یادوں بھری رات کا ۳۱۴ واں پروگرام (پہلا حصہ)

شہید چمران کی کچھ یادیں

الناز درویشی

مترجم : محسن ناصری

2021-01-16


۲۵ جون ۲۰۲۰ء کو یادوں بھری رات کے تین ۳۱۴ ویں پروگرام  کا انعقاد کیا گیا جس میں شہید مصطفی چمران کے حلقہ احباب میں سے تین دوستوں کو دعوت دی گئی جس میں انہوں نے شہید کے واقعات کو بیان کیا۔

ایرانی تاریخ کی بیانگر ویب سائٹ کی جانب سے اس پروگرام کو آرٹس کونسل میں منعقد کیا گیا، جس میں سید ابو الفضل کاظمی ، حاج حسین شاہ حسینی اور جناب اسماعیل شاہ حسینی نے دفاع مقدس میں شہید مصطفی چمران کی یادوں کو تازہ کیا اور دفاع مقدس میں موٹرسائیکل سوار مجاہدین کے واقعات کو بیان کیا۔

اس پروگرام میں مہدی صالحی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے جو کہ مہمانوں سے شہید مصطفی چمران سے متعلق مستقل سوالات کرتے رہے۔ ان سوالات کا محور مصطفی چمران کے موٹرسائیکل سوار دوست " جلیل نقاد" تھے۔

سید ابو الفضل کاظمی پروگرام کے پہلے مہمان تھے اور انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز کچھ اس طرح کیا " گذشتہ ہفتہ مصطفی چمران کی برسی تھی جس میں ان کا ہی ہر جگہ چرچا تھا، میں ہمیشہ ہی شہید سے کہا کرتا تھا کہ " آپ تہرانی نہیں ہیں۔۔وہ میری بات پر  ہنسا کرتے تھے اور جواب میں کہتے تھے " کیا تم خیال کرتے ہو میں عودلاجان( ایک فرضی مقام) کا رہنے والا ہوں"۔ پچھلے سال شہید مصطفی چمران کے ایک رائڈر"اکبر چھرقانی" جو کہ ان کا پیغام ایک سے دوسری جگہ پہنچایا کرتے تھے ، کی پرسی تھی۔ اکبر چھرقانی ۹ محرم کو عصر کے وقت شہید ہوئے تھے۔ میں برسی کی مناسبت سے سوسنگرد گیا وہاں ایک جوان مجھ سے ملا اور کہنے لگا میں شہید مصطفی چمران کا بیٹا ہوں، میں ہنسا اور مذاق میں کہا " یعنی شہید مصطفی کی تیسری بیوی بھی تھی۔۔؟"۔ تو جوان کہنے لگا نہیں میں چمران کے گاؤں کا رہنے والا ہوں۔ میں اس جوان کے ساتھ اس کے گاؤں گیا اور وہاں شہید چمران کے چچی سے ملا جو ایک دلچسپ خاتون ہیں۔

سید ابو الفضل کاظمی نے مزید بیان کیا " آج ہمیں یہ توفیق نصیب ہوئی ہے کہ شہید سے متعلق کچھ واقعات کو بیان کریں اور شہید کی یادوں کو زندہ کریں۔ اگرچہ شہید کے متعلق جس قدر کہا جائے کم ہے۔ میری ایک کتاب نشر ہوئی جس کی ایک کاپی شہید کے بیٹے جو کہ نیوجرسی میں مقیم ہیں،تک پہنچی تو انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ شہید کے خانوادے کے ایران سے جانے کے بعد شہید کو ان کی اہلیہ نے ٹیلیفون پر اطلاع دی کہ ان کا بڑا بیٹا "کریم" سوئمنگ پول میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا ہے۔ شہید جب بھی اس بیٹے کو یاد کرتے تھے رو دیا کرتے تھے۔ اس فرزند کے علاوہ شہید کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے  جو امریکہ میں رہتے ہیں لیکن ان کے دل ایران میں ہی ہیں۔

سید ابو الفضل کاظمی نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا " شہید ہمیشہ کہا کرتے تھے " ایک دن آئے گا کہ جب کاسبی (کاروبار) اور عاشقی جا بجا ہوجائے گی اور ہمیں ان ایام سے محتاط رہنا چاہیے"۔ میرا سن و سال اس وقت بہت کم تھا۔ میں شہید کے ان جملوں کو سمجھ نہیں سکتا تھا لیکن آج کے زمانے میں ان جملوں کی حقیقت کو بہت اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ شہید ہمیشہ ہی کہا کرتے تھے کہ عاشقی اور کاسبی ( کاروبار) ہمیشہ ہی ایک دوسرے کی ضد اور مخالف ہیں۔ جناب امیر حسین نے نوروز پر جو فلم ریلیز کی ہے اس میں باخوبی دیکھا جاسکتا ہے کہ " جلیل نقاد" ایک سچے عاشق تھے۔ لیکن آج لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم ولایت کو تنہا نہیں چھوڑے گے تو ہمیں اپنے ان الفاظ پر توجہ کرنی چاہیے۔ کیوں کہ جو کہہ رہے ہیں جب تک اس پر عمل نہ ہو تو وہ جملات کسی کام کے نہیں ہوتے۔ جب حرام لقمہ گلے سے نیچے جاتا ہے تو حرام الفاظ کی صورت میں زبان سے جاری ہوکر باہر آتا ہے۔ عاشق کاروباری نہیں ہوتا، جو کہتا ہے وہ اس کے دل کی صدا ہوتی ہے مفادات کی بنیاد پر نہیں کہتا۔

" جلیل نقاد" شہید ہوچکے تھے لیکن دو دن بعد ان کے منہ سے کچھ بخارات خارج ہونا شروع ہوئے تو معلوم ہوا وہ زندہ ہیں ان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ کوما میں چلے گئے۔ ۶ مہینے کوما میں رہنے کے بعد جب ہوش میں آئے تو ان کا آدھا جسم مفلوج ہوچکا تھا اور قوت گویائی بھی جاچکی تھی صرف ایک ہاتھ کام کرتا ہے۔ جلیل نے پنچر کی دکان کھولی اور اپنے اسی ایک ہاتھ کے ساتھ کام کرتے ہیں پنچر لگانے سے لے کر آئل تبدیل کرنے تک اور مختلف کام انجام دیتے ہیں اور اپنا گذر بسر کرتے ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی پر ظاہر بھی نہیں ہونے دیا کہ وہ کبھی محاذ پر گئے تھے اور دفاع مقدس کے اہم ترین اور شجاع ترین سپاہیوں میں سے ایک تھے۔ کبھی اپنے آپ کو ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کبھی اپنی قربانیوں کے بدلے کسی قسم کے حق کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا " آقا مسعود ( رہبر انقلاب اسلامی کے فرزند) کہا کرتے ہیں کہ جلیل اپنے اندر ایک کتاب ہے۔ آج کے زمانے میں جلیل جیسے افراد کو دنیا کے سامنے پیش کیے جانے کی ضرورت ہے۔ جہاں ہر جگہ بُرے افراد کو دیکھایا جاتا ہے وہیں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو صرف خداوند متعال کی رضا کی خاطر قربانیاں دیتے ہیں اور سچے عاشق ہیں۔

میزبان؛ کیا شہید مصطفی چمران نے آپ سے چاہا تھا کہ موٹرسائیکل سواروں کو  دفاع مقدس میں شمولیت کی دعوت دی جائے۔۔؟

سید ابوالفضل کاظمی؛ یہ کام دو مرحلوں میں انجام پایا۔ پہلے مرحلے میں ۲۱ موٹر سائیکل سواروں کو بلایا گیا جو لبنان سے عراقی ٹینکوں کو تباہ کرنے کے لیے آئے تھے لیکن کیوں کہ لبنان ایک نشیب وفراز سے بھرا ہوا علاقہ ہے اور ایران ایک میدانی علاقہ ہے، یہ کام انجام نہیں پاسکا۔ دوسرے مرحلے میں شہید چمران نے مجھ سے کہا  کہ کچھ اور موٹرسائیکل سواروں کا انتظام کرو۔ میں اس غرض سے تہران آیا اور قزوین اور  اپنے علاقے سے ۲۰ افراد پر مشتمل گروپ تیار کیا۔ جب میں ان افراد کو وزیر اعظم کے دفتر لے کر گیا تو ہم سے ایک شخص نے بہت ہی بُرا برتاؤ  کیا۔ میں نے شہید چمران کو پورا ماجرا  سنایا۔ شہید اس ردعمل سے بہت ہی ناراض ہوئے۔ شہید نے ان میں سے ہر ایک شخص کو گلے سے لگایا۔ شہید کے برتاؤ نے ان افراد پر بہت مثبت اثر ڈالا اور اس طرح سے ان کی اصلاح ہوئی کہ جو لوگ جوتوں کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے شہید نے ان لوگوں کو حیرت انگیز طور پر دیندار انسان بنادیا۔

بیس افراد کا یہ گروہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوا اور شہید چمران کے اطراف میں ہی دفن ہوا ہے لیکن کوئی بھی ادارہ یا اشخاص ان کو نہیں پہچانتا۔ یہ خدا کے لیے جنگ کرنے والوں کا گروہ تھا۔ شہید مصطفی چمران نے ایسے افراد کی تربیت کی جو حقیقی عاشق تھے۔

اس پروگرام کے دوسرے راوی جناب سردار حسن شاہ حسینی تھے جو شہید مصطفی چمران کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز اس طرح سے کیا " ہماری نسل کو بھلایا جاچکا ہے اور ہمارے ساتھ بی وفائی ہوئی ہے۔ دفاع مقدس میں جلیل نقاد جیسے بہت سے افراد تھے۔ بندہ حقیر کوئی مقرر یا خطیب نہیں ہے لیکن  میں چاہتا ہوں کہ میں نے جنگ میں جو کچھ دیکھا ہے وہ آپ کے سامنے بیان کرو۔

ہم چار بھائی تھے جن میں ایک ۱۹۷۹ء  میں منافقین کے ہاتھوں شہید ہوئے اور دوسرا بھائی مہران کے علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے دوران شہید ہوئے۔ میں اور جناب اسماعیل دو بھائی بچے ہیں اور ہم دونوں ہی جانباز (جنگ میں زخمی ہونے والے) ہیں۔ لیکن ہمیں نہ ہی جانبازوں کے ادارے سے کوئی معاشی مدد ہوتی ہے اور نہ ہی شہداء کے ادارے سے کچھ ملتا ہے۔ ہماری والدہ نے ہمیں نصیحت کی تھی : اگر خدا سے معاملہ کیا ہے تو کسی بھی ادارے سے امید نہ رکھنا کیوں کہ جو اجر خدا کی جانب سے تم کو ملے گا اس کا بدل تم کو کوئی نہیں دے سکتا اگر اس کے برعکس عمل کیا تو تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔۔ یعنی امام خمینی ؒ کے وقت میں ایک نسل کچھ اس طرح کی تھی۔۔

میری عمر ۷۴ سال ہیں اور میں اس عمر میں کس قسم کی شہرت یا مفاد نہیں چاہتا بلکہ نوجوان نسل کے لیے کہوں گا تاکہ وہ اس جانب متوجہ ہو کہ آج کا ایران کس قدر قربانیوں کے بعد محفوظ بنا ہے جو افواہیں ملک کے باہر سے پھیلائی جاتی ہیں ان پر یقین نہ کریں۔ ہم نے اس مٹی کے تحفظ کے لیے شہید مصطفی چمران جیسے افراد کی قربانی دی ہے۔

میں سن ۱۹۷۹ء میں مصطفی چمران کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ آج میرے پاس جو بھی اخلاقی صفات ہیں وہ سب مصطفی چمران کی مرہون منت ہے۔ ۲۴ گھنٹوں میں چھٹی کا کوئی موقع نہیں ملتا تھا۔ مصطفی چمران کی شہادت کے بعد میں سپاہ پاسداران میں ہی ملازم رہا اور سن ۲۰۰۱ء  میں ریٹائر ہوگیا۔ شہید مصطفی چمران کے ساتھ گزارے گئے دن میری زندگی کے بہترین دن تھے۔ اس وقت جب میں نے خود اپنے ہاتھوں سے شہید کو قبر میں اتارا اور ان کے لیے تلقین پڑھنے کے بعد ان کے چہرے کی جانب نگاہ کی۔ اس دن پروردگار نے بندے کے حق میں لطف کیا کہ میں شہید کے غسل سے لے کر ان کی تدفین تک موجود رہا۔

جب پاوہ کا محاصرہ ختم ہوا تو ہم نے دوسرے علاقوں کو دشمن کے چنگل سے آزاد کرانا شروع کیا یہاں تک کہ ہم "بانہ " تک پہنچ گئے۔ شہید چمران نے اس علاقے کی آزادی کے لیے ایک خاص حکمت عملی ترتیب دی اور ساتھ ہی کہا کہ " یہ حکمت عملی یاد رکھی جائے گی"۔ ہر تین مہینے بعد ایک گروہ مدد کے لیے آیا کرتا تھا اور جب تین ماہ تمام ہو جاتے تو وہ گروہ واپس چلا جاتا تھا۔ " کیپٹن رستمی" نے کہا " میں جب تک رہوں گا جب تک علاقہ پوری طرح آزاد نہیں ہوجاتا"۔ وہ شہید چمران کے ساتھ رہے جب تک شہید نہ ہوگئے۔ شہید مصطفی چمران ایک انسان ساز شخص تھے۔

شہید مصطفی چاہتے تھے کہ ایک اہم پیغام کو منتقل کریں جس کو وائرلیس کے ذریعے منتقل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کام کے لیے انہوں نے ایک رائڈر کا انتخاب کیا۔ جناب اسماعیل ایک ماہر موٹرسائیکل سوار تھے کہ ان کو جاپانی کمپنی YAMAHA کی جانب سے دعوت کی گئی تھی.  لیکن انہوں نے قبول نہیں کی۔ جلیل نقاد بھی ایک کمال کے رائڈر تھے۔ جلیل ہمیشہ ہی رضاکارانہ طور پر عملیات کو انجام دینے پر راضی رہتے تھے۔ میں جلیل کے ساتھ موٹرسائیکل پر آرپی جی لانچر لے کر سوار ہوا اور ہم ہدف کی جانب بڑھ گئے۔ جلیل نے مجھے اتارا اور کہنے لگے کہ " میں عراقی فوج کی توجہ آپ سے ہٹاتا ہوں تاکہ آپ ہدف کو نشانہ بنا سکے"۔ وہ اس طرح عراقی فوج کی گولیوں کے سامنے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر موٹرسائیکل چلاتے رہے اور میں نے اس دوران عراقی فوج کے انبار کو نشانہ بنایا۔ جلیل بے حد جری اور شجاع انسان تھے۔ ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے میں تمام صحافیوں سے گزارش کروں گا کہ جلیل کی چند تصویریں بنائے اور اپنے ہمراہ رکھیں۔

پروگرام کے تیسرے اور آخری مہمان حسن شاہ حسینی کے بھائی جناب اسماعیل شاہ حسینی تھے جنہوں نے دفاع مقدس کے واقعات بیان کیے۔ انہوں نے گفتگو کا آغاز کچھ اس طرح سے کیا " مجاہدین کے حوالے سے کچھ واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن کا یقین کرنا عوام کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ یہاں ہماری جانب سے کوتاہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے واقعات پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ مجاہدین صرف رضائے الٰہی کے لیے جہاد کرتے ہیں لیکن ان کی قربانیوں کو بیان کیا جانا چاہیے "۔

غیر منصفانہ جنگ میں شہید مصطفی چمران اہم ترین کمانڈر تھے یا اس طرح کہا جائے کہ اس نا منظم جنگ کو بہت ہی منظم انداز میں شہید نے تنظیم کیا۔ شہید مصطفی چمران جنگ کا اصلی اور مرکزی نکتہ تھے جس میں وہ ہمیشہ درست افراد کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ شہید چمران انقلاب اسلامی کا وہ ثمرہ تھے جو بعد میں تناور درخت بن گیا۔ شہید مجاہدین کے لیے ایک لطیف اور ٹھنڈی ہوا کا جھونکا تھے جو مجاہدین کو تسکین فراہم کیا کرتا تھا۔ مجاہدین جب اس غیر منصفانہ جنگ میں رضاکارانہ طور پر شرکت کرتے تھے تو بغیر کسی معاوضہ کے خدمت کیا کرتے تھے اگرچہ اس بات کا احتمال موجود رہتا تھا کہ زندہ واپس نہیں جا سکیں۔ شہید چمران ہر کسی سے دو کلمہ بات کیا کرتے تھے لیکن شہید کا انتخاب بہت دقیق ہوا کرتا تھا۔

اس زمانے میں میرا اکثر کام تہران میں ہوا کرتا تھا، شہید مصطفی چمران کو جب کبھی مجھ سے کام ہوتا تھا وہ میرے پاس آتے اور ہم موٹر سائیکل پر سوار ہو کر منزل کی جانب بڑھ جایا کرتے تھے۔ شہید نے مجھ سے کہا ان کے لیے ماہر موٹرسائیکل سواروں کا ایک گروہ ترتیب دوں۔ میں نے اس گروہ کے لیے ایسے افراد کو انتخاب کیا جو اپنے کام میں مخلص اور سچے تھے اور اسی دوران موٹر سائیکلیں بھی آرڈر کیا کرتا تھا۔۔ ایک دن اہواز کے ایک استاد نے مجھے ٹیلی فون کیا کہ یہاں کچھ موٹرسائیکل سوار ہیں جو آپ کو پہچانتے ہیں۔ میں اہواز گیا اور وہاں اسکول ٹیچر سے ملا جو میرا جاننے والا تھا۔ استاد نے مجھے اس شخص سے ملایا۔ میں ان افراد میں سے میں کچھ افراد کے نام سے جانتا تھا لیکن باقی افراد کے نام مجھے معلوم نہیں تھے لیکن میرے لیے ان کے چہرے آشنا تھے۔ عراقی فوج نے ہمیں دیکھا اور ہمارا پیچھا شروع کردیا، عراقی فوج کے ۱۲ افراد کا گروہ ہمارے تعاقب میں تھا۔ ہم ان سے جان چھڑانے کے لیے گندم کے کھیت میں داخل ہوگئے تاکہ موٹر سائیکل کے ٹائروں کے نشان نہ دیکھے جاسکیں اور وہ ہمارا پیچھا نہ کرسکیں۔ ہمارے ساتھ ماہر موٹرسائیکل سوار موجود تھے۔ جلیل نقاد بھی ان میں سے ایک تھے۔ شہید چمران کے ساتھ جتنے بھی افراد تھے سب کے سب خاص اور منتخب شدہ افراد تھے کیوں کہ شہید ایک انسان شناس آدمی تھے۔

حاج صادق عبداللہ زادہ سے متعلق ایک داستان بیان کرنا چاہوں گا۔ حاج صادق ایک کپڑا فروش کاروباری تھے جن کا کاروبار بازار میں تھا۔ حاج صادق مجاہدین کے دُکھ درد کو سمجھتے تھے اور ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ حاج صادق جب کسی مجاہد کی مشکل سُنتے تھے اس کی مشکل حل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ ۲۸ صفر تھی میں نگہبانی پر تھا حاج صادق میرے پاس آکر بیٹھ گئے ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ حاج صادق کہنے لگے میں "میں کربلا  جا رہا ہوں" میں ان کی بات سن کر حیران رہ گیا۔ ہم نے وضو کیا اور نماز ادا کرنے کے بعد خدا حافظی کی اور ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔ کچھ دیر ہی گذری تھی عراقی فوجیوں سے جنگ شروع ہوگی اور ہمارے کچھ دوست ان سے مقابلہ کرنے لگے۔ عراقی فوج توپ سے ہم پر بمباری کررہے تھے۔ ہماری ریسکیو کے لیے دو ہیلی کاپٹر آگئے اور عراقی فوج سے ہمیں نجات ملی۔ جب بمباری ختم ہوئی تو خبر ملی کہ ایک صحافی اور حاج صادق شہید ہوگئے ہیں۔ میرے بھائی ان کا جنازہ لینے کے لیے پہنچ گئے ان جنازوں میں صحافی کا صرف ایک پیر باقی بچا تھا اور حاج صادق کا صرف سر سے سینے تک کا دھڑ موجود تھا باقی سب عراقی فوج کی بمباری سے خاک میں مل گیا تھا۔ کچھ دن بعد منوچہر ہاشمی بھی شہید ہوگئے۔



 
صارفین کی تعداد: 624


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو
میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔