تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اکتالیسویں قسط۔

مجتبی الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2021-01-16


 12- "زین القوس" ریجمنٹ:

پانچویں اور چھٹی ڈویژن کی فورسز ایک دوسرے سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات تھیں۔ ان کے کیمپس کے پاس سے کچھ نہریں گزرتی تھیں۔ 1981ء  کے آخر میں پانی کی سطح میں کمی واقع ہونے لگی۔ لہذا وہ لوگ "زین القوس" ٹینک بٹالین کو اس علاقے میں لے آئے تاکہ اسے محاذ کی فرنٹ لائن پر تعینات کیا جائے اور اگلے مورچوں میں (اس قدرتی رکاوٹ کی سطح میں کمی آنے کی وجہ سے) واقع ہونے والی کمزوری کو ختم کیا جا سکے۔ اس یونٹ کے کچھ ٹینک پرانے، "ٹی-54" ماڈل کے اور متروک تھے۔ ہماری بٹالین نے ان میں سے تین ٹینک اپنی حفاظت کے لیے لے کر لیفٹیننٹ "خلیل" کے حوالے کردیے۔ ان ٹینکوں کو ریجمنٹ کے کیمپوں کے آگے تعینات کیا گیا۔ ٹینک چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کی حیثیت رکھتے تھے کیونکہ خراب ہونے کی وجہ سے انہیں زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا تھا لیکن مسلسل ان کی مرمت جاری رہتی تھی۔ ایک دن ریجمنٹ کمانڈر نے کچھ گولے فائر کرکے ان کے تجربے کا حکم دیا۔ توپچیوں نے "کوہہ" گاؤں کے گھروں کا نشانہ لگایا لیکن ان کے بڑے ہونے کے باوجود کوئی بھی گولا گھروں تک نہیں پہنچا۔ اس مشکل نے بٹالین کمانڈر کو پریشانی میں ڈال دیا اور اس نے لیفٹیننٹ خلیل سے کہا: " ایرانیوں کے حملوں کے خلاف ان ٹینکوں کو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟"

 لیفٹیننٹ خلیل نے جواب دیا: "جناب یہ ٹینک پرانے ہیں اور زنگ کھا چکے ہیں، ایرانیوں کے ٹینکوں سے لڑائی کے دوران انہیں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔"

بٹالین کے کمانڈر نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: "بہتر ہوگا کہ ان پر ہرا رنگ کرکے ان پر ہرے جھنڈے لہرادو تاکہ ایرانی سمجھیں کہ یہ سید ہیں، اس طرح ہم اور آپ ان کی گولہ باری سے محفوظ رہیں۔"

سب ہنسنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ عراقی حکومت کے پاس جو کچھ تھا وہ اس نے جنگ میں لگا دیا، یہاں تک کہ متروک اسلحہ اور ساز و سامان بھی۔

13-ڈاکٹروں کی کانفرنس:

اسی سال، میڈیکل یونٹ-11 نے بیسویں بریگیڈ کے تمام ڈاکٹروں کو حمید چھاؤنی کے جنوب-مغرب میں واقع بریگیڈ کے کیمپ میں ایک اجلاس کے لیے دعوت دی۔ میں وہاں گیا۔ پانچوں ڈویژن کے کمانڈر کے معاون اور ڈاکٹر کرنل "قحطان" نے تقریر کی۔  انہوں نے میڈیکل ٹیموں کے فرائض، ڈاکٹروں کی ذمہ داریوں اور زخمیوں کے انخلا کے طریقہ کار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے کچھ ہیلی کاپٹر فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کیمیائی اور بائیولوجیکل ہتھیاروں کے بارے میں بھی بات کی۔ تقریر کے اختتام پر حاضرین نے نقائص اور اپنی تجاویز پیش کیں۔ اسی دوران اجلاس میں موجود ایک ڈاکٹر نے ایرانی فورسز کی جانب سے کیمیائی اور بائیولوجیکل ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کے حوالے سے پوچھا۔ کرنل "قحطان" نے جواب دیا:  ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹس موجود ہیں کہ ایرانی فورسز اس قسم کے ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔"

لیکن وقت گزرنے نے یہ ثابت کیا کہ حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ عراق پہلے سے ہی ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی تیاری کر رہا تھا اور اسی وجہ سے عراقی فوج کو ذہنی اور عسکری طور پر اس مقصد کے لیے تیار کر رہا تھا۔ اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر "نبیل میبران سعید" نامی میرے ہم جماعت سے میری ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا: "میں حال ہی میں محاذ پر آیا ہوں اور فی الحال "زین القوس" ٹینک بٹالین میں خدمات انجام دے رہا ہوں۔"

سوال جواب اور حال احوال کے بعد پتا چلا کہ اسے "الرشید" اسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر سے زبانی تکرار(منہ ماری) کی وجہ سے محاذ پر بھیجا گیا ہے۔ اسی طرح سے اس نے مجھے بتایا کہ "السماوہ" اسپتال میں ایک نرس سے لڑائی کی وجہ سے اسے سٹی سیکیورٹی آرگنائزیشن کی جیل میں بھی رکھا گیا۔ اس نرس نے اس پر صدام کے خلاف بد زبانی کرنے کا الزام لگایا تھا۔ چونکہ وہ نرس انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی آرگنائزیشن کی مخبر تھی اسی لیے انہوں نے اس کی بات مان لی۔ میں اس سے مسلسل رابطے میں تھا کیونکہ "زین القوس" بٹالین کی پوزیشنز ہماری ریجمنٹ کے قریب واقع تھیں۔ لیکن ایک مہینے بعد دوبارہ میں نے کبھی اسے نہیں دیکھا اور پھر جب بھی میں اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا تو مجھ سے کہا جاتا کہ وہ نہیں ہے یا چھٹی پر گیا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ میں ایک دن اس کی میڈیکل ٹیم کے کیمپ گیا۔ وہاں ایک میل نرس نے مجھے بتایا: " ڈاکٹر نبیل کو ساڑھے چار سال کی قید ہوگئی ہے کیونکہ ان پر اسپتال میں بدنظمی پھیلانے کا الزام تھا۔"

14-سیاسی جواز وفد:

اگست 1981ء کے اواخر میں تمام نان کمیشنڈ افسران کو بیسویں بریگیڈ کے ہیڈکوارٹر میں بلوایا گیا۔ میں نے بٹالین کے  ڈپٹی کمانڈر سے اس کی وجہ پوچھی۔ اس نے بتایا: "وزارت دفاع کی جانب سے ایک وفد آیا ہے اور وہ لوگ نان کمیشنڈ افسران سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔"

میں نے پوچھا: "یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟"

اس نے کہا: "میں نہیں جانتا!"

اگلی صبح ہم بٹالین کے دوسرے کچھ افسران کے ساتھ بریگیڈ بیس گئے۔

راستے میں انگریزی زبان کے سیکریٹری لیفٹیننٹ "جاسم" نے مجھ سے پوچھا: "تم اداس کیوں ہو؟"

میں نے کہا: "میں اس ملاقات کی وجہ سے پریشان ہوں۔"

اس نے پوچھا: "کیوں پریشان ہو؟"

میں نے کہا: "میں اس لیے پریشان ہوں کہ کہیں وہ ہم سے مستقل طور پر فوج میں خدمات انجام دینے کو نہ کہیں۔"

اس نے کہا: " وہ ایسا نہیں کرسکتے-"

میں نے کہا: "سن 1976ء  میں میزائلز استعمال کرنے کے طریقے کی ٹریننگ کے لئے سوویت یونین بھیجے گئے انجینیئرز کے ایک گروپ کے ساتھ وہ ایسا پہلے کرچکے ہیں۔"

اجلاس صبح دس بجے شروع ہوا۔ اس وفد کی سربراہی فوج کے سیاسی جواز ایڈمنسٹریشن کا میجر "خضر علی" کر رہا تھا۔

وه وزیر تجارت "حسن علی" کا بھائی تھا۔ میجر "خضر علی" نے جنگ، محاذوں اور ایرانی حکومت کے حوالے سے گفتگو کرنے کے ساتھ یہ تجویز دی کہ نان کمیشنڈ افسران رضاکارانہ طور پر فوج میں مستقل بنیادوں پر خدمات انجام دیں، کیونکہ اس کے مطابق انہیں بہت سی مراعات حاصل ہوں گی۔ اس کے بعد وفد کے دیگر ممبران نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں میجر "خضر" نے دوبارہ اپنی تجویز کو دہرایا لیکن اسے کوئی جواب نہیں ملا۔

سب خاموش تھے۔ اس نے مایوس ہوجانے کے بعد دھمکی دینی اور بدتمیزی کرنی شروع کردی۔ظہرانے میں چربی بنائی گئی تھی جس سے حاضرین کی پریشانی میں کچھ کمی ہوئی۔ شام کو ہم پریشانی کی حالت میں بٹالین لوٹ آئے۔

15-پانی کا خشک ہوجانا:

ایرانیوں نے جنگ کے شروع میں ممنوعہ علاقے میں جو پانی چھوڑا تھا وہ 1981ء  کے موسم گرما کے دوران آہستہ آہستہ خشک ہوگیا۔ اس پانی کہ جگہ پر بہت سے پودے اگ گئے۔ مٹی کے بندوں کے پیچھے بہت ساری مچلیاں بھی جمع ہو گئی تھیں جو ہمارے لیے ایک لذیذ کھانا تھیں۔ ممنوعہ علاقے کا ایک بڑا حصہ خاص طور پر دوسری اور تیسری کمپنی کے قریب کا علاقہ خشک ہو چکا تھا اور اس بات نے ہماری فورسز کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا کہ کہیں ایرانی کوئی نیا حملہ شروع نہ کردیں۔ کیونکہ پانی کو خشک کرنے کا  مطلب حملے کے لئے راستہ ہموار کرنا۔

گرمیوں کا کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں نے زمین کے تین چھوٹے ٹکڑوں کو مولی، تلسی وغیره جیسی سبزیوں کو اگانے کے لئے  مختص کردیا۔ ان میں سے ہر ایک کا رقبہ تقریبا 12 میٹر تھا۔ مجھے انہیں دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔ چڑیاؤں کا جمع ہوجانا مناظر کی خوبصورتی کو کئی گنا بڑھا دیتا تھا۔

دن کے وقت میں اپنی کرسی ان چھوٹے باغوں میں رکھ کر اپنے پاس موجود اخبارات اور رسالے پڑھا کرتا تھا۔ میں سوچتا تھا جیسے میں ایک باغ میں بیٹھا ہوا ہوں۔

جاری ہے۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 453


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات :تینتالیسویں قسط

میں نے کہا: " گھبراؤ نہیں! میں نان کمیشنڈ ڈاکٹر ہوں نہ کہ انٹیلی جنس افسر۔ میری صلاح یہ ہے کہ تم محاذ کی صورتحال کے متعلق کسی سے گفتگو نہ کرو، احتیاط کرو ورنہ تمہارا وہ انجام ہوگا جو بعثی خوب جانتے ہیں!"

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔