مسجد حکیم

انقلاب اسلامی میں مساجد کا کردار

مریم طحان

مترجم: زوار حسین

2020-09-02


حکیم مسجد، عوامی احتجاجی مراکز اور اور انقلابی اجتماعات کے مراکز میں سے ایک مرکز تھی اور یہاں امام خمینی کی قیادت کو لوگ دل و جان سے قبول کرتے تھے۔ دوسرے مذہبی مقامات کی طرح یہاں بھی احتجاجی پروگراموں اور جلسوں میں لوگوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی اور اس مسجد میں قوم کی بیداری کے لیے انقلابی مجالس کا اہتمام ہوتا۔

حکیم مسجد اصفہان کی ایک پرانی اور تاریخی مسجد ہے۔ اس مسجد کی اصل تعمیر آل بویہ دور (چوتھی صدی ہجری) کی ہے ، جو صاحب ابن عباد نے تعمیر کی تھی اور "مسجد جامع صغیر جورجیر" کے نام سے مشہور ہوئی تھی۔ کیوں کہ یہ مسجد اصفہان کے رنگرزان بازار میں واقع تھی ، لہذا "رنگرزان مسجد" کے نام سے بھی مشہور تھی۔ یہ مسجد وقت کے ساتھ ساتھ خستہ حال ہوتی گئی، یہاں تک کہ  صفوی بادشاہ "شاہ عباس دوم" کے دور حکومت میں 1067 سے 1073 ہجری میں اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ طبیب مسجد کے بانی شاہ عباس دوم اور شاہ صفی "حکیم محمد داؤد اسپہانی" تھے جو "ہندی" اور "تقرب خان" کے لقب سے مشہور تھے جنہوں نے اصفہان کے علاقے باب الدشت میں جورجیر مسجد کے سابقہ ​​مقام پر اپنے خرچ پر تقریبا 7000 مربع میٹر زمین پر ایک مسجد بنائی۔ اور اس کا نام "حکیم مسجد" رکھا۔

حکیم مسجد کا فن تعمیر چار صحنوں والی مساجد کی طرح کا ہے اور صفوی دور کی بہت سی عمارتوں کی طرح یہ بھی اینٹوں سے بنا ہوا ہے البتہ اس مسجد کے مختلف حصوں میں نظم نہیں رکھا گیا اور یہ ایک بڑے مینار اور گنبد کے بغیر ہے۔ اگرچہ اس مسجد میں صفویہ دور کی دوسری عمارتوں جیسے مسجد امام (شاہ) اور شیخ لطف اللہ مسجد کے مقابلے کی عالی شان عمارت نہیں ہے ، لیکن چار بڑے دروازے ، اینٹ کا کام ، مخصوص ٹائلیں  اور خاص قسم کی معماری کی وجہ سے اس دور کے آثار قدیمہ میں شامل ہے ۔

حکیم مسجد کی سیاسی تاریخ 1950 سے 1960 کی دھائی سے شروع ہوتی ہے اور انقلاب اسلامی کی کامیابی تک یہ جدوجہد اسی طرح جاری رہی البتہ ایسا نہیں تھا کہ فقط حکیم مسجد ہی اصفہان کا فعال مرکز ہو بلکہ بعض اہم مواقع پر اس مسجد میں کوئی خاص پروگرام نہیں ہوا یا یہاں کے فعالیتیں کم رنگ تھیں لیکن اس کے باوجود حکومت مخالف تحریک کا ایک مرکز یہ مسجد شمار ہوتی تھی جس کی تفصیل آگے چل کر بیان کی جائے گی۔

1963 نوروز کے ایام میں فیضیہ میں رونما ہونے والے حادثہ کے بعد کچھ شہروں کی علماء کونسلوں نے حوزہ علمیہ قم سے اظہار ہمدردی اور ہمراہی کے لیے اور بادشاہ کے مدرسہ فیضہ میں ڈھائے جانے والے مظالم پر اپنے غم و غصہ کے اظہار کے لیے ہڑتال کا اعلان کیا مساجد اور نماز جماعت میں جانا بند کردیا۔ حکیم مسجد کہ جس کے امام جماعت آقا محمد باقر کلباسی تھے، یہ مسجد بھی انہی مراکز میں شامل تھی اور اس اقدام سے انہوں نے بھی سانحہ فیضیہ پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ۔

جون 1963 میں امام خمینی کی گرفتاری اور 5 جون کے تہران قم اور کچھ اور شہروں میں ہونے والے واقعات کے بعد جب یہ خبریں اصفہان کی عوام تک پہنچیں تو لوگوں نے ان واقعات پر احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کا اعلان کیا اور حکیم مسجد حکومت مخالف جدوجہد کرنے والے افراد کا مرکز تھی البتہ اس کے  آئندہ چند سالوں میں کوئی خاص فعالیت یا احتجاج حکیم مسجد میں نہیں ہوا فقط مجالس اور محافل کا انعقاد ہوتا تھا۔

البتہ ان تقاریب اور تقریروں نے عوامی جدوجہد کو خاص جہت دینے  میں اہم کردار ادا کیا۔ ملک کے دیگر شہروں کی طرح اصفہان میں بھی حکیم مسجد کے مذہبی اجلاس انقلاب کے قائدین اور عوام کے درمیان رابطہ کا ذریعہ بن گئے اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کی بنیاد رکھی۔ ساواک نے ایک رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ مذہبی لوگ حکیم مسجد میں ہونے والی مجالس میں شریک ہوتے ہیں۔ نیز ، پہلوی حکومت کے خلاف عوام اور علمائے کرام کی جدوجہد کے سالوں کے دوران ، حکومت کی طرف سے پیش آنے والے ہر واقعے کے بعد ، مساجد میں پمفلٹ تقسیم کرکے لوگوں کو تازہ حالات اور واقعات کی خبریں پہنچا دی جاتیں ، جس سے انھیں مسائل اور واقعات سے زیادہ آگاہی حاصل ہوتی اور ان کے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا ارادہ زیادہ پرعزم ہو جاتا۔

حکیم مسجد کی دوبارہ پرجوش انقلابی فعالیت 1978 کے آغاز سے شروع ہوئی۔ 29 مارچ  1978 تبریز کے شہدا کی 40 ویں برسی کا دن تھا۔ یہ تقریب حکیم مسجد میں ہونی تھی ، اور اس کے پروگرام کا اعلان اصفہان کے حوزہ علمیہ کے علماء میں سے بزرگ عالم آیت اللہ سید حسین خادمی کی طرف سے کیا گیا تھا ۔ توقع کے مطابق عوام کی بڑی تعداد نے حکیم مسجد میں شرکت کی۔ ساواک نے حاضرین کی تعداد 4000 بیان کی اورعام طور پرتعداد کو کم کرکے بیان کیا جاتا تھا۔

حجت الاسلام سید محمد احمدی فروشانی نے تقریب سے خطاب کیا اور عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے قومی و ملی وسائل  کی لوٹ مار سے روکنے کے لئے متحد ہوجائیں۔ اسرائیل کا مسلمانوں کے مقابلہ میں مسلح ہونے کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا اور گفتگو کے آخر میں دشمن شناسی کی ضرورت ، دشمنان دین سے مقابلہ، پہلوی حکومت نے جو گھٹن کا ماحول بنا رکھا ہے اس سے مقابلہ اور شہدائے تبریز کے بارے گفتگو کی۔ 

بغیر کسی لگی لپٹی کے حکومت مخالف یہ اتنی واضح گفتگو تھی کہ ساواک کے افیسر پرویز ثابتی نے ان کے جلاوطن کرنے کا حکم دیا اور اس حکم کی وجہ سے 5 اپریل والے دن آپ کو سقز جلاوطن کردیا گیا۔

مسجد حکیم میں موجود عوام نے خطیب کی شعلہ بیاں گفتگو اور پروگرام کے اختتام پر حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی اور برائی کے اڈوں پر حملہ کردیا یہاں تک کہ پولیس سے باقاعدہ ٹکراؤ ہوگیا اور آنسو گیس کا اندھا دھند استعمال بھی لوگوں کے رستہ میں رکاوٹ نہ بنا اور آخر کار 50 لوگوں کی گرفتاری کے ساتھ یہ احتجاج اختتام پذیر ہوا۔  

حکومت حکیم مسجد کو عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کا مرکز سمجھتی تھی، لہذا حکومت نے اپنے آپ کو کسی بھی ایسے واقعے کے لئے تیار کر رکھا تھا جوحکیم مسجد سے نمودار ہو۔ مثال کے طور پر ، اپریل 1978 ممکنہ احتجاجی تحریک کو روکنے کے لیے ایک رپورٹ میں اس طرح ذکر ہے : فوج نے ساٹھ افراد کا ایک گروپ اور چار گاڑیاں تیار کی تھیں ، تاکہ پولیس اور رینجر بروقت کارروائی کر سکیں۔

اصفہان میں 1978 میں محرم کا ایک خاص رنگ تھا۔ انقلابیوں نے عزاداری اورعوامی احتجاج کے لئے علماء ، ماہرین تعلیم ، اساتذہ اور طلباء ، دکانداروں ،ملازمین ، کسانوں اور مذہبی وفود کی کمیٹیاں تشکیل دیں اور محرم کے پہلے عشرے کو ایک جگہ کے بجائے مختلف مقامات پر منعقد  کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اگر اصفہان کے تمام علاقوں میں سوگ منایا جاتا ہے تو  حکومت ان کے راستے میں رکاوٹ  نہیں ڈال سکے گی۔ لہذا  حکیم مسجد میں محرم کے تیسرے دن مجلس عزا کے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ان مہینوں میں جو انقلاب اسلامی کی کامیابی سے نزدیک تھے ملک کے کونے کونے میں ہر روز بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوتے تھے اور زیادہ تر ان مظاہروں میں حکومت کی طرف سے لاٹھی چارج میں  کچھ لوگوں شہید ہو جاتے ۔ اصفہان میں بھی ان واقعات اور بے گناہ لوگوں کی شہادتیں جاری تھیں۔ امام خمینی نے پیر کے دن سترہ محرم کو عمومی سوگ  اور اصفہان کے شہدا کا ساتواں دن منانے کا اعلان کیا ، آیت اللہ خادمی اور اصفہان کے دیگر علماء نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ اس دن کو اصفہان بازار کے قریب واقع حکیم مسجد میں جمع ہوں۔

علماء اور بالخصوص آیت اللہ خادمی کا مقصد یاد شہدا منانے کے علاوہ اصفہان میں خوف اور دہشت کی فضا کا مقابلہ کرنا تھا اور اس ماحول کے مقابلہ میں کھڑا ہوکر  جتنا ممکن ہو سکے عوام کو صف اول میں واپس لانا تھا۔

مسجد کے اندر اور باہر لوگوں کا ٹھاٹے مارتا سمندر تھا۔ لوگوں کی پرجوش اور معنی دار شرکت تھی۔ اس جلسہ میں خطابت کی ذمہ داری آیت اللہ سید محمد احمدی فروشانی کی تھی جو تازہ تازہ سقز سے جلاوطنی کے بعد لوٹے تھے انہوں نے اپنی دو گھنٹے کی تقریر میں اس تحریک کا کلی ہدف اس طرح بیان کیا : راہ خدا میں مقابلہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر راہ خدا میں جلاوطنی ہے تو یہی راہ حق اور انجام رسالت ہے اگر راہ خدا میں زندان ہے تو یہ اللہ کی ریاضت ہے اور اگر قتل ہے تو یہ شہادت ہے۔

آنے والے دنوں میں بھی اصفہان میں  مسجد حکیم، انقلاب کے لئے قیام کرنے والوں کا مرکز تھی اس طرح کہ تاجروں، دکانداروں اور عام لوگ کے علاوہ اصفہان یونیورسٹی  کے سٹوڈنٹس، پروفیسر کامران نجات اللہی کی قیادت میں اساتید اور ثقافتی کمیٹی کے افراد کے ساتھ یونیورسٹی میں جمع ہوتے اور وہاں سے مسجد حکیم کی طرف ریلی نکالتے۔

20 دسمبرسے  حکیم مسجد میں لوگوں کے روزانہ مظاہرے اور اجتماعات پورے زور شور سے  جاری تھے۔ مثال کے طور پر 23 دسمبر  کو یونیورسٹی آف اصفہان کے تقریبا  1500 ڈاکٹر اور طلباء نے ثریا اسپتال کا وزٹ کیا اور آیت اللہ خادمی کی دعوت پر مسجد حکیم کے اجتماع میں شامل ہوگئے۔ 24 دسمبر سرکاری ملازمین اور عوام کا ایک بہت بڑا اجتماع حکیم مسجد میں ہوا  جس کا اندازہ ساواک کے مطابق ہزاروں افراد میں بیان کیا گیا تھا  جو ملکی تیل کی صنعت میں ملازمین کی ہڑتال کی حمایت میں تھا ، اس اجتماع میں مفرور فوجیوں اور جوانوں کی بھرپور حمایت کی گئی ، جن کے فرار میں اضافہ امام خمینی کے حکم (بیرکوں سے نکل جانے کے بعد ) سے ہوا ۔

حکیم مسجد میں جنوری  کا اہم واقعہ بھی فوج سے متعلق  پیش آیا تھا۔ اصفہان میں فوج جو زمینی ، فضائی اور فضائیہ کے جوانوں پر مشتمل تھی اتوار ، 28 جنوری 1979 کو مسجد حکیم میں اپنے فوجی لباس میں عوام میں شامل ہوگئی لیکن جب وہاں سے واپسی پر ایک فوجی افسر کے حکم پر ان میں سے کچھ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جسے آیت اللہ خادمی کی حکمت عملی اور عوام کی مدد سے ناکام بنادیا گیا۔

29 جنوری کو بھی عوامی اجتماع مسجد حکیم میں منعقد ہوا جس میں شاپور بختیار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور اور امام خمینی کی حمایت کی گئی تھی۔



 
صارفین کی تعداد: 73


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔