تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اڑتیسویں قسط

مجتبی الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2020-10-28


 7-ریجمنٹ کی طبی نگرانی:

ریجمنٹ کے ڈاکٹر پر زخمیوں اور بیماروں کے علاج کے علاوہ ماحول اور لوگوں کی عمومی تندرستی کی ذمہ داری بھی تھی۔ اسی لیے میری ذمہ داری تھی کہ میں ریجمنٹ کے فرنٹ لائن کے ٹھکانوں اور لوگوں کے بنکرز کا معائنہ کروں۔ میں انہیں ہر گروہ کے لیے فیلڈ حفظان صحت یونٹس کی ضرورت اور زمین پر کچرا پھینکنے یا اسے زمین میں دفن کرنے سے اجتناب کے حوالے سے بتانے کے ساتھ ساتھ ان کے کھانے پانی کے ذخائر کی بھی نگرانی کرتا تھا۔

ہماری ریجمنٹ ایک دوسرے سے دور تین مقامات پر تعینات تھی۔ فوجی اہلکاروں پر مشتمل یونٹ کا بڑا حصہ(جس میں، میں بھی شامل تھا)  محاذ کی فرنٹ لائن پر موجود تھا۔ لاجسٹک یونٹ، میکنائزڈ یونٹ( جو ریجمنٹ کے موٹر آلات کی نگرانی کرتا تھا)، گاڑیوں کا مینٹیننس یونٹ، سپلائی یونٹ اور کچن، جفیر گاؤں میں واقع تھے۔ اور تیسرا یونٹ، ریجمنٹ کی مستقل چھاؤنی تھا جو بصرہ کے مشرقی علاقے "حوط" میں  "سندباد" پل کے ساتھ واقع تھی۔ اس چھاؤنی میں 25 افراد تھے جن میں زیادہ تر معذور اور بیمار تھے، ان پر ریجمنٹ کے سازو سامان اور اموال کی حفاظت کی ذمہ داری تھی۔

میں روزانہ ریجمنٹ کے جنگی یونٹ میں ایک گاڑی کے ذریعے لائے جانے والے لوگوں کے کھانے کا معائنہ کرتا تھا۔ ریجمنٹ کے لوگوں کو دن میں ایک بار کھانا دیا جاتا تھا، جو دوپہر 2 بجے پہنچتا تھا۔ لوگوں کو ناشتے کے لیے کچی دال دی جاتی تھی جو انہیں خود پکانی ہوتی تھی۔ لیکن رات کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا اور لوگ اپنی ضرورت کی چیزیں موبائل کنٹینر سے خریدتے تھے۔ اس ایک وقت کے کھانے کا معیار بہت خراب تھا۔ عراقی فوج زیادہ تر "نیوزی لینڈ" سے درآمد شدہ گوشت استعمال کرتی تھی۔ یہ گوشت اسلامی طریقے سے ذبح نہ ہونے کی وجہ سے حرام تھا اور اس کے علاوہ اسے کئی سالوں تک سرد خانے میں رکھا جاتا تھا۔ اسی لیے اس میں سے بہت بری بدبو آتی تھی۔

میں نے باورچیوں کی رہنمائی اور باورچی خانے کے معائنے کے ذریعے کئی مرتبہ کوشش کی کہ کھانے کا معیار بہتر بناؤں، لیکن میری کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ افسران کے کھانے کے حوالے سے بتاتا چلوں کہ ان کا کھانا محاذ کے فرنٹ لائن پر خاص باورچی خانے میں خصوصی باورچیوں کے ذریعے تیار کیا جاتا تھا۔ میں ریجمنٹ کمانڈر کو مذہبی وجوہات کے بجائے طبی وجوہات کی بنا پر منجمد گوشت استعمال نہ کرنے پر قانع کر پایا کیونکہ ان لوگوں کی مذہبی امور اور حلال و حرام کی طرف کوئی توجہ نہیں تھی، اسی لیے میں نے انہیں منجمد گوشت کے نقصانات سے آگاہ کیا۔ کمانڈر بظاہر قانع ہو گیا تھا اور اس نے افسران کے لیے بصره سے تازہ اور حلال گوشت خریدنا شروع کر دیا۔

میرا دوسرا کام لوگوں کے حفظان صحت کے امور کی نگرانی تھا جیسے ذاتی حفظان صحت، کیڑے مار دوائیں چھڑکنا اور موذی جانوروں کے خلاف زہر کا استعمال کرنا۔  اس کے علاوہ میں ہر دو تین ہفتے میں ایک بار لاجسٹک یونٹ جفیر کا معائنہ کرنے جاتا تھا اور ان کے باورچی خانہ اور پانی کے ذخائر کا صحیح سے معائنہ کرتا تھا۔ لیکن ہر بار میں دیکھتا تھا کہ باورچی خانے میں دھول مٹی جمع ہے اور اس کے آس پاس کوڑے کرکٹ کا ڈھیر لگا ہوا ہے اور یہ موذی کیڑے مکوڑوں کے پیدا ہونے اور نشوونما پانے کے لیے سازگار ماحول تھا۔ درحقیقت وہاں ایک باورچی خانہ نہیں تھا بلکہ ایک کچرا کنڈی تھی۔

اس کی وجہ ان باورچیوں کی غفلت تھی جو جوئے اور لہو و لعب میں لگے رہتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ لاجسٹک افسران کی باورچی خانے کے امور پر صحیح نگرانی کا نہ ہونا بھی اس کی ایک وجہ تھا، کیونکہ یہ افسران بھی ہمیشہ محاذ سے فرار کرتے فلمیں دیکھتے اور جوا کھیلتے رہتے تھے۔ لیکن جب بھی میں لاجسٹک بنکر میں داخل ہوتا تھا تو میرے لیے تازہ ترین پھل پیش کیے جاتے تھے۔ وہ اپنے لیے کھانے پینے کا بہترین سامان ذخیرہ کرتے تھے۔ چونکہ بار بار معائنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اسی لیے میں نے اپنا فرض ادا کرنے اور اس ذمہ داری سے جان چھڑانے کے لیے ریجمنٹ کمانڈر کو اس معاملے سے آگاہ کردیا۔ اس کے باوجود کہ اس نے حالات کی تحقیقات کرنے کے بعد قصورواروں کو سزا دی لیکن اس سب  کے باوجود حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ایک چھٹی والے دن ہم ریجمنٹ کے معاون کے ساتھ چھاؤنی کے حالات کا معائنہ کرنے گئے۔ دورے کے دوران سب سے اہم چیز جس نے ہماری توجہ مبذول کی  وہ ریجمنٹ کی جیل تھی جس میں تقریباً 20 قیدی موجود تھے۔  ان میں سے زیادہ تر کو فوج سے بھاگنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ جیل نسبتاً ایک بڑے کمرے پر مشتمل تھی جس میں چھوٹے چھوٹے دریچے اور مضبوط دروازے تھے۔

قیدی زمین پر سوتے تھے اور ان کے نیچے کمبل نظر آ رہے تھے جن کا رنگ گندگی کی وجہ سے کمرے کے فرش کی طرح کالا ہو گیا تھا۔ جیسے ہی جیلر نے ہمارے لیے دروازہ کھولا تو پیشاب کی مکروہ بدبو نے ہمیں پریشان کردیا۔ قیدی کمرے میں ایک بڑے ٹن کے ڈبے میں پیشاب کرتے تھے۔ جب ہم کمرے میں داخل ہوئے تو سب کھڑے ہوگئے۔ معاون نے پریشانیوں اور ضروریات کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال، بدن کی گندگی، غسل خانے کے نہ ہونے، کھانے کے ناقص معیار اور قیدیوں کے رش کی شکایت کی۔ جب محافظوں کے سربراہ کی باری آئی تو اس نے بھی معاون سے قیدیوں کی بدنظمی، جوا کھیلنے، شراب پینے اور ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا کرنے کی شکایت کی۔ جو باتیں میں سن رہا تھا مجھے ان پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ یہ پہلی بار تھا جب میں اس طرح کے لوگوں سے ملاقات کر رہا تھا۔

معاون نے قیدیوں کے لیے توہین آمیز اور نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے فریقین کے گلے شکووں اور شکایتوں کا جواب دیا۔ اس نے ایک "مہم جو" قیدی کو جو لواط جیسے برے عمل میں مبتلا تھا دھمکی دی اور سزا کے طور پر اس کے دوستوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے ساتھ یہی عمل انجام دیں! اس کے بعد اس نے کچھ لوگوں کے نام لیے اور کہا کہ فوج سے بھاگنے والوں کی معافی کے حکم کے تحت ان کی جیل سے رہائی ہو جانی چاہیے۔ مذکور قیدیوں نے منفی جواب دے کر سب کو حیرت میں ڈال دیا اور کہنے لگے: " ہم نے کسی سے معافی کی درخواست نہیں کی اور ہم جیل کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے۔ یہ جگہ محاذ سے بہتر ہے۔"

معاون نے گالیاں دیتے ہوئے انہیں زبردستی کمرے سے نکال دیا اور وہاں کے انچارج کو حکم دیا کہ انہیں محاذ پر بھیجنے کا انتظام کرے۔ میں نے آہستہ سے معاون کے کان میں کہا: " تنازعے کی تکرار کو روکنے کے لیے آپ کا حل منطقی نہیں ہے۔ آپ ایک غلطی کو دوسری غلطی سے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ آپ کو عامل کو سزا دینی چاہیے۔"

میں نے مریضوں کا معائنہ کیا اور سب کو نہانے کا حکم دیا۔ میں نے ذمہ داران کو مشورہ دیا کہ ان کے سامان کو جراثیم سے پاک کریں اور ہفتے میں ایک بار انہیں ریجمنٹ کے اکیلے اور افسران کے خصوصی حمام میں جانے اور اپنے بدن کے میل کچیل کو دھونے کی اجازت دیں۔ اسی طرح میں نے کیڑے مار دوائیں چھڑکنے کا بھی حکم دیا۔

ان کے حالات پر ایک سادہ سی نگاہ ڈالنے سے معلوم ہو رہا تھا کہ جنگ سے نفرت فوجی حلقوں میں کس حد تک سرایت کر چکی ہے، یہاں تک کہ ایک قیدی فوجی محاذ پر جانے پر جیل کے ناگوار حالات کو ترجیح دے رہا ہے۔ دوسری طرف سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کے فوج، جوان سپاہیوں کے حرام اور برے کاموں کی طرف رجحان کو روکنے کے لیے کوئی اخلاقی پروگرام شروع کرنے سے قاصر ہے۔

دوسری بار جب ہم نے اس جیل کا دورہ کیا تو ہم نے دیکھا کہ وہی فوجی جنہیں آزاد کر دیا گیا تھا محاذ پر ایک رات گزارنے کے بعد دوبارہ وہاں سے فرار ہوکر پھر سے جیل میں آگئے ہیں۔ اگرچہ ان کی صفائی ستھرائی کی صورتحال پچھلی بار سے بہتر ہوگئی تھی لیکن جوا، شراب خوری اور لواط اسی طرح سے جاری تھے۔ اس بار بھی ہم نے انہیں معاون کی دھمکیوں کے بعد الوداع کہا۔

محاذ کے راستے میں معاون نے مجھ سے کہا: "ڈاکٹر! تم ان لوگوں کی وجہ سے خود کو پریشان نہ کرو۔ وہ اخلاقی برائیوں کے دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں اور اپنی انسانی فطرت کو کھو چکے ہیں۔"

اس کے بعد جب بھی میں طبی معاون کو قیدیوں کے معائنے کے لیے بھیجتا تھا تو میں ریجمنٹ کمانڈر کو صرف ان کی صحت کی صورتحال کی رپورٹ دیتا تھا۔

دواؤں اور طبی آلات کی فراہمی کے لحاظ سے لوگوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کا معیار بہت اچھا تھا۔ دنیا کے دوسرے حصوں سے عراق کو بھیجی جانے والی امداد کی بدولت علاج کیلئے ایک ڈاکٹر کی ضرورت کی ساری چیزیں بشمول دوائیں اور طبی آلات مہیا تھیں(سوائے خون کے)۔ بہت سی دوائیں امریکی ہوتی تھیں اور سعودی عرب، اردن اور خلیجی ریاستوں کے ذریعے لائی جاتی تھیں۔ چار اسٹائلش "بینز" ایمبولینسز میرے اختیار میں تھیں جنہیں عراق نے جنگ شروع ہونے سے چند ماہ پہلے ہی خریدا تھا۔ ہماری صرف ایک مشکل تھی اور وہ ریجمنٹ ڈاکٹر کی مددگار کی حیثیت سے ایک سپاہی تک رسائی تھی۔ اس مسئلے کا تعلق کمپنی کمانڈر اور ریجمنٹ معاون کی رضامندی سے تھا، ان پابندیوں کو عائد کرنے کا مقصد سپاہیوں کے بیماری کا بہانہ بنانے اور ان کے کلینک سے بے جا رجوع کو روکنا تھا۔ لیکن زخمیوں کے علاج کے حوالے سے بتاتا چلوں کہ ہر کمپنی میں امداد کے لیے ایک آرمرڈ پرسنل کیریئر موجود تھا۔ ان کا کام زخمیوں کو فرنٹ لائن سے ریجمنٹ کیمپ کے میڈیکل یونٹ میں منتقل کرنا تھا۔ ہم ان زخمیوں کی ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں خصوصی ایمبولینسز کے ذریعے فیلڈ میڈیکل یونٹ-11 بھیج دیتے تھے۔

موبائل یونٹ کو محاذ میں ایک اہم کردار ادا  کرنے کی وجہ سے کمانڈرز اور افسران کی داد اور توجہ حاصل تھی اور موبائل یونٹ، پناہ گاہیں اور خصوصی بنکرز بنانے کے لیے ہماری تمام ضروریات فراہم کرتا تھا۔

جاری ہے۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 93


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - اڑتیسویں قسط

قیدی زمین پر سوتے تھے اور ان کے نیچے کمبل نظر آ رہے تھے جن کا رنگ گندگی کی وجہ سے کمرے کے فرش کی طرح کالا ہو گیا تھا۔ جیسے ہی جیلر نے ہمارے لیے دروازہ کھولا تو پیشاب کی مکروہ بدبو نے ہمیں پریشان کردیا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔