شام کی داستان

یادوں بھری رات کا ۳۱۱ واں پروگرام – پہلا حصہ

خاک سے بھرے کھانے کے ٹِن

سیدہ پگاہ رضا زادہ

مترجم: محسن ناصری

2020-10-17


ایرانی اورل ہسٹری سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۳۱۱  واں پروگرام، دفاع مقدس میں خواتین کے کردار کو سراہنے کے لئے،  جمعرات کی شام، ۲۰ فروری ۲۰۲۰ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں محترمہ ترابی، سیدہ فوزیہ مدیح اور حاج مہدی زمردیان نے اپنے واقعات بیان کیے۔

اس رات داستان بیان کرنے والی پہلی خاتون محترمہ ترابی تھیں۔ جب سوسنگر دشمن کے قبضے میں چلا گیا اور بُستان ،  ھویزہ ، اور حمید کی بیس پر قبضے کے لیے تن با تن لڑائی جاری تھی۔ جس کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کیوں کہ میں وہاں موجود تھی۔ محترمہ نے اپنی گفتگو کا آغاز قرآن کریم کی آیت سے کیا اور کہنے لگی " دشمن جنگ کے زمانے میں سیاست کے ذریعے میدان میں سامنے آیا۔ میرے خیال میں ہم نے جہاں بھی اور جب بھی شکست کھائی اس کی وجہ ناتجربہ کار اور بے دین سیاست دان تھے۔ میرا یقین کریں کہ یہ بات حضرت زہرا علیہا السلام اور امیرالمومنین علیہ السلام کے زمانے سے لے کر آج تک ثابت ہوئی ہے اور ہر دور میں دشمن شناسی کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ۸ سالہ جنگ میں جہاں بھی ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑا اس کی بڑی وجہ دشمن شناسی میں بے بصیرتی تھی۔ میرے خیال سے وہ جوان جو کردستان اور خوزستان میں شہید ہوئے ان میں دشمن شناسی قدرے زیادہ تھی۔

جب میں کردستان میں داخل ہوئی تو "پاوہ" مکمل طور پر دشمن کے قبضے میں تھا اور پاوہ کی خواتین نے جہاں تک ممکن تھا کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کیا۔ پاوہ ضد انقلابیوں کے ہاتھ میں چلا گیا اور پاوہ کا صرف ایک سوم علاقہ ہمارے کنٹرول میں موجود تھا۔ خواتین کے ذمہ خوراک اور غذائی امداد اور اس کی تیاری کا انتظام تھا۔ کردستان کے بعد میں تہران واپس  چلی گئی جب مسلط کردہ جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔ خواتین ایک بار پھر عسکری بیسز، اسکولوں اور مساجد میں امدادی کاروائیوں میں مردوں کے شانہ با شانہ سختیوں اور مشکلات کا سامنا کررہی تھی۔ اگر خواتین جنگ کے زمانے میں اپنا کردار ادا نہ کرتیں تو ہمارا کامیابی سے ہمکنار ہونا ممکن نہیں تھا۔ امام خمینی ؒ نے بھی فرمایا اگر جنگ کے زمانے میں خواتین کا کردار نہ ہوتا تو کامیابی کا حصول نا ممکن تھا"۔

کل کی خواتین آج کے زمانے کی خواتین کے لیے نمونہ ہیں جنہوں نے جنگ پر جانے کے لیے اپنے پیاروں ، بیٹوں اور بھائیوں کو رخصت کیا اور اس کے بعد اپنے پردے اور حجاب کی  رعایت کرتے ہوئے مجاہدین کی مدد کے لیے امدادی سامان کی فراہمی میں مشغول ہو گئیں۔ مسلط کردہ جنگ میں خواتین کا کردار بنیادی ہے اور جنگ کی کامیابی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کے مرہون منت ہے۔ کل کی خواتین آج کی خواتین کے لیے ایک نمونہ ہیں کل کی خواتین نے جنگ کے دوران اپنے وطن کی اپنے ہاتھوں سے محافظت کی ہے اور بے پناہ قربانیاں دے کر ثابت کیا ہے کہ ایران کی خواتین دشمن کی شناخت میں مہارت رکھتی ہیں۔ دشمن شاید ہم پر بم برسا کر ہمیں ختم کرسکتا ہے لیکن ہمارے ایمان کو ہم سے نہیں چھین سکتا۔ اگر  خواتین اس موقع پر جنگ میں جوانوں ، بیٹوں ، بھائیوں اور اپنے سرپرستوں کو ملک کے دفاع کے لیے نہیں بھیجتی تو ہم کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس ۸ سالہ جنگ میں ہم خواتین کا اہم ترین کردار ہے۔

میں اھواز میں تھی کہ مصطفی چمران نے مجھے حکم دیا کہ میں سوسنگرد کے ہسپتال چلی جاوں۔ میں حکم کی تعمیل میں سوسنگرد چلی گئی اور وہاں ہسپتال میں بیماروں کی نگہداشت میں مصروف ہوگئی اور حمیدیہ ، بُستان اور ھویزہ کی بیس سے مرتبط ہوگئی۔ جس وقت بُستان اور ھویزہ پر  دشمن کا قبضہ ہونے والا تھا تو وہاں کی عوام مدد کے لیے میدان میں نکل آگئی۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ تقریباً ٣٥ خواتین پیٹرول بموں کے ساتھ جو کہ سادہ ترین اور گھر میں ہی تیار کیے جانے والا ہتھیار تھا میدان میں آگئیں۔ ان خواتین نے ٤۸ گھنٹوں تک علاقے کا دفاع کیا وہ بھی ایسے دشمن کے مقابلے میں جو پوری طرح مسلح تھا۔ دشمن کو جب معلوم ہوا کہ بُستان کی خواتین نے ان کو علاقے میں داخل ہونے سے روکے رکھا  ہوا ہے تو جب وہ علاقے میں داخل ہوگئے تو انہوں نے خواتین کو بے دردی سے قتل کرنا شروع کردیا۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب ھویزہ پر دشمن نے حملہ کیا تو شہید علم الہدی نے اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ کھانے کے خالی ٹِن میں خاک بھر کر دشمن پر پھینکنا شروع کردیئے تاکہ دشمن سمجھے کہ یہ ہینڈ گرنیڈ پھینک رہے ہیں جبکہ اسی دوران بنی صدر( ایران کا پہلا صدر) نے فوج کو عقب نشینی کا حکم دیا۔ عراقی ٹینک سوسنگرد پر قبضہ کرنے کے لیے بہت ہی بے چین تھے۔ ہم سپاہیوں کے ساتھ خوزستان میں موجود تھے شہید علی غیوری اور شہید مصطفی چمران بھی موجود تھے اور ریتیلے علاقے میں پانی چھوڑ دیا کرتے تھے جس دشمن کے ٹینک دھنس جاتے تھے۔ یہ وہی وقت تھا جب امام خمینیؒ نے فوج کو جنگی علاقوں میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ ایک ۲۲ سالہ جوان اپنے والدین کے لیے کھانا لینے کے لیے جارہا تھا کہ عراقی فوج اس کی موجودگی سے واقف ہوگئے انہوں نے اس جوان کو اسی وقت شہید کردیا اور اس کے والدین کے سامنے اس کی لاش کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔

شہید مصطفی چمران میرے کردستان کے ہسپتال میں نرسنگ کے تجربے سے آگاہ تھے انہوں نے مجھے سوسنگرد بھیج دیا اور میرے ساتھ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو بھی بھیجا گیا، اس وقت میری عمر صرف ۲۱ سال تھی۔ عراقی ریڈیو سے مستقل اعلان کیا جارہا تھا کہ اگر سوسنگرد  کے لوگوں نے مزاحمت جاری رکھی اور تسلیم نہیں ہوئے تو سوسنگرد پر حملہ کرکے کسی کو امان نہیں دیں گے حتی ہسپتال کو بھی اس عملے کے ساتھ جلا ڈالیں گے۔ میں ایک رات ہسپتال سے باہر گئی اور کُھلے آسمان تلے دعا کی "پروردگار تو بہتر جانتا ہے کہ ہم خالی ہاتھ دشمن کا مقابلہ کررہے ہیں اور ہمارے پاس تیرے سوا کوئی نہیں ہے ہماری مدد کر تاکہ ہم دوسروں کی مدد کرسکیں"۔ میں نے واقعاً اللہ کی جانب سے غیبی امداد کا مشاہدہ کیا اور پروردگار کی جانب سے ہماری غیبی مدد جاری رہی اور اگر یہ غیبی امداد نہ ہوتی تو ہم کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے قاصر تھے۔ نہ ہی پانی موجود تھا اور نہ ہی بجلی اور نہ ہی ٹیلی فون۔۔۔کم ترین وسائل میں ہم نے دشمن کا مقابلہ کیا۔ ہم اس وقت تک وہاں موجود رہے کہ ہمارے پاس دوائیں تک ختم ہوگئی تھیں  اور یہی وجہ باعث بنی کے ہم کو میدان سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ عراقی فوج کی بمباری سے تمام راستے خراب ہوچکے تھے اور زمینی راستے بھی تباہ ہوچکے تھے۔ بنی صدر نے حکم دیا کہ خوزستان کے اللہ اکبر نامی پہاڑوں کی جانب عقب نشینی کریں جو خوزستان کو دونوں ہاتھوں سے دشمن کے حوالے کرنے کے مترادف تھا۔ صدام حسین نے ایک رپورٹر سے انٹرویو کے دوران کہا " جیسا کہ میں ابھی آپ سے بات کررہا ہوں آج سے ٹھیک تین دن بعد اھواز میں آپ میرا انٹرویو کررہے ہوں گے"۔اگر ہم اس دن خوزستان کو چھوڑ دیتے تو یقین کریں کچھ ایسا ہی ہوتا۔ مجاہدین نے استقامت کا مظاہرہ کیا اور خالی ہاتھوں سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کو اس کے مذموم مقاصد میں ناکام بنایا۔ مصطفی چمران ، علی غیوری اور ابراہیم ھادی جیسوں نے مجاہدین کو مسلح کیا۔

سوسنگرد کے بعد میں تہران آگئی تاکہ کچھ آرام کرسکوں لیکن امام خمینیؒ نے آبادان کے محاصرے کو توڑنے کا حکم دیا اور میں ایک بار پھر آبادان کے لیے انتخاب کرلی گئی۔ ہم بلافاصلہ شوش چلے گئے تاکہ خرم شہر کی آزادی کے لیے اقدامات کرسکیں۔ جب ہم شوش میں داخل ہوئے تو دشمن کے جنگی طیارے اس قدر ہمارے نزدیک تھے کہ ہمارے محافظ ان کو کلاشنکوف سے نشانہ بنا سکتے تھے۔ شوش میں سپاہ پاسداران کے جوانوں نے کئی بار دشمن کے حملوں کو ناکام بنایا ان کا ھدف یہی تھا کہ اندیمشک کے لوگوں کو دشمن کے حملوں سے نجات دلا سکیں۔ جب آبادان میں داخل ہوئے تو مجاہدین ہماری دائیں جانب اور دشمن ہماے بائیں جانب موجود تھا اور ہم درمیان میں تھے اور دشمن کے میزائل ہمارے سروں پر سے گزر رہے تھے۔ ایک ہزار سپاہ پاسداران اصفہان اور ایک ہزار ہمدان سے آگئے اور کاروائی کا آغاز ہوگیا۔ جب یہ جوان میدان جنگ میں جا رہے تھے تو کمانڈر نے کہا کہ یہ دوہزار جوان قطعا شہید ہوجائیں گے۔ عسکری کاروائی کے بعد دزفول کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور بڑی تعداد میں جوانوں نے خرم شہر کی آزادی میں حصہ لیا اسی دوران ایک عراقی افسر بھی زخمی حالت میں گرفتار کرکے شوش لایا گیا۔ جوانوں نے اس افسر سے پوچھا کہ اس تمام مدّت میں تم نے اتنے میزائل ہم پر برسائے اور بے گناہ افراد کو قتل کیا ، کیا کہیں کسی موقع پر تمہارے دل میں رحم نہیں آیا؟۔ تو کہنے لگا ایک موقع پر میرے دل میں رحم آیا جب ہم نے خرم شہر پر بمباری کی اور گھروں پر میزائل برسانا شروع کیے تو بہت سے گھر تباہ ہوگئے اور ہم ان گھروں میں داخل ہوتے تھے۔ ایک گھر میں جب داخل ہوئے تو دیکھا کہ پورا گھرانہ شہید ہوچکا ہے۔ گھر کے صحن سے ایک گہوارے میں سے ایک چھوٹے بچے کے رونے کی آواز آئی ، دیکھا تو بچہ زندہ موجود ہے۔ میں گہوارے کے نزدیک گیا اور اپنا خنجر نکال کر بچے کے لبوں پر رکھا بچہ سمجھا کہ ماں کا سینہ ہے اور بچے نے منہ کھول دیا، جیسے ہی بچے نے منہ کھولا میں نے اپنا خنجر اس کے حلق میں اتار دیا"۔ انسان اگر دین نہ رکھتا ہو اور ضمیر مرچکا ہو تو کسی درندے حیوان سے کم نہیں ہے۔ دین سیاست سے جدا نہیں ہے۔ عراقی فوج ور امریکی اپنی سیاست کے ذریعے ہم سے ہماری ہم چیز کو چھین رہے تھے لیکن ہماے جوانوں اور عزیزوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ان کے مقاصد کو ناکام بنایا۔

آج عوام ایک بات کو جان لیں کے ساواک ہو یا بعث پارٹی ان کی ڈیموکریٹک سوچ میں ایک بات مشترک یہ ہے کہ یہ لوگ عوام کو قتل کرکے ان کے گھروں کو جلا کر اور انہیں نقصان پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم تاریخ کے کس حصے میں موجود ہیں اور چین و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جس زمانے میں، میں شوش میں تھی تو اصفہان سے ایک ماں باپ آئے اور ان کے تین بیٹے شہید ہوچکے تھے اور چند روز پہلے ہی ان کا چوتھا بیٹا بھی شوش میں شہید ہوا تھا۔ انہوں نے اصفہان میں موجود گھر فروخت کردیا تھا اور اس کی رقم مجاہدین کی امداد کے لیے دیدی تھی اور خود بھی شوش میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس قسم کی قربانی کے لیے بڑا دل چاہیے۔

ایرانی تاریخ کی بیانگر ویب سائٹ کے مطابق، دفاع مقدس کی داستان کا ۳۱۱ واں پروگرام جمعرات کی شام،۲۰ فروری ۲۰۲۰ء کو  سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔اگلا پروگرام  ۲۳ اپریل ۲۰۲۰ء کو منعقد ہوگا۔



 
صارفین کی تعداد: 17


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ۳۷ ویں قسط

بظاہر وہ افسر اہواز آرمرڈ ڈویژن کا حصہ تھا۔ بیسویں بریگیڈ جو ایک ایرانی فوجی کو گرفتار کرنے کی تمنا کر رہی تھی اچانک اپنے چنگل میں ایک میجر کو دیکھ رہی تھی۔ اسی لیے گشتی یونٹ کے کمانڈر اور اس کے ساتھی سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔