موسم گرما کے واقعات

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات - پینتیسویں قسط

مجتبی الحسینی

مترجم: ضمیر رضوی

2020-09-28


موسم گرما کے سخت گرمی والے ان تین مہینوں کے دوران محاذ کے اس نقطے پر جو چھوٹے بڑے واقعات پیش آئے میں یہاں مختصر طور پر ان میں سے کچھ کا تذکرہ کرتا ہوں۔

سن 1981ء کا موسم گرما جیسے ہماری بریگیڈ کے ٹھکانے پر ایرانی فورسز کے آرام کرنے کا موسم تھا۔  جنگ کی اہم سرگرمیاں ایک دوسرے پر فائرنگ، جنگی-جاسوسی گشتی آپریشنز اور گھات لگانے کے عمل تک محدود تھیں۔  اس کے باوجود کہ ایرانی فورسز سست پڑ گئی تھیں اور تھکن محسوس کر رہی تھیں لیکن ہماری فورسز تمام دفاعی تدابیر اپنانے کے بعد مکمل طور پر الرٹ رہتی تھیں۔

ہماری ریجمنٹ نے اپنی سرگرمیاں ہمارے ٹھکانوں کے قریب موجود گاؤں "کوہہ" میں جنگی-جاسوسی گشتی دستے بھیجنے،  رات کے وقت ممنوعہ علاقے میں جال بچھانے،  اور ایرانی فورسز کے ٹھکانوں پر توپوں کی گولا باری کرنے پر مرکوز کی ہوئی تھیں۔ یہاں اس بات کا اضافہ کرتا چلوں کہ چھ 122 ملی میٹر توپوں نے ہماری ریجمنٹ کا احاطہ کیا ہوا تھا جو پورا دن ایرانیوں کے ٹھکانوں پر فائرنگ کرتی رہتی تھیں۔ لیکن ایرانی فورسز کی سرگرمیاں مسلسل مارٹر گولے فائر کرنے،  نامنظم طور پر بھاری توپ خانوں کی فائرنگ اور سنائپر آپریشنز تک محدود تھیں۔  موبائل میڈیکل یونٹ ریجمنٹ کے پیچھے دو سو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔

میں صبح سویرے اٹھتا تھا اور کچھ دیر صبح کی ورزش کرنے اور نہانے کے بعد ریجمنٹ کے مریضوں کے علاج میں مشغول ہو جاتا تھا۔  اس کے بعد میں ریجمنٹ کے سیکنڈ-ان-کمانڈ کے ساتھ ناشتہ کرتا تھا۔  پھر دوبارہ میں موبائل یونٹ واپس آتا تھا اور مریضوں یا زخمیوں کے آنے کا انتظار کرنے لگتا تھا۔  عام طور پر میں دوپہر کا کھانا ریجمنٹ کے سیکنڈ-ان-کمانڈ کے ساتھ اور رات کا کھانا ریجمنٹ کمانڈر کے ساتھ کھاتا تھا۔  چند دنوں کے لئے جب توپ خانوں کے حملے رک جاتے تھے تو میں فرنٹ لائن کے دستوں سے ملنے جاتا تھا اور دوربین سے ممنوعہ علاقے کا جائزہ لیتا تھا۔

ہماری ریجمنٹ کے کمانڈر، لیفٹیننٹ کرنل "عبدالکریم حمود"  عام طور پر بریگیڈ اور ڈویژن کمانڈرز کے ساتھ نشست و برخاست کرتے تھے اور اسی وجہ سے ہمارے ریجمنٹ کی حالت بہتر ہونے لگی۔  یہ بلا وجہ نہیں تھا کہ ہمیں بہت سے جنگی آپریشنز میں شرکت نہ کرنے کی  چھوٹ دی جاتی تھی۔

یہاں میں کچھ واقعات اور حادثات بیان کرتا ہوں جو میرے سامنے پیش آئے تھے:

1۔  دعوتیں

 ہماری یونٹ کے استحکام اور ایران کی داخلی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ایرانیوں کے حملے شروع نہ کرنے کی وجہ سے اس علاقے میں ایک نسبی سکون اور امن و امان قائم ہو گیا تھا۔  اسی وجہ سے ریجمنٹ کمانڈر شاندار دعوتوں کا اہتمام کرتا تھا اور بریگیڈ اور ڈویژن کے کمانڈرز اور ہمارے آس پاس موجود دوسری یونٹس کے ہائی رینک آفیسرز کو ان دعوتوں میں شرکت کی دعوت دیتا تھا۔ ہم ہر دو ہفتے میں ایک بار ایک محفل کا انعقاد کرتے تھے۔  لیکن ریجمنٹ کمانڈر ایک پیسہ بھی اپنی جیب سے خرچ نہیں کرتا تھا بلکہ ان دعوتوں کے اخراجات بے چارے سپاہیوں کی جیب سے پورے کیے جاتے تھے۔ کیونکہ ہماری ریجمنٹ میں ایک موبائل اسٹور تھا جس کا منافع براہ راست ریجمنٹ کے بجٹ میں جاتا تھا جو کمانڈر کے اختیار میں تھا۔  اسی لئے پیسہ اور ماہر باورچی دونوں دستیاب تھے۔  وارنٹ آفیسر "عبد خلف" بھی کھانے بنانے میں خاص طور پر بھنا ہوا بکرا بنانے کا بہت تجربہ رکھتا تھا۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کے وہ لوگ ہویزہ شہر کے آس پاس مقیم عرب دیہاتیوں سے پانچ دینار کی بہت معمولی قیمت پر بکرے خریدتے تھے۔ اس حساب سے دعوت کی ساری تیاریاں ہو چکی تھیں۔  رہ گئے کھلے ہوئے منہ تو ان کی تو کوئی گنتی ہی نہیں تھی۔

ایک دن میں نے کمانڈر سے ان دعوتوں کی کثرت کی شکایت کی۔  اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: " ڈاکٹر! بظاہر ابھی تک آپ کو معلوم نہیں ہوا کہ فوج میں کیسے رہنا ہے۔ ہمیں ان دعوتوں کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ دعوتیں ہماری مشکلات کو حل کرتی ہیں اور ہماری ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں۔  یعنی کمانڈرز اور اعلی افسران کے ساتھ ہمارے تعلقات کو مستحکم کرتی ہیں۔ہم بغیر کوئی قیمت ادا کیے یہ تعلقات برقرار کرتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔"

میں نے پوچھا: "اس کا فائدہ کیا ہے؟"

اس نے جواب میں کہا: " سب سے کم فائدہ یہ ہے کہ ہماری ریجمنٹ کو مشکل آپریشنز میں شرکت کرنے سے مستثنیٰ کردیا جاتا ہے، محفوظ دفاعی پوزیشن دی جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر اس کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہے۔"

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریجمنٹ کمانڈر کا نظریہ  ثابت ہوگیا اور ہمیں مشکل آپریشنز میں شرکت کرنے سے مستثنیٰ کر دیا گیا۔

۲- جیش الشعبی

 یہ وہی عوامی فورسز ہیں جنہیں بعثیوں نے 70 کی دہائی کے بیچ میں بنایا تھا،  ان کا اصل کام صرف حکمران حکومت کے وجود کو برقرار رکھنا تھا۔  یہ فورسز جنگ کے شروع میں سرحدی علاقوں میں اگلے مورچوں پر موجود فوجی یونٹس کے پیچھے خاص طور پر ایران کی سرحدی چوکیوں میں مقیم تھیں۔ جون 1981ء کے شروع میں ان فورسز کے ایک گروہ نے محدود مدت کے لیے اگلے مورچوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔  جیش الشعبی فورسز کا پہلا گروہ جو "آل بدیر" کے علاقے سے تھا اسی مہینے کے شروع میں ایک ہائی اسکول کے پرنسپل کی کمانڈ میں ہماری ریجمنٹ کے کیمپ پہنچا۔  یہ گروہ کچھ طالب علموں، اساتذہ اور پروفیسرز پر مشتمل تھا۔  چونکہ جیش الشعبی سویلینز کی ایک جماعت تھی اس لیے وہ مختصر اور اجمالی طور پر چھوٹے اسلحے کا استعمال سیکھتے تھے،  جنگی لحاظ سے یہ لوگ بہت پیچھے تھے۔  اس کے علاوہ فوج کے لوگ انہیں حزب(بعث عراق) کا مسلح بازو سمجھتے تھے اور انہیں نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان عوامل نے جیش الشعبی کو خاطرخواہ جنگی توانائی اور مطلوبہ جنگی تجربہ حاصل نہ کرنے دیا۔ اس کے نتیجے میں ان کی فورسز کو آپریشنز کے دوران بھاری نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔

ضلع"آل بدیر" کی جیش الشعبی 150 افراد پر مشتمل تھی۔ ہمارے ریجمنٹ کمانڈر نے انہیں محاذ کے خطرناک ترین علاقے میں تعینات کر دیا تھا جو دن رات ایرانی توپخانوں اور سنائپر یونٹس کی رینج میں رہتا تھا۔  اسی لیے روزانہ بنکر بنانے کے دوران ان کے دو تین افراد مارے جاتے تھے اور کچھ افراد شدید زخمی ہو جاتے تھے۔  یہ اس وقت تھا جب گزشتہ دو ماہ کے دوران ہماری ریجمنٹ کا ایک بھی سپاہی ہلاک نہیں ہوا تھا۔  انہوں نے محاذ پر ایک ہفتے کے قیام کے دوران ہمارے لیے بہت ساری مشکلات پیدا کردی تھیں۔  مثال کے طور پر ایک رات جب پہلا دستہ ایک ایرانی گشتی-جنگی یونٹ کی ہلکی سی فائرنگ کی زد میں آیا تو جیش الشعبی کے لوگ فرنٹ لائن سے فرار ہوگئے، لیکن پہلے دستے کے ٹھکانوں کے پیچھے انہیں گرفتار کر لیا گیا اور ریجمنٹ کے افراد ان کا مزاق اڑاتے ہوئے انہیں فرنٹ لائن پر واپس لے آئے۔

حقیقت یہ ہے کہ جیش الشعبی کے لوگ بے گناہ سویلینز تھے جنہیں حکومت جنگ کا تندور گرم رکھنے کے لیے محاذ پر لاتی تھی،  ورنہ اس بات کا کوئی مطلب ہی نہیں تھا کہ ایک ناتجربہ کار سویلین دو آراستہ پیراستہ فوجوں کی جنگ میں شرکت کرے۔

۳۔ آرٹ ٹیم

 جولائی 1981ء  کے آخر میں ایک صبح ریجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ کیپٹن "محمد جواد" نے مجھ سے کہا کہ میں موبائل میڈیکل یونٹ کے تمام افراد کو صفائی کا خیال رکھنے، چہرے کے بال کاٹنے اور خوشبو لگانے کو کہوں۔  مجھے اس مطالبہ سے بہت حیرت ہوئی اور میں نے پوچھا: "آپ مذاق کر رہے ہیں ناں؟"

اس نے جواب دیا: "نہیں!  یہ ایک فوجی حکم ہے جو بریگیڈ کمانڈر کی طرف سے صادر ہوا ہے۔"

میں نے کہا: "ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن بات کیا ہے؟"

اس نے بتایا: " کچھ مردوں اور خواتین پر مشتمل فنکاروں کا ایک گروپ ہمارے علاقے میں آئے گا جس میں مشہور گلوکاره "می اکرم"  اور اداکارہ "شذی سالم" بھی شامل ہیں۔"

میں نے حیرت سے پوچھا: "وہ یہاں کیا کرنے آرہے ہیں؟"

اس نے بتایا: "وہ ہمارے لئے ایک  انٹرٹینمنٹ شو کرنے آرہے ہیں۔"

میں نے موبائل یونٹ کے تمام لوگوں کو طلب کیا اور سب لوگوں کو اس معاملے سے آگاہ کردیا۔  وہ بےچارے یہ بات سن کر ہکے بکے رہ گئے۔  انہوں نے صاف ستھرے کپڑے پہنے، داڑھیاں چھوٹی کیں اور خوشبو لگائی۔  میں نے روز مرہ کی طرح اپنے کام شروع کیے۔  واقعی میں کچھ بظاہر فنکار لیکن فاسق لوگوں کے آنے سے ہمیں کیا فائدہ ہونے والا تھا جنہیں بعثی حکومت نے مظلوموں کا مذاق اڑانے کے لیے رکھا ہوا تھا۔ مجھے نہیں معلوم،  لیکن ہزاروں فوجی  ایک آرٹ ٹیم کے انتظار میں موت اور محاذ کو بھلا بیٹھے تھے۔  جب میں ریجمنٹ کے لوگوں کے چہروں کو دیکھتا تھا تو مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں ان کے حال پر ہنسوں  یاروؤں۔

سب لوگ شام تک راستہ تکتے ہوئے  انتظار کرتے رہے تھے لیکن آرٹ ٹیم کے آنے کی کوئی خبر نہیں تھی۔  میں رات کا کھانا کھانے کے لیے ریجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ کے بنکر میں گیا۔ 

میں نے اس سے کہا: " بریگیڈ کمانڈر کو فون کرکے پوچھیں کہ آرٹ ٹیم کب آئے گی؟"

ریجمنٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ نے ہمت کرکے بریگیڈ کیمپ کے سیاسی جواز افسر میجر "ثامر العزیزی"  کو فون کیا۔  اس نے بڑے اطمینان سے بتایا: "وہ گروپ، ڈویژن کے فیلڈ کیمپ میں ایک پروگرام کر کے بصرہ  لوٹ گیا ہے۔"

لیفٹیننٹ "محمد جواد" نے ریجمنٹ کے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ الرٹ کی حالت سے باہر آجائیں اور پرسکون ہو جائیں،  کیونکہ گروپ واپس چلا گیا ہے اور اب نہیں آئے گا۔  ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ گروپ نے محاذ سے 25 کلومیٹر پیچھے واقع پانچویں ڈویژن کے فیلڈ کیمپ میں افسران اور کمانڈرز کی موجودگی میں گلوکاری اور رقص کا ایک پروگرام کیا ہے۔  بظاہر اس پروگرام کے اختتام پر ایک رنگین دسترخوان بھی لگایا گیا اور ایک پریس رپورٹ تیار کرکے اس کی خبر اشتہاری میڈیا پر شایع کی گئی۔  اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ فنکاروں نے محاذ کی فرنٹ لائن کا دورہ کیا اور جنگجوؤں کی دلجوئی کی۔

جاری ہے۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 84


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ۳۷ ویں قسط

بظاہر وہ افسر اہواز آرمرڈ ڈویژن کا حصہ تھا۔ بیسویں بریگیڈ جو ایک ایرانی فوجی کو گرفتار کرنے کی تمنا کر رہی تھی اچانک اپنے چنگل میں ایک میجر کو دیکھ رہی تھی۔ اسی لیے گشتی یونٹ کے کمانڈر اور اس کے ساتھی سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔