تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - چھتیسویں قسط

مجتبی الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2020-10-17


4- ہماری ریجمنٹ کے گشتی:

ہماری ریجمنٹ کا ٹھکانہ ایک دفاعی پوزیشن پر تھا۔ اسی لئے ہماری فورسز بنیادی طور پر جنگی جاسوسی-گشتی آپریشنز میں اور ممنوعہ علاقے میں راتوں کو جال بچھانے میں شرکت کرتی تھیں۔  اس کے باوجود کہ ریجمنٹ کے لوگ بشمول آفیسرز ان خطرناک اور تھکا دینے والے آپریشنز کو انجام دینا نہیں چاہتے تھے، لیکن پھر بھی وہ ان آپریشنز میں شرکت کرنے کے لیے مجبور تھے۔ گشتی آپریشنز انجام دینے کے متعلق احکامات بریگیڈ کمانڈر کی جانب سے جاری ہوتے تھے اور ان احکامات کی بنا پر ہماری فورسز کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ایرانی فورسز کے ٹھکانوں پر حملے کریں اور ان میں سے کچھ کو گرفتار کریں۔

ہماری پوزیشنز کے سامنے ایک بڑا گاؤں واقع تھا جس کا نام "کوہہ" تھا اور اس گاؤں کے چاروں طرف ایک گھنا جنگل تھا۔ ریجمنٹ کے لوگ متعدد جنگی-گشتی آپریشنز پر بھیجے جاتے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی "کوہہ" گاؤں تک نہیں پہنچتا تھا اور یہاں تک کہ وہ ایرانی فوجیوں کے بنکرز سے ان کا ایک جوتا بھی نہیں لا پاتے تھے۔ وہ صرف ایرانیوں کی پوزیشنز کے قریب پہنچ کر ادھر ادھر فائرنگ کرکے فوراً اپنی پوزیشنز پر واپس آ جاتے تھے۔  عام طور پر گشتی یونٹ کے کمانڈر کو ایک فوجی نقشے کے ساتھ گشتی آپریشنز کی ایک رپورٹ تیار کرنی ہوتی تھی۔  اسی بنا پر زیادہ تر یہ رپورٹس جھوٹ اور مبالغے سے بھری ہوتی تھیں جن میں متعدد ایرانیوں کے زخمی اور ہلاک ہونے اور متعدد فوجی گاڑیوں کے تباہ ہونے کا بتایا جاتا تھا۔  یہ رپورٹس ریجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ کو پیش کی جاتی تھیں اور وہ ریجمنٹ کمانڈر کی نظروں میں مقبول ہونے کے لئے ان پورٹس کے مطابق  ایک منظرنامہ تیار کرتا تھا۔

میں خود بھی ان پورٹس کی تیاری سے باخبر تھا۔  بعض اوقات یہ رپورٹس بریگیڈ کمانڈر کی طرف سے واپس کردی جاتی تھیں اور اس کے ساتھ وہ چاہتا تھا کہ ایرانی فورسز کو پہنچنے والے نقصان کے حجم کو بڑھایا جائے تاکہ اسے ریڈیو پر ایک بڑی خبر کے طور پر نشر کیا جاسکے۔ جو فوجی اس حقیقت سے آگاہ تھے وہ مسلح افواج کی خبریں سن کر ہنستے تھے۔ ہمارے سپاہی حقیقت کے نزدیک پہنچنے کے لیے خود کو پہنچنے والے نقصان کی تعداد میں ایک صفر کا اضافہ کرتے تھے اور ایرانیوں کو پہنچنے والے نقصان کی تعداد میں سے ایک صفر کم کر دیتے تھے۔

میں فوجیوں کی جو لاشیں وصول کرتا تھا ان کی تعداد فوجی اعلامیوں میں موجود ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے مختلف تھی۔ یعنی ان کی اصل تعداد ذکر نہیں ہوتی تھی۔  ہم پر صرف ایک ریجمنٹ کی امداد کی ذمہ داری تھی۔ اب آپ تصور کیجئے کہ 1200 کلومیٹر پر پھیلے ہوئے محاذ پر کیا صورتحال ہوگی!

گشتی آپریشنز سے متعلق میرے پاس کہنے کو بہت سی باتیں ہیں لیکن میں یہاں ان میں سے کچھ نمونے پیش کرتا ہوں:

الف- گشتی لیفٹیننٹ جمال:

بریگیڈ کمانڈر کی جانب سے ہمیں ایک ٹیلی گرام موصول ہوا جس میں ہماری ریجمنٹ کو حکم دیا گیا تھا کہ ہماری ریجمنٹ کچھ ایرانیوں کو گرفتار کرنے کے لئے ایک جنگی-گشتی آپریشن کرے۔ ریجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ نے یہ ذمہ داری تیسری کمپنی کو سونپ دی اور اس کمپنی نے بھی لیفٹیننٹ جمال کے ساتھ بیس آفیسرز اور سپاہیوں کو اس آپریشن کے لیے چنا۔  میں کیمپ میں ریجمنٹ کمانڈر اور اس کے سیکنڈ ان کمانڈ کے ساتھ موجود تھا۔  گشتی یونٹ رات 9 بجے ایرانی ٹھکانوں کی جانب روانہ ہوا۔ ریجمنٹ کمانڈر وائرلیس کے ذریعے اس یونٹ سے رابطے میں تھا۔

آدھے گھنٹے بعد تیسری کمپنی کے سامنے ممنوعہ علاقے میں ایک آر پی جی-7 میزائل فائر ہوا اور اس کے ساتھ ہی شدید فائرنگ شروع ہو گئی جو فوراً ہی رک گئی۔ ریجمنٹ کمانڈر نے گشتی یونٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔  بیس منٹ بعد تیسری کمپنی کے کمانڈر نے ریجمنٹ کمانڈر سے رابطہ کرکے اسے آدھے راستے سے گشتی یونٹ کے تمام لوگوں کے واپس لوٹنے اور وائرلیس اور آر پی جی-7  کے ہاتھ سے چلے جانے کی اطلاع دی۔ ریجمنٹ کمانڈر کو یہ خبر سن کر دھچکا لگا۔ اس نے انہیں گالیاں اور دھمکی دی۔  اس نے تیسری کمپنی کو حکم دیا کہ لیفٹیننٹ جمال اور اس کے آفیسرز کو صبح ریجمنٹ کیمپ بھیجا جائے۔ صبح آٹھ بجے لیفٹیننٹ جمال دو آفیسرز کے ساتھ ریجمنٹ کیمپ پہنچا ریجمنٹ کمانڈر نے گالیوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ تفتیش کے دوران لیفٹیننٹ جمال نے اعتراف کیا: " آپریشن کے دوران میرے سامنے ایک سور آگیا تھا۔ جس شخص نے آر پی جی اٹھایا ہوا تھا وہ اپنا توازن کھو بیٹھا تھا اور اس نے بے ہدف فائرنگ شروع کردی،  اس کے ساتھ ہی دوسرے گشتی افراد نے بھی رات کے اندھیرے میں ڈر کی وجہ سے فائرنگ شروع کردی۔ آخرکار وائرلیس والے سپاہی نے اپنا آلہ پھینک دیا اور جو شخص آر پی جی اٹھایا ہوا تھا اس نے بھی اپنے آر پی جی کو پھینک دیا اور سب نے رکنے پر بھاگنے کو ترجیح دی۔"

 ریجمنٹ کمانڈر بہت غصہ ہوا اور چلا کر کہنے لگا: " اب میں بریگیڈ کمانڈر سے کیا کہوں؟ کہوں کہ ہم نے ایرانیوں کو گرفتار کرنے کے لیے ایک جنگی گشتی یونٹ بھیجا تھا لیکن انہیں ایک سور نے شکست دے دی اور وہ خالی ہاتھ لوٹ آئے۔ یہ واقعی ذلت اور رسوائی کی بات ہے۔"

ریجمنٹ کمانڈر نے لیفٹیننٹ جمال اور اس کے لوگوں کو ڈانٹا اور انہیں سزا دینے کا حکم دیا۔

ریجمنٹ کمانڈر، سیکنڈ ان کمانڈر، تیسری کمپنی کا کمانڈر اور انٹیلی جنس آفیسر نے اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے ریجمنٹ کیمپ میں ایک اجلاس طلب کیا اور اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک کہانی بنائی جائے کہ ہمارے اور ایرنی گشتی یونٹس کے مابین جھڑپیں ہوئیں جن میں متعدد ایرانی مارے گئے اور ہمارے گشتی یونٹ کے لوگوں نے اپنے ہتھیار اسی علاقے میں چھوڑ دیے،  اور اس طرح سے اس رسوائی پر پردہ ڈال دیا گیا۔

ب-  لیفٹیننٹ جبیر کا گشتی یونٹ:

 لیفٹیننٹ "جبیر" کی کمانڈ میں ایک جاسوسی-گشتی یونٹ کو "کوہہ" گاؤں کے ایک جاسوسی مشن میں شرکت کرنی تھی۔ اس یونٹ کو بارودی سرنگوں کے علاقے میں موجود خندقوں سے ہوتے ہوئے ممنوعہ علاقے میں جانا تھا اور وہاں انہیں انجینئرنگ یونٹ کی رہنمائی سے ایک خندق کے ذریعے مزید آگے جانا تھا تاکہ وہ بارودی سرنگوں سے بچ سکیں۔ اندھیرا چھاتے ہی لیفٹیننٹ "جبیر" اپنے جوانوں کے ساتھ "کوہہ" گاؤں کی جانب روانہ ہوا۔ یہ گروپ نسبتاً ایک لمبے مارچ کے بعد اس گاؤں کے نزدیک پہنچنے اور ایرانی فورسز کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔  لیکن واپسی پر ان کی قسمت پھوٹ گئی۔ گشتی یونٹ ریجمنٹ کی پوزیشنز کے قریب پہنچا لیکن انہیں گائیڈ نظر نہیں آیا کیونکہ وہ گشتی یونٹ کو کافی دیر ہوجانے کی وجہ سے خندق کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔  جب یہ گروپ آہستہ آہستہ ممنوعہ علاقے سے گزر رہا تھا تو ایک سپاہی کا پاؤں ایک بارودی سرنگ پر پڑگیا اور بارودی سرنگ کے دھماکے سے اس کا جسم بری طرح سے زخمی ہوگیا۔ اس لمحے لیفٹیننٹ "جبیر" ہر خطرے کو نظر انداز کرتا ہوا اس سپاہی تک پہنچا اور اسے مرنے سے بچالیا۔ جی توڑ کوششوں کے بعد آخر کار گشتی یونٹ زخمیوں کے ساتھ اپنی پوزیشنز پر واپس لوٹ آیا اور زخمیوں کو علاج کے لیے میرے پاس لایا گیا۔

ج- گشتی میجر "فاضل":

میجر "فاضل" بریگیڈ کی نوتشکیل شدہ کمانڈو کمپنی کا کمانڈر تھا۔  یہ کمانڈو کمپنی جو 150 افراد پر مشتمل تھی بیسویں بریگیڈ کی ریزرو اور اسٹرائک فورس سمجھی جاتی تھی۔ ہمارے ٹھکانوں کے مقابل ایرانی فورسز کی تعیناتی سے متعلق موصول ہونے والی ملٹری انٹیلی جنس رپورٹس کی بنا پر بریگیڈ نے اس کمانڈو کمپنی کو ریجمنٹ ٹھکانوں کے سامنے کے علاقے میں ایک جنگی-جاسوسی گشتی آپریشن کرنے کا حکم دیا۔ میجر فاضل نیا نیا اس علاقے میں آیا تھا۔ رات 8 بجے کمانڈو کمپنی کیمپ میں داخل ہوئی اور ریجمنٹ کمانڈر سے معلومات اور احکامات لیے اور مواصلاتی آلات کو چلانے کے بعد جنگی-انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کے ساتھ ممنوعہ علاقے کے لیے روانہ ہوئی۔ میں ریجمنٹ کمانڈر کے پاس ہی کھڑا تھا۔ وہ لمحہ بہ لمحہ گشتی یونٹ کی سرگرمیوں سے وائرس کے ذریعہ آگاہ ہو رہا تھا۔ گشتی یونٹ رات 8 بجے اپنے مشن سے لوٹا۔

اگلی صبح جب میں ریجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ لیفٹیننٹ "محمد جواد" کے ساتھ ناشتہ کر رہا تھا تو میجر "فاضل" ایک فوجی نقشے کے ساتھ گشتی یونٹ کی سرگرمیوں کی رپورٹ ہاتھ میں لیے داخل ہوا۔ ریجمنٹ کا سیکنڈ ان کمانڈ اس رپورٹ اور نقشے کو دیکھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔

 میجر "فاضل" نے اس سے کہا: "آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟"

لیفٹیننٹ محمد جواد نے جواب دیا: "جناب! رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گشتی یونٹ نے دریائے "کرخہ" کو عبور کیا ہے،  جبکہ یہ دریا ایرانی فورسز کے پانچ کلومیٹر پیچھے واقع ہے۔ یعنی آپ ایرانیوں کے ٹھکانوں کے پیچھے تک جا کر واپس آئے ہیں؟"

میجر "فاضل" جو یہ بات سن کر بہت حیرت زدہ ہو گیا تھا اس نے کہا: " ہم نے ایک خشک دریا کو عبور کیا تھا۔ میں سمجھا کہ ہم نے دریائے کرخہ کو عبور کیا ہے۔"

لیفٹیننٹ محمد نے اس سے کہا: "جناب!  جسے آپ دریا کہہ رہے ہیں وہ دراصل ایک سوکھی ہوئی نہر ہے۔"

میجر فاضل نے اس سے کہا: " اب کیا کروں؟"

لیفٹیننٹ محمد نے جواب دیا: " ہم ایک بار پھر رپورٹ لکھ کر نقشہ بناتے ہیں۔"

ہمیشہ کی طرح میجر "فاضل" اور لیفٹیننٹ "محمد" نے بریگیڈ کیمپ کو ایک جھوٹے نقشے کے ساتھ گشتی یونٹ کی رپورٹ بھیجنے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا۔ یہ عراق کی بعثی فوج کی ایک خصلت تھی کہ چھوٹا بڑے سے جھوٹ بولتا تھا اور بڑا چھوٹے کو دھوکا دیتا تھا اور پھر یہ لوگ ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے تھے۔

جاری ہے۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 19


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ۳۷ ویں قسط

بظاہر وہ افسر اہواز آرمرڈ ڈویژن کا حصہ تھا۔ بیسویں بریگیڈ جو ایک ایرانی فوجی کو گرفتار کرنے کی تمنا کر رہی تھی اچانک اپنے چنگل میں ایک میجر کو دیکھ رہی تھی۔ اسی لیے گشتی یونٹ کے کمانڈر اور اس کے ساتھی سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔