یادوں بھری رات کا ۳۱۵ واں پروگرام۔ دوسرا حصہ

انقلاب اسلامی ۸ سالہ جنگ کا فاتح

الناز درویشی

مترجم : محسن ناصری

2021-01-16


۲۳ جولائی ۲۰۲۰ء کی شب یادوں بھری رات کے ۳۱۵ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کو آپارات ویب سائٹ پر نشر کیا گیا۔ اس پروگرام میں " سید احمد قشمی" اور " ڈاکٹر حمید رضا قنبری" مہمان تھے جنہوں نے دفاع مقدس کے دوران پیش آنے والے واقعات کو ناظرین کے لیے پیش کیا اور اس پروگرام میں میزبانی کے فرائض " داؤد صالحی" انجام دے رہے تھے۔

اس پروگرام کے دوسرے مہمان داکٹر حمید رضا قنبری ہیں جو اکتوبر ۱۹۶۲ء کو اھواز میں پیدا ہوئے اور بیس سال کی عمر میں آپ نے جنگ میں شرکت کی۔ والفجر نامی عسکری کارروائی کے ابتداء میں ہی آپ اسیر ہوگئے۔ آپ کی جوانی کے سنہرے ۹۱ مہینے الانبار اور موصل کے قیدخانے میں گذر گئے۔ قید سے رہائی کے بعد آپ نے اپنی تعلیم کو دوبارہ شروع کیا اور تہران یونیورسٹی سے طب کے شعبے میں ڈاکٹر بنے اور بعد ازاں ایمرجنسی کے ڈپارٹمنٹ میں اسپیشلسٹ کی ڈگری حاصل کی۔

مہمان اپنی گفتگو کے آغاز میں کہتے ہیں کہ " اسیری کے خاتمے سے ٹھیک دو ہفتے پہلے جیل میں فلاورجان کا ۲۱ سالہ جوان دل کا دورہ پڑنے سے شہادت کے درجہ پر فائز ہوجاتا ہے۔ آزادی ملنے کے دو مہینے بعد میں نے ارادہ کیا فلاورجان کے اس شہید کے گھر والوں سے ملاقات کروں اور ان کو ان کے شہید بیٹے کا پرسہ دوں۔ میں اپنی والدہ اور ہمشیرہ کے ساتھ اصفہان گیا اور وہاں سے کچھ وسائل کی آمادگی کے بعد شہید کے گاؤں کی جانب روانہ ہوگیا جو کہ ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔ شہید کے گھر کا ایڈریس ملنے کے بعد ہم اس کے گھر پہنچے اور ہماری شہید کے والد سے ملاقات ہوئی۔ میں نے جناب صابری سے سوال کیا " آپ کو محمد کی شہادت کی خبر کس طرح ہوئی۔۔؟ شہید کے والد نے بیٹے کی شہادت کی خبر ملنے کا پورا ماجرا کچھ اس طرح بیان کیا۔۔

صابری صاحب کہتے ہیں:17 اگست ۱۹۸۹ء  کو جب خبروں میں قیدیوں کی رہائی کی خبر نشر ہوئی تو میں نے پورر گاؤں میں چراغاں کیا اور اس کے استقبال کی تیاریاں شروع کردیں کیوں کہ محمد گاؤں کا واحد اسیر تھا۔ ہمارے کان پر ریڈیو پر اور نگاہیں ٹی وی پر لگی رہتی تھی کہیں سے ہمیں بھی ہمارے محمد کی کوئی خبر ملے۔ محمد موصل میں قید تھا اور موصل کے دو قید خانوں میں موجود اسیروں کی تعداد نہایتاً ۴ ہزار تھی۔ اس اعتبار سے محمد کو  ابتدائی ۳،۴ روز میں آزاد ہوجانا چاہیے تھا۔ جب محمد کی کوئی خبر نہ ملی تو ہماری پریشانی میں مزید اضافہ ہوا اور ہم نے ہلال احمر اور سپاہ پاسداران سے رجوع کیا لیکن ان کو بھی محمد کی کوئی خبر نہیں تھی۔  محمد کے دوست جو کہ موصل میں قید تھے انہوں نے بھی ہمیں کوئی خبر نہیں دی یہاں تک کہ ایک دن ظہر کے وقت ایک بس ہمارے گاؤں میں داخل ہوئی۔ جب بس رُکی اور اس میں سوار لوگوں نے اُترنا شروع کیا تو میں نے دیکھا اس بس میں ۴۰ کے قریب لاغر اور نحیف جوان ہیں جن کی عمر ۲۰ سے ۳۰ کے درمیان ہے۔ میں بس کے نزدیک گیا اور بس سے اُترنے والوں جوانوں کو گلے لگانا شروع کیا کہ شاید ان میں میرا محمد بھی موجود ہو۔ لیکن کچھ ہی دیر میں، میں نے محسوس کیا کہ یہ جوان مجھے دیکھ رو رہے ہیں۔ میں نے خود سے کہا " یا خدا یہ جوان مجھے تسلیت کیوں دے رہے ہیں۔۔؟"۔ جب یہ جوان واپس چلے گئے تو میں نے گاؤں پہنچ کر اعلان کیا کہ اس سجاوٹ اور چراغاں کو ختم کرو اور گاؤں میں سوگ کی فضا بناؤ کیوں کہ میرا محمد اب کبھی واپس نہیں آئے گا"۔

جب شہید کے والد بیٹے کی شہادت کی خبر ملنے کی داستان بیان کررہے تھے تو میری والدہ میرے برابر میں بیٹھی آہستہ آہستہ رو رہی تھیں۔ میں نے صابری صاحب سے سوال کیا شہید کی ماں کہاں ہیں وہ کیوں نہیں آتی۔۔۔؟ شہید کے والد نے جواب دیا " شہید کی ماں اپنے ایک اور بیٹے کی شہادت کے بعد محمد کی اسارت کے غم کو برداشت نہ کرسکیں اور اس دار فانی کو وداع کہہ دیا"۔ ۱۹۸۷ء  میں محمد کے بھائی بھی شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔ میری والدہ یہ داستان سُنے کے بعد اصفہان تک روتی رہیں۔

مہمان موصل کے قید خانے میں شہید محمد صابری کی شہادت کی مناسبت سے منعقد ہونے والی مجلس کا احوال کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔

جولائی کا آخرتھا، ہم نے موصل کے قید خانے میں کچھ دوستوں کے ہمراہ میٹنگ کا اہتمام کیا تھا۔ ہم میں سے ایک دوست لاک اپ کی کھڑکی پر بیٹھ گیا تاکہ اس بات کا خیال رکھے کہ اگر عراقی افسر آجائے تو ہم سب کو آگاہ کرے۔ اچانک یہ جوان کھڑکی سے کودا اور کہنے لگا " فوٹبال کے میدان میں ایک اسیر کو دل کا دورہ پڑا ہے اور اس کو ہسپتال لے کر جایا گیا ہے، شاید یہ جوان محمد صابری ہے"۔ ہم سب قیدخانے کے ہسپتال کی جانب دوڑے جو کہ جیل کے ایک حصے میں واقع تھا جس میں چار یا پانچ بیڈ کی گنجائش تھی۔ جب ہم میڈیکل ڈپارٹمنٹ میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ ۴۵ منٹ انتظار کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ محمد صابری کا انتقال ہوگیا ہے۔ عراقی فوجی چاہتے تھے کہ شہید کے جسد خاکی کو جلد از جلد لے جائیں اور جیل کے باہر خاموشی سے دفن کردیں ، لیکن ہم نے ایسا ہونے نہیں دیا۔ ہم نے عراقی افسر سے بات کی اور کہا " ہمیں اجازت دو کہ ہم اپنے دوست سے رخصت ہو لیں"۔۔ انہوں نے ہماری اس درخواست کو قبول کرلیا۔ جوانوں نے شہید کو رخصت کرنے کے لیے دور دور تک صفیں بنا لیں اور ایک ایک کر سب شہید سے ملتے رہے اور الوداع کہتے رہے۔ محمد کو ایک سفید چادر میں لپیٹا گیا تھا اور اس کا چہرہ کُھلا ہوا تھا۔ ایک عجیب منظر تھا سارے جوان ایک خاص نظم و ضبط کے ساتھ اس جوان سے ملتے رہے۔ شہید اور شہادت سے عشق و محبت کا ایک عجیب منظر تھا۔ محمد نے ۱۴ سال کی عمر میں جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ وہ خیبر نامی عسکری کاروائی میں زخمی ہوا اور پھر دشمن کے ہاتھوں اسیر ہوکر الانبار اور پھر موصل کے قید خانے پہنچ گیا تھا۔ محمد نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے محمد سے درخواست کی وہ جیل میں قیدیوں کی جانب سے منعقد کی جانے والی کلاسوں میں شرکت کرے جس کا منتظم میں خود ہی تھا۔ محمد نے علم کے حصول میں شوق کا مظاہرہ کیا، وہ پڑھائی میں دلچسپی کے ساتھ آگے بڑھتا اور اچھے نمبر لے کر پاس ہوتا تھا۔

جب ہم محمد کی تدفین سے واپس آرہے تھے تو عراقی جیل کے افسر نے ہم سے کہا " ہم شہید کی ایصال ثواب کی مجلس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔۔؟" ہمارے لیے بہت ہی تعجب انگیز بات تھی اور ہمیں یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ مجلس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔۔ ہم ان مجالس کو انتہائی خفیہ انداز میں منعقد کیا کرتے تھے کیوں کہ اکثر عراقی افسروں کی جانب سے ٹارچر کی وجہ یہی عزاداری کی مجالس ہوا کرتی تھی۔ اب کیا وجہ ہے کہ یہ عراقی افسر ہماری مجلس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔۔؟ ہم نے اس افسر کے ساتھ مل کر مراسم عزا کا اہتمام شروع کیا ، قاری قرآن اور عربی و فارسی زبان کے نوحہ خوانوں کو بُلایا گیا۔ مجلس کے بعد تبرک بھی مہیا کیا گیا۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ کوئی کمی رہنے نہ پائے۔

مجلس میں جیل کے تمام چھوٹے بڑے افسر موجود تھے ہم نے ان کے لیے پورا بندوبست کیا ہوا تھا۔ عراقی افسران کی بیٹھنے کی جگہ دوسرے اسیروں سے جدا تھی۔ تمام عراقی افسران آخر تک مجلس میں موجود رہے اور ان کو چائے اور کھجور پیش کی گئی۔ ہمارا خوش صدا قاری " و مَن یَخْرُجُ مِن بَیتِهِ مُھَاجراً اِلی اللہِ ثُمَّ یَدْرُکُهُ الموتُ وقعَ اجرُہُ علی اللہ۔۔" کی قرائت کرتا رہا۔

عراقی افسران نے بھی ہمارے اس شہید کے لیے قرآن پڑھا اور مجلس عزا میں حضرت علی اکبر علیہ السلام کے حال پر عربی و فارسی زبانوں میں نوحہ خوانی کی گئی اور مصائب بیان ہوئے جن کو سُن کر عراقی افسر نے گریہ کیا۔ جیل میں عراقی فوج کے اعلی افسر نے محمد کے جنازے پر اپنا سیدھا ہاتھ بلند کرکے احترام کا اظہار کیا اور سلیوٹ کیا۔ اس کا دل غم سے بھرا ہوا تھا اور اپنی اس حالت پر قابو نہیں پاسکا اور میں نے خود اس کے چہرے پر جاری آنسو دیکھے۔  شہید محمد صابری اپنا کام کرچکا تھا اور اس کی شہادت نے ہماری آزادی کا پروانہ صادر کیا۔ آج وہ لوگ جو اس شبہ کو اٹھاتے ہیں کہ خرم شہر کی آزادی کے بعد ہم نے جنگ کو آگے کیوں بڑھایا۔۔۔؟

تو انہیں چاہیے شہید محمد صابری کی شہادت کی داستان کو ایک دفعہ پڑھ لیں۔ ہمارے جوانوں نے اپنی جانوں سے انقلاب اسلامی کا دفاع کرنے کے بعد انقلاب اسلامی کے پیغام کو دنیا تک پہنچایا ہے۔ ہم نے خطے میں استکبار کے خلاف بیداری کی لہر اُجاگر کی اور انقلاب اسلامی کے نظریے کو دنیا کے سامنے ایک نمونہ کے طور پر پیش کیا۔ آج لبنان، عراق، یمن ، افغانستان ، اور بحرین کی عوام بھی اسی نظریے کے تحت آزادی کے خواہاں ہیں اور ظلم و ظالم کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ آج انقلاب اسلامی ۸ سالہ جنگ کا فاتح بن کر دنیا کے سامنے موجود ہے۔ ۸ سالوں میں استکبار نے اپنی تمام تر قوت کے ساتھ اس نظریے کو دبانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ تمام تر وسائل انقلاب اسلامی کے خلاف استعمال کیے اسلحہ ، جنگی ساز وسامان، مالی امداد اور جو کچھ بھی ممکن تھا استکبار نے استعمال کیا لیکن نظریے کی اس جنگ میں انقلاب اسلامی کو فتح حاصل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا دشمن انقلاب اسلامی کے پھیلاؤ سے خوفزدہ ہے۔ وہ جمہوری اسلامی سے نہیں ڈرتے بلکہ جمہوری اسلامی کے نظریے کے پھیلاؤ سے خوفزدہ ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ انقلاب اسلامی کے فکر کو محدود کردیں لیکن اس فکر کے پھیلاؤ کی اصل وجہ شہیدوں کا خون ہے جس نے انقلاب اسلامی کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ مجھے یقین ہے شہید قاسم سلیمانی جیسے شہید کا پاک خون انقلاب اسلامی کو درپیش دشمن کی تمام تر سازشوں کو خاک میں ملا دے گا کیوں کہ ہم شہید محمد صابری جیسے شہیدوں کے خون کی تاثیر کا بخوبی مشاہدہ کرچکے ہیں۔ پروردگار ہمیں بھی شہیدوں کے ساتھ ملحق فرمائے۔ ہمارا سلام ہو ان شہیدوں پر جو اسارت کی بدترین اذیتیں برداشت کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے اور شہادت کے اعلی درجہ پر فائز ہوئے ہمارا سلام ہو ۸ سالہ دفاع مقدس کے شہیدوں پر۔۔۔ رِحِمَ اللہُ مَن قِرَا الفاتحۃَ مع الصلوات، والسلام و علیکم  و رحمت اللہ و برکاۃ۔۔۔

 



 
صارفین کی تعداد: 614


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو
میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔