ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چودہواں حصہ

خانہ فرہنگ کا راستہ گم ہوچکا تھا

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2020-08-09


-چلو گھر کے اندر آجاو۔ علی کی امی کے گھر کی راتیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے اس نئے گھر میں دو کمرے تھے اور ایک بڑا سا ٹیرس ۔ سامان تو ہمارے پاس کچھ تھا نہیں لہذا یہ دو کمرے ہمارے لئے بہت زیادہ تھے۔ علی کا کام روز بروز بڑھتا جاتا تھا اوار وہ رات گئے گھر آتا ۔ اسے دن بھر سر کھجانے کی فرصت بھی نصیب نہ تھی چہ جائیکہ گھر والوں کی خبر لے۔میں تھی بچے اور قید غریب الوطنی۔ میں اکیلی گھر سے باہر کے کام بھی نہ کر سکتی تھی  کیونکہ نہ زبان آتی تھی نہ راستوں کی خبر تھی۔ ایک علی ہمیشہ کی  طرح، اندھیرا گہرے سے گہرا ہوا جاتا تھا اور علی اب تک گھر نہ پلٹا تھا۔ گرم ہوا صحن میں درختوں کے پتوں کی ساتھ کھیل رہی تھی۔  میں دو چھوٹے معصوم بچوں کے ساتھ گھر میں تنہا۔ گھر کے دروازے کا تالا بھی کوئی مضبوط نہ تھا اور اس کے علاوہ کوئی اور حصار گھر میں نہ تھا۔ میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور   تھی۔ ہلکی سی آہٹ پر چونک پڑتی تھی مہدی اور فہیمہ بھی جاگ رہے تھے، میری آنکھیں ٹیرس کی کھڑکی پر تھیں کہ مبادا کو ئی گھر میں داخل ہو جائے۔ ڈر کے مارے گھر کے اندر بیٹھا نہ جاتا تھاسو فہیمہ کو گود میں لیا اور مہدی کا ہاتھ پکڑ کر صحن میں آ گئی۔ مالک مکان نے جو مہدی کی آواز سنی تو سفید قمیض شلور زیب تن کئے صحن میں آ گئے۔ چاند نی میں صاف نظر آتا تھا کہ وہ اپنے دونوں ہاتھ پیٹھ پر باندھے ہوئَے ہمارے طرف چلے آتے ہیں۔ انہوں نے پریشانی کے عالم میں پوچھا

-رحیمی صاحب کہاں ہیں؟

جب یہ جانا کہ اب تک گھر نہیں آئے  تو مارے حیرت کے بھنویں چڑھا لیں اور جب صبح علی سے ملاقات ہوئی تو اس کو خوب جھاڑ پلائی  کی میاں جوان عورت  اور دو چھوٹے  بچوں کو  اجنبی دیار میں رات کے وقت تنہا چھوڑنا کہاں روا ہے؟  علی کا بھی کہاں ہمیں اکیلا چھوڑنے کا من تھا مگر اس کا کام بہت زیادہ تھا اور وہ مجبور تھا ۔ اس کی کوشش ہوتی تھی کہ رات ۱۲ سے پہلے واپس  آ جائے مگر روز دیر ہو ہی جاتی تھی اور ہم اکثر گھر میں بھوکے پڑے رہتے تھے علی ہی واپس آکر بازار سے کچھ خرید لاتا تو ہم رات کا کھانا کھاتے ۔ انجان راستے اور زبان کا نہ آنا ان کی وجہ سے مجھے گھر سے نکلتے خوف دامن گیر رہتا تھا اور میں گھر میں علی کی آمد کی منتظر پڑی رہتی۔

اسی سال خانہ فرہنگ میں ہفتہ دفاع مقدس کے سلسلے  میں جشن کا اہتمام کیا گیا تھا، علی کو دوپہر گھر آ جانا تھا اور ہمیں اپنے ساتھ جشن میں  لے جانا تھا۔ بچے صبح سے بے قرار تھے اور گھڑیاں گن رہے کہ کب بابا آئیں اور وہ ان کے ساتھ جشن میں جائیں۔ دوپہر گذری اور سہ پہر ہوگئی مگر علی کو کوئی پتہ سرا نہ تھا۔ علی نے مالکِ مکان کو فون کیا اور کہا کہ وہ بہت مصروف ہے اور فی الحال  وہ ہمیں لینے آنے سے قاصر ہے۔ میں نے اس کو فون پر کہا کہ بچے ناراض ہو رہے ہیں  مگر کیا فائدہ تھا وہ  کسی طرح بھی کاموں کو چھوڑ کر ہمیں لینے آنے کے لئے تیار نہ تھا دوسری طرف میں بچوں کا دل بھی نہ توڑ سکتی تھی ۔ بچے سمجھ چکے تھے کہ بابا اب کو لینے نہیں آئیں گےاس لئے انہوں نے رونا شروع کر دیا۔ فہیمہ کو تو جشن وغیرہ کی خبر نہ تھی مگر اس نے بھی مہدی کی دیکھا دیکھی رونا شروع کر دیا۔

اس گھر میں ہمارے پاس صرف ضرورت کی چیزیں تھیں وہ بھی سادہ ترین ٹی وی ایک غیر ضروری چیز شمار کیا جاتا تھا لہذا ہمارے گھر  میں نہ تھا۔ ان چھوٹے بچوں کے پاس تفریح کا کوئی سامان نہ تھا  اور اب جشن میں جانا بھی ملتوی ہو چکا تھا میری حالت بھی بچوں سے مختلف نہ تھی۔ وہ بھرے پرے گھر کے پلے ہوئے تھے اس غریب الدیاری کی تنہائی ان کی برداشت سے باہر تھی۔ صبح سے رات ہوجاتی اور بس ہم تینوں ہوتے اور اور اس گھر کی تنہائی۔ اس روز مرہ نے ہمیں بے حال کردیا تھاایک چھوٹا سا جشن ہی صحیح ان حالات میں ہمارے لئے ایک بہت بڑی تفریح کا سامان تھا مجھ میں اب بچوں کو روتا دیکھنے کا حوصلہ نہ تھا بس سبم اللہ کہا چادر اوڑھی بچوں کا ہاتھ تھاما اور نکل کھڑی ہوئِ۔ مجھے پہلے فہیمہ کے لئے جوتے لینے تھے کیونکہ اس کے ایک جوڑی جوتے میں سے ایک جوتا کہیں گم ہو گیا تھا۔  ایک رکشہ پکڑا ، رکشہ والے کو فہیمہ کا پاوں دکھایا  اور اردو انگلش اور فارسی کا معجون کا بنا کر رکشہ والے کو کسی طرح سمجھایا کہ  ہمیں جوتوں کی دکان پر لے چلے۔ بازار میں فٹ پاتھوں کا رش ملاحظہ کیا ، اجنبی چہرے تھے کہ میری آنکھوں کے سامنے سے گذرے چلے جاتے تھے اور میرے اوسان خطا   ہوئے جاتے تھے ایک وقت کو تو میں یہ سوچنے لگے کہ ہائے اللہ اب میں یہاں کیا کروں گی؟ بچوں کو خود سے چمٹائے خوف دور کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی رکشہ والے نے رکشہ عین جوتوں کی دکان کے سامنے روکا اور ہم رکشہ سے اتر آئے  میں نے رکشہ والے کو کسی طرح سمجھا ہی دیا کہ صبر کرے ہم ابھی آئے۔ دکان میں میں نے پھر سے چند زبانوں کا مرکب تیار کرکے کسی طرح ایک جوڑی جوتا خرید ہی لیا۔ پھر سے رکشے میں آ گئی اور اس کو کہا کہ خانہ فرہنگ ایران چلے ۔ رکشے والے نے کرایہ بڑھانے کے لئے کہا کہ اسے راستہ معلوم نہیں میں نے اسے سمجھایا کہ بھائی تم چلنا شروع کرو میں گلیاں ، سڑکیں دیکھ کر خود راستہ پہچان لوں گی اور ہم خانہ فرہنگ پہنچ جائیں گے۔ کچھ دور سفر کرنے پر مجھے احساس ہوا راستہ طویل ہوگیا ہے اور خانہ فرہنگ کے آس پاس کی گلیوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ 



 
صارفین کی تعداد: 153


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – تینتیسویں قسط

لیفٹیننٹ "کنعان" میرے ساتھ کام کرنے کے دوران جنگ کے جاری رہنے کے حوالے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا تھا اور عراقی حکومت پر تنقید کرتا تھا، لیکن فوجی آپریشنز میں وہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کرتا تھا

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔