مسجد گوہر شاد میں ہونے والا دوسرا حادثہ

جواد رضائی

مترجم: زوار حسین

2020-07-16


جب بھی مولا امام رضا علیہ السلام  کے حرم پر حملہ کا ذکر ہوتا ہے  سامعین کے ذہن خودبخود مسجد گوہر شاد میں ہونے والے حادثہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں  جو جولائی 1935ء میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت میں ہوا تھا۔

کیا امام رضا علیہ السلام کے حرم کی بے حرمتی کا واقعہ صرف رضا شاہ پہلوی کی حکومت میں رونما ہوا اور (اس کے بیٹے) محمد رضا پہلوی کے  37 سالہ دور حکومت میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا؟ اس سوال کا جواب نہیں میں ہے، مسجد گوہر شاد کا حادثہ مختلف جہات سے جتنا بڑا حادثہ تھا یہ (دوسرا) حادثہ اتنا بڑا حادثہ تو نہیں تھا لیکن اس واقعہ کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ امریکیوں  کی مختلف دستاویزیں اس واقعہ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔

اس حادثہ کے بارے مختلف باتیں بیان کی گئی ہیں جو بات یقین سے کی جا سکتی  ہے وہ یہ ہے کہ 20 نومبر۱۹۷۸ء  کو شام 5 بجے انقلاب کے لیے کی جانے والی کوششوں  میں شہید ہوجانے والے شخص کے ایصال ثواب کی مجلس کے اختتام کے بعد وہاں سے کچھ لوگ حرم آتے ہیں،  احتجاج  کرتے ہیں، ان لوگوں میں ساواک کے افراد بھی موجود تھے جو صحن انقلاب میں لڑائی کا آغاز کردیتے ہیں اور مظاہرین پر فائرنگ کرتے ہیں۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں زخمی اور جاں بحق ہونے والوں کی کی تعداد کی کوئی مؤثق اطلاعات موجود نہیں ہیں۔

سرکاری میڈیا اس حادثہ میں صرف ایک آدمی کے مرنے کی خبر دیتا ہے اور امریکی بھی اسی تعداد کو معیار بناتے ہوئے تہران ریڈیو کی یہ خبر نقل کرتے ہیں کہ " مشہد میں 19 نومبر کو ہونے والے مظاہروں میں ایک آدمی کے مرنے کی اطلاع ملی ہے"۔

ایک اور دستاویز میں بی بی سی ریڈیو سے نقل کیا گیا ہے جس میں شہداء کی تعداد بارہ بتائی گئی۔ اس دستاویز سے یہ بات مشخص ہورہی ہے کہ  اس حادثہ پر امریکیوں کے پردے ڈالنے کے باوجود اس حادثہ کی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ مشہد میں فوجی حکومت گھنٹوں تک عجیب قسم کی تبدیلیوں کا شکار رہی۔ امریکی لکھتے ہیں :مظاہروں کی وجہ سے مشہد میں فوجی حکومت نے رات کو آمد و رفت پر پابندی کے اوقات کو تبدیل کرکے شام 6 بجے سے کردیئے تھے  ۔

ایسا لگتا ہے کہ پہلوی حکومت نے اس واقعہ کو کم رنگ کرنے کی سیاست اختیار کی کیونکہ  (ایران کے قانون کے مطابق)پارلیمنٹ سے حکومت کو اعتماد کی ووٹنگ کے عمل میں امریکیوں کے بقول : مشہد کے  ممبر قومی اسمبلی غلام رضا ازھاری نے کوشش کی کہ حرم مطہر میں فائرنگ کی افواہ کے بارے تقریر کرے لیکن اسپیکر کی طرف سے اجازت نہیں ملی۔

امریکوں کی ایک اور دستاویز میں اس خبر کے فاش ہونے پر اپنا ردّعمل ظاہر کرتے ہیں کہتے ہیں: مشہد میں فوجی امام رضا علیہ  السلام کے حرم میں داخل ہوگئے اور وہاں فائرنگ کی ہے یہ خبر جس کی رپورٹ ہم نے پہلے بھی ارسال کی ہے فاش ہوگئی ہے جوہنگامہ آرائی کے خطرات کا باعث بنی ہے۔

ہمارے خیال میں امریکیوں کے لیے اصل حادثہ سے زیادہ اس کے اثرات مہم تھے کیونکہ اس رپورٹ میں آگے چل کر یہ ذکر ہوا ہے کہ: ہمارے ذرائع  نے ہمیں خبر دی ہے کہ کل مشہد میں لوگوں کی کثیر تعداد نے اس واقع پر احتجاجی ریلی نکالی ہے۔

البتہ اس واقعہ کو کم رنگ کرنے کی کوشش صرف حکومت اور امریکیوں کی طرف سے تھی کیونکہ امام خمینی اور مراجع اور قم کے علماء نے اپنا شدید ردّعمل ظاہر کیا۔ اسی دستاویز میں ذکر ہوا ہے کہ: قم میں آیت اللہ گلپایگانی، مشہد میں آیت اللہ شیرازی نے کل عوامی سوگ کا اعلان کیا ہے اور یہ ممکن ہے کہ دوسرے شہروں میں اس کے اثرات مرتب ہوں، اطلاعات کے مطابق آیت اللہ شریعت مداری اور قم کے باقی علماء نے ایک بیان جاری کرکے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ 

اگرچہ امریکیوں نے اپنی دستاویزات میں اس واقعہ پر امام خمینی ؒکے پیغام کا ذکر نہیں کیا لیکن قم میں  مراجع کا عکس العمل مزید وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے  لکھتے ہیں: آج جو اعلان آیت  اللہ شریعت مدار، گلپائیگانی اور نجفی کی طرف سے منتشر ہوا ہے اس میں سیکورٹی فورسز کی انتہائی سخت لہجہ میں مذمت کی گئی تھی اور عوام کو  یوم سوگ منانے کی دعوت دی ہے، اس اعلان میں ذکر کیا گیا ہے: یہ ظالمانہ اقدام فقط  ملت کے ارادے اور عزم کو مزید مستحکم  کرے گا کہ ہم ظلم کی بنیادوں کو نابود کرنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔

امریکی اس واقعے میں پہلوی حکومت کے پردہ پوشی کا جواز اس طرح پیش کرتے ہیں: "اس واقعہ کی خبر آہستہ آہستہ پھیل گئی۔ افواہوں کے مطابق ، ساواک نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ واقعہ دھماکہ خیز ثابت ہوسکتا ہے ، اس خبر کو دوسرے شہروں تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی"۔

تاہم  اس دستاویز کے ایک اور حصے میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اس واقعے سے عوام میں نفرت اتنی زیادہ تھی کہ اس واقعہ کے احتجاج میں اور امام خمینی اور دیگرمراجع کے مطالبے پر ، 25 نومبر کو " ایران تقریباً مکمل طور پر بند تھا۔"

عمومی سوگ اور 25 نومبر کی ہڑتال، 26 نومبر کو مزید تیزی اختیار کرلیتی ہے کہ امریکائی اسے ایک موثر ہڑتال قرار دیتے ہیں جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی وسعت میں اضافہ ہوتا گیا۔ 

امریکہ کا اطلاعاتی ذریعہ امریکیوں کی مشہد کے حوادث سے بے خبری کو آشکار کرتے ہوئے لکھتا ہے " مشہد کے حادثے کے بارے میں ہمارے ذرائع کے پاس ناقص معلومات تھیں۔

امریکی ذریعہ  اطلاعات جس نے یہ دستاویز تیار کی تھی اس نے مشہد کے واقعات سے امریکیوں کی ناقص معلومات سے بھی پردہ اٹھایا ہے  اور لکھتا ہیں: "اس ماخذ کو مشہد واقعے کے بارے میں کچھ خاص معلومات نہیں تھیں۔ یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ فوجیوں کے ایک گروہ نے امام رضا علیہ السلام  کے حرم میں  حکومت کے مخالفین کا تعاقب کیا اور ان میں سے متعدد کو ہلاک کردیا۔ ماخذ کو ابتدا میں یہ داستان ناممکن لگ رہی تھی، کہ ایرانی فوجی ایسا کام کریں گے۔ "لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ مشہد میں ایک حادثہ پیش آیا ہے اور اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی ایک نامشخص تعداد سامنے آئی ہے۔"  

ملک بھر میں ملک گیر ہڑتالوں کے ساتھ ساتھ مشہد شہر میں ریلی نکالی گئی جو امریکیوں کے بقول ہزاروں افراد پر مشتمل تھی۔

27 نومبر کی ایک دستاویز میں کچھ اس طرح سے ذکر ہے : اس شخص کی 25 نومبر کو ہونے والی ساتوے دن کی مجلس میں کہا جا رہا ہے کہ حرم مطہر کے واقعے میں کم از کم ایک شخص کی شہادت ہوئی ہے ، مشہد کے مذہبی رہنما نے فوج کو مطلع کیا ہے کہ یہ مذہبی احتجاج ہرحال میں منعقد ہوگا، اگر فوج کو سڑکوں سے دور رکھا گیا تو پر امن ہوگا ۔ ۔۔ جب مظاہروں اور عوامی دستوں کے ساتھ مارچ ہوا جس میں دسیوں ہزار افراد شریک تھے تو کوئی فوجی اہل کار وہاں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

آخر کار امریکیوں  کو ایرانی عوام کے دلوں میں حرم امام رضا علیہ السلام  کا مقام و منزلت اور فائرنگ کے واقعے کی اہمیت اور اس واقعے میں متعدد افراد کی شہادت کا احساس ہوا۔ 27 نومبر کو امریکی سفارت خانے کے دو اعلی عہدیدار تہران کے دو تاجروں  سے خفیہ ملاقات کرتے ہیں۔ یہ دونوں تاجر مشہد میں ہونے والے قتل عام کو انقلابیوں اور پہلوی حکومت کے مابین مفاہمت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

جب امریکی ترجمان نے مشہد میں ہونے والے واقعات کا سنا تو اس نے ازھاری (وزیراعظم) کو فون کال کی اور اس پر زور دیا کہ مراجع سے رابطہ کرے اور ان سے عذرخواہی کرے۔ یہ واقعات امریکیوں کے ایرانی عوام کے مذہبی رجحانات سے نابلد ہونے کی تصویرکشی کررہے ہیں، البتہ ایک اوراہم نقطہ  یہ ہے کہ امریکی ترجمان ایران کے وزیراعظم کو کال کرکے کہتا ہے وہ معذرت خواہی کرے۔



 
صارفین کی تعداد: 118


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چودہواں حصہ

خانہ فرہنگ کا راستہ گم ہوچکا تھا
رکشے والے نے کرایہ بڑھانے کے لئے کہا کہ اسے راستہ معلوم نہیں میں نے اسے سمجھایا کہ بھائی تم چلنا شروع کرو میں گلیاں ، سڑکیں دیکھ کر خود راستہ پہچان لوں گی اور ہم خانہ فرہنگ پہنچ جائیں گے۔ کچھ دور سفر کرنے پر مجھے احساس ہوا راستہ طویل ہوگیا ہے اور خانہ فرہنگ کے آس پاس کی گلیوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔