وہ واقعی میں ایک ممتاز کمانڈر تھے!

جعفر گلشن روغنی

مترجم: ضمیر رضوی

2021-01-16


22 ستمبر کو صبح سویرے دفاع مقدس کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر ٹی وی چینل-2  سے "ممتاز کمانڈر" کے نام سے تقریبا 5 منٹ کا ایک ویڈیو کلپ دکھایا گیا جس میں دو موقعوں پر رہبر انقلاب کی تقریریں دکھائی گئیں جس میں انہوں نے شہید احمد کاظمی کے حوالے سے اپنی دو یادیں بیان کی تھیں۔ اسی دوران دکھائی جانے والی کچھ تصویروں میں رہبر محاذ پر شہید کاظمی کے ساتھ موجود تھے اور کچھ میں شہید تقریر کر رہے تھے۔شہید کاظمی جنگ کے دوران 8ویں ڈویژن "نجف" کے کمانڈر تھے۔ رہبر کی پہلی تقریر 1 جولائی 2013ء  کے شہدائے نجف آباد قومی کنونشن کے منتظمین سے ہونے والی ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے شہید سے متعلق پہلی یاد کا ذکر کیا، چونکہ شہید سن 1959ء  میں اصفہان کے شہر نجف آباد میں پیدا ہوئے تھے اسی لیے رہبر نے اپنی تقریر میں شہید کاظمی کا ذکر کیا اور فرمایا: "یہ آٹھویں ڈویژن نجف جس کا ابھی حضرات نے نام لیا، آٹھ سالہ دفاع کے میدانوں کی ایک طاقتور ڈویژن تھی اور واقعی میں مرحوم شہید کاظمی(رضوان اللہ تعالی علیہ) خود ایک ممتاز کمانڈر تھے۔ میں جنگ کے دوران خوزستان گیا اور وہاں میں نے نجف ڈویژن کے مرکز کا دورہ کیا، میں نے وہاں ایسی چیزیں دیکھیں جو کسی ڈویژن میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں: تیاریاں،  بلند حوصلے اور نظم و ضبط، جو نظم و ضبط میں نے اس ڈویژن میں دیکھا وہ کم ہی دیکھنے کو ملتا تھا۔"

دوسری یاد کا تعلق 11 جنوری 2006ء کو ہونے والی شہید اور سپاہ کے دوسرے کچھ کمانڈروں کی آخری رسومات کے دن سے تھا، یہ لوگ اس سے دو دن قبل طیارے کے حادثے کے نتیجے میں شہید ہوئے تھے۔ رہبر نے تہران یونیورسٹی کی مسجد میں آخری رسومات کے لئے آئے ہوئے سپاہ کے کمانڈروں کے درمیان شہید سے متعلق ایک خاص واقعہ بیان کیا: "دو ہفتے پہلے شہید کاظمی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میری آپ سے دو درخواستیں ہیں: ایک تو یہ کہ دعا کیجیے کہ میں کامیاب ہوجاؤں اور دوسری یہ کہ دعا کیجیے کہ میں شہید ہوجاؤں۔میں نے کہا کہ واقعی میں آپ لوگوں کا مرنا بہت افسوس کی بات ہوگی، آپ لوگوں نے یہ اہم وقت گزارا ہے، آپ کو مرنا نہیں چاہیے، آپ سب کو شہادت ملنی چاہیے، لیکن ابھی بہت جلدی ہے اور ابھی  ملک کو آپ لوگوں کی بہت ضرورت ہے۔ سسٹم کو آپ کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد میں نے کہا جس دن مجھے "صیاد" کی شہادت کی خبر دی گئی تو میں نے کہا وہ شہادت کے لائق تھا، اس کا حق تھا، بڑے افسوس کی بات ہوتی اگر صیاد کا انتقال ہوتا تو جب میں نے یہ جملہ کہا تو شہید کاظمی کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں، وہ کہنے لگے: "ان شاء الله میری خبر بھی آپ کو ملے گی۔" اس تقریر کے دوران حاضرین رونے لگے۔ شہید کاظمی شہادت کے وقت سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی فورس کے کمانڈر تھے۔ ان کے جسد خاکی کو اصفہان کے "گلستان شہداء" قبرستان میں (اصفہانیوں کی) 14 ویں ڈویژن "امام حسین" کےکمانڈر شہید "حسین خرازی" کے برابر میں سپرد خاک کیا گیا۔



 
صارفین کی تعداد: 646


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سترہواں حصہ

تمہارا یہ رزمیہ جوش و جذبہ۔۔۔ واقعاً خوش رہو
میں جانتی تھی کہ یہ ہندوستانی چینلز زیادہ تر عراقی فوج کی خبریں دے رہے ہین اور یہ تصاویر اور خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں، رات تک ان کی فکروں میں گم رہتی اور ایرانی شہداء کے خاک و خون آلود چہرے میری آنکھوں کے سامنے گھومتے رہتے۔ علی کے آتے ہی میں اس پر برس پڑتی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔