مسلح انقلابی ٹیم کے باقی اعضاء کی گرفتاری

مترجم: زوار حسین

2020-09-28


(حسن علی منصور کے انقلابی قتل کے بعد) محمد بخارائی کو گرفتاری کے بعد تفتیش کے لیے پولیس کے انٹیلی جنس مرکز منتقل کیا گیا لیکن اس نے طے شدہ منصوبہ کے مطابق بھوک ہڑتال کی اور کچھ نہ بتایا ابتدائی جسمانی سزاؤں اور اذیتوں میں اس نے کسی چیز کا اعتراف نہیں کیا لیکن اتفاقاًیا وہ متوجہ نہیں تھا یا کسی اور وجہ سے اس کی جیب سے اس کے اس سکول کا کارڈ نکلا جس میں رات کو کلاس لیتا تھا اور اس کارڈ سے انہوں نے اس مدرسہ جس کا نام خزائلی تھا میں رابطہ کیا اور وہاں سے اس کے گھر کاایڈریس حاصل کیا۔ اس کے ماں باپ اور بھائیوں سے تفتیش کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ وہ اس کام کو انجام دینے میں اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھی بھی شامل تھے اور انہیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ رضا صفار ہرندی اور مرتضی نیک نژاد بھی نزدیک ہی رہائش پذیر ہیں اور ایک دوسرے کے گھر میں ان کا آنا جانا بھی ہے  جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ دو آدمی بھی محمد بخارائی کے ساتھ ملوث ہیں۔ اسی طرح اہل محلہ کی نشاندہی پر انہیں یہ بھی پتہ چلا کہ یہ دونوں حاج صادق کے پاس بھی آتے جاتے ہیں اور اس طرح سے حاج آقا صادق امانی بھی ظاہر ہوجاتے ہیں۔میں اور مرحوم صادق ان واقعات کے بعد اس خیال سے کہ یقیناً پہچانے گئے ہیں واپس گھروں کو نہیں گئے حاج صادق کسی دوست کے گھر چلا گئے اور انہوں نے پہلے سے رضا اور مرتضی سے یہ پروگرام بنایا تھا کہ اگر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تو اگلے دن آپس میں ملاقات کریں گے۔

رضا تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ حادثے سے اگلے دن ہی یہ لوگ پہچانے جائیں گے، وہ مرتضیٰ سے کہتا ہے کہ جلدی سے ایک چکر گھر کا لگا لوں تاکہ کچھ لباس اور سامان اٹھا لوں اور پھر مل کر حاج صادق کے پاس چلتے ہیں اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی انٹیلی جنس کے افراد جو اس کے انتظار میں تھے اسے گرفتار کر لیتے ہیں۔ مرتضی نے جب محسوس کیا کہ رضا نے دیر کردی ہے تو اپنی 3 یا 4 سال کی بہن کو رضا کی خبر لینے بھیجا سرکاری اہل کاروں نے جب اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو اسے بھی ظاہراً صحیح طریقے سے سمجھایا نہیں گیا تھا تو اس نے بتا دیا کہ میں مرتضی کی بہن ہو اور اس نے مجھے بھیجا ہے۔ اس طرح مرتضی بھی پکڑا گیا اس کے بعد ہمارے خرید و فروخت کے دفتر جاتے ہیں وہاں ہمارے شاگرد کو ڈراتے دھمکاتے ہیں کہ ہمارا ٹھکانہ بتا دے وہ بھی پریشر میں آکر ہمارا گھر کا پتہ بتا دیتا ہے۔ میں نے یہ دیکھنے کے لئے کہ ہمارا گھر بھی نظروں میں آگیا ہے یا نہیں سائیکل سے اپنے گھر کی طرف گیا میرا گھر اندر کی گلی میں تھا جب میں مین گلی سے گزر رہا تھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سیکورٹی ادارے کا اہل کار ہماری گلی کے سامنے کھڑا ہے اور  چاروں طرف دیکھ رہا ہے۔ یہ ساواک کا آدمی تھا اور انتہائی گھٹیا شخص تھااور مجھے سمجھ میں آگیا کہ یہ سرکاری اہل کار ہے اور ہمارا گھر ان کی نگرانی میں ہے۔ اس کی غلطی یہ تھی کہ گلی کے کونے پر کھڑا تھا اور دور سے ہی صاف پتہ چل رہا تھا کہ کیوں کھڑا ہے۔ اس کی طرف دیکھے بغیر میں وہاں سے گزر گیا اور اس نے بھی نہیں روکا۔ اس کے بعد قبلہ صادق صاحب سے جو کچھ دوستوں کے گھر تھے ان سے ملاقات ہوئی، ایک دن قبلہ عسگر اولادی صاحب کے گھر گیا اور ایک دفعہ جناب عراقی صاحب سے میٹنگ کی  ہم نے یہی سوچ رکھا تھا کہ اس کام کو ادھر ہی ختم نہیں کرنا لیکن ہماری بدقسمتی تھی کہ گرفتاریاں اتنی جلدی ہوئیں کہ ہم کچھ بھی نہیں کرسکے ہم چاہتے یہ تھے کہ بات ایک مرحلہ  پر نہ رکے بلکہ نئے لوگ شامل کیے جائیں اور کچھ اور کاروائیاں کریں اور ہم نے کچھ لوگ اپنے ساتھ شامل کر بھی لینا تھے لیکن بدقسمتی سے یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب جمعہ کی صبح 9 بھمن کو میں نے ایک دوست کے ساتھ پبلک ٹیلی فون سے بات کی اور آپس میں ٹائم طے کیا تا کہ  چراغ برق فیکٹری کے پیچھے میدان ژالہ (میدان شہدا) میں مل سکیں اور ان سے نئے افراد کو شامل کرنے کے بارے مشورت کرسکوں۔

ظاہراً اس کا فون کنٹرول ہورہا تھا اور ہماری ملاقات کی خبر سیکورٹی اداروں کو مل گئی میں تہران کی گلیوں سے جہاں ایک دوست کے گھر چھپا ہوا تھا وہاں سے نکل کر صبح کو ملاقات والی جگہ کی طرف روانہ ہوا جب اس جگہ پہنچا اور جیسے ہی گاڑی سے اترا اور روڈ کراس کرنا چاہا تو پولیس کی گاڑیاں سات آٹھ پولیس کے آدمیوں کے ساتھ مجھے گھیر لیتی ہیں کیوں کہ وہ سوچ رہے تھے کہ میں مسلحہ ہوں اس طرح میں چوتھا آدمی تھا جو گرفتار ہوا اور پولیس کے انٹیلی جنس کے شعبے میں مجھے لے گئے مجھے بعد میں پتہ چلا کہ میری اور صادق صاحب کی گرفتاری کے لئے ہمارے بھائیوں، رشتہ داروں کو چاہے وہ تہران میں تھے یا دیہاتوں میں ایک ایک کرکے گرفتار کیا تھا اور تقریباً 20 پولیس اہل کار ہمارے گھر تھے جنہوں نے ہمارے گھر کو تہہ و بالا کردیا تھا تاکہ اسلحہ مل سکے۔ پولیس اہل کار تقریباً 20 دن ہمارے گھر نگرانی کرتے رہے یہاں تک کہ ہمارے بھائی صادق صاحب کی گرفتاری کے بعد بھی ہمارے گھر کی نگرانی ہوتی رہی۔



 
صارفین کی تعداد: 78


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ۳۷ ویں قسط

بظاہر وہ افسر اہواز آرمرڈ ڈویژن کا حصہ تھا۔ بیسویں بریگیڈ جو ایک ایرانی فوجی کو گرفتار کرنے کی تمنا کر رہی تھی اچانک اپنے چنگل میں ایک میجر کو دیکھ رہی تھی۔ اسی لیے گشتی یونٹ کے کمانڈر اور اس کے ساتھی سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔