پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 61
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-4-14
شاہی حکومت کا خاتمہ اور کُردستان کی لڑائیوں کا آغاز
پولیس ہیڈکوارٹر اور جینڈرمیری کے زوال کے ساتھ ہی پاوہ شہر میں شاہی نظام کا تختہ الٹ گیا اور شہر کا نظام ساواک کی عمارت میں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے دس افراد پر مشتمل ’’پاوہ شہر انتظامی کونسل‘‘ نامی ایک کونسل نے سنبھال لیا۔ چند دن بعد اس کونسل کا نام بدل کر ’انقلاب اسلامی کمیٹی‘[1] رکھ دیا گیا اور یہ کمیٹی تمام امور کی فیصلہ ساز بن گئی۔
کچھ لوگوں نے شہر میں موجود انقلابی ماحول سے غلط فائدہ اٹھایا۔ اس طرح سے کہ تمام سرحدی چیک پوسٹوں کو غیر مسلح کردیا گیا اور اسلحہ، عوام کے ہاتھوں میں آگیا۔ سوائے ایک چیک پوسٹ کے جو پاوہ کی جمعیت شیر و خورشید سرخ کی عمارت میں واقع تھی اور اس میں تقریباً تیس لوگ موجود تھے، تمام چیک پوسٹوں کو لوٹ لیا گیا تھا اور اسلحہ عوام کے ہاتھوں میں آچکا تھا۔ اسلحے کا بازار گرم تھا اور بہت سے مرد اور یہاں تک کہ خواتین بھی مسلح تھے۔ جس کے پاس اسلحہ نہیں ہوتا تھا وہ خود کو مرد نہیں سمجھتا تھا۔
پاوہ اور اورامانات کا علاقہ، قبائلی علاقے میں تبدیل ہوچکا تھا۔ اس لیے اس علاقے پر کسی بھی ملٹری یا پولیس فورس کا کنٹرول نہیں تھا۔ نوسود کے گرد و نواح کی چیک پوسٹیں اہلکاروں اور سرحدی محافظوں سے خالی تھیں اور جو کوئی بھی بغداد سے تہران جانا چاہتا تو اسے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد عوام میں مدرسۂ قرآن کی مقبولیت بڑھ گئی اور اس کی وجہ اس مدرسے کے ہر ایک رکن کی صداقت تھی۔ یہ مقبولیت کچھ لوگوں کے بغض اور کینے کا باعث بنی۔ احمد مفتی زادہ صاحب، سنندج میں مدرسۂ قرآن چلا رہے تھے اور بہت فعال تھے۔ میں پہلے سے ان سے آشنا تھا اور میں نے مہاباد اور بوکان میں کئی بار ان کی خطابت میں شرکت کی تھی۔ اس کے علاوہ میں نے انقلاب سے پہلے، ان کی تقریروں کی بہت سے کیسٹیں بھی سنی ہوئی تھیں جو زیادہ تر تحریک بہائیت کے خلاف تھیں۔ ادارے کو مضبوط بنانے، ضروری ہدایات اور سہولیات حاصل کرنے کے لیے ہم نے پاوہ کے مدرسۂ قرآن کو سنندج اور جناب احمد صاحب سے منسلک کردیا۔ جناب احمد صاحب اور ان کے ساتھیوں کے ادارے کا نام بھی مدرسۂ قرآن تھا اور دونوں ادارے پہلے سے کسی ہم آہنگی کے بغیر ایک ہی نام سے سرگرمیاں انجام دے رہے تھے۔
سنندج میں انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی دنوں میں ہی کچھ حادثات رونما ہوئے تھے۔ کُردستان ڈیموکریٹک پارٹی جیسی پرانی اور مضبوط تنظیم سے قطع نظر، نئی سیاسی اور کمیونسٹ پارٹیوں کی بنیاد رکھی گئی جنہوں نے کُرد علاقوں کو آپس میں بانٹ لیا۔ تنظیمی حالات و واقعات سے ناآشنا لوگوں کے اس طرح ٹکڑوں میں بٹ جانے کے باعث کردستان میں ایک بحران پیدا ہوگیا۔ کوملہ[2] جیسی پارٹیوں نے اس نوخیز نظام پر تنقید شروع کردی تھی کہ جو ابھی صحیح سے تشکیل بھی نہیں پایا تھا۔ ان لوگوں کی اس نظام کی مخالفت اتنی تیزی سے بڑھی کہ ایک مہینے سے بھی کم وقت کے عرصے میں وہ تنقیدی اور سیاسی مرحلے سے نکل کر، ہتھیار اٹھا کر عسکری مرحلے میں داخل ہوگئے اور انہوں نے حکومت اسلامی کے خلاف صف آرائی کرلی۔ یہاں تک کہ کچھ شہروں میں چیک پوسٹوں پر حملہ کیا اور ان کا اسلحہ اور گولہ بارود لوٹ لیا۔ اس دوران، عزالدین حسینی اور ڈاکٹر عبدالرحمن قاسملو[3] جیسے افراد جنہیں کردستان کے عوام زیادہ نہیں جانتے تھے، جمہوری اسلامی کی مخالفت اور میڈیا کی تشہیر کے باعث مشہور ہوگئے تھے، لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کی شہرت، احمد مفتی زادہ صاحب جیسی مذہبی شخصیات کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ وہ اعلیٰ علمی صلاحیت کے علاوہ، شاہی حکومت کا مقابلہ کرنے والوں میں شامل تھے اور ان کے بہت سے شیعہ انقلابیوں کے ساتھ اچھے اور مخلصانہ تعلقات تھے۔ یہ تعلقات جمہوری اسلامی سے ان کے ایک طرح کے لگاو کا باعث بن گئے تھے۔ مفتی زادہ صاحب کے امام خمینی اور آیت اللہ منتظری، آیت اللہ طالقانی، آیت اللہ شریعتمداری جیسے بہت سے علماء اور انجینیئر بازرگان[4] جیسی سیاسی شخصیات سے بہت قریبی تعلقات تھے اور شاید یہ فکری تعلق ان کی شیخ عزالدین حسینی اور عبدالرحمن قاسملو جیسے افراد سے دوری کا باعث بن چکا تھا۔
شیخ عزالدین کا کوئی انقلابی ماضی نہیں تھا اور وہ صرف مہاباد کے امام جمعہ تھے جو ایک طرح سے شاہ کے مقرر کردہ کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ دوسری طرف ان کے بھائی سید جلال حسینی صاحب، ایک قابل اور غیرت مند عالم دین تھے جنہوں نے پہلوی حکومت کے خلاف واضح اور انقلابی موقف اختیار کر رکھا تھا۔ وہ قریب ایک سال تک میرے استاد رہ چکے تھے اور میں ان کے انقلابی جذبے سے واقف تھا اور انقلاب کے بعد ان کی خاموشی پر مجھے تعجب ہوتا تھا۔ اس کے برعکس میں دیکھ رہا تھا کہ ان کے بھائی شیخ عزالدین مشہور ہو رہے ہیں اور خود ان کے بقول وہ کُردوں کی قیادت سنبھالنا چاہتے ہیں۔ جن دنوں عزالدین صاحب خاموش تھے اور جمعے کے خطبوں میں شاہ کے لیے دعائیں کرتے تھے، ان کے بھائی سید جلال صاحب، بانہ کی جامع مسجد میں علیٰ الاعلان شاہ کو طاغوتی قرار دیتے تھے اور اسے اس نام سے مخاطب کرتے تھے۔
سن 1978 میں بانہ کے حجاج کی روانگی کی محفل میں، جب ایک مولانا نے حجاج سے گزارش کی کہ وہ، حج کی ادائیگی کے دوران ایران کی سلامتی اور شہنشاہ آریامہر(شاہ) کے طول عمر کے لیے دعا کریں، تو وہ شدید غصے ہوئے اور کہنے لگے: ’’بہائیو! آپ وہاں توحید کا اعلان کرنے جارہے ہیں، طاغوت سے تجدید بیعت کرنے نہیں۔ آپ لوگ وہاں جائیں تاکہ آپ طاغوت سے چھٹکارا پاسکیں۔‘‘
ایک دن میں نے ہمدردی میں ان سے کہا: ’’ماموستا مجھے آپ کے سخت رویے پر آپ کی فکر ہوتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا: ’’ملا قادر، یہ باتیں میری دینی ذمہ داری ہیں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے بانہ کے ایک مولانا کا نام لیا جو ساواک کے لیے کام کرتا تھا اور کہنے لگے: ’’کل قیامت کے دن تم دیکھو گے کہ خدا، مجھ سے اور اس سے کس طرح پیش آئے گا۔ جان لو کہ میرا غصہ اور سخت رویہ، قیامت کے دن کے لیے ہے، آج کے لیے نہیں۔‘‘
[1] انقلاب اسلامی کمیٹیاں، 12 فروری 1979(23 بھمن 1357) کو انقلاب کے بعد قائم ہونے والے سب سے پہلے ادارے تھے۔ سن 1991(1370) میں اسلامی جمہوریہ ایران پولیس فورس کے قیام کے قانون کی منظوری کے بعد یہ ادارہ پولیس اور جینڈرمیری کے ساتھ ضم ہوگیا۔
[2] کوملہ، جسے کُردی زبان میں انجمن یا گروہ کہا جاتا ہے، ایرانی کُردستان میں ایک بائیں بازو کی آرگنائزیشن ہے جو سن 1978(1357) میں تین گروہوں؛ کردستان ورکررز پارٹی، چاوہ گروپ اور کسان یونین کے انضمام سے تشکیل پائی۔ ستمبر 1983(شہریور 1362) میں کوملہ اور منصور حکمت کی قیادت میں محفل سہند متحد ہوگئیں اور ایران کمیونسٹ پارٹی وجود میں آئی۔ اس دوران اس پارٹی کی تشکیل میں کوملہ کا اہم اور مؤثر کردار رہا اور اس کے بعد کوملہ نے ایران کمیونسٹ پارٹی کی کردستانی آرگنائزیشن کی شکل اختیار کرلی۔ سن 1991(1370) سے ایران کمیونسٹ پارٹی کئی حصوں میں تقسیم ہوئی جن میں سے آخری تقسیم، عبداللہ مہتدی کی قیادت میں ہوئی جنہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں ’’کوملہ ۔ ایرانی کردستان انقلابی ورکرز آرگنائزیشن‘‘ اور آخرکار ’’ایرانی کردستان کوملہ پارٹی‘‘ کے نام سے جاری رکھیں۔
[3] عبدالرحمن قاسملو(1930/1309 ارومیہ ۔ 1989/1368 ویانا)، ان کے والد محمد خان، شکاک قبیلے کے ایک قوم پرست جاگیردار تھے جنہیں شاہ نے وثوق الدیوان کا لقب دیا تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم، ارومیہ میں شروع کی اور مڈل تعلیم تہران میں مکمل کی۔ قاسملو نے سن 1945(1324) میں ارومیہ شہر میں کردستان ڈیموکریٹک یوتھ یونین بنا کر اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ سن 1948(1327) میں وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پیرس چلے گئے اور چار سال بعد سوشل اینڈ پولیٹیکل سائنسز میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایران لوٹ آئے۔ سن 1962(1341) میں قاسملو نے پراگ یونیورسٹی سے اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی اور سن 1970(1349) تک اس یونیورسٹی میں ’’سرمایہ دارانہ معیشت، سوشلسٹ معیشت اور اقتصادی ترقی کا نظریہ‘‘ کی تدریس کرتے رہے۔ سن 1971 سے 1989(1350 سے 1368) تک کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکرٹری جنرل رہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد آئینی مجلس خبرگان میں صوبۂ مغربی آذربائجان کی عوام کے نمائندے بنے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران ۔ عراق آٹھ سالہ جنگ کے دوران کردستان کی لڑائیوں میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کا اہم کردار تھا، لیکن اس پارٹی نے سن 1986(1365) میں ذمہ داران سے ایک خط کے ذریعے دشمنی کو چھوڑنے کی درخواست کی اور اسی وجہ سے یہ پارٹی دیگر پارٹیوں اور مسلح گروہوں کی تنقید کا نشانہ بنی۔ ڈاکٹر قاسملو کو 13 جولائی 1989 کو آسٹریا میں نامعلوم گروہ نے قتل کردیا۔
[4] مہدی بازرگان(1907 تہران ۔ 1995 زیورخ) عرف مہندس(انجینیئر) بازرگان، ایران نیشنل فرنٹ کے رکن، ایران کی تحریک آزادی کے بانی، یونیورسٹی کے پروفیسر، قرآن کے محقق اور پہلوی شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کے پہلے وزیر اعظم۔
صارفین کی تعداد: 94
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز
یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
