سید کاظم اکرمی کی داستان

دوبارہ گرفتاری!

مترجم: سید مقدس حسین نقوی

2020-10-17


جون ۱۹۷۳ء کے آخری ایام تھے ، خفیہ ادارے ساواک کے افرادنے ایک مرتبہ پھر میرا تعاقب کیا اور اپنے تفتیشی افسروں کے ساتھ مجھے ہمدان میں موجود (ساواک) کے دفتر لے گئے اور ظہر کے بعد،پولیس والوں کے ہمراہ تہران منتقل کردیا۔اور پھر آدھی رات کے وقت امنیت بحال کرنے والے ادارے کے حوالے کردیا۔ اب مجھے (سکیوریٹی ادارے ) میں موجود باقی قیدیوں کی طرح آزار و اذیت دینے لگے۔ مجھے تخت سے باندھ کر تازیانے مارتے،بجلی کے جھٹکے دیتے،لیکن گرفتاری کی وجہ کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرتے تھے۔میں خود بھی نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے؟ ایک دن تیز رفتاری سے آئے اور آزار و اذیت دینے کے لیے خاص کمرے میں لے گئے،تخت سے باندھ دیا اور شدید آزار و اذیت دینے لگے۔ساتھ ہی مجھ سے اسلحہ، اور اس کو چھپانے کے حوالے سے پوچھ گچھ کرنے لگے۔میں نے شدید درد کی حالت میں کہا میں جنگجو نہیں ہوں۔  میرا کام تبلیغ، اطلاعات کی جمع آوری، پڑھنا اور اس کو منتشر کرنا ہے۔ اسلحہ سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ لیکن ان کو یقین نہیں آیا اور خدا نے شاید کرم کیا کہ ایک دفعہ تازیانہ میری آنکھ پر لگا اور خون بہنے لگا یہ دیکھ کر انہوں نے مار پیٹ ختم کردی اور ڈرانے دھمکانے لگے کہ تمہاری بیوی کو ہمدان سے یہاں لے آئیں گے ، تمہیں بتانا پڑے گا کہ اسلحہ کہاں سے لیتے  اور کہاں چھپایا کرتے تھے؟ میں نے کہا جو کرنا ہے کر لو لیکن اسلحے سے میرا کوئی کام نہیں تھا میں صرف تبلیغ اور جوانوں کی تربیت کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ یہ لوگ ظاہراً کچھ قرائن و شواہد سے سمجھ گئے تھے کہ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ اگلے دن مجھے شہید (بہمن) منشط، (جو نھاوند کے گروہ ابوذر میں سے تھے) کے سامنے لے آئے۔ البتہ مجھے اس گروہ کا نام جیل سے رہا ہونے کے بعد پتہ چلا۔ مجھے جب اس کے سامنے لائے تو مجھے اس گروہ سے متعلق کسی قسم کی معلومات نہیں تھی لہذا اس گروہ کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ میں صرف توحید کے موضوع پر ان کو درس دیا کرتا تھا۔

مجھے شہید منشط کے سامنے لانے کے بعد اس سے سوال کیا کہ یہ شخص جب نھاوند آتا تو تم لوگوں سے کیا کہتا تھا؟ شہید منشط نے کہا: کہ یہ توحید و معارف پر گفتگو کرتے تھے۔منوچہری، ادارے کے تفتیشی افسر نے مجھے ایک زوردار لات ماری اور گالی دیتے ہوئے کہا کہ عجیب توحید کا درس دیتے تھے ان کو۔ان باتوں سے ثابت ہو رہا تھا کہ میرا اسلحہ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لہذا مجھے واپس جیل میں ڈال دیا۔

منبع: خاطرات سیدکاظم اکرمی، به کوشش مسعود کرمیان، جواد کامور بخشایش، تهران، سوره مهر، 1389، ص 66 تا 68.



 
صارفین کی تعداد: 19


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ۳۷ ویں قسط

بظاہر وہ افسر اہواز آرمرڈ ڈویژن کا حصہ تھا۔ بیسویں بریگیڈ جو ایک ایرانی فوجی کو گرفتار کرنے کی تمنا کر رہی تھی اچانک اپنے چنگل میں ایک میجر کو دیکھ رہی تھی۔ اسی لیے گشتی یونٹ کے کمانڈر اور اس کے ساتھی سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔