کتاب "شاہ است حسین" کا ایک جائزہ

مهدیه پالیزبان

ترجمہ: سیدہ رومیلہ حیدر

2026-1-26


"شاہ است حسین(ع)" علیرضا میرشکار کی دوسری کتاب ہے، جو سیستان بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مصنف ہیں۔ انہوں نے 2022 اور 2023 کے دوران پاکستانی زائرین کے ساتھ 90 گھنٹے کی انٹرویوز کرکے دو سالوں میں پچاس روایات قلمبند کی ہیں۔

کتاب کے دیباچے میں، محقق نے انٹرویوز جمع کرنے کے عمل کی وضاحت کی ہے۔ پیش لفظ میں، پاکستان اور محرم کے ایام میں اس ملک کی کچھ سوگوار رسومات کا تعارف بھی دیا گیا ہے۔

یہ افراد اربعین کے پیدل سفر میں شرکت کے لیے زاہدان شہر میں کچھ دن ٹھہرے تھے۔ موکب میں کاروان کے مختصر قیام کی وجہ سے مناسب موضوعات کی نشاندہی کا موقع میسر نہیں آیا تھا، اور بہت سے زائرین مختلف وجوہات کی بنا پر انٹرویو دینے پر راضی نہیں تھے۔ اس کے باوجود، محقق مترجمین اور پاکستانی طلبہ کی مدد سے متعدد انٹرویو کرنے میں کامیاب رہے۔ ایران میں مقیم ایک خاتون طالبہ کی مدد سے پاکستانی خواتین زائرین کے انٹرویوز کیے گئے، تاہم مکمل شدہ انٹرویوز کی کثرت کی وجہ سے اس کتاب میں صرف مردوں کی روایات شائع کی گئی ہیں، جبکہ خواتین کے واقعات ایک علیحدہ کتاب میں شائع کیے جائیں گے۔

اس کتاب میں ہر پاکستانی زائر نے کربلا کے سفر کے اپنے جذبات کے بارے میں بات کی ہے؛ چاہے وہ پہلی بار زائر ہو یا جو دسیوں بار زیارت کر چکا ہو۔ انٹرویو کے محدود وقت کی وجہ سے، زیادہ تر بیانات مختصر ہیں۔ تاہم، سوالات کی نوعیت اور تدوین کے انداز کی وجہ سے، عام طور پر راوی سے متعلق مناسب معلومات حاصل ہوتی ہیں؛ طرز زندگی اور خاندانی پس منظر سے لے کر اس سفر کی تیاری کے محرکات اور طریقے تک۔

کتاب پاکستانی شیعوں کی امام حسین(ع) کے ساتھ خلوص اور عقیدت کی داستان بیان کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح تمام مالی اور سیکیورٹی کے مسائل کے باوجود، وہ سالارِ شہدا(ع) کے نام سے منعقد ہونے والے اجتماع میں شرکت کے لیے ایک مشکل سفر اختیار کرتے ہیں۔ شاید پہلی نظر میں، خاص طور پر کتاب کے عنوان کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ تصور کیا جائے کہ اس کا مواد صرف مذہبی ہے، لیکن بیانات میں پاکستانی معاشرے کے سماجی مسائل پر بھی بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس کتاب میں ان لوگوں کی زندگیوں میں امام حسین(ع) کے کردار کے بارے میں بات کی گئی ہے جو ان کے لیے محبت اور خلوص کے ساتھ، کربلا تک دو ہزار کلومیٹر کے سفر کی مشقت برداشت کرتے ہیں؛ عام لوگ جو اپنے گاؤں یا شہر میں کام اور زندگی میں مصروف ہیں اور کربلا کے سفر میں اپنی قسمت کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں بتاتے ہیں۔

جیسا کہ محقق نے کتاب کے تعارف میں لکھا ہے، مواد کی یکسانیت سے بچنے کے لیے، بیانات کو ان کی دلچسپی کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔

بیانات میں، افراد نے اس سفر کے لیے اپنے محرکات اور اہلِ بیت(ع) سے محبت کے روزمرہ زندگی میں کردار اور موجودگی کے بارے میں بہت کچھ بیان کیا ہے، اور ان باتوں کے دوران وہ پاکستان میں سماجی آداب، سوگ اور مذہبی تقریبات کے انعقاد کے انداز کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ امام بارگاہوں یعنی وہ مقامات جو محرم میں عزاداری کے مراسم انجام دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں- کے تئیں ان کی شدید توجہ سے لے کر ان لوگوں کے لیے سوگ کی تقریبات نہ منانے تک جو محرم سے لے کر اربعین تک کے ایام کے دوران وفات پا جاتے ہیں، اس عقیدے کی بنا پر کہ امام حسین(ع) کا سوگ ہر دوسرے سوگ پر فوقیت رکھتا ہے۔

پاکستانی شیعوں کی خصوصی عقیدت ان بیانات میں جھلکتی ہے؛ جہاں ان کے بچوں کے نام اکثر اہلِ بیت(ع) کے نام پر ہوتے ہیں، خاص طور پر حضرت زہرا(س) اور سیدالشہداء(ع)، یہاں تک کہ بعض اوقات وہ تمام بچوں کے لیے انہی ناموں کو دہراتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بیانات میں ان افراد کے امام حسین(ع) کی زندگی میں موجودگی اور اثر پر گہرے اعتقاد کو بہت نمایاں کیا گیا ہے۔ لوگوں نے اس تبدیلی کے بارے میں بتایا ہے جو ان کے اعتقاد اور محبت نے ان کی زندگیوں میں لائی ہے؛ ان کی معاش اور طرز زندگی کے بارے میں، ان واقعات کے بارے میں جو وہ اہلِ بیت(ع) سے منسوب کرتے ہیں، اور اس سفر کے لیے ان کی محبت کے بارے میں جسے مالی اور سماجی حالات کی وجہ سے انجام دینے میں اکثر کئی سال لگ جاتے ہیں۔

ان بیانات کے دوران پاکستان کے سماجی اور معاشی حالات بھی بیان کیے گئے ہیں؛ بشمول 1980 کی دہائی کے وسط سے اسکولوں میں فارسی زبان کی تعلیم کے خاتمے اور اسکولوں میں شیعہ تقریبات کے انعقاد کی عدم اجازت۔ نیز پاکستان میں تشیع کی تبلیغ کے لیے رضاکار نوجوانوں کے ایک گروپ ISO، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا ذکر کیا گیا ہے جو اس ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں شاخیں رکھتا ہے۔

بیانات کے آغاز میں راوی کی تفصیلات، بشمول پیشہ، عمر اور رہائشی شہر درج ہے، اور زیادہ تر بیانات کے آخر میں راوی کی تصویر بھی شامل کی گئی ہے۔ کتاب کے آخر میں، وہ راستے دکھائے گئے ہیں جو پاکستانی زائرین ایران سے ہو کر کربلا پہنچنے کے لیے طے کرتے ہیں، اور ایران-پاکستان سرحد پر موکب اور زائر سراؤں کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

کتاب کی تحریر میں، بیانات کی امانت داری کو ترجیح دی گئی ہے اور مصنف نے مبالغہ آرائی سے گریز کیا ہے۔ تحریر کا انداز خبری اور رپورٹنگ والا ہے اور داستان گوئی کے انداز سے مختلف ہے۔

زائرین کا انتخاب مختلف شہروں من جملہ کراچی اور حیدرآباد سے لے کر لاہور اور کوئٹہ تک کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کے تمام علاقوں میں بسنے والے شیعوں کے بیانات کا احاطہ کیا جاسکے۔ البتہ، زیادہ تر شیعوں کے سندھ اور پنجاب کے دو صوبوں میں رہنے کی وجہ سے، اربعین کے زائرین کی بھی زیادہ تعداد انہی دو صوبوں سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے کتاب میں ان دو صوبوں سے بیانات کی تعداد دیگر علاقوں سے زیادہ ہے۔ تاہم، عمر، رہائش گاہ اور پیشے کے لحاظ سے فرق کی وجہ سے، بیانات میں تنوع پایا جاتا ہے۔

کتاب کا عنوان مشہور قدیمی شعر کے پہلے مصرعے سے لیا گیا ہے جو خواجہ معین الدین چشتی نے امام حسین(ع) کی تحریک کی وضاحت میں کہا تھا۔ یہ شعر، اپنی سادگی کے باوجود، اپنے گہرے معنی کی وجہ سے، اس کے کہے جانے کے آٹھ صدیوں بعد بھی پاکستان میں امام حسین(ع) کے بہت سے چاہنے والوں کی توجہ کا مرکز ہے:

شاہ است حسین، بادشاہ است حسین

دین است حسین، دین پناه است حسین

سر داد و نداد دست در دست یزید

حقا که بنای لا اله است حسین

یہ شعر، پاکستانی معاشرے میں کسی قسم کی نسلی یا مذہبی حساسیت پیدا کیے بغیر، جہاں مذہبی جذبات نمایاں ہیں، مذہبی تقریبات اور دینی رسومات میں، جو عام طور پر اہلِ سنت اور صوفیا کی طرف سے منعقد کی جاتی ہیں، ہمیشہ رائج رہا ہے۔

پاکستانی زائرین کی حضرت رقیہ(س) سے خصوصی عقیدت کو مدنظر رکھتے ہوئے، کتاب انہیں پیش کی گئی ہے۔

کتاب "شاہ است حسین" سورہ مهر پبلشرز کی طرف سے 2025 میں 345,000 تومان کی قیمت پر شائع کی گئی ہے۔



 
صارفین کی تعداد: 6


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

میکائیل احمد زادہ کی یادداشت کا ایک ٹکڑا

عراقی سپاہی چیخنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے بہادر کمانڈو نے چاقو پر اور زور دےکر اسے سمجھا دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اسے خاموش رہنا چاہیے۔ وہ درخت کے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی تھی
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔