میں اپنے اسماعیل کو تیرے حوالے کرتی ہوں!

مقالہ نویس : سیدہ پگاہ رضا زادہ

مترجم : محسن ناصری

2020-07-16


"سہ نیمہ سیب" یعنی سیب کے تین حصے نامی کتاب دفاع مقدس کے دو شہید مصطفی اور مجتبی بختی کی والدہ "خدیجہ شاد" کی زندگی کے واقعات پر مشتمل ہے جس کو محمد محمودی نے تحریر کیا ہے۔ ۲۹۶ صفحات پر مشتمل اس کتاب "خط مقدم" پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔

اس کو ۱۹ فصلوں میں تقسیم کیا گیا ہے، کتاب کے آخر میں ان دو عظیم شہیدوں کے اہل خانہ کی جانب سے ان کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔ مصنف کی اس کتاب کی تحریر میں کوشش رہی ہے کہ ان واقعات پر مشتمل ڈاکومنٹری کی تشکیل کے ساتھ ساتھ ان واقعات کو اپنے قلم کے ذریعے تحریری صورت میں قارئین کی خدمت میں پیش کریں اور کہا جاسکتا ہے وہ اس کام میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ یہ کتاب جنگ کی تاریخ اور واقعات پر مبنی بہت سی کتابوں کے برخلاف، سادہ اور آسان انداز میں تحریر کی گئی ہے، اس کتاب میں معمول کے مطابق شہداء کی زندگی، جائے ولادت، ان کے بچپن، جوانی اور شہادت کے واقعات کو ترتیب سے بیان نہیں کیا گیا اور مصنف نے دانستہ طور پر اس روش کو اختیار کیا ہے۔

یہ داستان خدیجہ شاد( شہیدوں کی والدہ) سے گھنٹوں کی جانی والی گفتگو کا حاصل ہے  جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ مشہد مقدس میں مقیم ہیں۔ داستان کی پہلی فصل کی شروعات ۲۳ جولائی ۱۹۹۵ء  میں شہید  کی والدہ کے ٹیلی فون کی گھنٹی کے ساتھ ہوتی ہے، جو خدیجہ کے دل کو پریشان کردیتی ہے اور یہ پریشانی و بےقراری قارئین کو کتاب کے آخری خطوط تک کھینچ لاتی ہے۔  فاطمہ جو کہ مصطفی بختی کی بیٹی ہیں اپنی دادی کے پاس اپنے والد اور عمو کے احوال کو جاننے کے لیے آتی ہیں، کتاب کی اکثر فصلیں مشہد میں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ مصطفی ایک ۳۳ سالہ جوان، جو کہ بختی فیملی میں سب سے بڑا فرزند ہیں مختلف دلائل کے سبب جن کو کتاب میں آئندہ بیان کیا جائے گا،اپنے بھائی کے ہمراہ افغانستان کی "فاطمیون" بریگیڈ میں شامل ہوکر شام چلا جاتا ہے تاکہ شام کے حمص اور تَدمُر کے علاقوں میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرسکے۔ محدثہ جو کہ مصطفی کی بیٹی اور فاطمہ کی بڑی بہن ہے اپنے کودکانہ تجسُس کے ذریعہ حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔

کتاب کی دوسری فصل میں ہمیں پڑھنے کو ملتا ہے کہ یہ دونوں بھائی جنوری ۲۰۱۴ء  میں ایک مرتبہ پھر شام کے سفر کا عزم کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ ان کی والدہ دونوں بیٹوں کی جانب سے ان کے والد سے اجازت حاصل کریں جو کہ خود بھی سالوں قبل شلمچہ کے محاذ پر دو بڑے فوجی آپریشنوں کربلا ۴ اور ۵ میں حصہ لے چکے ہیں۔ والدہ جلد ہی ان کی مدد کے لیے راضی ہوجاتی ہیں۔ مصطفی کو امام رضا علیہ السلام کے حرم میں خادم ہونے کا افتخار حاصل تھا اور اس سے پہلے وہ دینی طالب علم بننا چاہتا تھا۔ مصطفی ایک باربردار گاڑی کے ذریعے اپنا رزق حاصل کرتا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا ہے، زندگی میں پیش آنے والی بہت سی مشکلات کے سبب وہ ایک سال کے اندر ہی دینی تعلیم چھوڑ دیتا ہے۔ مجتبیٰ بھی ایک ہونہار طالب علم تھا اور قانون کی تعلیم حاصل کررہا تھا، وہ بھی اپنے بھائی مصطفی کے شام جانے کی رائے سے اتفاق کرتا ہے اور بھائی کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہے۔ لیکن مجتبیٰ ابھی غیر شادی شدہ ہے۔ کتاب کی فصل دوم میں صفحے ۳۲ اور ۳۳ میں ان دونوں بھائیوں کا اپنی والدہ سے اجازت طلب کرنا، مطالعے میں آتا ہے جس کو انہوں نے " عمل خیر" کے عنوان سے تعبیر کیا تھا۔ اِسی فصل میں واضح ہوجاتا ہے کہ شام جانے کے لیے انتخاب ہونا کوئی آسان کام نہیں تھا اور خدیجہ بی بی کا حاج علی ( شہداء کے والد) سے بچوں کے لیے اجازت لینے کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے۔ شہیدوں اور والدہ کے درمیان تبادلہ ہونے والے جملے انتہائی سنجیدہ ہے اور اپنے اندر ایک خاص اثر رکھتے ہیں۔ حاج علی ( والد) اون کی فیکٹری میں کام کرتے تھے اور ان کے بچوں نے مشکل مالی حالات میں زندگی گزاری تھی ایسے حالات میں پروان چڑھنے والے بچے عافیت اور اچھے حالات کی قدرو قیمت بہت خوب سمجھتے ہیں اور فقر و فاقہ کے ذائقے سے خوب آشنا ہوتے ہیں۔ان شہیدوں کے یہی مشکل حالات اور مصائب باعث بنتے ہیں کہ انسان کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے بالکل بھی تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے والدہ کے جملوں کی تکرار قارئین کو کتاب سے دور نہیں ہونے دیتی۔

چھٹی فصل میں بختی خاندان کی تنگدستی کو بیان کیا گیا ہے اور مصطفی کا دوسری کلام میں رہبر انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای (حفظ اللہ تعالی) کو لکھے جانے والا خط بھی شامل ہے جس کے جواب میں اُسے  دفتر رہبری کی جانب سے ایک جانماز تحفے میں بھیجی گئی تھی۔ شہید کی ماں کے کا کہنا ہے کہ وہ اُسی زیتونی سبز رنگ کی جانماز پر بیٹھی ہم سے بات کررہی ہیں۔ داستان کچھ اس طرح ہے کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی ہے جس میں کچھ چھپانے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے۔ شہید مصطفی کی ماں اس قیمتی جانماز پر بیٹھی نماز پڑھ رہی ہے مگر یہ نہیں جانتی کہ اس بیٹے نے کب اور کہاں آخری نماز پڑھی ہے، وہ بیٹا جس کے مستحب روزے نہیں چھوٹتے تھے اور نماز شب قضا نہیں ہوتی تھی۔ مصطفی نے اپنی خالہ کی بیٹی فاطمہ سے شادی کی، ایسے وقت میں جب مصطفی کی عمر صرف ۱۷ سال تھی اور نہ ہی کوئی مناسب کسب و کار موجود تھا۔ مصطفی وہ جوان ہے جب کبھی اس کی نگاہ کسی نامحرم پر پڑتی تو وہ اپنی نگاہیں نیچی کرلیتا تھا اور بعض اوقات تو گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا۔

دسویں فصل میں علمی جدوجہد کا ذکر کیا گیا ہے جب خدیجہ داخلے کے لیے درخواست دیتی ہے اور اس کا چھوٹا بچہ گھر کے کسی فرد کی دوا کھا لیتا ہے اور اس کی حالت غیر ہوجاتی ہے لیکن اللہ نے کرم کیا اور بچے کی جان بچ جاتی ہے۔

بارہویں فصل میں مصطفی اور مجتبیٰ کا ایک افغانی شہید کی تشیع جنازے میں شرکت کرنے کو بیان کیا گیا ہے جس میں ان کی ملاقات حاج بختیاری سے ہوتی ہے جو جنازے میں شریک تھے، حاج بختیاری ان دونوں بھائیوں کے شام جانے پر راضی نہیں تھے کیوں کہ اگر ان کو کچھ ہوگیا تو ان کی ماں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی نہیں ہوگا۔

تیرہویں فصل میں خدیجہ کی زبانی بیان ہوا ہے " ان دو تین راتوں میں دونوں بھائیوں کی زبان سے مستقل "قم" کا ذکر ہورہا تھا اور کہتے جا رہے تھے " کیا وجہ ہے کہ قم میں جوانوں کا انتخاب اتنی آسانی سے ہورہا ہے"۔ یہی وہ کلمات تھے جنہوں نے ماں کے دل کو بے چین و بے قرار کردیا تھا۔

چودہویں فصل میں قم سے انتخاب ہونے والے جوانوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور اس کے بعد والی فصل میں ان شہیدوں کے گھر میں جو کچھ بیت رہی تھی اس کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ جس میں مجتبیٰ اپنی ماں سے کہتے ہیں " امی جان؛ اگر آپ مجھے زندہ نہ دیکھ سکیں تو کیا ہوگا "۔ جہاد پر جانے سے پہلے تمام رات ماں کے پیروں کو دباتے رہے اور ان کے قدموں کا بوسہ لیتے رہے۔

ستروہویں فصل میں مصنف نے بیان کیا ہے کہ محدثہ کس طرح اپنی دادی خدیجہ سے مزید جاننے کے لیے کوششیں کرتی ہے کہ جان لے اس کے والد پر شام میں کیا گزری۔

مصنف نے کتاب میں شہید کے ماں کے جذبات کو بہت ہی خوبصورت انداز سے بیان کیا ہے۔ اسی فصل میں مصنف ۱۲ جولائی، یعنی کتاب کی شروعات سے چند روز پہلے کے واقعے سے کتاب کی ابتداء کرتا ہے کہ خدیجہ اپنے بچوں کو رخصت کرنے جارہی ہے اور ان کا سوٹ کیس اٹھاتی ہے تو اس کو بالکل خالی پاتی ہے۔ ان کا تیسرا بیٹا مہدی جو کہ آخری زندہ بچ جانے والا بیٹا ہے اور اس کتاب کا عنوان " سیب نیمہ سیب" بھی ہے۔ خدیجہ نے انہیں خطوط میں کہا کہ " اس کے تین اسماعیل ہیں"، مہدی صرف ایک آرزو رکھتا ہے کہ اس کے مصطفی اور مجتبیٰ واپس پلٹ آئیں اور ماں سے کہتا ہے کہ " کیوں اس قدر بُرے خیالات کو اپنے ذہن میں جگہ دیتی ہیں"۔ کتاب میں مزید بیان ہوا ہے کہ خدیجہ مہدی سے کہتی ہیں کہ " تم چند دنوں سے مجھ سے جھوٹ بول رہے ہو اور اصل بات کو مجھ سے چھپانے کی کوشش کررہے ہو، مہدی جان اگر دوبارہ مجھ سے جھوٹ کہا تو تمہیں معاف نہیں کروں گی"۔ داستان کی ابتداء سے ہی خدیجہ سے کہا جاتا رہا ہے کہ مصطفی کی ایک ٹانگ کٹ چکی ہے لیکن مجتبیٰ صحیح و سالم ہے۔ ماں کو اس بات کا احساس اُسی وقت ہوگیا تھا جب اس نے مصطفی کے واپس آنے والے سامان میں ایک پیر کا جوتا نہیں پایا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سمجھ چکی تھی کہ اس سے کوئی اہم مسئلہ چھپایا جارہا ہے۔ کتاب آخری صفحات میں خدیجہ کے ذہن میں آتا ہے کہ وہ اس جانماز کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرے ایک حصے کو مصطفی کے سر کا تکیہ قرار دے اور دوسرے کو مجتبیٰ کے سر کے نیچے رکھے اور وہ نہیں چاہتی کہ ان کے جنازوں کو دیکھے۔ چاہتی ہے اُسی تصویر کے ساتھ اپنے دونوں اسماعیل کو رخصت کرے جو اس کے ذہن میں شام جانے سے پہلے موجود تھی۔

کتاب ان جملوں کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچتی ہے " تمہاری آواز گریہ و نالے میں کہیں کھوجاتی ہے، لیکن ماں کو ایک اور کام کو انجام دینا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ جانماز جو رہبر کی جانب سے ہدیہ دی گئی تھی مصطفی کے ساتھ اس کی قبر میں جائے، جیسا کہ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا " یہ جانماز دنیا میں ہمیشہ میرے پاس رہے گی اور مرنے کے بعد آخرت کا سامان بنے گی"۔ لیکن مصطفی نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اس کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اپنے بیٹوں کے لیے تحفہ آخرت قراردوں گی۔ جانماز کو قینچی سے دوحصوں میں تقسیم کردیا اور کہتی جاتیں ایک میرے مصطفی کے سر کے لیے اور دوسرا حصہ میرے مجتبیٰ کے سر کے لیے ہے، ایک مرتبہ پھر خدیجہ کی آواز رونے کی ہچکیوں میں گم ہوگئی۔

قبرستان میں "اسمع افہم " کی صدا اور بیلچوں کے خاک ڈالنے کی صدا قبرستان کی فضا میں گونج رہی تھی لیکن یہ صدا ایک ماں کے دل، حال اور ان شہیدوں کے واقعات کو دبا نہیں سکی۔ اگرچہ شہیدوں کے جسم خاک میں مل گئے لیکن ان کی یادیں زندہ ہیں۔ "اے ماں! یہ تمہارا خود سے اور اپنے اسماعیلوں سے وعدہ ہے"۔



 
صارفین کی تعداد: 112


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چودہواں حصہ

خانہ فرہنگ کا راستہ گم ہوچکا تھا
رکشے والے نے کرایہ بڑھانے کے لئے کہا کہ اسے راستہ معلوم نہیں میں نے اسے سمجھایا کہ بھائی تم چلنا شروع کرو میں گلیاں ، سڑکیں دیکھ کر خود راستہ پہچان لوں گی اور ہم خانہ فرہنگ پہنچ جائیں گے۔ کچھ دور سفر کرنے پر مجھے احساس ہوا راستہ طویل ہوگیا ہے اور خانہ فرہنگ کے آس پاس کی گلیوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔