امام خمینی ؒ کی تقریر کو ریکارڈ کرکے منتشر کرنے کا طریقه

مترجم: سید مقدس حسین نقوی

2020-07-12


سن ۱۹۶۳  اور ۱۹۶۴ میں میرے اہم ترین کاموں میں سے ایک، امام خمینی ؒ کے خطابات اور جلسات میں شرکت کرنا تھا۔ بنیادی طور پر ہم قم میں پیش آنے والے ہر حادثے سے مطلع ہوجاتے تھے اور کوشش کرتے کہ قم جائیں اور پیش آنے والے حادثات کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور تحریک کے آغاز سے ہی همارا طریقہ کار تھا۔ قم میں امام خمینی ؒکے خطابات کو ریکارڈ کرنا اور ریکارڈ شدہ کیسٹوں  کو تہران منتقل کرنا میرے ذمہ دار یوں میں سے ایک تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ میں ہمیشہ امام خمینی ؒ کے جلسات اور خطابات سے متعلق خبر کی تلاش میں رہتا اور جیسے ہی کوئی خبر ملتی  میں قم چلا جاتا ۔ ہمارا کام یہ تھا کہ میں خطابات کو ریکارڈ کرتا اور اس لئے کہ  میں پہچانا نہ جاؤں ایک شخص کو ٹیپ ریکارڈر اور دوسرے کو کیسٹ تھما دیتا اور ان سے کہتا کہ طے شدہ مقام پر، ہم تک پہنچا دیں۔ اور ہماری کوشش ہوا کرتی تھی کہ انتخاب شدہ افراد عام لوگ ہوں، تاکہ پولیس کو شک نہ ہو اور یہی وجہ رہی کہ ہم کیستوں کو تہران پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ 
خطابات میں سے ایک اہم ترین خطاب جسے ہم ریکارڈ کرے اُسے منتشر کرنے میں کامیاب ہوئے،  امام خمینی ؒ کی وہ تقریر تھی جو کیپٹلائزیشن( Capitulation) کے قانون کے خلاف تھی۔ ہم امام خمینی ؒ کے اعلانات کو منتشر کرنے کا کامیاب تجربہ رکھتے تھے، اس لئے امام خمینی ؒ کی اس قانون کے بارے میں کی جانے والی تقریر کو ریکارڈ اور منتشر کرنا ہمارے لئے مشکل نہ تھا۔ لہذا جیسے ہی اعلان ہوا کہ امام خمینی ؒ اس قانون کے بارے میں تقریر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو میں قم کی طرف روانہ ہوا اور اُس کی ریکارڈنگ اور منتشر کرنے کے لیے تمام تر وسائل آمادہ کیے۔ جب امام خمینی ؒ نے اپنی تقریر کا آغاز کیا، میں ان کے گھر میں ان کے منبر کے پاس ٹیپ ریکارڈر ہاتھوں میں لئے ان کی تقریر ریکارڈ کر رہا تھا۔ امام خمینی ؒ کا یہ خطاب بہترین خطابات میں سے ایک تھا، یہی وجہ تھی کے اس تقریر میں شرکت ہمارے اس کام ، ریکارڈ اور منتشر کرنے کے جوش اور ولولے کو دوگنا کر رہی تھی۔امام خمینی  ؒ نے اپنی تقریر کا آغاز قرآن کی کلمہ استرجاع والی آیت " ان للہ وانا الیہ راجعون "سے کیا اور اپنی تقریر کی ابتدا میں فرمایا :میں اپنے دلی تاثرات کا اظہار نہیں کر سکتا، میرے دل پر دباؤ ہے ؛ جب سے میں نے ان چند دنوں میں ایران میں پیش آنے والے جدید مسائل کے بارے میں سنا ہے، میں بے خوابی کا شکار ہوں۔ پریشان ہوں ، دل پر بوجھ ہے۔ان دلی کیفیات کے ساتھ دن گن رہا ہوں کہ کب موت آجائے۔۔۔ جناب ! میں خطرے کا اعلان کرتا ہوں۔ اے ایران ایران کی ا فواج! میں خطرے کا اعلان کرتا ہوں۔اے ایران کے سیاستدانوں! میں خطرے اعلان کرتا ہوں۔اے تاجرو ! میں خطرے کا اعلان کرتا ہوں۔اے علمائے ایران! اے مراجع اسلام! میں خطرے کا اعلان کرتا ہوں۔ اے فضلا !  اے طلاب ! اے مراجع اے لوگوں! اے نجف! اے قم! اے مشہد!اے تہران! اے شیراز! میں خطرے کا اعلان کرتا ہوں۔خطرناک ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پس پردہ کچھ ہے جس کا ہمیں علم نہیں۔ پارلیمنٹ میں کہا جا رہا ہے کچھ چیزوں کو آشکار مت کریں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لئے کچھ خواب دیکھے گئے ہیں۔جب وہ اس انداز میں محو گفتگو تھے تو حاضرین بلند آواز میں گریہ کررہے تھے اور ان کے شور و گریہ سے جلسہ گاہ پر حزن طاری تھا۔ اور میں جو منبر کے نیچے موجود تھا،میری حالت بھی متغیر تھی؛ یہ قانون اس قدر قبیح  تھا کہ میرے مرجع و رہبر کا دل غمگین ہے۔چنانچہ اس قدر غمگین ماحول کے باوجود بھرپور جذبے اور توانائی کے ساتھ نہایت دقت سے اس خطاب کو ریکارڈ کررہا تھا۔ اور بلا فاصلہ اس کو تہران منتقل کیا، جب ان کیسٹوں کو تہران لے کر آئے، تو سید عباس بہشتی کے گھر میں اس خطاب کی متعدد کاپیز بنائیں۔ یہ کام آج کل کی طرح ایک یا دو منٹ کا نہیں تھا بلکہ یہ کام اس زمانے میں بہت دشوار تھا اور کافی وقت طلب تھا مثال کے طور پر ایک کیسٹ بنانے میں ایک گھنٹہ درکار ہوا کرتا تھا اور واضح سی بات ہے کہ متعدد کیسٹوں کے لئے کتنا وقت درکار ہوگا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہر کیسٹ کو ریکارڈ کرنے کے لئے اس کو دو بار پلٹنا پڑتا، اسی طرح ممکن تھا کہ کسی بھی وجہ سے کوئی مشکل پیش آئے  اور ریکارڈنگ کسی خرابی کا شکار ہو جائے اس بنا پر بہت احتیاط اور ہوشیاری درکار تھی  اور ہمیشہ چوکنا رہنا ضروری تھا اور اس لیے کہ کوئی خرابی پیش نہ آئے،الارم والی گھڑی بھی خرید رکھی تھی اور ہر آدھے گھنٹے پر الارم سیٹ کر کے رکھتے تھے تاکہ اٹھ کر بلافاصلہ کیسٹ کی ایک طرف ختم ہونے پر دوسری طرف لگا دی جائے۔ معمولاً رات کو بیدار رہتے کیونکہ ہماری کوشش ہوتی تھی کہ کم ترین وقت میں تمام  کیسٹوں کو منتشر کریں جب کیسٹوں کی کاپیاں تیار ہو جاتیں، ان کو مختلف صوبوں میں بھجوا دیتے اور صوبوں سے مختلف شہروں میں ارسال کردی جاتیں۔ اور اسی طریقے سے کیسٹوں کو ملک سے باہر بھی ارسال کر دیا جاتا تھا۔  چنانچہ مختصر ترین وقت میں یہ کیسٹیں امام خمینی ؒ کے تمام طرف داروں تک پہنچ جاتیں ۔



 
صارفین کی تعداد: 148


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چودہواں حصہ

خانہ فرہنگ کا راستہ گم ہوچکا تھا
رکشے والے نے کرایہ بڑھانے کے لئے کہا کہ اسے راستہ معلوم نہیں میں نے اسے سمجھایا کہ بھائی تم چلنا شروع کرو میں گلیاں ، سڑکیں دیکھ کر خود راستہ پہچان لوں گی اور ہم خانہ فرہنگ پہنچ جائیں گے۔ کچھ دور سفر کرنے پر مجھے احساس ہوا راستہ طویل ہوگیا ہے اور خانہ فرہنگ کے آس پاس کی گلیوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔