ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پندرہواں حصہ

تم گھر نہیں آو گے تو ایسا ہی ہوگا

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2021-03-01


۔ ظاہراً تمام ہی گلیاں نامانوس تھیں۔ میں جتنا بھی فکر کرتی مگر راستہ سمجھ نہ آتا تھا سمجھ نہ آتا کہ کہاں سے جاوں کہ خانہ فرہنگ پہنچوں۔ میں سمجھ گئی کہ رکشے والا جان بوجھ کر غلط راستے پر جا رہا ہے اب مجھے غصہ بھی آ رہا تھا اور ڈر بھی لگ رہا تھا رکشے میں سفر جاری رکھنا معقول نہ تھا کسی طرح رکشہ رکوایا اور اتر گئی اور ڈرائیور پر بھڑک پڑی کہ وہ کیوں غلط راستے پر لئے چلا جاتا ہےاور میری تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ میں نے اس کو ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بتا دیا کہ بھائی میں کوئی اور رکشہ لے کر خانہ فرہنگ چلی جاوں گی تم یہاں سے جاو۔ وہ ڈر گیا اور منتیں کرنے لگا کہ میں بیٹھ جاوں وہ مجھے سیدھاخانہ فرہنگ لے جائے گا۔ میں ڈرتے ڈرت بیٹھ گئی مگر اس بار اس نے صحیج راستہ لیا اور  چند منٹ  میں ہی ہمیں خانہ فرہنگ کے دروازے پر پہنچا دیا۔ میں نے سکون کا سانس لیا اور رکشہ سے اتر گئی علی نے جو ہمیں دیکھا تو ورطہِ حیرت میں ڈوب گیا۔ رکشے والے پر جو غصہ تھا وہ سب کا سب میں علی پر اتار دیا کیوں کہ اس نے گھر نہ آکر ہمیں مشکل میں پھنسا دیا تھا۔ جب اس نے فہیمہ کے جوتوں کی قیمت پوچھی تو میں نے کہا۔

-جتنے کی بھی خریدی ہو ؟؟ تم گھر نہیں آو گے تو ایسا ہی ہوگا۔

اس واقعہ کے بعد میرا ڈر خوف ختم ہوگیا تھا اور اب میں بچوں کو لے کر گھر سے نکل جاتی کبھی گھومنے کبھی سودا سلف خریدنے۔ بعض اوقات مجھے آدھا آدھا گھنٹہ دوکان والے کو سمجھنا پڑتا تھا کہ میں کیا خریدنا چاہتی ہوں۔اب اردو سیکھنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ ہماری حالت اور علی مصروفیت ایسا بہانہ تھے جس کے سبب مجھے اپنے سارے کام خود انجام دینے پڑتے تھے۔ خانہ فرہنگ کا  رفعت نامی ایک ڈرائیور تھا   خانہ فرہنگ کی طرف سے اجازت تھی کہ جب بھی کسی ملازم کو ضرورت ہو یا اس کے گھر والوں کو کوئی کام ہو تو رفعت سے مدد لی جاسکتی ہے اور اس کو گھر کے کام کاج کروانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے مگر علی نے نہ کبھی اس سے خود کام لیا نہ ہی  ہمیں اس بات کی اجازت تھی کہ اس سے کوئی کام لیں۔ ایک آدھ بار میں نے اعتراض بھی کیا کہ سب لوگ اس ڈرائیور کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور اس کی اجازت خود خانہ فرہنگ نے دی ہے تو اس سہولت سے ہم کیوں فائدہ نہ اٹھائیں مگر وہ علی ہی کیا قائل ہوجائے۔

-اگر سب لوگ اس سے فائدہ حاصل کریں تب بھی میں بیت المال سے یہ فائدہ ہرگز نہ لوں گا۔

یہ اسکا آخری فیصلہ تھا اور ہم اس پر عمل پیرا تھے سو ہمیشہ اپنے تمام کام خود کئے۔ علی کی غیر موجودگی کی وجہ سے اکثر کام ادھورے رہ جاتے تھے مگر کوئی اور چارہ بھی نہ تھا۔

اب میں نے اردو زبان سیکھ لی تھی اور خریداری وغیرہ کے کام تو با آسانی خود ہی کر لیتی تھی۔ بچوں نے تو اردو زبان مجھ سے بھی پہلے سیکھ لی تھی خصوصاً فہیمہ نے، اس کا اردو  اور فارسی کا لہجہ بڑا ہی میٹھا تھا۔ یہ دونوں بچے مالک مکان کے بچوں کے ساتھ سارے کھیل کھیل کر نہ تھکتے تھے۔ علی سے ملاقات بہت ہی کم وقت کے لئے ہوتی تھی اس لئے مجھے اس کی مصروفیات کا زیادہ علم نہ تھا۔

اتنا معلوم ہے کہ علی چند ایک بار کشمیر بھی گیا۔ کشمیر ہندوستان کی شیعہ آبادی ہے اور خانہ فرہنگ والے وہاں مالی اور ثقافتی امور انجام دیا کرتے تھے۔[1]،[2] علی جب بھی کشمیر جاتا تو رات میں بھی  گھر سونا ہوجاتا ۔ اس وقت میں اتنا ڈرتی تھی کہ اب میں اس بات پر راضی تھی کہ وہ رات کو دیر سے گھر آجایا کرے کہ کم از کم گھر تو پلٹے گا۔ راتوں کو پلک جھپکائے بغیر بچوں کے سروں پر ٹہلتی رہتی تھی یہاں کہ  صبح کا جھٹ پٹا نمودار ہوجاتا۔ ہر تھوری دیر میں گھر کے تالے کا جائزہ لیتی کہ بند ہے یا نہیں۔ جب صبح کی نماز ادا کر لیتی تو علی کا چہرہ نظر پڑتا۔کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کشمیر سے گھر نہ آتا بلکہ سیدھا آفس چلا جاتا۔ علی کے ان سفروں کے علاوہ مالی تنگدستی نے بھی گھیرا تنگ کیا ہوا تھا۔ میں جتنا بھی کفایت شعاری سے کام لیتی کہ میرا ہاتھ تنگ نہ ہو مگر نہ ہوپاتا اور مہینہ گذارنا مشکل ہوجاتا تھا لہذا ناچار ہمیں واپس خانہ فرہنگ کی راہ لینی پڑی۔ خانہ فرہنگ کی انتہاء میں چند کمرے ہندوستانی ملازمین کے لئے بنائے گئے تھے جو خانہ فرہنگ میں قاصد و نائب قاصد اور باورچی وغیرہ کے کام انجام دیا کرتے تھے۔ انہی کمروں میں سے دو چھوٹے کمرے ہمارے حصے میں آگئے یوں ہم نے اپنی بے بضاعتی کو پھر اکھٹا کیا اور راہی خانہ فرہنگ ہوگئے۔

 

[1] یہ مقبوضہ کشمیر کا تذکرہ ہے

[2] کشمیر شمالی ہندوستان میں ایک پر فضا مقام ہے اور نظامی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔یہ خطہ پاکستان، چین افغانستان اور ہندوستان کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اپنی اس جغرافیائی اہمیت اور بہترین آب و ہوا کے علاوہ جو شیز اہم ہے وہ یہاں کے شیعوں کے رسم و رواج ہیں جو مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے ایران اور انقلاب اسلامی کی تصویر معلوم ہوتے ہیں۔ کشمیر کے بعض علاقوں مثلاً کارگل وغیرہ میں انقلاب اسلامی  کی سالگرہ بھی منائی جاتی ہے اور امام خمینی علیہ الرحمہ کی برسی کی تقریبات بھی منعقد ہوتی ہیں



 
صارفین کی تعداد: 175


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو
میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔