پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 34
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2025-3-17
مرانہ گاؤں کی ایک تلخ یاد
1969(1348) کے موسم خزاں میں، ایک طالب علم کا فٹ بال کھیل کے دوران گاؤں کے سردار کے بیٹے سے جھگڑا ہوگیا تھا۔ گاؤں کے سردار حسن جو مسجد اور طالب علموں کے لیے ایک مخیر اور خدمت گزار شخص تھے، ہماری توقعات کے برعکس، انہوں نے طالب علموں کے ساتھ گالم گلوچ کی۔ ہمیں ان سے اس قسم کے رویے کی امید نہیں تھی اور ان کے رویے سے سب پریشان ہوگئے۔ ہم چھ لوگ تھے؛ میں، ملا ابراہیم سلینی، مریوان شہر کے ضلع سرشیو کے ملا سید اسماعیل حسینی، جوانرود شہر کے عبد القادر فرازیابی، حامد ژیواری اور ایک اور شخص تھا جس کا نام مجھے یاد نہیں۔
رات کو جناب ماموستا ملا علی افشاری ہمارے حجرے میں آئے۔ وہ گاؤں کے سردار کے رویے پر بہت غصہ تھے اور ان کا ماننا تھا کہ تم لوگوں کے ساتھ ایسا رویہ اور تم لوگوں کی بے عزتی، میری بے عزتی ہے، اور شاگرد کی توہین، استاد کی توہین ہے اور ناقابل برداشت ہے۔ وہ اس قدر غصے میں تھے کہ انہوں نے ہماری امید کے برخلاف ایک غیر حکیمانہ مشورہ دیا اور کہا: ’’یا تم لوگ سردار حسن کی پٹائی کرو گے یا میں اس گاؤں کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔‘‘
ماموستا کا مشورہ جو حکم جیسا زیادہ لگ رہا تھا، سن کر ہمیں تعجب ہوا اور ہم نے ان کی خدمت میں عرض کی: ’’جناب ماموستا، یہ کام، طالب علمی کے شایان شان نہیں ہے۔ ہم نے ان لوگوں کا نمک کھایا ہے اور ایک سال سے ہم ان کے دسترخوان کے مہمان ہیں۔ آپ اجازت دیجیے ہم طالب علم احتجاجاً گاؤں چھوڑ دیتے ہیں اور آپ ہماری خاطر مرانہ(گاؤں) میں اپنی زندگی اور مقام و منزلت کو خراب نہ کریں۔‘‘
انہوں نے کہا: ’’نہیں، چاہے کچھ بھی ہوجائے، کل ہمیں سردار حسن کو کسی نہ کسی طرح تنبیہ کرنی ہی ہوگی کہ جس کے ذریعے، وہ اور اس کے گھر والے اپنے برے کام پر پشیمان ہوجائیں۔‘‘
اس کام کے لیے انہوں نے بڑے پختہ ارادے سے ہمارے لیے منصوبہ بندی بھی کردی اور کہا: ’’کل فجر کی نماز جماعت کے بعد، تم لوگ کسی بہانے سے سردار حسن سے لڑائی شروع کردینا، لڑائی کے دوران میں بھی کود پڑوں گا اور اسے پکڑ لوں گا۔ جب میں حسن کو پکڑ لوں تو تم لوگ صحیح سے اس کو سبق سکھانا۔‘‘
پہلے سے تیار کردہ منصوبے کے تحت، فجر کی نماز کے بعد ہم نے اپنے انتقام کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ سید اسماعیل صاحب نے ہمارا ساتھ نہیں دیا اور وہ صرف تماشائی بنے ہوئے تھے۔ فجر کی نماز جماعت کے بعد، ہم چار لوگ، بدبخت سردار حسن پر ٹوٹ پڑے۔ ہم میں سے جوانرود شہر کے ضلع کلاشی کے گردک گاؤں کا عبد القادر فرازیابی زیادہ سرگرم تھا۔ لڑائی کے چلتے ماموستا نے موقع کو غنیمت جانا، وہ اٹھے اور ہمیں برا بھلا کہا اور کہنے لگے: ’’تم لوگ کتنے بد اخلاق طالب علم ہو۔‘‘ اور لڑائی کے فریقین کو الگ کرنے اور بیچ بچاؤ کے بہانے انہوں نے سردار حسن کو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑ لیا اور ہم نے پوری طاقت اور بے رحمی سے اس کی خوب پٹائی کی۔ مسجد میں موجود لوگ اس جھگڑے میں کود پڑے اور انہوں نے ہمیں ایک دوسرے سے الگ کردیا اور سردار حسن گالم گلوچ کرتا ہوا مسجد سے نکل گیا۔
گاؤں کے سردار کو پیٹا گیا تھا اور اس کے گھر والے اور حامی، بے باک ہو گئے تھے۔ کسی بھی وقت ہمارے حجرے پر حملہ ہوسکتا تھا۔ ہمیں بہت ڈر لگ رہا تھا۔ سردار کے رشتہ داروں کے حملے کے ڈر سے ہم حجرے اور مسجد کے سامنے جو بالکل سردار حسن کے گھر کے سامنے تھے، کھڑے ہوگئے۔ سردار حسن کی اپنے گھر کے سامنے، مجھ پر نظر پڑی اور وہ غصے سے چلایا: ’’او ملا قادر! تم نے ہماری جتنی بھی روٹی، گندمِ شامی(ایک خاص قسم کی روٹی جو اعلیٰ قسم کی گندم سے بنائی جاتی ہے اور دہی کے ساتھ کھائی جاتی ہے) اور دہی کھایا ہے، خدا کرے کہ وہ تم پر حرام ہو(حرامت باشد)، یہ صلہ دیا ہے تم نے ہماری روٹیوں اور نمک کا؟!‘‘
میں نے بھی صاف صاف اور اس سے زیادہ بلند آواز میں اسے جواب دیا: ’’اگر ہم طالب علموں کے لیے تمہاری خدمت اور مدد، خدا کے لیے تھی تو یقیناً اس کی جزا تمہیں قیامت میں ملے گی اور اگر دنیا کے لیے تھی تو تم نے اس کی جزا لے لی۔‘‘
مرانہ، مریوان شہر کا ایک سرحدی گاؤں ہے جو جنوب۔مشرق میں عراق کی سرحد سے ملتا ہے اور مغرب میں ’آسنہ وہ‘ کے سرحدی گاؤں کے پڑوس میں واقع ہے۔ زیادہ تر گاؤں والے، کربچنہ[1] گاؤں کے مشائخ کے درویش تھے، اور بعض نقشبندی صوفی جیسے صوفی طالب بھی مرانہ میں رہتے تھے۔ صوفی طالب، ایک عابد اور زاہد انسان تھے۔ سردار حسن سے جھگڑے کے بعد، سارے گاؤں والے چاہے صوفی ہوں یا درویش ہم پر غصہ ہوگئے تھے اور گاؤں والے کسی بھی وقت ہمارے حجرے پر حملہ کرسکتے تھے۔ صوفی اور درویش جو کبھی بھی ایک نہیں ہوتے تھے، اس واقعے میں ہمارے خلاف تھے۔ ان حساس دنوں میں تمام نمازی، مسجد والے، درویشوں اور صوفیوں نے ہم سے منہ موڑ لیا اور ہم سے ناراض ہوگئے۔ لوگوں کی اس عمومی ناراضگی کے مقابلے میں گاؤں کے دو سید جو نماز جمعہ اور جماعت میں بھی شرکت کرتے تھے، ہمارے پاس آئے اور انہوں نے گاؤں والوں سے کہا: ’’اے لوگو! خدا کی قسم، اگر تم لوگوں نے کوئی بھی حرکت کی تو ہم اپنی جان کی بازی لگا کر ان طالب علموں کا دفاع کریں گے۔‘‘
وہ دونوں آئے اور آکر ہمارے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ گاؤں کے لوگ ان دونوں سیدوں کا خاص احترام کرتے تھے اور ان کے احترام اور مداخلت کی وجہ سے اس کے بعد سے حالات پرسکون ہوگئے۔ ہمیں بہت تعجب ہوا کہ اس طرح کے حساس موقع پر مسجد والوں نے ہمیں اکیلا چھوڑ دیا اور ہمارے حق میں ایک لفظ بھی نہیں کہا، لیکن یہ دو سید جو صاحب منبر یا امام مسجد بھی نہیں تھے، انہوں نے اس طرح کا موقف اختیار کیا۔ ہم نے ان سے کہا: ’’بہت خوب، سلام ہو آپ دونوں پر اور خدا بیڑا غرق کرے ان لوگوں کا جو نمازیں پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داری سے غافل رہتے ہیں۔‘‘
بہرحال، ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا اور ہمارے چہرے کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آگئے تھے۔ اب مزید ہمارا گاؤں میں رکنا اور دوبارہ ان لوگوں کا سامنا کرنا، ممکن نہیں تھا۔ اسی دن ہم نے گاؤں چھوڑ کر عراق جانے کا فیصلہ کرلیا۔
[1] کربچنہ، عراق کے صوبۂ کرکوک کا ایک کرد نشین گاؤں ہے اور مشائخ سے مراد، شیخ عبد الکریم شاہکسنزان(1819۔1899) شیخ عبد القادر کسنزانی(1867۔1920)، شیخ حسین کسنزانی(1886۔1939) اور شیخ عبد الکریم کسنزانی(1915۔1978) جیسے بزرگ ہیں جو اس گاؤں میں دفن ہیں۔
صارفین کی تعداد: 135








گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
جو کام بھی ہوسکے
خواندگی کی تحریک کی معلمہ، زہرا میر جلیلی کی یادجیسے ہی کلاس ختم ہوئی تو ہم خط لکھنے بیٹھ گئے۔ اب خواتین نے لکھنا سیکھ لیا تھا۔ ہر کوئی مجاہدوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے دل کی باتیں لکھ رہا تھا۔ ہر پیکٹ میں ہم نے ایک خط رکھا اور اسے سی کر بند کردیا۔ پھر میں نے الرضا(ع) مسجد[1] کیمپ کے انچارج کو بتایا کہ شمس الشموس مسجد[2] بھیجے جانے لیے پیکٹس تیار ہیں۔
"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔

