے چھ بجے مجھے آوینی کے زخمی ہونے کی خبر ملی، لیکن میرا دل یہی کہہ رہا تھا کہ وہ شہید ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود چند لمحوں کے لیے میں نے اپنی عقل کی بات مان لی کہ "وہ ابھی سوچ سکتے ہیں، لکھ سکتے ہیں، اپنی اس آواز سے جو پچھلے چند مہینوں سے بیٹھ گئی تھی، ابھی 'روایتِ فتح' کا قسط وار مطالعہ کر سکتے ہیں، اس لیے فکر مند ہونے کی بات نہیں۔" میں نے سوچا: "آخر ہر علاج کے باوجود ان کے گلے کی خراش ٹھیک کیوں نہیں ہو رہی تھی، حالانکہ ڈاکٹر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ گلے کا جلد علاج کر دے گا جو اسلام کی خدمت میں مصروف ہے۔" صرف اس وقت جب میں نے ان کی شہادت کی خبر سنی، تب مجھے سمجھ آیا کہ حضرت امام خمینیؒ نے ایک رات پہلے ہی اپنی شاعری کی زبان میں مجھے یہ خبر کیسے دے دی تھی اور میں سمجھ نہ سکی۔ یہ کیسی داستان ہے کہ حضرت امامؒ خود ان کے "کوئے دوست" (خدا کی طرف) کے سفر کے منادی (پیام رساں) تھے؟ ہماری کچھ عادات ہماری وہ بیڑیاں ہیں جنہوں نے ہمیں زمین سے جکڑ رکھا ہے، اور جب ایسی نشانیاں ہم پر نازل ہوتی ہیں، تب بھی ہم غفلت کے پردے میں رہتے ہیں۔

 

شریک حیات کی زبانی

سید مرتضیٰ کی شہادت کی خبر سننے کے بعد میں چاہتی تھی کہ یہ خبر خوداپنے بچوں کو دوں۔ اسی لیے دوپہر کو اسکول سے واپسی کے راستے میں ان سے کہا: "پاپا ہیں، ہمیشہ ہیں، بس ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔" حقیقی انسان فنا ہونے میں ہی زندگی پاتا ہے اور دوسروں کو بھی زندگی بخشتا ہے۔ تقدیر الٰہی یہی تھی کہ وہ ظاہری زندگی میں سوائے چند اہل دل کے، سب کے لیے گمنام رہیں۔ ان کی تنہائی آخری لمحے تک اسی حقیقت کی گواہ تھی۔

جنازے کے دن سوگواروں کا وہ ہجوم دیکھ کر میں لرز اٹھی۔ وہ اپنی تنہائی میں اتنے چاہنے والے کیسے رکھتے تھے؟ بہت سوں نے کہا اور ہم نے بھی سنا کہ وہ شہادت کے حقدار تھے۔ شہادت ان کا حق تھا۔ شہادت کا دروازہ اہل افراد کے لیے کھلا ہے۔ میں کیسے یقین کروں؟

 

یہ زمانہ تو شہادت کا زمانہ نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ سے ابدیت (ہمیشگی) کی تلاش میں تھے۔ وہ موت سے نہیں ڈرتے تھے اور ان کا یقین تھا کہ یہ جسم کیڑوں کے پالنے کی جگہ نہیں، بلکہ ایک ایسا وجود ہے جس کے باطن سے پروانے کو نکلنا ہے تاکہ وہ "شمعِ ولایت" کے گرد طواف کر سکے۔ یہاں تک کہ وہ خود شمع بن جائیں اور عشق، کربلا اور "ہل من ناصر ینصرنی" کی صدا پر لبیک کہیں۔ انہوں نے کربلا کو "فکہ" (جائے شہادت) میں پایا اور وہیں سے امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں سے جا ملے۔

 

علی رضا قزوہ (شاعر و ادیب) کی زبانی

بہشتِ زہرا (قبرستان) میں سب ان کے والد کے ارد گرد جمع تھے۔ وہ پرسکون اور پراعتماد تھے، بالکل آقا مرتضیٰ کی طرح۔ جب مغسل کی کھڑکی کے شیشے سے میں نے انہیں دیکھا، ان کا ایک پیر کٹا ہوا تھا۔ ایک خاتون وہاں آئیں جن کی آنکھیں رونے سے سرخ ہو چکی تھیں، وہ کسی شہید کی ماں لگ رہی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں: "میں برسوں سے اس (آوینی) کی آواز پر روتی رہی ہوں اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ آپ کا بیٹا ہے۔ وہ ہم سب کا بیٹا ہے۔ آپ کو یہ سعادت مبارک ہو۔"

ماخذ: کتاب 'شہیدِ فرہنگ؛ شہید سید مرتضیٰ آوینی در آیینہ خاطرات، یاسر عسکری، دفتر نشر معارف، ۲۰۱۳۔ صفحات ۱۵۴-۱۶۵۔



 
صارفین کی تعداد: 7


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (9 + 6) :
 
شہید سید مرتضیٰ آوینی کی زندگی کے آخری چند واقعات

راوی کا آخری سفر

نو اپریل، شہید سید مرتضیٰ آوینی کی برسی کا دن ہے؛ وہ مستند ساز اور آٹھ سالہ عراق-ایران جنگ کے وہ نامور راوی، جن کا سفرِ عشق بالآخر "فکہ" کے تپتے صحراؤں میں شہدائے کربلا کے قافلے سے جا ملا۔ کتاب "شہیدِ فرہنگ؛ شہید سید مرتضیٰ آوینی در آیینہ خاطرات" ان کی زندگی کے مختلف ادوار اور سرگرمیوں پر محیط مختلف یادوں کا مجموعہ ہے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔