تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - بیالیسویں قسط

مجتبی الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2021-01-16


 ترغیب دلانا اور لالچ دینا

جو حکومت بھی چاہتی ہے کہ اپنی قوم اور فوج کو میدان جنگ میں لائے تو اسے اعتقادی اور روحانی توجیہات ڈھونڈ کر جنگ میں داخل ہونے کا زمینہ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ بعثی حکومت نے بھی جنگ کی شروعات سے چند ماہ قبل عراقی قوم کو میدان جنگ میں بھیجنے اور ہر ایرانی چیز کے خلاف عراقی شہریوں کے دلوں میں جنگ اور مزاحمت کا جذبہ ابھارنے کے لیے توجیہات ڈھونڈنا شروع کر دیں۔ اسی دوران وزارت اطلاعات اور اس سے وابستہ اداروں نے فتنے کی آگ کو بھڑکانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ بعثی حکومت نے نہ امریکہ اور نہ اسرائیل بلکہ ایران کو عرب قوم کے دشمن کے طور پر پہچنوانے کی جی توڑ کوشش کی جبکہ عراقی شہری ایران کو ایک مسلمان اور پڑوسی ملک کے طور پر جانتے تھے۔

جنگ شروع ہونے سے پہلے اس کا زمینہ فراہم کرنے کا مرحلہ تھا جس میں  فوجیوں کو لالچ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے جیسے ان کی تنخواہیں بڑھانا اور انہیں مراعات دینا۔ بعثی، فوج کو اس جنگ میں حصہ لینے پر ابھارنے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئے لیکن جنگ کا کچھ عرصہ گزرنے اور بڑے پیمانے پر نقصانات اور مصیبتوں کے بعد پردے کے پیچھے کے کئی سچ فوجیوں پر آشکار ہوگئے اور جنگ میں شریک ہونے کا اصل محرک کمزور سے کمزورتر ہونے لگا۔ یہیں پر حکومت کو جنگ شروع کرنے کی اپنی توجیہات کے علاوہ دوسرے مؤثر عوامل کی ضرورت پڑی۔ حکومت اور فوجی کمانڈروں کو احساس ہوا کہ ایرانیوں کے مفاد میں جنگ کا پلڑا بھاری ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں عراقی اور ایرانی فوج کے درمیان توازن قائم کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے وجود اور مقاصد کا دفاع کرسکیں۔ اسی مقصد کے لئے کی مادی، روحانی اور تبلیغی تدبیروں پر غور کیا گیا تاکہ ایک بار پھر عراقی فوج کے جسم میں جنگ کی روح پھونکی جا سکے۔ یہاں میں ان میں سے کچھ تدبیروں کی  جانب اشارہ کرتا ہوں:

1- فوج کو آراستہ کرنا:

جنگ شروع ہونے سے پہلے عراقی فوج کا سازوسامان بشمول یونیفارم اور ذاتی اشیاء عراق میں بہت ناقص معیار کی بنایا جاتا تھا۔ لیکن جنگ کے بعد مہنگے مہنگے کپڑے اور امپورٹڈ ذاتی اشیاء( خاص طور پر رومانیہ میں تیار کردہ) فوجیوں کو فراہم کی گئیں۔ سن 1981ء میں عراقی فوجیوں کی ذاتی اشیاء بشمول ہیلمٹ اور جوتے جو پہلے عراق میں ہی بنائے جاتے تھے وہ باہر ملک سے خرید کر فوجیوں کو دیے گئے۔ اس چیز نے عراقی فوجیوں کو ایک نیا وقار بخشا اور انہیں اس احساس سے کہ حکومت ان پر توجہ دے رہی ہے اور ان کا احترام کر رہی ہے، ایک نیا حوصلہ ملا اور وہ زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ میدان جنگ کا رُخ کرنے لگے۔ اس کے علاوہ فوج کے اسٹورز میں ضرورت مندوں کو استعمال کی چیزیں بھی دی گئیں۔

2- گاڑیاں اور رہائشی زمینیں:

عام طور پر ہر انسان گھر، گاڑی اور خوشحال زندگی کا خواہشمند ہوتا ہے۔ عراق میں حکومت نے فوجی افسران کو کم ترین قیمت پر قسطوں کی صورت میں اسٹائلش گاڑیاں بیچنے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات سچ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے حکومت نے فوجیوں سے یہ وعدے کیے تھے اور 1981ء کی دوسری ششماہی میں آہستہ آہستہ حکومت نے اپنے وعدے پورےکردیے۔ فرنٹ لائنز پر تعینات فوجیوں سے لے کر مستقل گیریژن کے لوگوں تک سارے فوجیوں کو یہ عنایات نصیب ہوئیں۔

کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک میں گاڑی حاصل کرنا ایک اہم کامیابی اور بڑی بات سمجھی جاتی ہے لہذا عراقی فوجیوں کے دماغ گاڑیوں کی تقسیم میں لگے ہوئے تھے۔ گاڑیاں دینے کے ساتھ ساتھ رہائشی زمینیں بھی فوجیوں میں تقسیم کی گئیں۔ اور اس کے ساتھ ہی گھر بنانے اور انہیں رہنے کے قابل بنانے کے لئے مادی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔ جنگ کے دوران ان سہولیات کی فراہمی جنگ کی رفتار کو بہت زیادہ بڑھا رہی تھی۔ اسی لئے بعثی انہیں "صدام کے قادسیے کی برکات" کے نام سے یاد کرتے تھے۔ حکومت عراقیوں سے یہ کہنا چاہتی تھی کہ اگر جنگ نہ ہوتی تو یہ گاڑیاں اور گھر انہیں نصیب نہ ہوتے۔ ان چیزوں نے لوگوں کو دنیاوی امور میں مشغول کر دیا اور اس بات کا سبب بنیں کہ لوگ جنگ، موت، آخرت اور آنے والی نسلوں کو بھلا بیٹھیں۔

3- لمبی لمبی قطاروں سے چھوٹ:

جنگ سے پہلے اور جنگ کے دوران شہری راشن اور تعمیراتی سامان وصول کرنے کے لئے سرکاری عمارتوں کے سامنے گھنٹوں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہتے تھے۔ صدام حسین نے ایک قانون بناکر فوجیوں کو ان قطاروں میں کھڑے ہونے سے مستثنیٰ کردیا۔ اس کے نتیجے میں ان کی ضروریات کو جلدی اور خاص احترام کے ساتھ پورا کیا گیا۔ فوجی جو اس امر کو ایک کامیابی سمجھ رہے تھے، نے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنے بچوں کو فوج اور محاذ سے نہ بھاگنے کی ترغیب دلائیں تاکہ وہ ان مراعات سے محروم نہ ہوں۔

4- ایندھن:

 جنگ شروع ہونے کے بعد ایندھن خاص طور پر مٹی کے تیل اور گیس کی قلت ہوگئی اور حکومت کو مجبوراً اس کی تقسیم کے لئے حصے مقرر کرنے پڑے۔ گیس صرف بڑے شہروں کے مراکز میں تقسیم کی جاتی تھی اور مٹی کے تیل کی بہت کم مقدار چھوٹے شہروں میں بھیجی جاتی تھی۔ ہر گھرانے کو پانی اور بجلی کے پیسوں کی ادائیگی کے بعد 18 لیٹر مٹی کا تیل ملتا تھا، لیکن ہر فوجی کو چھٹی کا لیٹر دکھانے پر 20 لیٹر مٹی کا تیل اور ایک گیس کا سلنڈر بغیر قطار میں لگے دیا جاتا تھا۔ یقیناً اگر حکومت منصفانہ طور پر ایندھن تقسیم کرتی توقلت ہوتی ہی نہیں، لیکن غیر منصفانہ تقسیم نے جھوٹا بحران پیدا کر دیا جس سے حکومت نے فوجیوں کو جھوٹی مراعات دینے کا فائدہ اٹھایا۔ جنگ سے پہلے گیس کے ایک سلنڈر کی قیمت 400 فلس تھی جو جنگ کے آغاز کے بعد ایک دینار(1000 فلس) تک بڑھ گئی۔ عام طور پر سلنڈر پورے نہیں بھرے جاتے تھے۔

5- زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کے لیے تحفہ:

جنگ کے اوائل یعنی سن 1980ء  میں فوج ہر زخمی افسر کو 100 دینار اور ہر زخمی نان کمیشنڈ افسر کو 50 دینار تحفے کے طور پر دیتی تھی۔ سن 1981ء  میں ہر زخمی افسر کو کمر کی پستول کے ساتھ  500 دینار دیے جاتے تھے لیکن سپاہی اور نان کمیشنڈ افسر کو 300 دینار دیے جاتے تھے۔ ان چیزوں کی وجہ سے میدان جنگ ایک منافع بخش تجارتی منڈی میں تبدیل ہوگیا۔ ہلاک ہونے والوں کے گھر والوں کو 10 ہزار دینار، ایک ٹویوٹا گاڑی اور ایک رہائشی زمین کا ٹکڑا دیا جاتا تھا۔ خبروں کے مطابق یہ رقم سعودیہ عرب ادا کرتا تھا۔ ہزاروں غریب خاندان "صدام کے قادسیے" میں صرف اپنا ایک بیٹا کھو کر ایک رات میں عالیشان گھر اور اسٹائلش اور مہنگی گاڑی کے مالک بن جاتے تھے۔

مجھے بڑی شرم کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ کچھ خاندان آرزو کرتے تھے کہ ان کے بچے محاذ پر مارے جائیں تاکہ وہ گھر اور گاڑی کے مالک بن جائیں۔ یہ تحفے ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں میں وراثت کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے کئی مشکلات کا باعث بنتے تھے۔ اسی طرح فوجیوں اور ہلاک ہونے والوں کے گھر والوں کی ٹریفک کے قوانین سے عدم آگہی کی وجہ سے حادثات کی شرح میں اضافہ ہوا اور یوں گاڑی مرمت کرنے والوں کی جیبوں میں اچھا خاصا منافع گیا۔ گاڑیوں کے مالکان ہتھوڑی کی ایک چوٹ کیلئے 5 دینار ادا کرتے تھے۔ گاڑی مرمت کرنے والے یہ رقم لے کر کہتے تھے کہ یہ سب "صدام کے قادسیے" کی برکات ہیں۔

جاری ہے۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 649


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو
میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔