کبھی نہیں سوچا تھا اسیری ۱۰ سال طولانی ہوجائی گی

یادوں بھری رات کا ۳۱۵ واں پروگرام

مقالہ نویس : الناز درویشی
مترجم : محسن ناصری

2021-01-12


۲۳ جولائی ۲۰۲۰ءکی شب یادوں بھری رات کے ۳۱۵ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کو آپارات ویب سائٹ پر نشر کیا گیا۔ اس پروگرام میں " سید احمد قشمی" اور " ڈاکٹر حمید رضا قنبری" مہمان تھے جنہوں نے دفاع مقدس کے دوران پیش آنے والے واقعات کو ناظرین کے لیے پیش کیا اور اس پروگرام میں میزبانی کے فرائض " داؤد صالحی" انجام دے رہے تھے۔ اس پروگرام کے پہلے مہمان سید احمد قشمی تھے جن کی پیدائش ۱۱ ستمبر ۱۹۵۷ء میں ہوئی اور وہ ہمدان شہر کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے اپنی جوانی کے ۱۰ سال جنگ میں گزارے اور زیادہ تر قیام رمادیہ اور موصل میں رہا۔ آپ " سید کی سرگوشیاں" اور " سخت امتحان" نامی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مہمان نے اپنی گفتگو کا آغاز کچھ اس طرح سے کیا " میں آپ کو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتدائی دنوں میں لے چلتا ہوں کیوں کہ میرے اکثر مخاطب نوجوان ہیں۔ ابھی انقلاب اسلامی کو وجود میں آئے ہوئے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ملک کے ہر کونے سے مختلف گروہوں نے سر اٹھانا شروع کردیا اور یہ گروہ اسلامی نظام کے دشمن تھے۔ انہوں نے اپنی اسارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں بے جرم اسیر کیا گیا تھا۔ ہمارے ہاتھوں کو پشت سے باندھا گیا اور ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر قید کردیا گیا۔ ہم جس راستے سے گزرتے تھے ہمیں مجوسی کہہ کر متعارف کروایا جاتا اور لوگ ہمارا تماشا دیکھا کرتے تھے۔لوگ ہماری جانب مختلف اشیاء پھینکا کرتے تھے۔ ہمیں حیوان سوار کیے جانے والوں ٹرکوں کے ساتھ ٹرک میں سوار کیا جاتا تھا۔ اس بدترین صورتحال میں ہم کو ابتدائی دو تین دنوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا رہا جس میں ہمیں نماز بھی پڑھنی ہوتی تھی۔ نماز کے لیے تیمم کرتے اور قبلے کی سمت کو تصور کرکے نماز ادا کیا کرتے تھے۔ مختلف قید خانوں کے بعد اچانک ہمیں ابو غریب زندان میں منتقل کردیا گیا جو وحشت ناک ترین زندان تھا۔ ایسا زندان جہاں دن و رات کا کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا اور نماز کے اوقات کا تعین بھی نہیں ہوپاتا تھا۔ اس زندان میں ہم احتیاط کی بنا پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ جس وقت ہمیں ابوغریب زندان میں منتقل کیا گیا ہمارے ساتھ قیدیوں میں جناب آقا کرمانی، محرم آہنگران اور حاج احمدی شامل تھے جو کہ ہم سے ۹ مہینے قبل اسیر ہوئے تھے۔ ان افراد نے مہینوں سے سورج نہیں دیکھا تھا اور اس وجہ سے ان کے چہرے برف کی طرح سفید ہوچکے تھے جو اندھیرے میں بھی آسانی سے دیکھے جاسکتے تھے۔ ابوغریب زندان میں اسلام آباد کا رہنے والا "علیرضا اللہ یاری" نامی جوان بھی موجود تھا جس تعلق سپاہ پاسداران سے تھا۔ یہ جوان ایک دن میرے پاس آیا اور کہنے لگا " آقا سید میں شہید ہوجاوں گا"۔ میں نے اس جوان سے جواب میں کہا " یہ کیا بات کررے ہو۔۔؟! ہم ابھی تو اسیر ہوئے ہیں اور جلد ہی آزاد ہوجائیں گے"۔ اس زندان میں دوستوں نے ایک خاکہ بنایا ہوا تھا جس کے ذریعے وہ دن شمار کیا کرتے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ہماری اسارت تیس،چالیس دن یا زیادہ سے زیادہ تین چار مہینہ طویل ہوگی۔ لیکن کیا معلوم تھا کہ دس سال گزر جائیں گے۔ میں نے علی رضا سے کہا ابھی تو کچھ بھی معلوم نہیں ہے اور الحمد للہ ہم سب ٹھیک بھی ہیں۔ لیکن اس جوان نے پُرچشم نگاہوں کے ساتھ عجیب انداز میں کہا " نہیں"۔۔ میں نے جب اس جوان سے پوچھا ماجرا کیا ہے اور تم کیوں اس طرح کی باتیں کررہے ہو۔۔؟۔ تو جواب میں کہنے لگا " میں نے کل خواب میں دیکھا کہ میری زوجہ سیاہ لباس میں موجود ہے اور ایک ۱۰ سالہ بچی کا ہاتھ تھامے ہوئے ہے ( علی رضا کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی کہ وہ اسیر ہوگیا) میں نے پوچھا یہ بچی کون ہے۔۔؟ تو میری زوجہ کہنے لگی یہ تمہاری بیٹی ہے جو کہ ۱۰ سال کی ہوچکی ہے۔اس بچی نے بھی سیاہ لباس پہنا ہوا تھا۔ جب میں گھر سے نکلتا ہوں تو یہ دونوں مجھے رخصت کرنے کے لیے آتے ہیں۔ شدید بارش ہورہی ہے یہاں تک کہ گھٹنوں تک پانی جمع ہے۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہا۔۔۔" بس میں شہید ہوجاؤں گا"۔ میں نے اس جوان کو بہت سمجھایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ایسا لگتا تھا وہ جوان شہادت کو اپنے وجود میں محسوس کررہا تھا اور وہ جوان اسی حالت میں میرے پاس سے اٹھا اور چلا گیا۔ اس واقعے کو گزرے ۶ مہینے ہوچکے تھے اور ہمیں رمادیہ کے زندان میں منتقل کردیا گیا۔ قیدیوں میں سے ۱۶ افراد کو انتخاب کیا گیا۔ جن میں سے علی رضا ایک تھا اور ہمیں بغداد کے زندان میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد اذیت اور ٹارچر کا ایک وحشت ناک سلسلہ شروع ہوا۔ تمام قیدی ایک سِیل میں موجود تھے جن میں سے علی رضا کو باہر نکالا اور اس سے پوچھا " تم رضاکار سپاہی ہو یا فوجی ہو،،؟ ہم کبھی بھی خود کو رضاکار سپاہی نہیں کہتے تھے کیوں کہ بلافاصلہ قتل کردیا جاتا تھا لیکن ابتدا میں کچھ دلیر جوانوں نے خود کو امام خمینیؒ کا سپاہی متعارف کروایا اورساتھ ہی کہا ہم اس پر فخر کرتے ہیں۔ علی رضا نے بھی یہی کیا اور خود کو رضاکار سپاہی کے بجائے فوجی متعارف کروایا۔ عراقی فوجیوں نے علی رضا کو سیل سے نکالا اور اس کی کنپٹی پر پستول رکھ کر بغیر کسی ھچکچاھٹ کے گولی چلا دی۔ علی رضا کا خون دیوار پر خورشید کی صورت میں چھپ گیا۔ علی رضا شہید ہوگیا اور ہمارے لیے اس کا خواب کسی حد تک سچ ثابت ہوا۔ ایک طویل زمانہ گزر گیا اور جب ہم اس گزرے زمانے کی جانب متوجہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ ۱۰ سال گزر چکے تھے۔ جب جنگ ختم ہوئی اور آزادی ملی تو ہم نے اپنے اپنے گھروں کو جانے کے بجائے سب سے پہلے علی رضا کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے اسلام آباد کے کمانڈر سے علی رضا کے گھر کا پتہ لیا اور وہاں پہنچ گئے۔ ہمارے پاس کچھ سکے تھے اور ہم نے سوچا تھا کہ اگر علی رضا کا خواب سچ ثابت ہوا تو ان سکوں کو اس کی بیٹی کو تحفے میں دیں گے اور اگر بیٹی نہ ہوئی تو اس کی بیوی کو علی رضا کی جانب سے ہدیہ دیں گے۔ جب ہم علی رضا کے گھر پہنچے تو ۱۰ سالہ بچی نے ہمارا استقبال کیا تمام ساتھی حیران رہ گئے۔ میرا پورا بدن پسینے میں بھیگ چکا تھا اور ہم پر عجیب کیفیت طاری تھی۔ علی رضا نے اپنی فیملی کو ہمارے سپرد کیا تھا لیکن ہم اس کا حق ادا نہیں کرسکے۔ کچھ وقت کے بعد علی رضا کی زوجہ نے دوسری شادی کرلی اور دو اب وہ بچوں کی ماں ہیں۔ مہمان نے اپنی داستان کو حاج ابوترابی کے داستان کے ساتھ جاری رکھا۔ حاج ابوترابی ایک ذہین انسان ہونے کے ساتھ ساتھ با صلاحیت منتظم بھی تھے۔ ان کا بہترین اخلاق باعث بنا کہ سارے ہی دوست ان سے محبت کیا کرتے تھے۔ بالکل ایسے ہی جس طرح امام خمینیؒ عوام الناس کے امام تھے اور ان کی محبت عوام کے دلوں میں موجود تھی اسی طرح حاج ابوترابی بھی اسیروں کے امام تھے۔ ان کی تدبیر اور انتظامی صلاحیت باعث بنی کہ جوان جسمی، نفسیاتی اور معنوی طور پر صحیح و سالم اپنے وطن واپس پلٹے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر حاج ابوترابی اور ان جیسے افراد نہ ہوتے تو شاید ہم کو ۵۰۰ کے بجائے ۵۰۰۰ شہید دینے پڑتے۔ ہم موصل کے زندان میں تھے اور جب کبھی مشعل کی صدا گونجتی تھی ہمارے دل دھل جایا کرتے تھے۔ مشعل ایک عراقی افسر تھا جس کی خوف اور وحشت ہمیں مارے ڈالتی تھی۔ مشعل کا چہرہ انتہائی خوفناک تھا شاید ہی کوئی قیدی ہو جو اس کے ظلم کا شکار نہ ہوا ہو۔ مشعل ان تمام تر قبیح صفات کے باوجود حاج ابوترابی سے ایک خاص عقیدت رکھتا تھا۔ جب کبھی حاج ابوترابی کو دیکھتا تھا تو اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر انہیں سلام کرتا اور عرض ادب کرتا۔ حاج ابوترابی کا زیادہ تر وقت ایسے جوانوں کے ساتھ گزرتا جو ایمانی اعتبار سے ضعیف تھے اور ان کو تربیت کی ضرورت تھی۔ ڈاکٹر شہید بہشتی ایک انتہائی خوبصورت بات کیا کرتے تھے " جاذبہ (کسی کو جذب کرنے کی صلاحیت) اپنے انتہا پر ہونا چاہیے اور دافعہ (کسی کو دور کرنے کی صلاحیت) ضرورت کی حد تک"۔۔ حاج ابوترابی اس قول کا مصداق تھے۔ ایک مختصر داستان نقل کروں جو کہ لطف و کرم سے خالی نہیں ہے۔ عراقی فوج معمول کے مطابق فوجیوں کی بڑی تعداد کے ساتھ اسیروں پر حملہ کیا کرتے تھے اور ان کو کوڑوں اور لوہے کی تاروں سے زد و کُوب کیا کرتے تھے۔ ایک دن عراقی فوج کو ریڈ کراس کے نمائندوں کی آمد کا علم نہیں تھا اور انہوں نے اپنی روش پر عمل کرتے ہوئے قیدیوں کو بدترین تشدّد کا نشانہ بنایا حاج ابوترابی بھی کافی زخمی ہوئے تھے۔ عراقی فوج نے اس غرض سے کہ ریڈ کراس کے نمائندے ان زخمیوں کو نہ دیکھ سکیں زخمیوں کو دوسرے سیل میں منتقل کردیا۔ جب ریڈ کراس کے نمائندے آئے تو انہوں نے حاج ابوترابی کے متعلق سوال کیا اور ان سے ملنے کا مطالبہ کیا۔ عراقی افسران نے جس قدر کوشش کہ وہ حاج ابوترابی سے نہ مل سکیں لیکن ان کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی۔ عراقی افسران ناکام ہوئے اور ان کو حاج ابوترابی کو سامنے لانا ہی پڑا۔ عراقی افسران امید کررہے تھے کہ جیسے ہی ان کو سامنے لایا جائے گا حاج ابوترابی اپنے لباس کو ہٹا کر اپنے زخموں کی نمائش کریں گے۔ لیکن حاج ابوترابی نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا اور معمولی بات چیت کے بعد ریڈکراس کے نمائندے چلے گئے۔ عراقی فوجی حاج ابوترابی کی اس حرکت سے انتہائی حیرت زدہ رہ گئے اور کہنے لگے " تم نے اپنے ساتھ ہونے والے نا روا سلوک سے متعلق کیوں کچھ نہیں بتایا۔۔؟ تو حاج ابوترابی نے جواب دیا ہم دونوں ہی مسلمان ہیں ہمیں کافروں سے اپنی شکایت نہیں کرنی چاہیے"۔ عراقی افسر حاج ابوترابی کے ان جملوں سے بہت ہی متاثر ہوا اور کہنے لگا آپ کو جو کچھ بھی چاہیے ہو مجھ سے کہیں میں اپنی توان کے مطابق مہیا کرنے کی کوشش کروں گا۔ حاج ابوترابی نے کہا " مجھے اپنے لیے کچھ بھی نہیں چاہیے لیکن زندان کے دوسرے قیدیوں کا حال جاننا چاہتا ہوں۔ عراقی افسر نے قبول کرلیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا اگر تشدد دیکھا تو شکایت مت کرنا۔ حاج ابوترابی نے قبول کرلیا۔ یہی وجہ تھی کہ حاج ابوترابی زندان کے بہت سے قیدیوں سے ملا کرتے تھے اور ان کی اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت کیا کرتے تھے۔ ہمارا سلام ہو ان شہیدوں پر جو اسارت کی بدترین اذیتیں برداشت کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے اور شہادت کے اعلی درجہ پر فائز ہوئے ہمارا سلام ہو ۸ سالہ دفاع مقدس کے شہیدوں پر۔۔۔ رِحِمَ اللہُ مَن قِرَا الفاتحۃَ مع الصلوات، والسلام و علیکم و رحمت اللہ و برکاۃ۔۔۔


 
صارفین کی تعداد: 43


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات :تینتالیسویں قسط

میں نے کہا: " گھبراؤ نہیں! میں نان کمیشنڈ ڈاکٹر ہوں نہ کہ انٹیلی جنس افسر۔ میری صلاح یہ ہے کہ تم محاذ کی صورتحال کے متعلق کسی سے گفتگو نہ کرو، احتیاط کرو ورنہ تمہارا وہ انجام ہوگا جو بعثی خوب جانتے ہیں!"

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔