میدان جنگ میں جراثیم کے ساتھ بھی جنگ کررہے تھے

یادوں بھری رات کا ۳۱۲ واں پروگرام (دوسرا حصہ)

مقالہ نویس : مریم اسدی جعفری

مترجم : محسن ناصری

2020-11-07


دفاع مقدس کے واقعات پر مبنی پروگرام، یادوں بھری رات کی ۳۱۲ ویں نشست کا اہتمام کیا گیا جس کے پہلے حصے میں ایک ہنرمند مجاھد کی داستان کو بیان کیا گیا اور اس داستان پر مبنی کتاب سے متعلق گفتگو بھی کی گئی۔ اس پروگرام میں جناب ڈاکٹر سعید مرزبان راد داستان بیان کریں گے۔ اس پروگرام کو ایران کی تاریخ کی بیان گر ویب سایٹ کی جانب سے ۴ اپریل ۲۰۲۰ء  کو آپارات ویب سائٹ پر نشر کیا کیا گیا۔ پروگرام میں "عبدالرضا طرازی اور ڈاکٹر سعید مرزبان راد" نے بعنوان مہمان شرکت کی۔

اس پروگرام میں مھدی صالِحی میزبانی کے فرایض انجام دے رہے تھے اور مستقل مہمانوں سے سوالات کررہے تھے۔ دوسرے پروگرام کے مہمان "جناب ڈاکٹر سعید مرزبان راد" تھے۔ آپ پھیپڑوں اور سینے کے ماہر سرجن اور مجاھد ہے جو دفاع مقدس کے دوران پیش آنے والے واقعات کے درمیان میں کرونا وائرس سے متعلق بھی بات کرتے رہے۔

میزبان: جناب ڈاکٹر سعید مرزبان راد ہم آپ کو اپنے پروگرام میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ دفاع مقدس کے زمانے میں کیمیائی بم کے حملوں سے مقابلے میں دفاعی نظام کے بنیان گذروں میں سے تھے اور آپ نے کیمیکل بمباری سے متاثرین پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ گفتگو کا آغاز اس مقدمہ کے ساتھ کررہا ہوں تاکہ دفاع مقدس کے واقعات کو بیان کریں۔

ڈاکٹر سعید مرزبان راد: بسم اللہ الرحمن الرحیم ، آپ کی خدمت میں اور آپ کے ساتھیوں اور ناظرین کی خدمت میں سلام پیش کرتا ہوں۔ در حقیقت دفاع مقدس کے ابتدائی ایام میں جنگ کے دوران سرجن اور ڈاکٹروں کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔ دفاع مقدس کے آغاز میں جنگ ایک عام اور معمولی جنگ محسوس ہورہی تھی لیکن ایران کے دشمن ممالک کی جانب سے جنگ کو ایک کیمیائی جنگ میں تبدیل کردیا گیا۔ جنگ کے ابتداء میں ہماری پاس کیمیائی جنگ کا تجربہ نہیں تھا اور اس جنگ سے متعلق ہمارے پاس مطالعات کی کمی تھی۔ لیکن وقت پڑنے پر ہم نے اپنی اس ضرورت کو پورا کیا اور اس خلاء کو پُر کیا۔ ایرانی ڈاکٹرز کیمیائی حملوں سے مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح سے خودکفیل اور مستقل ہوگئے تھے اور انھوں نے بیماروں اور متاثرین کا معالجہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی تھی۔ یہاں تک ایرانی ڈاکٹرز صاحب نظر اور ماہر ہوگئے اور یہی مہارت باعث بنی کہ کیمیکل حملوں سے متاثرین افراد کے علاج کے حوالے سے بہت سے مقالات لکھے جاچکے ہیں۔ میں خود بھی سالوں سے کیمیکل بمباری میں زخمی ہونے والوں افراد کا علاج کررہا ہوں اور میرا سروکار ان متاثرین سے رہا ہے۔ میں ابتدا میں کیمیکل بموں کے حملوں سے مقابلے میں دفاعی ٹیم کا حصہ رہا اور خدمات انجام دیتا رہا ہوں۔ میرا تجربہ باعث بنا کہ میں نے ڈاکٹر درخشان، ڈاکٹر مشتاقی اور ڈاکٹر سجادی کی مدد سے کتاب لکھی۔

میزبان: جناب ڈاکٹر کیا یہ کتاب جنگ کے زمانے میں ہی لکھی گئی تھی؟ ہمارے لیے بیان کریں کے کیا ہوا۔۔۔۔؟

ڈاکٹر سعید مرزبان راد: جنگ کے زمانے میں جب زخمیوں کو لایا جاتا تھا تو ان کے معالجے کے دوران کی کیفیت اور معالجے کو لکھا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ مورچوں میں بیٹھ کر جب کوئی زخمی آتا تو اس کا معالجہ کرتے اور ان کی تمام کیفیات کو نوٹس کی صورت میں محفوظ کرلیتے تھے۔ جب میں خود بھی کیمیکل بم سے متاثر ہوا اور مجھے تہران لایا گیا تو اسی دوران میں یہ کتاب اشاعت کے لیے دی تھی۔ یہاں تک کہ اس کتاب کی دوسری بار اشاعت کی نوبت آگئی اور ایک مرتبہ پھر کتاب کو چھاپا گیا۔ آج بھی جب کوئی اس زمینے میں کوئی مقالہ لکھنا چاہتا ہے تو میری اس کتاب کی جانب رجوع کرتا ہے اور اس میں موجود مطالب سے استفادہ کرتا ہے۔

میزبان: میرے خیال سے دستان کی ابتداء کے لیے یہی موقعہ مناسب رہے گا، اسی کیمیائی حملے کے متاثر جانباز کی داستان بیان کریں۔

ڈاکٹر سعید مرزبان راد: میرے خیال سے بہترین داستان یہ کہ خداوند ہر شخص کی قدرت اور صلاحیت کے مطابق ہی اس سے عمل کا تقاضہ کرتا ہے۔ میں نے میدان جنگ میں ایسے افراد کو دیکھا ہے جو اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کرتے تھے اور ایسے افراد بہت ہی کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دن ایک جوان کے زخموں کو ٹانکے لگا رہا تھا اسی دوران وہ جوان انتہائی افسوس کے ساتھ کہنے لگا " حیف ہے"۔ میں نے سوال کیا " کیا ہوا؟"۔ تو کہنے لگا " کل جنگ ہے اور مجھے اس جنگ میں حصہ لینا تھا"۔ میں اس کے زخموں کو سیتا رہا اسی دوران ایک مرتبہ پھر کہنے لگا " اچھا ہوا"۔ میں نے پوچھا "اب کیا ہوا " ۔ تو کہنے لگا " اب میری سمجھ میں آیا میرے جو ساتھی میدان جنگ میں زخمی ہوتے ہیں کیسا درد محسوس کرتے ہیں اور کتنی اذیت برداشت کرتے ہیں"۔ یعنی یہ جوان ایک عظیم انسان تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے میرا ایک دوست تھا جو ہمیشہ کہا کرتا تھا " تم یہاں (میدان جنگ میں) جن لوگوں سے ملتے ہو ان جیسے لوگ تمہیں دوبارہ دیکھنے کو نہیں ملیں گے"۔

میزبان: میرے لیے یہ بات انتہائی تعجب انگیز ہے کہ ایک کیمیائی حملوں میں دفاع کرنے والا ڈکٹر خود بھی کیمیائی حملے سے متاثر ہے!

ڈاکٹر سعید مرزبان راد: میں نے بہت سے مختلف مقامات پر کیمیکل بم سے متاثرہ علاقوں میں امدای سرگرمیاں انجام دی ہیں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ خاص مسائل کے پیش نظر مجھے بھی ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان علاقوں میں دوبارہ کیمائی حملے کیے جاتے تھے۔ جیسا کہ سومار کے علاقے میں پیش آیا۔ اگر ہمارے پاس کیمیائی حملوں کے دوران دفاعی کام کرنے کا علم نہ ہوتا تو یقیناً ہلاک ہوچکا ہوتا۔ کیوں کہ مجھے کیمیائی حملوں میں کام کرنے کی  آگاہی حاصل ہوگئی تھی اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ ہوچکا تھا۔ انہی تدابیر پر عمل کرکے خود کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا۔

میزبان: جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ بھی کیمیائی حملے سے متاثر ہوگئے ہیں تو کیا ہوا؟

ڈاکٹر سعید مرزبان راد: جب حملہ ہوا تو ہم ہسپتال میں تھے۔ مجاھدین نے ایک پائلٹ کو گرفتار کرلیا تھا جس نے ہمیں بتایا کہ " ہم چاہتے تھے کہ ہسپتال کو نشانہ بنائیں لیکن اس دن فضا ابرآلود تھی اور دوسرے دن سورج نکل آیا۔ ہم نے فضا میں ایک چھتری نما آلہ چھوڑ دیا جس کے ذریعے ہمیں حملے کے لیے درست معلومات حاصل ہوگئی "۔

میزبان: یعنی کیمیائی حملے کے لیے ان تمام معلومات کا ہونا لازم ہے؟

ڈاکٹر سعید مرزبان راد: جی لازم ہے۔۔ میں بعنوان ایک سرجن میدان جنگ پر گیا تھا۔ میں نے علاقے کے ایک عہدیدار سے پوچھا کہ یہاں کہ ذمہ داران کہاں ہیں؟ توکہنے لگا " وہ بھی ایک ڈاکٹر ہیں۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ مجھ سے کچھ زیادہ بات کرنا نہیں چاہتا۔ جنوبی علاقے میں میرے پاس ایک ماسک تھا جس کو میں اسٹیریلائز کرنے کے بعد استعمال کرتا تھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ کچھ ماسک ہمارے حوالے کریں تاکہ لوگوں میں تقسیم کر سکیں۔ میں نے علاقے کے ذمہ دار سے کہا کہ ہمارے سامنے کے علاقے سے ہوائی جہاز آتے ہیں اور ہمارے علاقے کو نشانہ بناکر چلے جاتے ہیں۔ اور ایسا ہی ہوتا تھا۔ ایک دن صبح ۸ بجے ایک عراقی جنگی جہاز نے کیمیائی ہتھیاروں سے بمباری کردی۔ پہاڑی علاقے پر حالات خراب ہوگئے، عراقی جنگی جہازوں نے شدید بمباری شروع کردی میں نے بہت کوشش کی کہ لوگوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کا کہوں لیکن کوئی میری آواز نہیں سن سکتا تھا۔ ۱۲ بجے کے بعد یہ کاروائی ختم ہوئی اور اس کے بعد ایک بڑی تعداد بیماروں کی ہمارے سامنے آئی۔ بہت سے بیماروں کی حالت یہ تھی کہ دیکھتے ہی ان کو ہسپتال سے فارغ کردیا کرتے تھے کیوں کہ ان کا علاج ممکن نہیں تھا۔ میں نے اس حملے کے بعد آلودگی کو برطرف کرنے کے لیے پانی کا استعمال کیا اور نہایا لیکن بیماروں کی تعداد زیادہ تھی اور حالات بہت زیادہ خراب تھے ہمیں مستقل پانی کے استعمال کی ضرورت تھی ہماری حالت بھی خراب تھی۔ علاقے کے ذمہ دار نے لوگوں کو ہسپتال میں داخل ہونے سے منع کیا تھا تاکہ کیمیائی بم سے آلودہ افراد داخل نہ ہوسکیں۔ میں مجبوراً ان کے پاس گیا اور ان کا معالجہ شروع کیا۔ میں نے ایک دوسرے ذمہ دار سے بات کی اور اس کو علاقے کی صورتحال سے آگاہ کیا تو اس نے لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دی۔

میزبان: ہم آج کرونا نامی ایک وائرس کا سامنا کررہے ہیں جوکہ نامعلوم ہے اور اب تک اس کی شناخت نہیں کی جاسکی ہے۔ آج ہمارے پاس اس وائرس سے مقابلے کرنے کے لیے کیا تدابیر موجود ہیں؟ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ آپ اس زمینے میں کافی محنت کررہے ہیں۔

ڈاکٹر سعید مرزبان راد: جب ہم میدان جنگ میں تھے تو ہمیں ظاھری دشمن کے ساتھ ایک اور دشمن سے بھی مقابلہ کرنا پڑا تھا جس کانام جراثیم ہیں۔ یعنی یہ جنگ صرف انسانی دشمن پر منحصر نہیں تھی بلکہ دوسرے دشمن بھی ہم پر حملہ آور تھے۔ جب ہم پر کیمیائی حملہ کیا جاتا تھا تو ہمارے پاس مریضوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوتی تھی کہ ہمیں درختوں کے سائے میں مریضوں کو لٹانا پڑتا تھا۔ آج بھی ہمیں ایک جراثیم کے ساتھ جنگ کا سامنا ہے یہ جنگ کیمیائی جنگ کی طرح ہے۔ کیمیائی بموں کے حملے میں علاج کے لیے ماہر اور متخصص افراد کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی طرح جراثیم سے مقابلہ کرنے کے لیے بھی اس کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے پاس اس قدر کیمیائی ہتھیار تھے اگر ان کو استعمال کرتا تو پوری دنیا کو مبتلاء کرسکتا تھا۔ لیکن برطانیہ کے خوف کے پیش نظر اس نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ جرمنی نے خردل نامی کیمیائی ہتھیار بنایا ، برطانیہ نے کلر اور امریکہ نے آرسنیک نامی کیمیائی بم ایجاد کیا تھا۔ ایک لبنانی کیمیائی ماہر کی کتاب پڑھنے کا موقعہ ملا جس میں وہ لکھتا ہے کہ ہمارے پاس YX ایک گیس موجود ہے جس کا ایک قطرہ بھی مہلک ہے۔ کورونا وائرس کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جو کہ بڑی ہی ہوشیاری سے مریض کا انتخاب کرتا ہے۔ میں نے ڈاکٹر خانم محرز کا انٹرویو دیکھا جس میں انہوں نے اسی کلمہ کا استعمال کیا تھا۔ کورونا وائرس جو مشکلات ایجاد کرتا ہے ان میں سے کچھ یوں ہیں کہ ہ وائرس بہت ہی ہوشیاری سے کام کرتا ہے اور اپنے شکار کا انتخاب کرتا ہے جس کو پہلے سے ہی کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کا علاج بہت ہی آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی زنجیر کو توڑا جائے۔ میڈیا پر اس قدر تبلیغات کی جارہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وائرس با آسانی منتقل ہوتا ہے۔ ممکن ہے کوئی مبتلا نہ ہو لیکن کسی دوسرے کو مبتلا کردے۔ میرے ایک مریض ہیں جن کے بھائی کو کورونا ہوا اور وہ خود بھی مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے اپنے بچوں کو والد کے پاس ملنے کے لیے بھیجا تو وہ بھی وائرس سے مبتلا ہوگئے۔ یہ وائرس بدن میں داخل ہوکر مختلف اعضاء پر حملہ آور ہوتا ہے۔

میزبان: آپ نے جنگ کے حالات اور ماحول کا مشاہدہ کیا اور آج آپ اس وقت کورونا وائرس سے پیش آنے والے حالات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟

ڈاکٹر سعید مرزبان راد: حقیقت تو یہ ہے کہ کیاخداوند ہم سے راضی ہے؟ اور اس کے بندے ہم سے خوش ہیں؟ دزفول میں ایک دریا ہے جس پر ایک پُل تھا۔ ہم اس پُل کے نیچے سے گزر رہے تھے کہ دیکھا ایک بوڑھا شخص کھیرے بیچ رہا ہے۔ میں نے جب کھیروں کو دیکھا تو وہ بڑے بھی تھے اور پیلے رنگ کے تھے۔ میں نے ان کی قیمت پوچھی تو اس نے کچھ قیمت بتائی۔ لیکن میں نے نہیں خریدے۔ تو میرے ایک استاد میرے ساتھ موجود تھے پوچھنے لگے کہ کیوں نہیں خریدے؟ میں نے جواب دیا کہ کھیرے اچھے نہیں ہیں۔ میرے استاد نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ کہا " تم کو خود سے شرم نہیں آتی؟ یہ بوڑھا عراقی فوج کی گولیوں کے بوچھاڑ سے ابھی نکلا ہی ہے اور کسب و کار میں مشغول ہے۔ جاؤ کچھ کھیرے خریدلو۔ میں واپس گیا اور کچھ کھیرے خرید لیے۔ میرے خیال سے استاد کے جملوں میں ایک درس یہ تھا کہ جو لوگ محنت کرکے کھاتے ہیں ان کی مدد کی جانی چاہیے اور شاید ان کا اجر خدا کے نزدیک زیادہ ہے۔ میدان جنگ میں اگر کوئی زخمی آتا اور اس کا خون بہہ رہا ہوتا اور جب ہم اس کو روکنے میں کامیاب ہوجاتے تو خدا کا شکر ادا کرتے۔ آج جب ہم کورونا کے مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور جب وہ ٹھیک ہوکر گھر جاتے ہیں اور بیماروں کی تعداد میں کمی آتی ہے تو وہی خوشی محسوس ہوتی ہے۔



 
صارفین کی تعداد: 73


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اڑتیسویں قسط

قیدی زمین پر سوتے تھے اور ان کے نیچے کمبل نظر آ رہے تھے جن کا رنگ گندگی کی وجہ سے کمرے کے فرش کی طرح کالا ہو گیا تھا۔ جیسے ہی جیلر نے ہمارے لیے دروازہ کھولا تو پیشاب کی مکروہ بدبو نے ہمیں پریشان کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔