پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 59
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-4-2
آخرکار شاہ چلا گیا!
16 جنوری(26 دی) کی شام، شاہ کے ایران سے فرار ہونے والے دن، پاوہ کی عوام نے ایک عظیم الشان ریلی اور اجتماع منعقد کیا۔ اس روز تک، تمام ریلیاں جامع مسجد یا حضرت عبداللہ مسجد سے شروع ہو کر مولوی چورنگی پر اختتام پذیر ہوا کرتی تھیں، لیکن اس دن ریلی کا راستہ تبدیل ہوگیا اور عوام نے مولوی چورنگی سے جامع مسجد کی جانب ریلی نکالی۔ کچھ لوگ پیدل چل رہے تھے اور کچھ گاڑیوں میں سوار تھے۔ جب لوگ ٹیلی کمیونیکیشن کی عمارت کے سامنے پہنچے تو شاپور بختیار کی حکومت کے خلاف نعرے بازی کے ساتھ ساتھ انہوں نے جشن منایا۔ ساتھی مولاناؤں کے مشورے پر تقریر کے لیے قرعہ اندازی ہوئی اور اس میں میرا نام نکلا۔ میں ٹیلی کمیونیکیشن ادارے کی دیوار پر چڑھ گیا، میں ہمیشہ آہستہ گفتگو کیا کرتا تھا لیکن اس کے برعکس اس دن میں نے مختصر سی تمہید کے بعد اپنی زندگی کی سب سے پرجوش اور ولولہ انگیز تقریر کی اور جیسے ہی میں نے کہا: ’’آخرکار شاہ چلا گیا‘‘ تو تالیوں، سیٹیوں اور ہلہلے کی آوازیں پاوہ کے پورے شہر اور پہاڑوں میں گونج اٹھیں۔
شاہ کے فرار ہونے سے چند دن قبل، حکومت کے کارندوں نے انقلاب کا ساتھ دینے میں عوام کا حوصلہ پست کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کچھ مسلح کاروائیاں بھی کی تھیں۔ جینڈرمیری اور پولیس اہلکار صرف اپنی عمارتوں اور تھانوں کی حفاظت کر رہے تھے اور انہیں شہر کے اندرونی علاقے اور گرد و نواح کی سڑکوں سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ بہت سے فائرنگ اور بدامنی کے واقعات یہی اہکار انجام دے رہے تھے لیکن وہ لوگ اس کا الزام، سرحد پار غیر ملکی گروہوں اور عراقی حکومت پر لگا رہے تھے۔ عوامی گروہوں نے رضاکارانہ طور پر خالی ہاتھوں، حملہ آوروں اور موقع پرستوں سے شہر کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری سنبھال لی۔ فرانس کے مونٹ کارلو ریڈیو نے تھران سے نکلنے سے قبل، لویزان بیس میں کی گئی شاہ کی تقریر کی ریکارڈنگ نشر کی۔ اس تقریر میں شاہ نے فوجیوں سے کہا کہ وہ مختصر سے آرام اور تفریح کے لیے ملک سے باہر جا رہا ہے اور فورسز تیار اور الرٹ رہیں۔ شاہ کی تقریر کو نقل کرنے کے بعد، ہم نے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ اب کوئی شاہ نہیں رہے گا، إن شاء اللہ عنقریب تحریک کامیاب ہوجائے گی، لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور یہ اجتماع خوشی اور مسرت کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔
شاہ کے فرار ہونے کے بعد، سب لوگ امام خمینی کی واپسی کے منتظر اور تحریک کے رہنما کے دیدار کے خواہاں تھے۔ اسی سال نوریاب گاؤں میں بجلی آئی تھی اور صرف ایک گاؤں والے کے پاس بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی تھا۔ میں نے امام خمینی کے تہران آنے کی خبر پچھلے ہفتے سنی تھی۔ 1 فروری(12 بھمن) کی صبح میں اپنے بھانجے محمد رشید ولدبیگی کے گھر چلا گیا۔ ہم صبح سویرے ہی ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے اور قریب دوپہر تک ہم نے امام خمینی کی تہران آمد اور بہشت زہرا میں ان کی تقریر کو دیکھا اور سنا۔ انقلاب کے رہنما کے ملک پہنچنے کے بعد، پاوہ میں بھی دیگر شہروں کی طرح گہما گہمی تھی اور ہم روزانہ ریلیاں نکلتی دیکھ رہے تھے۔ میں دن کے وقت پاوہ میں ہوتا تھا اور غروب آفتاب سے قبل نماز مغرب کی جماعت کرانے نوریاب لوٹ آتا تھا۔
صارفین کی تعداد: 83
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز
یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
